شمیر فریڈم مو ومنٹ برطانیہ زون کی ایگزیکٹو کونسل کا اجلاس منعقد ہوا
بھمبر (ڈسٹرکٹ رپورٹر)کشمیر فریڈم موومنٹ برطانیہ زون کی ایگزیکٹو کونسل کا اجلاس منعقد ہوا اجلاس کی صدا رت کشمیر فر یڈ م مو ومنٹ بر طا نیہ کے صدر چو ہدر ی غلا م حسین نے کی اجلاس میں کشمیر فریڈ م مو ومنٹ کی مستقبل کی حکمت عملی اور ریا ست جموں وکشمیر کی مو جو دہ سیا سی اور تحریکی صورتحا ل پرغو ر وحو ض کیا گیا اجلاس میں کشمیر فریڈ م مو ومنٹ کی بر طا نیہ کے تما م چھو ٹے بڑ ے شہر و ں میں 2ما ہ کے اند ر تنظیم ساز ی کر نے کا فیصلہ ہو ااجلاس سے خطاب کرتے ہو ئے چو ہدر ی غلا م حسین نے کہا کہ کشمیر ی مسئلہ کشمیر کے بنیا دی فر یق ہیں پا ک بھا رت مذا کرا ت میں کشمیر یو ں کو شامل کئے بغیر نہ تو مذا کرا ت کا میا ب ہو سکتے ہیں اور نہ ہی خطے میں دیر پا امن قا ئم ہو سکتا ہے مذا کرا ت کے اندر کشمیر یو ں کو شامل کئے بغیر جو بھی فیصلہ ہو گا کشمیری قوم اس کو کسی صورت تسلیم نہیں کریگی اجلاس سے خطا ب کر تے ہو ئے کشمیرفر یڈم مو ومنٹ کے سفا رتی شعبہ کے سر برا ہ سر دارآفتا ب احمد خان نے کہا کہ بھا رت مقبو ضہ کشمیر کے اندر مسلسل انسا نی حقوق کی خلا ف ورزیا ں کر رہا ہے نصف صد ی سے مقبو ضة کشمیر میں کشمیر یو ں کی نسل کشی کررہا ہے بھا رت لا ئن آف کنٹرو ل پر جبراً دیو ار تعمیر کر کے ریا ست جموں وکشمیر کی جبراً تقسیم کر نا چا ہتا ہے جو کہ اقوا م متحد ہ کی قرا ر دارو ں کے بھی منا فی ہے انسا نی حقوق کی خلا ف وز ریو ں کا نو ٹس لے اجلاس سے کشمیر فر یڈ م مو ومنٹ کے سینئر نا ئب صدر صو فی محمد یا سین نے کہا کہ دیو ار اور با ڑ سے کشمیر یو ں کے جذ بہ حر یت کو ختم نہیں کیا جا سکتا کشمیر ی کشمیرکو تقسیم کر نے کی ساز ش کو نا کا م بنا دیں گے بر طا نیہ اور یو رپ کے اندر مقیم کشمیر ی مسئلہ کشمیر کو بین الا قوا می سطح پر ا جا گر کر نے اور بھا رت کی طرف سے ہو نے والی انسا نی حقوق کی خلا ف ورزیو ں کو سا منے لا نے کے لئے اپنا کر دا ر ادا کر یں اجلاس میں زاہد کلیا ل ،چو ہد ری عبدا لخا لق ،اظہر احمد،آصف حسین ،نصیر احمد لو ن سمیت دیگر نے بھی شر کت کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھمبر ( ڈسٹر کٹ رپو رٹر)حکومت کے محکمہ تعلیم میں انقلا بی اصلا حا ت خوا ب بن کر رہ گیا پرائمر ی اساتذ ہ کی بھرتی 1990کا طر یقہ کا ر پھررا ئج BA,ED,MA,ED,نظر اند ار ،میٹرک ایف ائے ،اور CT,PTCاہل علا مہ اقبال اوپن یو نیو رسٹی اور الخیر یو نیو رسٹی کے سند یا فتہ امیدوا ر و ں کو بھرتی کر نے کا منصو بہ تیا ر محکمہ تعلیم میں نئی تعلیمی پا لیسی کا نفا ذ پھر سر خ فتنہ کی نظر سیا سی سما جی اور تعلیمی حلقو ں کا پرا نی اور بو سید ہ تعلیمی پا لیسی پر شدید احتجا ج اور تحفظا ت کا اظہا ر تفصیلا ت کے مطابق محکمہ تعلیم آزاد کشمیر کے ضلع بھمبر کے اندر پر ائمر ی اسا تذ ہ کو بھر تی کر نے کے لئے ایک با ر پھر1990کی پرا نی پا لیسی کو اپنا تے ہو ئے اعلیٰ تعلیم یا فتہ نو جو انو ں کے مستقبل کو تا ریک کر نے کا پلا ن تیا ر کر لیا پر ا ئمر ی اسا تذ ہ کی بھر تی کے لئے اعلیٰ تعلیم یا فتہ بی اے،بی ایڈ ،ایم اے،ایم ایڈ نو جو انو ں کو نظر انداز کر کے میڑک ،ایف اے،سی ٹی ،پی ٹی سی نو جو انو ں کو بھر تی کر کے محکمہ تعلیم کا بیڑ ہ غرق کر نے کی پا لیسی ٹھا ن لی اس پا لیسی سے ما ضی کی طر ح علا مہ اقبا ل اوپن یو نیورسٹی اور الخیر یو نیو رسٹی سے نا م نہا د اساتذ ہ حا صل کر نے والو ں کو فا ئد ہ پہنچا نے کا منصو بہ بنا یا گیا محکمہ تعلیم آزاد کشمیر جو کہ پہلے ہی زبو ں حا لی کا شکا ر ہے اس کو بہتر بنا نے اور لوگو ں کا محکمہ تعلیم پرا عتما د بحا ل کر نے کے لئے حکومت نے نئی تعلیمی پا لیسی بنا ئی تھی جس کو عملی طو ر پر نفاز کر نے ضرورت تھی تا کہ پرا ئمر ی تعلیمی ادارو ں کی حا لت بہتر ہو تی اور لو گو ں کا سر کا ری تعلیمی ادا رو ں پر اعتماد بڑ ھتا لیکن ایک با ر بھر حکومت نئی تعلیمی پا لیسی کو نفا ذ کر نے کی بجا ئے پرا نی اور فر سودہ 1990کی تعلیمی پا لیسی اپنا کر محکمہ تعلیم کی رہی سہی کسر بھی نکا لنے کے لئے کمر کس لی ہے ضلع بھمبر کے سیا سی سما جی اور تعلیمی حلقو ں نے محکمہ تعلیم کی پرا نی اور فر سودہ پا لیسی کو اپنا نے پر شدید احتجا ج اور تحفظا ت کا اظہا ر کر تے ہو ئے نئی تعلیمی پا لیسی اپنا نے کا مطا لبہ کیا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھمبر( ڈسٹر کٹ رپو رٹر) جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کے امیر عبدالرشید ترابی نے کہا ہے کہ دنیا کی ایک بڑی عسکری قوت جو آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا ملک اور جمہوریت کا دعویدار بھارت جو ریاستی دہشت گردی کا ریکارڈ قائم کر چکی ہے،پورے کشمیر کو فوجی چھاونی میںتبدیل کر دیا گیا ہے،فوج اور پولیس کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ جس گھر کو چاہیں نظر آتش کر دیں اور جس کو چاہیے شہید کر دیں،آج اگر تحریک آزادی کشمیر استقامت کے ساتھ رواں دواں ہے تو یہ شہداء کے مقدس لہو کی وجہ سے ہے پاکستان کے کونے کونے کے شہداء جو ایک لاکھ شہداء سے زیادہ ہیں ہندوستان ظلم و ستم کر کے تھک چکا ہے مگر کشمیریوں نے اپنی تحریک کو زندہ رکھا ہو ا ہے اس تحریک نے گزشتہ 12سال سے مشرف کے یوٹرن لیا اور جہاد کشمیر کے ساتھ غداری کی آج بھی کشمیری تنہا استقامت کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہداء کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ کشمیری آج بھی پاکستان کے لیے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کر رہے ہیں ہم شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ان کے ورثا کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں،سید نذیر شاہ کے3عزیز مقبوضہ کشمیر میں شہید ہوئے یہ ان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے،انہوں نے کہا کہ بھارت جو کشمیر پر قبضہ اور پاکستان کے خلاف سرگرم تھا آج بری طرح ناکام ہوچکا ہے اور پسیپائی کی طرف جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ کشمیر کی اس تحریک کو سازشوں سے بچانا ہو گا ہمیں مجاہدین کے ساتھ تعاون کرنا ہو گا انہوں نے کہا کہ آج کے ماحول میں جب کہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کے ادارے جذبہ جہاد کو سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں ہماری حکومتوں کومجبور کیا گیا کہ وہ جہادی آیات کو نصاب سے نکالا گیا،قرآن مجید کی بر حرمتی کی گئی اسے جلایا گیا ایک عالمی یلغار ہے جذبہ جہاد کے خلاف سر گرم عمل ہے انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے مغربی تہذیب کو پھیلانے کے لیے کردار ادا کیا اس کے لیے usایڈ کے ذریعے پیسے دئیے جاتے ہیں اس کا مقصد یہاں کی اخلاقی اقدار کو ختم کرنا اور امن کی آشا کی مہم چلانی ہے مجاہدین اور جہاد کو دہشت گردی قرار دینا ہے آج ہمیں یہ بات کو سمجھنا ہو گا انہوں نے کہا کہ بھارت یہاں دیوار قائم کر کے دیوار برہمن بنا رہا ہے انہوں نے کہا کہ چوہدری مجید جو تحریک آزادی کی بات کرتا ہے مگر اس نے سیالکوٹ میں احتجاج کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کی انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سیکرٹری خارجہ کہتا ہے کہ یہ ان کا اندرونی معاملا ہے انہوں نے کہا کہ 175کلو میٹر لکیر کھینچی جا رہی ہے گائوں اور علاقوں کو تقسیم کیا جا رہا ہے اس طرح کی دیوار بین الاقوامی عدالت خلاف قانوں قرار دے چکی ہے انہوں نے کہا کہ چوہدری مجید کو عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا ہو گا ہمیں افسوس ہے کہ آزاد حکومت اور پاکستان حکومت نے اپنا کردار ادا نہیں کیا انہوں نے کہا کہ بھارت کو کوئی حق نہیں کہ وہ کوئی دیوار بنائے ایسے کسی بھی دیوار بننے کے عمل کو فوری روکنا حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا کہ مقبو ضہ کشمیر ظلم و ستم اور کرفیو کی حالت ہے ایسے وقت میں امت کے مجاہدین استعمار کے خلاف سینہ تان کے کھڑے ہیں مسئلہ کشمیر بات چیت سے کبھی حل نہیں ہو گا جو دشمن آپ کی شہ رگ کاٹ رہا ہے مگر ہم دوستی کی پینگیں بڑھا رہے ہیں ،بھارت ڈیم بنا کر پانی کو رخ موڑ رہا ہے نیلم جہلم پراجیکٹ ایسی صورت میں ناکام ہو جائے گا،انہوں نے کہا کہ جب حکومت کے ادارے اور ذمہ دار لوگ جن کی ذمہ داری پاکستان کی سلامتی اور کشمیر کی آزادی کو فراموش کر دیں تو ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم آگے نکل کر اپنا کردار ادا کریں اور بھارت کو پیغام دیں کہ ہم کسی ایسے منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے،انہوں نے کہا کہ مشرف یوٹرن نہ لیتا تو جو مجاہدین کو دبائو بھارتی فوج پر تھا فوج سرنڈر کر جاتی بھارتی آرمی چیف نے پیش کش کی مذاکرات کی حریت کانفرنس متحد تھی متحدہ جہاد کونسل کے مجاہدین میدان میں تھے،لیکن پرویز مشرف نے یو ٹرن لے کر اس نقشے کو تبدیل کر دیا اور کشمیریوں کو تنہا چھوڑ دیا ،انہوں نے کہا کہ یہاں کی نام نہاد لیڈر شپ نے مشرف کی حمایت کر کے کشمیر کاز کو نقصان پہنچایا ،حریت کانفرنس کو تقسیم کر کے اپنے فارمولے کو تسیخ کرائی،انہوں نے کہا کہ بیس کیمپ کا حقیقی کردار بحال ہونا چاہیے عبدالقادر ملا کی شہادت نے ایک نیا باب جنم دیا ہے شہید کے خون کا معجزہ یہی ہوتا ہے کہ حق کو چھانٹ دیتا ہے ہم قومی اسمبلی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے قرار پاس کی ،بھارتی حکومت کی ایما پر یہ فیصلہ سنایا گیا تا کہ کشمیریوں کو یہ پیغام دیا جائے کہ پاکستان کے رشتے کو قائم نہ رکھ سکیں پاکستان کی فوج اور مجاہدین کا ساتھ دینے والوں کے ساتھ ایسا بھی ہو سکتا ہے ،مسلم لیگ اور مسلم کانفرنس نے اسمبلی میں قرار پیش کی مگر لاڑکانہ کی آشیرباد والے اور ان کے اشاروں پر ناچنے والوں نے اسے مسترد کر دیا جو باعث شرم ناک ہے ،انہوں نے کہا کہ مجاہدین کشمیر پاک فوج سے بھی آگے فرسٹ ڈیفینس لائن تھے آپس میں متحد و منظم اور دفاعی اداروں کے درمیان اتحاد اور ہندوستان کے چھکے چھڑا دئیے تھے کا نفر نس سے خطا ب کر تے ہو ئے ڈپٹی سپریم کمانڈر حزب المجاہدین مولانا جاوید قصوری نے کہا کہ دنیا کی کفریہ طاقتین جن کے ایوانوں میں کہرام ہے اور کپ کپی ہے یہ شہداء کے مقدس لہو کی وجہ سے ہے امت کے شہداء ہیں جو امت کے امین اور سرفروش ہے شہداء ہمارے ملت کے محسن ہیں،ہماری بنی ۖ کی سنت ہے اگر جہاد کوہم ترک کریں گے تو تعداد زیادہ ہونے کے باوجود تنزلی کی طرف جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ دنیا کی طاغوتی کے سامنے جن لوگوں نے امت کی بیٹیوں اور مائوں کی حفاظت کرنی تھی وہ امت کے حکمران اقتدار کے غلام بن گے اور طاغوت کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے انہوں نے کہا کہ نوجوانوں نے میدان میں نکل کر اپنی قربانیاں پیش کیں،مسلمان کو اپنی عظمت رفتہ یاد دلائی ہے انہوں نے کہا کہ جہاد کشمیرہو یا افغانستان،فلسطین میں یا ملا عبدالقادر کی شہادت ہو یہ پوری دنیا پر معرکہ برپا ہے،روح زمین پر شیطان کے نظام کے خلاف جہادی تحریکیں سرگر م ہیں،انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں تمام جہادی تنظیموں کے قائدین موجود ہیں اور کشمیر کا مسئلہ مذاکرات سے نہیں جہاد سے حل ہو گا،انہوں نے کہا کہ ہمیں صحابہ کرام کی راہ پر عمل کرتے ہوئے نظام ظلم کے خلاف علم بلند کرنا ہو گا،انہوں نے کہا کہ مجاہدین کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں باڑیں لگا کر ان کا راستہ کبھی نہیں روکا جا سکتا ان کے پاس جذبہ جہاد اور شوق شہادت کی قوت موجود ہے،کتنے اسیر ساتھی ہیں جو 18سال تک جیلوں سے واپس آئے ہیں مگر اپنے گھروں میں بیٹھنے کے بجائے دوبارہ جہاد میں سرگر م عمل ہیں عبدالقادر ملا کا آخری خط ہمارے لیے بہت بڑا پیغام ہے،انہوں نے کہا کہ گزشتہ 60سالوں سے جن لوگوں نے ہندوستان کی یلغار کا مقابلہ کیا ہے،ہندوستان کی ثقافت کی یلغار کو کشمیریوں نے اپنے ٹھوکر مار کر مسترد کر دیا،آج سید علی گیلانی کی قیادت میں یہ سری نگر میں یہ نعرہ لگتا ہے کہ پاکستان سے رشتہ کیا،کشمیری شہداء کے مقدس لہو کی قیمت پر ہندوستان سے دوستی کرے ہم ایسا ہر گز نہیں ہونے دیں گے اور نہ ایسا کرنے والے اقتدار میں رہ سکے گا،حزب المجاہدین کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شمشیر خان نے کہا کہ شہداء ہمارے سر کا تاج ہیں ،شہداء پوری ملت کے شہیدہوتے ہیں نہ کہ کسی تنظیم کے ،انہوں نے کہا کہ یہ بیس کیمپ جو آزاد خطہ ہے اسے کسی مذاکرات کے ذریعے حاصل نہیں کیا یہاں پر ہمارے آبائواجداد نے قربانیاں دے کر حاصل کیا ہے،آج خونی لکیر کے اس پار ہمارے بھائی اپنے سروں پر کفن باندھے جدوجہد آزادی میں مصروف ہیں انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ دوستی کرنے والے اور آلو پیاز کی تجارت کرنے سے کوئی حل نہیں ہو گا انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے لائن آف کنٹرول پر باڑ لگا کر کشمیریوں کے سینے پر لکیر کھینچی ہے آج دیوار کی بات ہو رہی ہے ،ہندوستان کو دوست قرار دینے کا یہ نتیجہ ہے کہ آج کراچی ہو یا بلوچستان بھارتی ایجنسیوں کی سرپرستی میں قتل عام ہو رہا ہے یہ خطہ یہاں کے غیور عوام نے آزاد کرایا ہے مقبوضہ کشمیر کو بھی ہمارے نوجوان جہاد کے ذریعے آزاد کرائیں گے ہندوستان کی8لاکھ فوج جس کے پاس دنیا کی ہر طرح کی ٹیکنالوجی موجود ہے مگر ان کے مد مقابل چند ہزار مجاہدین جن کے پاس ٹوٹی پھوٹی بندوقیں ہیں انہوں نے ساری فوج کا جینا مشکل کر رکھا ہے انہوں نے کہا کہ جب تک کشمیریوں کو آزادی اور رہائی نصیب نہیں ہو جاتی اس وقت تک ہمارا جہاد جاری رہے گا ،شہداء کے ساتھ محبت اور عقیدت کے اظہار کرنا اور نوجوان نسل کو آگاہ کرنا ہے بھارت مکار دشمن ہے جو پورے آزاد خطے پر نظر رکھے ہوئے ہے ہم حالت جنگ میں ہیں نوجوان آگے بڑھ کر عسکری تربیت حاصل کریں تا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو آزاد کر سکیں،اسرائیل میں ہر شخص کو فوجی تربیت حاصل کرنا لازمی ہے اگر فوجی ٹریننگ حاصل نہیں ہو گی تو نہ وہ ڈاکٹر ،سیاست دان،اسمبلی ممبر اور انجیئنر نہیں بن سکے گا،آج وقت آ گیا ہے کہ ہم نبی ۖ کی سنت کو دوبارہ زندہ کر کے جدوجہد کو تیز کریں اور جہاد کے راستے کو اختیار کریں کا نفر نس سے سید نذیر حسین شاہ صدر انجمن اساتذہ جموں وکشمیر،امیر جیش محمد گجرانوالہ ڈویثرن مولانا عمیر، جما عت الد ة کے را ہنما محمد اسا مہ اورامیر جماعت اسلامی ضلع بھمبر امجد یوسف نے بھی خطا ب کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھمبر( ڈسٹر کٹ رپو رٹر)سماجی تنظیم جیزز لورز ویلفئیر ورکرز کے صدر شکیل انجم ساون اور لیم عنایت نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ حقوق کی فراہمی میں ضلع بھمبر کے مسیحیوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔سرکاری ملازمتوں میں حصہ، چرچ و رہائش کے لیے حکومت کے عہد کردہ پلاٹز، قبرستان کی چار دیواری و تحفظ، باشندہ ریاست کا حصول، بلدیہ بھمبر میں مسیحی ملازموں کے جائز حقوق کی فراہمی ، وہ امر ہیں جو آج بھی یہاں کے مسیحیوں کے لیے خواب اور یہاں کے سیاسی راہنمائوں کے لیے ووٹ حاصل کرنے کا موثر ذریعہ ہیں۔ لیکن مندرجہ بالا حقوق کی دستیابی کے لیے متعلقہ اداروں و شخصیات کی طرف سے ہمیشہ عہد کر کے تاریخ دی جاتی ہے اور پھر ”تاریخ پہ تاریخ دے کر ٹال مٹول سے کام لیا جاتا ہے ۔یہی صورتحال یہاں کے مسیحیوں کو احساس محرومی کی دلدل میں دھکیلتا جا رہا ہے۔ ہماری ارباب ِ اختیارسے پروزور اپیل ہے کہ ہم ضلع بھمبر کے مسیحیوں کے جائز مطالبات حل کئے جائیں۔آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم چوہدری عبدالمجید میرپور اور مظفرآباد میں مسیحیوں کے حقوق کی فراہمی کے لیے جواعلانات کر رہے ہیں ہم ان کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔یہ پہلے وزیر اعظم ہیں جہنوں نے مسیحیوں کو شناخت اور حقوق کی فراہمی کا عہد کر کے اپنا نام تاریخ میں سنہری حروف میں لکھوا لیا ہے لیکن ضلع بھمبر کے مسیحی جو قیام آزاد کشمیر سے قبل ہی یہاں موجود تھے اور آج بھی ہر شعبہ زندگی میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں اپنے بنیادی حقوق سے محروم چلے آرہے ہیں۔ حکومت اقلیتی برادری کے مسائل کو حل کر کے قائد اعظم محمد علی جناح کے پیغام کی پاسداری کر کے اپنا فریضہ ادا کریں۔
