Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

یوم شہری دفاع کی اہمیت و افادیت

March 2, 2014 0 1 min read
Riaz Malik
War
War

موجودہ ترقی یافتہ دور میں جنگ کسی خاص سرحد، علاقہ یا کسی خاص ملک تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کا دائرہ اس قدر وسیع ہوچکا ہے کہ ایک عام شہری اپنے گھر میں بھی اتنا ہی خطرے سے دوچار ہے، جتنا فوج کا سپاہی اپنے میدان جنگ میں ہوتا ہے۔ قدیم دور میں لڑائی کیلئے میدان جنگ کا انتخاب ہوتا تھا، جیسا کہ آج سے 14سو سال پہلے دور نبوت میں کفار کے ساتھ جنگیں لڑی گئی ہیں، اُن کیلئے بدر کا میدان، جنگ خندق، جنگ خیبر یعنی خیبر کا قلعہ۔ مگر جوں جوں وقت گذرتا گیا، انسان جوں جوں ترقی کی منازل طے کرتا گیا، انسان نے ہر فیلڈ میں ترقی کی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا، وہ تمام اوزار حرب و ضرب بیکار ہوگئے، جن کو پچھلے کئی سالوں سے انسان استعمال کرتے رہے ہیں، اب اُسی انسان نے ایسے ہتھیار بنائے ہیں، جن کے استعمال سے زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلائی جاسکتی ہے، موجودہ دور میں ایسے تباہ کن آلات حرب و ضرب بنائے جاچکے ہیں، جن کے اثرات سے نہ صرف کسی ملک کی عسکری قوت اور ذرائع رسل و رسائل کو فوری طور پر تباہ کیا جاسکتا ہے بلکہ شہری آبادی اور صنعتی علاقوں کو نشانہ بنا کر عوام کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کرکے اُن کے دُشمن کے خلاف لڑنے اور جنگ جیتنے کے حوصلوں کو معدوم کیا جاسکتا ہے۔

اس بات میں کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہی کہ اب ہر ملک کو اپنی حفاظت اور دفاع کیلئے وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا اور اپنے ملک اور اپنی آزادی برقرار رکھنے کیلئے دفاعی قوتوں کو مضبوط اور مستحکم کرنا پڑے گا۔ یہ اُس وقت ممکن ہوسکتا ہے جب کوئی ملک اندرونی اور بیرونی دفاعی پالیسیوں میں مضبوط ہو کیونکہ جنگ کے دوران افواج کاکام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہوتا ہے جبکہ اندرونی نظام کو برقرار رکھنے کیلئے ایک ایسی تنظیم کی ضرورت پڑتی ہے جو ہر مشکل وقت میں اندرونی نظام کو برقرار رکھے۔ اسی بناء پر ہر ملک میں تنظیم بنائی گئی ہے، جس کو تنظیم شہری دفاع کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔

اس وقت دُنیا میں تقریباً بہت سے ملکوں میں شہری دفاع کی تنظیمیں موجود ہیں۔ کہیں اس کا نام الدفاع المدنی ہے ، کہیں سول پروٹیکشن اور کہیں اسے سول ڈیفنس کہا جاتا ہے۔ کسی ملک میں یہ تنظیمیں خالصتاً شہری انتظامیہ کے پاس ہیں اور کسی ملک میں یہ کام مسلح افواج کی طرح عسکری نوعیت کی طرح ہے لیکن اس کے باوجود دُنیا میں کوئی ایسا پلیٹ فارم نہیں تھ، جہاں پر تمام ملکوں کے نمائندے آپس میں بیٹھ کر تبادلہ خیال کرسکتے ہوں۔ 1931ء میں ایک فرانسیسی سرجن جنرل جارج سینٹ پال نے اس کی اہمیت کو جانتے ہوئے ایک تنظیم بنائی، جس کو جنیوا زون کہہ سکتے ہیں جارج سینٹ پال کا مقصدیہ تھا کہ ایک ایسا غیر فوجی علاقہ مقرر کردیا جائے، جہاں پر وہ شہری جن کا جنگ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں مثلاً عورتیں، بچے، بیمار، عمر رسیدہ افراد پناہ لے سکیں اور جنگ کی ہولناکیوں سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔ جب جارج سینٹ پال 1937ء میں انتقال کرگئے تو یہ تنظیم پیرس سے جنیوا منتقل ہوگئی اور اس کا نام بدل کر بین الاقوامی تنظیم برائے حفاظت شہری آبادی و تاریخی عمارات رکھا گیا۔ وہاں پر ہنری جارج اس تنظیم کے نئے سیکرٹری جنرل بنے۔ پھر 1951ء میں ڈاکٹر میلان لودھی اس تنظیم کے نئے سیکرٹری جنرل بنے ، جنہوں نے 1954ء میں برلن شہر میں ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد کروائی ۔ جس میں کھلے شہروں اور غیر فوجی زون مقرر کرنے کا فیصلہ ہوا ، بعد میں اسے شہری دفاع کانفرنس کا نام دیا گیا۔ جنوری 1958ء میں اس تنظیم کا نام بدل کر انٹرنیشنل سول ڈیفنس آرگنائزیشن رکھا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے مقاصد بھی وضع کیے گئے۔ اب صرف شہریوں کی حفاظت ہی نہیں بلکہ اس تنظیم کو پیش آنے والے حادثات کی صورت میں مختلف اقدامات کرنے کے بارے میں سفارشات مرتب کرنے کاکام بھی سونپا گیا ۔ اس طرح سے مختلف ممالک میں موجود شہری دفاع کی تنظیموں سے روابط بھی بڑھانے تھے تاکہ مختلف تجربات کی روشنی میں ایک قابل عمل لائحہ عمل تیار کیا جاسکے۔

Conference On Civil Defence
Conference On Civil Defence

مئی 1958ء میں تیسری بین الاقوامی شہری دفاع کانفرنس جنیوا میں منعقد ہوئی، جس میں 33ملکوں کے 130مندوبین شریک ہوئے۔ ان میں مصر، ایران اور فلپائن کے مندوبین بھی شامل تھے اور یہی تین ممالک اس تنظیم کے پہلے رُکن بنے۔ بین الاقوامی تنظیم شہری دفاع کا آئین 17اکتوبر 1966ء کو مناکو میں بنایا گیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ یہ اس وقت نافذ العمل ہوگا جب کم ازکم دس ممالک اس کے ممبر بن جائیں گے اور یہ یکم مارچ 1972ء کو ممکن ہوا۔ اِسی دن کی مناسبت سے یکم مارچ کو ہر سال ممبر ملکوں میں یوم شہری دفاع بین الاقوامی طور پر منایا جاتا ہے۔ اس وقت دُنیا میں اس تنظیم میں 50 ممالک شامل ہیں۔ اگرچہ اس بین الاقوامی فورم کے آئین کے تحت انسانی ہمدردی کی بناء پر عالمی سطح پر جنگ کے بعض اُصول و قواعد وضع کئے گئے ہیں مثلاً صرف فوجی مورچوں اور ٹھکانوں کو ہی نشانہ بنایا جائے گا۔ بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کو جنگ کی سفاکیوں سے محفوظ رکھا جائے گا۔ شہری آبادیوں پر بم نہیں برسائے جائیں گے، جراثیمی بم نہیں پھینکے جائیں گے اور نہ ہی خوراک کے ذخیروں کو زہر آلود کیا جائے گا، ہسپتالوں پر ہوائی حملوں سے گریز کیا جائے گا، ریڈ کراس کے نمائندوں کو جنگ سے متاثرہ لوگوں کی ہنگامی امداد کے لئے کسی ملک میں جانے سے نہیں روکا جائے گا۔ لیکن سابقہ جنگوں سے یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے کہ اِن اُصولوں کی اکثر صریحاً خلاف ورزی کی جاتی ہے، اس لئے اب کہیں بھی شہری آبادیاں دُشمن کی دسترس سے محفوظ نہیں سمجھی جاسکتیں۔

بعض ممالک کے پاس اتنی فوج نہیں ہوتی کہ وہ میدان جنگ میں بھی لڑسکے اور شہری آبادیوں کی حفاظت بھی کرسکے۔ دُشمن کے جہاز بعض دفعہ اندون ملک داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور زبردست تباہی پھیلانے کا موجب بنتے ہیں، ان حالات میں ملک کے ہر باشندے کا فرض ہے کہ وہ انفرادی طور پر اپنے محلہ کی حفاظت خود کرے اور اجتماعی طور پر تنظیم شہری دفاع میں شامل ہوکر اپنے ہم وطنوں کے دُکھ درد بانٹے۔ اگر عوام بلند حوصلہ ، پختہ عزم اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوں تو نازک ترین حالات کو بھی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

دُنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ جنگ میں جب لوگوں نے اندرونی محاذ کو مضبوط بنایا تو اس سے نہ صرف شہری نقصانات کم ہوئے بلکہ فوجوں کو بھی بہت تقویت ملی۔ اس کے برعکس جہاں لوگوں نے حوصلہ ہارا، وہاں فوجی قوت کو بھی ٹھیس لگی اور دُشمن اپنے عزائم میں کامیاب ہوگیا۔ شہری دفاع کی تربیت نہ صرف دوران جنگ پیدا ہونے والی صورتحال کیلئے ضروری ہے بلکہ زمانہ امن میں بھی اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ مکانات گرنے، آگ لگنے، پانی کا پائپ پھٹنے، گاڑیوں کے ٹکرانے کے واقعات ہر دور میں دیکھنے اور سننے میں آتے ہیں، کوئی شخص بے ہوش ہوجائے یا پانی میں ڈوب جائے یا کسی کو سانپ یا کتا کاٹ لے، کسی کپڑوں کو آگ لگ جائے یا کارخانوں یا گھروں میں گیس سلنڈر پھٹ جائے، مصیبتوں اور ناگہانی حادثات کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اِن تمام ہنگامی حالات میں شہری دفاع کے تربیت یافتہ افراد مسیحا ثابت ہوتے ہیں اور متاثرہ افراد کو بروقت امداد سے بے شمار قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچ جاتی ہیں۔ اس مقصد کے لئے ضروری ہے کہ ہر شہری، شہری دفاع کی تربیت حاصل کرے۔

Riaz Malik
Riaz Malik

تحریر :ریاض احمد ملک

Share this:
Tags:
defense Importance utility افادیت اہمیت دفاع
Previous Post اضلاع کی حبریں 1/3/2014
Next Post پاکستان کی بقا کیلئے وقتی جنگ بندی مسئلے کا حل نہیں ریاستی ادارے آپریشن مکمل کریں، علامہ ناصر عباس جعفری

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close