
کابل (جیوڈیسک) اشرف غنی افغانستان کے نئے صدر منتخب ہو گئے، عبداللہ عبداللہ نے نتائج مسترد کرتے ہوئے بیس لاکھ ووٹ جعلی قرار دے دئیے، امریکا کا کہنا ہے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کرائی جائیں۔
افغان الیکشن کمیشن کے مطابق اشرف غنی نے چھپن عشارہ چار فیصد جبکہ ان کے حریف اور سابق وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ نے 43 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ صدارتی انتخابات میں کامیابی کیلئے کسی بھی امیدوار کیلئے پچاس فیصد ووٹ حاصل کرنا ضروری تھا۔
صدارتی انتخابات کا پہلا مرحلہ اپریل میں ہوا جس میں ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کو برتری حاصل ہوئی تاہم وہ مقررہ تعداد میں ووٹ حاصل نہ کر سکے۔
دوسرا مرحلہ جون میں ہوا جس میں اشرف غنی کو برتری حاصل ہے تاہم عبداللہ عبداللہ نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے ان کے مخالف امیدوار کو ڈالے گئے بیس لاکھ ووٹ جعلی ہیں۔
عبداللہ عبداللہ کے حامی گزشتہ کئی ہفتوں سے انتخابات میں دھاندلی کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں ۔ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے انتخابات میں شفافیت کو ثابت کر دیا جائے تو نتائج تسلیم کر لیں گے۔
دونوں صدارتی امیدوار 7 ہزار پولنگ سٹیشنوں کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی پر رضامند ہو گئے ہیں۔ 2009 کے انتخابات میں عبداللہ عبداللہ دوسرے اور ڈاکٹر اشرف غنی چوتھے نمبر پر رہے تھے۔
