
نیو یارک (جیوڈیسک) عالمی ادارہ صحت نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس بیماری کے نتیجے میں اب تک تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جس سے تین ممالک، گنی، سیرا لیون اور لائبیریا بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایبولا کے موضوع پر ہونے والے ایک خصوصی اجلاس کے دوران خطاب میں کہی۔ صدر نے کہا کہ یہ مسئلہ صحت کے بحران سے بھی بڑی سطح کا معاملہ ہے۔انھوں نے کہا کہ متاثرہ ملکوں میں صحت عامہ کے نظام ناکافی پڑ چکے ہیں اور متنبہ کیا کہ خطے بھر میں یہ انسانی بنیادوں پر ایک بحرانی صورت اختیار کرسکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایسے مرد و خواتین جو متاثرین کی تیمارداری کرتے ہیں، خود ان کی دیکھ بھال کے لیے بستروں، رسد اور ہیلتھ کیئر سے متعلق کارکن درکار ہیں۔ صدر اوباما کا کہنا تھا کہ وہ اس ملک کے ساتھ مل کر کام کرنے پر تیار ہیں، جو مستعدی کے ساتھ ایبولا وائرس سے نمٹنے کے ارادے سے میدانِ عمل میں آئے۔ عالمی رہنماوں کا جمعرات کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اجلاس منعقد ہوا، جس میں مغربی افریقہ میں شروع ہونے والی ایبولا کی وبا کے نتیجے میں عالمی برادری کو درپیش خطرات سے متعلق بات چیت ہوئی۔
