
کراچی (جیوڈیسک) بیرسٹر فروغ نسیم نے برطانوی نشریاتی ادارے کے رپورٹر کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے ایم کیو ایم سے متعلق پروگرام پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ خط کے متن کے مطابق بیرسٹر فروغ نسیم نے مطالبہ کیا ہے کہ دستاویزی فلم میں ان کا ریکارڈڈ انٹرویو پورا دکھایا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ 2013 کے انتخابات کے نتائج کراچی میں ایم کیو ایم کی مقبولیت کا ثبوت ہیں، برطانوی نشریاتی ادارے نے ایم کیو ایم کا وضاحتی بیان بھی نشر نہیں کیا، دستاویزی فلم میں الطاف حسین کے امیج کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، ایسا لگتا ہے
سیاسی مخالفین نے برطانوی نشریاتی ادارے کو گمراہ کیا۔ خط کے متن کے مطابق بیرسٹر فروغ نسیم نے سوال اٹھایا کہ برطانوی پولیس کو الطاف حسین کی بیٹی کالیپ ٹاپ لے جانے کی کیاو جہ بنتی ہے، الطاف حسین کی بیٹی کے سکوں کے گلک کامنی لانڈرنگ کیس سے کیاتعلق ہے، برطانیہ میں دنیا کے کئی سیاست دانوں کے اثاثے موجود ہیں، محض ایم کیو ایم کی پارٹی فنڈنگ کو منی لانڈرنگ سے کیوں جوڑا جا رہا ہے۔ انہوں نے خط میں لکھا کہ ایم کیو ایم کی قیادت برطانیہ کی شہریت رکھتی ہے اور برطانیہ میں ہی رہے گی۔
