
تحریر: سمن شاہ فرانس
گزشتہ روز اسلام آباد ائیر پورٹ کے اندر ہونے والے ایک واقعے نے ہمیں ایک عجیب کیفیت سے دوچار کر دیا گو کہ ایسے واقعات پاکستان میں روز کا معمول ہیں لیکن اس وقت جبکہ پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور آئے دن درندہ صفت دھماکوں سے ہزاروں گھروں میں ماتم بپا کر رہے ہیں ایسے میں کچھ عناصر اپنے فرائض سے سنگین غفلت برت کر ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں ایک تو وہ دہشت گرد ہیں جو پیٹھ پر وار کر رہے ہیں اور چھپے ہوئے ہیں لیکن ان سے بھی ذیادہ خطرناک وہ عناصر ہیں جو اپنی مفاد پرستی اور نوکر شاہی میں اپنے فرائض کے ساتھ بے ایمانی کر کہ نہ صرف دہشت گردوں کو مواقع فراہم کر رہے ہیں بلکہ ملک دشمنی کر رہے ہیں
یوں تو اسلام آباد ائر پورٹ پر باہر سے اندر جانے والوں کی سختی سے چیکنگ ہوتی ہے اور مسافر کے علاوہ صرفایک بندے کو اندر جانے کی اجازت ہوتی ہےاب یہ تو حفاظتی انتظامات اندر جانے کے لیے کئے جاتے ہیں لیکن اندر جوایسے عناصر موجود ہیں ان کی جانچ پڑتال کیوں نہیں کی جاتی یہ ایک اہم نکتہ ہے چھبیس مارچ فرانس سے جانے والی پی آئی اے کی فلائٹ جب اسلام آباد پہنچی تو مسافر امیگریشن کے مراحل سے گزرنے کے لیے لائن میں کھڑے ہوگئے کیونکہ امیگریشن کاونٹر پر تصویر بنانی ہوتی ہے اس لیے وقت ذیادہ لگتا ہےاس لمبی قطار کی پروا نا کرتے ہوئے ایک شخص کو اس وقت ائیر پورٹ پر موجود ائیر پورٹ محکمہ اور پی آئی اے کے عملے کے سامنے بنا تصویروی پی آئی پروٹو کول کے چکر میں گزرنے دیا گیا

کاونٹر پر پوچھا کہ یہ شخص کون ہے اور اسے کیوں یوں گزرنے دیا گیاجواب ملا کہ ہمیں نہیں معلوم بس اشارہ ہوا کہ گذرنے دیا جائے ہمیں ذرا سی کوشش کرنے کے بعد یہ بھی معلوم ہوا کہ جس بندے کے اشارے پر امیگریشن قانون کی خلاف ورزی کی گئی وہ چارلس ڈیگال پیرس ائیرپورٹ پر اسٹیشن منیجر ہے اور اس کی سفارش پر قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں ۔۔۔۔۔۔۔ایسے عناصر جو پی آئی اے اور ائیرپورٹ کے عملے میں جو صرف اپنے مفاد ااور تعلقات کے لیے قانون سے کھیل رہے ہیں انکی چھان بین کر کہ قانونی چارہ جوئی ہونی چاہیے ہماری اطلاع کے مطابق وہ نا تو کوئی سیاست دان تھا نا کوئی حکومتی بندہ ۔۔۔۔ پھر اس شخص کو بنا تصویر کیوں گزرنے دیا گیا
مسافروں میں اس طرز عمل سے بے چینی اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اس شخص کے بارے میں کچھ لوگوں سے پتا چلا یہ پیرس میں ایک ریسٹورنٹ کا مالک ہے اور یہ پروٹوکول اس لیے دیا جا رہا ہے کیونکہ ائیر پورٹ محکمے اور پی آئی اے کے آفیسرز اور ملازم جو فرا نس میں موجود ہیں اور ان سے تعلقات رکھنے والے آفیسرز پاکستان سے جب فرانس آتے ہیں تو اس کے ریسٹورنٹ پر مفت روٹیاں تو ڑتے ہیں ان ملک دشمنوں ، مفاد پرستوں، خوشامدی انسانوں کی سوچ مفت روٹیاں کھا کھا کر مفلوج ہو چکی ہے ان روٹیوں کا زہر ان کے اعمال میں گھل کر معاشرے کو زہریلا کر رہا ہے اور یہ بے ایمان،چاپلوس اور غدار اپنی روٹیوں کی فکر میں ملک کی بقا کو داؤ پر لگائے ہوئے ہیں

یہ تو ایک واقعہ تھا جو ہماری نظر سے گزرا لیکن نا جانے ہر دن کتنے لوگ اس طرح ملک میں داخل ہوتے ہیں وہ کون ہوتے ہیں کیا مقاصد لیکر آتے ہیں ان میں کئی بیرونی دشمن خفیہ ایجنٹ اور دہشت گرد بھی ہو سکتے ہیں لیکن اس سے قطع نظر یہ ضمیر فروش آفیسرز اپنی مفت کی روٹیوں کے مذے لوٹ رہے ہیں ایسے وطن دشمنوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی ہونی چاہئے پاکستان اور عوام کی سلامتی کے لیے ایسے ائیرپورٹ اور پی آئی اے کے آفیسرز سے ان واقعات کی چھان بین ہونی چاہیے ائیرپورٹ پر باہر سے جانے والوں کی چیکنگ بڑی سختی سے کی جاتی ہے لیکن ایرپورٹ کے اندر جو رشوت خوری، اور بے شرمی کا بازار گرم ہے اس کا بھی نوٹس لیا جانا چاہیے پاکستان اس وقت دہشت گردی کے خلاف حالتِ جنگ میں ہے اور نازک ترین دور سے گزر رہا ہے اور اسکے لیے ہماری پاک فوج کے اقدامات قابل تحسین ہیں سوال یہ پیدا ہوتا ہے اٹھارہ کروڑ عوام کی حفاظت کے لیے کیا صرف آرمی آپریشن کافی ہے جبکہ پاک فوج سرحد پر بھی تندہی سے اپنے فرائض انجام دے رہی ہے
میرے خیال سے یہ ممکن نہیں ہے ان ملک دشمن عناصر سے نپٹنے کے لیے ہمیں پاک فوج کا ساتھ دینا ہو گا فوج ایک وقت میں کئی محاذوں پر ان ظالموں کے خلاف ڈٹی ہوئی ہے یہ ایمان فروش بے ضمیر لٹیرے پاکستان کے کونے کونے ، گلی ، محلوں، ہمارے بازاروں، اداروں اور دفاتر میں ہمارے ارد گرد ہر جگہ موجود ہیں ان کی مثال آستین کے سانپ جیسی ہے۔۔۔۔۔یہی وجہ ہے دہشت گردوں کے وار کامیاب ہوتے ہیں اور اس کے لیے ضروری ہے ہم اداروں، دفتروں میں ایسے عناصر کو بے نقاب کریں جو خوشامدی،مفاد پرست اور اپنے مطلب کے لیے اپنے فرائض صحیح انجام نا دے کر ملک دشمنی کے زمرے میں آتے ہیں

تحریر: سمن شاہ فرانس


