
سفر دشوار ہونا ہے
تجھے بے زار ہونا ہے
تیری خاطر زمانے سے
بہت تکرار ہونا ہے
تیری یادوں کا یہ نشتر
جگر کے پار ہونا ہے
شعورو آگہی پاتے
مجھے میخوار ہونا ہے
مجھے سونا ہے خاک اوڑھے
تجھے بیدار ہونا ہے
جسے سمجھاہے تُو ظلمت
اُسے انوار ہونا ہے
ہمیں خاکِ مذلت سے
درِ شہوار ہونا ہے
ساحل منیر
