
تحریر : سید علی جیلانی
جب ضرورت ہو تمہاری دیس کو پیش کرنا خود کو بڑھا کر دوستوں، پاکستان کے 68 سال کے سفر میں بے انتہا واقعات ایسے ہیں جن کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور یہ واقعات پاکستان کی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں ان ہی واقعات میں 6 ستمبر 1965 کا دن بھی ہے جو کہ وطن عزیز کے دفاع کے حوالے سے پہنچانا جاتا ہے اس دن ہمارے پڑوسی ملک بھارت نے رات کے اندھیرے میں پاکستانی سرحدوں پر نہایت بزدلانہ حملہ کیا تھا مگر ہماری بہادر افواج کے جوانوں نے بھارتی فوج کے دانت کھٹے کر دیئے اور فوج کے ساتھ ساتھ ملی جذبے سے سرشار قوم نے اپنے سے پانچ گنا بڑی طاقت کی وہ درگت بنائی کہ ساری دنیا حیران ہو گئی اور ہماری فوج کے جانبازوں نے اپنے لہو سے ہماری تاریخ کے وہ روشن باب رقم کئے جن پر ہمیں فخر ہے۔
مسلمان مجاہد کی ایک ہی آرزو ہوتی ہے ”شہادت کی آرزو” اور اللہ کی راہ میں جان دینے کی تمنا ستمبر کی جنگ میں آنکھوں نے دیکھا جب پاک فوج کے شیر دل نوجوان اپنے جسموں سے بم باندھ کر ہونٹوں پر نعرہ تکبیر اور دلوں میں شہادت کا جذبہ لیئے دشمنوں کے ٹینک ریزہ ریزہ کرتے چلے گئے اور میدان جنگ بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بن گیا اور ہر محاذ پر ہماری بری، فضائی اور بحری افواج دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئی اس جنگ میں فوج نے کچھ ایسا کردار ادا کیا جس کی مثال تاریخ عالم میں ڈھونڈنے سے نہیں ملتی لیکن پاکستانی قوم کا کردار بھی اپنی مثال آپ ہے اس زمانے میں لاہور میں بھکاری سارا دن لاہور کے گھروں میں مانگتا ہے لیکن وہ روٹی کی بجائے پیسے مانگتا ہے اور جب شام تک کچھ ریزگاری جمع ہو جاتی ہے اور وہ اس جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں فوج کے لئے امدادی کیمپ بنائے گئے ہیں ساری دن کی بھیک جمع پونجھی ریلیف فنڈ میں جمع کرا دیتا ہے۔

ایک دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ جاتا ہے اور اپنے جھولے سے خشک روٹی نکال کر پانی میں ڈبو ڈبو کر کھا لیتا ہے ایک شخص جب اس سے پوچھتا ہے کہ ایسا کیوں کیا تو بھکاری بڑے جذبے کے ساتھ جواب دیتا ہے آج ان پیسوں کی وطن کو زیادہ ضرورت ہے میرا وطن سلامت رہے گا تو مجھے بھی رزق ملتا رہے گا میں کھبی بھوکا نہیں مر سکتا۔ اسی طرح جب فوج کو خون کی ضرورت پڑی تو قوم نے عجیب و غریب مثال قائم کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں قطار میں ایک دبلا نوجوان بڑا پرجوش تھا کہ اپنے وطن کے کام آئے گا جب اپنی باری پر اندر گیا اسکا وزن کیا گیا تو کم تھا اسکا خون نہیں لیا گیا تو اسکی آنکھوں میں آنسو آ گئے وہ نواجوان باہر نکلا اور سامنے دکان سے دو کلو کا باٹ منگا اور وجہ بتائی کہ کم وزن کی وجہ سے اس کا خون نہیں لیا گیا اور وہ ہر حالت میں خون دینا چاہتا ہے۔
یہ سن کر دکان دار نے اسے دو کلو کے باٹ دے دیئے وہ نوجوان دوبارہ لائن میں لگ گیا اور باٹ اپنے کپڑوں میں چھپا لیے اب وزن پورا نکلا اس نے خون دیا اور دوکاندار کا شکریہ ادا کر کے باٹ واپس کر دیئے اسی طرح فوجیوں کے چارپائیوں اور بستروں کی ضرورت پڑی تو مسجد میں اعلان کیا گیا تو قوم نے بستروں اور چارپائیوں کی لائن لگا دی تو فوجیوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے تو انھوں نے کہا کہ اس قوم کے لوگوں میں ایسا جذبہ ہے تو دنیا کی کوئی قوم اسے شکست نہیں دے سکتی۔ اگو ہم 65 کی جنگ کا جائزہ لیں تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی تھی اور ہر فرد چاہے وہ فوجی ہو طالب علم ہو، کاروباری ہو، مزدور ہو یا ملازم سب نے جذبے کے ساتھ یہ جنگ لڑی آج ضرورت اس بات کی ہے قوم میں پھر جذبے کو بیدار کریں۔

پاکستانی آج بھی دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے اسے پاکستان کا وجود کھٹک رہا ہے اور وہ پاکستان کو اقتصادی اور معاشی طور پر مکمل تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ اب دشمنی سرحدوں پر جارحیت کے بجائے ملک کے اندر مختلف لسانی اور صوبائی فتنوں کی آگ بھڑکارہا ہے ، بھائی بھائی کو لڑانے کی سازش کی جا رہی ہے۔
دشمن پیشہ پھینک کر دہشت گردی پیدا کر رہا ہے اور دہشت گرد پورے ملک میں ڈر خوف ، قتل و غارت پھیلانا چاہتے ہیں۔ ۔ جنرل راحیل شریف نے تہیہ کر رکھا ہے کہ دشمنو ں کو دہشت گردوں کو اپنے پیارے ملک سے نکال کر دم لیں گے اور انہیں نیست نابود کر دیں گے۔
آئیے اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور ایک قوم ہو کر عید کریں کہ ہم دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیں گے اور وطن کی طرف بڑھنے والے ہر قدم ، بری نظر رکھنے والی ہر آنکھ کو پھوڑ دیں گے اور پاکستانی افواج کے ساتھ مل کر وطن عزیز کو ایک خوشخال ملک بنائیں گے پاکستان زندہ باد۔

تحریر : سید علی جیلانی
