Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

امریکا کی مجبوری پاکستان کے لیے سنہری موقع

December 5, 2018 0 1 min read
Donald Trump – Imran Khan
Donald Trump – Imran Khan
Donald Trump – Imran Khan

تحریر : محمد صدیق پرہار

وزیراعظم عمران خان نے صحافیوں سے ملاقات میں انکشاف کیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک خط بھیجا جس میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور امن کے لیے کوششوں پر زور دیا۔ جب کہ خط میں افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تعاون مانگا گیا اور امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان افغانستان میںامن کے لیے کردار ادا کرے۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے پرممکن کردار ادا کریں گے۔

کہتے ہیں کہ کسی سے کوئی کام کراناہواوروہ آسانی سے نہ کردیتا ہوتواس سے کام کرانے کے لیے تین طریقے استعمال کیے جاتے ہیں اسے ڈرایا دھمکایا جاتاہے کہ اگرتونے یہ کام نہ کیا توتیرے ساتھ یہ ہوسکتا ہے وہ ہوسکتاہے۔ اسے جانی ومالی نقصان سے بھی ڈرایاجاتاہے۔ دوسراطریقہ یہ استعمال کیاجاتاہے کہ جس سے غیرمعمولی کام کراناہوتواس کولالچ دیاجاتا ہے کہ اگروہ یہ کام کردے تواس کویہ کچھ دیاجائے گا۔ اگریہ دونوںطریقے بھی کام نہ کراسکیں توتیسرا طریقہ یہ استعمال کیا جاتا ہے کہ اس کی خوشامدکی جاتی ہے۔ اس کے کسی کام کی تعریف کرلی جاتی ہے۔افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ہویا اوراب افغان طالبان کومذاکرات کی میزپرلانے کامسئلہ ہوامریکہ کوجب بھی پاکستان کی ضرورت پڑی ہے ، اس نے پاکستان سے اپنے مطلب کاکام کرانے کے لیے مندرجہ بالاتینوں طریقے استعمال کیے ہیں۔

پہلے دوطریقے امریکہ اس وقت بھی استعمال کرچکا ہے جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تھے۔ اس وقت کے امریکی صدرنے اس وقت کے پاکستان کے وزیراعظم کوایٹمی دھماکے کرنے سے روکنے کے لیے سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں اوراربوں ڈالرامدادکالالچ بھی دیا۔ مگراس کے پاکستان کوایٹمی دھماکوں سے روکنے کے لیے یہ دونوں طریقے کامیاب نہ ہوسکے اورپاکستان نے ایٹمی دھماکے کر دیے۔ پوری دنیاجانتی ہے امریکہ کوافغانستان میں بدترین شکست کا سامنا کرناپڑا۔ اب وہ گزشتہ کئی سالوں سے افغان طالبان سے مذاکرات کی کوشش کررہا ہے ۔ امریکہ یہ بات اچھی طرح جانتاہے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر افغان طالبان کومذاکرات کی میزپرنہیںلایاجاسکتا۔ اس لیے اس نے پاکستان سے یہ کام کرانے کے لیے پاکستان کی سابقہ حکومت کے دورمیں پہلے دونوں طریقے استعمال کرلیے ۔ امریکہ نے مختلف جوازبناکرپاکستان کی کولیشن سپورٹ فنڈزکی رقم روک لی۔ یہ وہ رقم تھی جوپاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خرچ کرچکا ہے۔ یہ امریکہ کی طرف سے نہ توکوئی امدادتھی اورنہ ہی اس کاکوئی احسان۔ امریکہ نے جب دیکھا کہ پاکستان سے کام کرانے کے لیے یہ حربہ کامیاب نہیںہوسکا تواس نے پاکستان کی تعریف کرناشروع کردی دوسرے لفظوں کہہ سکتے ہیں کہ امریکہ اب تیسرے طریقے کواستعمال کررہا ہے۔اس لیے اس نے وزیراعظم عمران خان کوبھیجے گئے خط میںپاکستان کے کردارکوسراہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے یہ نہیںبتایا کہ ٹرمپ نے پاکستان کے کس کردارکوسراہا ہے اورکس حوالے سے سراہا ہے، اگرامریکہ نے پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف کردارکوسراہا ہے تویہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جب امریکہ پاکستان کے کردارکی تعریف کررہا ہے تواس نے پاکستان کے کردارکوتسلیم کرلیا ہے۔ کیوںکہ کسی کے کردارکی اس وقت ہی تعریف کی جاتی ہے جب اس کے کردارکوتسلیم کیاجاتاہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیاامریکہ نے واقعی پاکستان کے کردارکوتسلیم کرلیا ہے یااپناکام کرانے کے لیے تیسر ے طریقے کومجبوری کے تحت استعمال کررہا ہے۔ اس بات کوسمجھنے کے لیے ہمیں ایک کہانی سے رابطہ کرناپڑے گا۔ وہ کہانی یہ ہے کہ ایک سرمایہ دارکے پاس ایک ایساملازم بھی تھا جواس کے پاس گزشتہ بیس سالوں سے کام کررہاتھا۔بیس سال کام کرنے کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے کے مزاج سے اچھی طرح واقف تھے۔

سرمایہ دارنے اپنے تمام کاموں کی نگرانی اس دیرینہ ملازم کے حوالے کررکھی تھی۔ اس کے کاروبارکوبھی وہی ملازم دیکھتا ، اس کی زمینوںکی دیکھ بھال بھی کرتا اوردیگرتمام چھوٹے،بڑے کام بھی وہی ملازم کراتاتھا۔ سرمایہ دارنے اس ملازم کواپنی گاڑی کی چابی اوررہنے کے لیے دوکمروں ،چاردیواری اوربیٹھک پرمشتمل رہائش بھی دے رکھی تھی۔ وہ اسے تنخواہ کے علاوہ جیب خرچ بھی دیتاتھا۔ سرمایہ دارکوجب کوئی ایساکام کراناہوتا جوآسانی سے نہ ہوسکتاہویاوہ کام کسی اورسے نہ کرایاجاسکتاہوتووہ ایساکام اس دیرینہ ملازم سے کرایاکرتا، سرمایہ دارکبھی ڈرا، دھمکا کردیرینہ ملازم سے اپنے مطلب کاغیرمعمولی کام کرالیتا اورکبھی لالچ دے کر۔ ایک سال ایساہواکہ سرمایہ دارنے اس دیرینہ ملازم سے کوئی کام کرنے کوکہا ملازم اپنے سرمایہ دارمالک کے کہے ہوئے طریقے پرکام کرتارہا مگراس کے الٹے نتائج سامنے آرہے تھے۔ سرمایہ دارنے اس ملازم کویہ کام کرنے کے بدلہ میں سرمایہ دینے کاوعدہ بھی کیااورکچھ سرمایہ دیابھی۔ملازم نے ازخود غورکیا کہ کام تواسی طرح ہورہاہے جس طرح سرمایہ دارنے کہاہواہے اس کے نتائج الٹے کیوں آرہے ہیں۔

وہ ملازم اس نتیجے پرپہنچا کہ جب تک سرمایہ دارکے طریقے پریہ کام کیاجاتارہے گا اس کے نتائج الٹے ہی آئیں گے اس لیے اس نے وہ کام اپنے طریقے پرکرناشروع کردیا جیسے اس نے سرمایہ دارکے بتائے ہوئے طریقے کوچھوڑکراپنے طریقے پرکام کرناشروع کیا تواس کام کے وہی نتائج سامنے آنے لگے جوآنے چاہییں تھے۔سرمایہ دارکوجب یہ پتہ چلا کہ اس کے ملازم نے اس کے بتائے ہوئے طریقے کوچھوڑ کراپنے طریقے پرکام کرناشروع کردیا ہے تو اس نے یہ دیکھے بغیرکہ نتائج کیاآرہے ہیں اس نے ملازم سے ناراضگی کااظہارشروع کردیا۔ ملازم کی جوذمہ داریاں تھیں وہ توسرمایہ دارنے برقرار رکھیں اورناراضگی کااظہاراس طرح کیا کہ ملازم کودی گئی سہولیات روک لیں۔ اس نے ملازم سے اس کے کئی مسائل حل کرانے کاوعدہ بھی کررکھاتھا۔ملازم نے جب یہ دیکھا کہ سرمایہ دارنے اس کی سہولیات روک لی ہیں۔

اس کاخرچہ بھی بندکردیا۔ تواس نے بھی سرمایہ دارکی مزیدکوئی بات نہ ماننے کافیصلہ کرلیا۔ سرمایہ دار اسے جب بھی کوئی کام کہتاتووہ یہ کہہ کرانکارکردیتا کہ تجھے تومیراکام پسندبھی نہیں آتا۔ تونے میرے کام کی کبھی تعریف نہیں کی۔ جیسا کہ آپ اس کہانی میں پڑھ آئے ہیں کہ سرمایہ دارکوجب بھی غیرمعمولی کام کراناہوتاتووہ اس دیرینہ ملازم سے ہی کراتا۔ اب جب دونوں ایک دوسرے سے فاصلے پررہنے لگے تھے اور ملازم نے سرمایہ دارکی باتوںکومانناچھوڑدیا تھا سرمایہ دارکواس ملازم سے ایک ایساکام کرانے کی ضرورت پڑگئی جوکام نہ توکوئی اورکرسکتاتھا اورنہ ہی وہ کام کسی اورسے کرایاجاسکتا تھا۔اس کام کوچھوڑابھی نہ جاسکتا تھا۔ وہ کام صرف اورصرف وہ ملازم ہی کرسکتاتھا۔ ملازم سے کام کرانے کے لیے ضروری تھا کہ اسے خوش کیا جائے ۔ اس لیے سرمایہ دارنے ملازم سے اپنی ناراضگی کومعطل کردیا اوراپنے کسی دوسرے ملازم کے ذریعے پیغام بھجوایا کہ توکام اچھاکرتاہے۔ اس ملازم نے جب یہ پیغام سناتووہ دل ہی دل میں خوش ہوا کہ سرمایہ دارنے اپنی ناراضگی ختم کردی ہے ۔ اسی لیے وہ میرے کام کی تعریف کررہا ہے۔اس نے یہ بات اپنے دوستوں اوررشتہ داروںکوبتائی کہ سرمایہ دارنے میرے کام کی تعریف کی ہے ۔ اس سے ظاہرہوتاہے کہ اس نے اپنی ناراضگی ختم کردی ہے۔

یہ سن کرکوئی سرمایہ دارکی تعریف کرنے لگ گیا کہ اس نے بڑے پن کاثبوت دیا ہے، ناراضگی ختم کردی ہے توکوئی اس ملازم کومبارکباددینے لگ گیا۔سرمایہ دارکے ناراضگی ختم کرنے کی سب نے اپنے اپنے اندازاوراپنے اپنے الفاظ میں تعریف کی۔اس ملازم کے دوستوںیارشتہ داروںمیں ایک نوجوان ایسابھی تھا جوخاموش تھا۔ سب کواس کی خاموشی پرتعجب تھا کہ اتنی بڑی بات ہوگئی ہے، سرمایہ دارنے ملازم سے ناراضگی ختم کردی ہے اس کے کام کی تعریف کی ہے ، سب لوگ سرمایہ دارکے ناراضگی ختم کرنے کی تعریف کررہے ہیں یہ نوجوان خاموش بیٹھا ہے ، سب نے اس نوجوان کی خاموشی پریہ تبصرہ کیا کہ یاتواس نوجوان کوبات کی سمجھ نہیں آئی ، بات سمجھ آئی ہے توپسندنہیں آئی۔کسی نے اس نوجوان سے پوچھا کہ بیٹا توخاموش ہے تونے سرمایہ دارکے ناراضگی ختم کرنے کی کوئی تعریف نہیںکی کیاتجھے یہ بات پسندنہیں آئی۔نوجوان نے کہا کہ بات صرف مجھے سمجھ آئی ہے سمجھ توتمہیں نہیں آئی۔یہ سن کرسب حیران ہوگئے کہ یہ نوجوان یہ کیاکہہ رہا ہے۔ کسی نے کہا کہ یہ کیابات ہوئی بات صرف تجھے سمجھ آئی ہے اورکسی کونہیں۔سب تجھ سے عمراورتجربے میںبڑے ہیں۔ دراصل بات تجھے سمجھ نہیں آئی۔ نوجوان نے ابھی فیصلہ ہوجائے گا کہ بات کس کوسمجھ نہیں آئی۔اس نوجوان نے اس ملازم سے پوچھا کہ توکیسے کہہ سکتاہے کہ سرمایہ دارنے تجھ سے ناراضگی ختم کردی ہے۔

ملازم نے کہا کہ سرمایہ دارنے پیغام بھجوایاہے کہ توکام اچھاکرتاہے۔نوجوان نے کہا کہ اس سے کیسے ثابت ہوتاہے کہ سرمایہ دارنے ناراضگی ختم کردی ہے ، ملازم نے کہا کہ اس نے میرے کام کی تعریف کی ہے۔ نوجوان نے کہا کہ کیاکسی تعریف کرنے سے یہ کہاجاسکتاہے کہ اس نے واقعی ناراضگی ختم کردی ہے۔ کسی اورنے کہا کہ عجیب نوجوان ہے اگرسرمایہ داراب بھی ناراض ہے تواس نے تعریف کیوںکی۔نوجوان نے عجیب میںنہیںتم ہو۔ میں یہ بات ابھی ثابت کردیتاہوں۔ اس نوجوان نے سرمایہ دارکے ملازم سے پوچھا کہ جب سرمایہ دارتجھ سے ناراض ہواتھا تواس نے کیاکیاتھا۔ ملازم نے کہا کہ ناراض ہونے سے پہلے وہ مجھے اتناجیب خرچ دیاکرتا تھا اوریہ یہ سہولیات بھی دے رکھی تھیں ، جب وہ ناراض ہواتواس نے جیب خرچ اوردوسری سہولیات روک لیں ، اس نے میرے کسی کام کی تعریف نہیں کی، میرے ہرکام میںکوئی نہ کوئی غلطی ضرورنکالی ہے۔ اب اس نے میرے کام کی تعریف کردی ہے توثابت ہوتاہے کہ اس نے ناراضگی ختم کردی ہے۔ نوجوان نے کہا کہ یہ تمہاری خوش فہمی یاغلط فہمی ہے، ملازم نے کہا کہ وہ کیسے ، نوجوان نے کہا کہ سرمایہ دارکوتجھ سے ناراض ہوئے کتناعرصہ ہوگیا ہے ، ملازم نے کہا کہ دوسال، نوجوان نے کہا کہ اس کامطلب ہے کہ سرمایہ دارنے دوسال تک تجھے جیب خرچ اوردوسری سہولیات نہیںدیں جووہ دیاکرتا تھا تجھ سے ہروہ کام کراتارہا جوتوپہلے سے کرتاآرہا ہے ، ملازم نے کہا کہ ہاں ایساہی ہے ، نوجوان نے کہا کہ کیاسرمایہ دارنے دوسال کے روکے گئے جیب خرچ میں سے کچھ خرچ بھجوایا ہے یایہ پیغام بھجوایا ہے کہ اس سے کہو کہ اپناجیب خرچ لے جائے اس کادوسال کاروکاہواخرچ اسے ایک ساتھ یاقسطوںمیںمل جائے گا، ملازم نے کہا کہ نہ توجیب خرچ آیا ہے اورنہ ہی ایساکوئی پیغام ملاہے، نوجوان نے کہا کہ کیاسرمایہ دارنے یہ پیغام بھی بھجوایاہے کہ اس سے کہو کہ جوسہولیات وہ پہلے استعمال کیاکرتا تھا اب بھی وہ وہی سہولیات استعمال کرسکتا ہے توملازم نے کہا کہ ایسابھی کوئی پیغام نہیں آیا۔ اس کے بعدنوجوان نے کہا کہ نہ توسرمایہ دارنے روکے گئے جیب خرچ میں سے کچھ بھجوایاہے نہ اس نے جیب خرچ لے جانے اورروکی گئی سہولیات بحال کرنے کاپیغام بھجوایا ہے صرف تھوڑی سی تعریف کردی ہے ، اب بتائو بات کس کو سمجھ نہیں آئی تمہیںیامجھے۔ یہ سن کرسب لوگ حیرت سے سوچ میں پڑگئے۔

کسی نے کہا کہ یہ نوجوان سچ کہہ رہا ہے دراصل بات ہمیں سمجھ نہیں آئی۔ نوجوان نے ملازم سے کہا کہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں سرمایہ دارتجھ سے کوئی کام کراناچاہتاہے اس لیے تعریفیں کررہا ہے۔ اب یہ کہانی پڑھ کرامریکاکوسرمایہ دارسمجھ لے تووہ اپنی سوچ کاخود ذمہ دارہے۔وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ ٹرمپ نے انہیں بھیجے گئے خط میںپاکستان کے کردارکوسراہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ نہیں بتایا کہ ٹرمپ نے پاکستان کی روکی گئی کولیش سپورٹ فنڈز کی اقساط بحال کردی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے یہ بھی نہیںبتایا کہ امریکی صدرنے پاکستان کاکوئی مطالبہ منظورکرکے عملی اقدامات کاآغازکردیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان امریکہ کی طرف سے پاکستان کے کردارکوسراہے جانے کواپنی کامیابی قراردیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ ماضی میں امریکاکے ساتھ معذرت خواہانہ موقف اختیارکیاگیا۔ اب ہم نے امریکاکوبرابری کی بنیادپرجواب دیاتوٹرمپ نے خط لکھا۔ امریکاکے ساتھ یہ رویہ سابقہ دورحکومت میں بھی روارکھاگیا۔ جس کی وجہ سے اس نے کولیش سپورٹ فنڈزکی اقساط روک لیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی اپنی پالیسی اورسی پیک اس کامنہ بولتاثبوت ہیں ، عمران خان نے امریکا کے ساتھ اس رویہ کومزیدآگے بڑھایا ہے۔ امریکانے پاکستان کے کردارکی اس لیے تعریف کی ہے کہ اس نے افغان طالبان کومذاکرات کی میزپرلانے کے لیے پاکستان کاتعاون بھی مانگا ہے۔ اس مسئلہ پاکستان کی تعریف نہیں بلکہ افغان طالبان کومذاکرات کی میزپرلانا ہے۔

افغانستان میں امن پاکستان کے مفادمیں ہے۔ اب یہ امن امریکاکی مجبوری بھی بن چکا ہے۔افغانستان میںامن کے لیے طالبان سے مذاکرات ضروری ہیں اورطالبان کومذاکرات کی میزپرلانے کے لیے امریکاکوپاکستان کی ضرورت اورمجبوری ہے۔ اب یہ سنہری موقع ہے کہ امریکا کی مجبوری سے فائدہ اٹھایاجائے۔ وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میںامن کاکرداراداکرنے پرآمادگی ظاہرکی ہے۔ وزیراعظم عمران خان ٹرمپ کوجوابی خط میں لکھیں کہ پاکستان افغانستان میں اپناکرداراداکرنے کوتیارہے اس سے پہلے امریکاپاکستان کی کولیش سپورٹ فنڈز سمیت تمام روکی گئی تمام رقوم بحال کرکے پاکستان کوفراہم کرے۔ ایران ، پاکستان گیس پائپ لائن جوگذشتہ پانچ سالوں سے تعطل کاشکا رہے اس کوبچھانے کی اجازت دے، پاکستان ،افغانستان کی سرحد پرتعمیرکی گئی باڑ کے اخراجات اداکرے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کوجانی ومالی جونقصان ہواہے وہ پوراکرے ، کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پربھارت کے خلاف جنگی جرائم کے تحت عالمی عدالت میںمقدمہ درج کرائے، اقوام متحدہ کی قراردادپرعمل نہ کرنے پربھارت کے خلاف بھی وہی پابندیاں عائدکرے جوایٹمی دھماکے کرنے پرپاکستان کے خلاف عائدکی گئی تھیں۔کشمیریوں کے ساتھ حق خودارادیت کاوعدہ پوراکرائے ۔آئی ایم ایف اورعالمی بینک میں پاکستان نے جوسوداداکرنا ہے وہ ختم کرائے۔افغانستان میںامن اورافغان طالبان سے مذاکرات اب امریکاکی سخت مجبوری ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان یہ موقف اپنائیں تمام سیاسی قیادت اور پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہوگی اورامریکا بھی پاکستان کی ہربات ماننے پرمجبورہوجائے گا۔ پاکستان کوہمت، حوصلہ اورموثرحکمت عملی سے کام لینا ہو گا۔

Muhammad Siddique Prihar
Muhammad Siddique Prihar

تحریر : محمد صدیق پرہار
siddiqueprihar@gmail.com

Share this:
Tags:
america imran khan Muhammad Siddique prihar opportunity pakistan Prime Minister امریکا پاکستان عمران خان مجبوری موقع وزیراعظم
Alkhidmat Seminar
Previous Post الخدمت فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام معذوروں کے عالمی دن کے موقع پر ملک بھر میں آگاہی واکس اور سمینارز کا انعقاد
Next Post سفر دشوار ہونا ہے
Memories

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close