Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بزمِ اردو، دبئی کے زیراہتمام محفلِ اردو 2017

August 24, 2017 0 1 min read
Dubai Mehfil-e-Urdu 2017 Ghulam Ali - Mushtaq Yousafi & Tamseeli Mushairah
Dubai Mehfil-e-Urdu 2017 Ghulam Ali - Mushtaq Yousafi & Tamseeli Mushairah
Dubai Mehfil-e-Urdu 2017 Ghulam Ali – Mushtaq Yousafi & Tamseeli Mushairah

تحریر : حسیب اعجاز عاشر
میرے چہرے کی شگفتگی اُردو ادب کا کمالِ خاص ہے۔۔اگر میں غزل گائیک نہ ہوتا،توشاید نہ ہوتا: رُوبرو میں اُستاد غلام علی کا اظہارِخیال
عزت افزائی کیلئے بزم اُردو دبئی نے جو انداز و طریقہ اختیارکیا، دل کی اتہاہ گہرائیوں سے ممنون ہوں: مشتاق احمد یوسفی کا ویڈیو پیغام
اُردو ٦٠٠ ملین لوگوں کی بولے جانے والی دنیا کی چوتھی بڑی زبان ہے، اِسکی پھر سے گھروں میں ترویج کرنی ہے : ریحان خان لال قلعہ کا آخری مشاعرہ (تمثیلی مشاعرہ) نے خوب محفل جمائی۔”ماضی” اور ”حال” کی دلچسپ مکالمہ بازی سے شرکاء لطف اندوز ہوئے کبھی تالیوں سے اور کبھی قہقوں ے انڈین ہائی سکول کا کچھا کچھ بھرا شیخ راشد ایڈیٹوریم ہال گونجتا رہا۔بہترین انتظام و انصرام کو شرکاء محفل سے خوب پسند کیا۔

جس نت نئے انداز،پیراہے ،ذاویوںمیں اُردو کی چاشنی سے رستیِ اِس محفل کو سجا گیا تھا، قابل دید بھی تھا ،قابل رشک بھی ،قابل تعریف بھی اور قابل تقلیدبھی۔۔بڑے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ ”بزم اُردو،دبئی” کی کاوششوں سے پاک و ہند کی تہذیب کی سنہری تاریخ سے مزین کتب میں سے اُردو ادب کے اوراق کبھی پھیکے نہیں پڑ سکتے ۔

اکثر لکھاری کے لئے منعقدہ تقریب کی کامیابی کا تاثر پیدا کرنے کیلئے ، منفرد وپُرکشش الفاظ کا چُنائو،پھر اِن کے ردوبدل اور اُلٹ پلٹ کرنے ، بار بار تحریر کے بنائو سنگھار، گویاقارئین کی توجہ لینے کیلئے روشنائی سے اندھیروں میں روشنی بھرنے کیلئے ناجانے قلم و قرطاس کے ساتھ کیا کیا جتن کرنے پڑتے ہیں۔۔۔مگرکبھی صورتحال یکسر مختلف ہوتی ہے۔۔کیونکہ تقریب ہی ایسی رنگین ودلفریب،شاندار و یادگار ہو تی ہے کہ سر کو دُھننا نہیں پڑتا ،بلکہ الفاظ خود ہی عطا ہوتے رہتے ہیں۔اور کڑیوں سے کڑیاں ملتے ہوئے ایک تحریر بن ہی جاتی ہے۔یہاں بھی ایک ایسا ہی احوالِ تقریب پیش خدمت ہے۔

بزمِ اُردو دبئی کے زیراہتمام ‘ تین حصوں پر مشتمل تقریب’محفلِ اُردو٢٠١٧”متحدہ عرف امارات میں اُردو ادب کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد تقریب تھی۔انڈین ہائی سکول، ڈیرہ دبئی کاشیخ راشد ایڈیٹوریم ہال وقت سے پہلے ہی اہل ذوق حضرات کی کثیر تعداد سے کچھا کچھ بھر چکا تھا، مین گیٹ پر پُرجوش ہستے مسکراتے چہروں کیساتھ انتظامیہ شرکاء کے پُرتپاک استقبال کیلئے موجود تھی ۔جبکہ شرکاء کو اُنکی مخصوص نشستوں تک لے جانے کیلئے ہال کے اندر بھی انتظامیہ کی جانب سے ذمہ داران چاک و چابند تھے۔۔لیجئے !۔تقریب کا آغاز ہواجاتاہے۔۔۔ قمقمے مدھم ہونے لگے اور اچانک صنف ِ ناک کی سریلی آواز”میں ہوں ترنم احمد” سماعتوں سے ٹکراتے ہی شرکاء کی نظریں سٹیج کی جانب جم جاتی ہیں۔۔۔ترنم نے بڑی خوش اسلوبی سے پروگرام کا سرسری تعارف پیش کیا ،شاعر”مومن”کا ذکر آتے ہی”تم اُس مومن کا ذکر تو نہیں کر رہی ؟ جو۔۔۔۔۔”کہتے ہوئے ایک شخص(عزیر) سٹیج پر لگے دوسرے ڈائس پر جلوہ آفروز ہوا ۔اور پھر دونوں میں ایک دلچسپ مکالمہ بازی کا آغاز ہوا ۔ترنم کی گفتگو سے یہ تاثر واضح تھا کہ وہ ادب کا ”حال ”ہیں جبکہ عزیر اپنی باتوں سے ”ماضی” کا تاثر دے رہے تھے۔ایک اگر حال کو بہتر بتانے پر بضد نظر آتاتو دوسرے ماضی میں ادب کو قابل رشک ثابت کرتا اگر ماضی میں ادب کو معیاری کہا جاتا تو دوسری جانب سے حال میں فروغ ادب کی کاوششوں کو مثالی قراردیا جاتا۔منتخب جملوں اور دل موہ انداز سے حاضرین بہت لطف اندوز ہوتے رہے۔

”دل میں جھانکو تو ماضی حال میں آجاتاہے” اِس متفقہ رائے کے بعد ترنم کا کہنا تھا کہ ریحان خان اُردو کے عاشق ہیں حال میں رہتے ہوئے ماضی پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ عزیر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ ماضی ہیں اور میں حال تو مستقبل کون ہے؟ ۔دونوں نے ہاتھوں کو حاضرین محفل کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا ”مستقبل آپ ہیں” اور یوں تالیوں کی گھن گرج میں ریحان خان کو ڈائس پر مدوح کیا گیا۔ ریحان خان نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا جی بالکل۔۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ اُردو ادب کا مستقبل آپ سب ہیں۔ مگر قابل فکر بات یہ ہے کہ ہمارے مستقبل کو اپنی زبان کے تہذیبی نقطہ نظر پر احساس کمتری ہوگیا ہے۔انگریزی بول چال کا رحجان فروغ پا رہا ہے جب کہ یہ صرف کام کاج کی حد تک محدود زبان ہونی چاہیے تھی۔٦٠٠ ملین لوگوں کی بولے جانے والی دنیا کی چوتھی بڑی زبان اُردو کی ترویج کا آغاز پھر سے اپنے گھروں سے کرنا ہوگا۔اُنہوں نے اِس عزم کا بھی اظہار کیا کہ اُردو زبان کے حوالے سے کوئی مشاعرے یا غزل گائیکی کے انعقاد کا ارادہ رکھتا ہوں ”بزم اُردو دبئی” ہر ممکنہ تعاون کریگی۔

لب و لہجہ سے خوشبو گھولنے والی زبان” اُردو ”کی محفل ہو اور غزل کا ذکر نہ ہو۔یہ ناممکن ہے۔۔اور پھرغزل کا ذکر ہو اور اُستاد غلام علی کا نام نہ لیا جائے ۔یہ بھی ناممکن ہے ۔۔غزل کا صنف سخن اپنے وجود کے اعتبار سے نازک ہی صیح مگرگائیکی کے اعتبار سے اُتنا ہی مشکل ترین ہے۔ بڑے بڑے کلاسیکل اساتذہ کو غزل گانے کے لیے کہہ دیا جائے تو وہ فن موسیقی کی باریکیوں سے واقف ہونے کے باوجود غزل گائیکی سے راہ ِ فرار حاصل کر لیتے ہیں۔مگر اُساتذہ سے سیکھنے کی ٹرپ اور پھر برسوں کی ریاضت کی بدولت اُستاد غلام علی نے کلاسیکل موسیقی کوجس آن بان شان کے ساتھ زندہ رکھا ہوا ہے،بے مثالی ہے۔تلفظ،سروں پر گرفت ،موسیقی پر دسترس ،میٹھی آواز کا جادو اورسادہ اندازِ گائیکی،کی وجہ سے غزل گائیکی میں وہ مقام بنایاکہ ساراعالم ان کی جانب رشک بھری نگاہوں سے دیکھ رہاہے۔غلام علی صاحب بلا شبہ بیسویں اور اب اکیسویں صدی میں بھی ”غزل گائیکی” کے حوالے سے ایک بہت بڑا قابل قدر نام ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں متعدد ایوارڈز اور اعزازات حاصل کر چکے ہیں۔١٩٧٩ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے انھیں ان کی فنی صلاحیتوں کے اعتراف میں حسن کارکردگی کا صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے ۔

ناصر کاظمی صاحب نے کسی موقع پر کہا تھا کہ ”غلاعلی صاحب کی گائیکی کا خاصہ یہ ہے کہ وہ کسی ایک راگ میں غزل گاتے ہوئے اس راگ کے قریب کے سروں کی آمیزش سے اپنی غزل کو خوب صورت بناتے ہے”جبکہ ہری ہرن کا کہنا ہے کہ” غزل گائیکی میں مہدی حسن اور غلام علی کی مثال نہیں”لتا ،آشا بھوسلے، محمد رفیع سمیت برصغیر میں کوئی ایسا گائیک نہیں جس نے غلام علی کے فن کو تحسینی کلمات سے نہ نوازا ہو۔

Dubai Mehfil-e-Urdu 2017 Ghulam Ali - Mushtaq Yousafi & Tamseeli Mushairah
Dubai Mehfil-e-Urdu 2017 Ghulam Ali – Mushtaq Yousafi & Tamseeli Mushairah

اُستاد غلام علی کی فروغِ اُردو ادب کیلئے اِنکی گراں قدر خدمات کے حوالے سے ”بزم اُردو ٢٠١٧”کے حصہ اول میں غیر رسمی اندازِ گفتگو کیلئے بعنوان ”روبرو”میں شگفتہ یاسمین اور اُستاد غلام علی کوسٹیج پر مدوح کیاگیا،حاضرین محفل نے تالیوں کی گونج میں غلام علی صاحب سے اپنی والہانہ محبت کا اظہار کیا۔ اِس سے قبل ”یہ دل یہ پاگل دل میرا”، ”چپکے چپکے ر ات دن آنسو بہانہ یاد ہے” سمیت غلام علی صاحب کی چند مشہورِ زمانہ غزلوں کی سُریلی دھنوں کی مختصر آڈیو کو بھی سماعتوں کی نذر کیا گیا ۔جسے شرکاء کی تالیوں اور واہ واہ کی داد و تحسین نے سندِ پسندیدگی سے نوازا ۔شگفتہ یاسمین کا کہنا تھا کہ مدتوں تاریخ کو انتظار کرنا پڑتا ہے پھر غلام علی جیسی ہستیاں سامنے آتی ہیں انکے لہو میں اُردو تہذیب ایسے رچ بس چکی ہے کہ اِن کے نقش زمانہ کبھی بھولا نہیں سکتا۔ مختلف سوالات کا جوابات دیتے ہوئے اُستاد غلام علی کا کہنا تھا کہ اُستاد کبھی نہیں مرتے میرے اُستاد ہمیشہ زندہ رہے گے، مجھے ٹیسٹ کیلئے لائف کلاسیکل رانگنی گانے کو کہا گیا،اللہ نے مجھے گانے کی ہمت دی اور یوں میں اُنکی شاگردی میں آ گیا۔میری آواز میری نہیں یہ سب میرے اساتذہ اور والدین کی دعائوں کا اثر ہے۔پُرانی یادوں کی کتابوں کے اوراق سے دھول اُڑاتے ہوئے کبھی غلام علی کے چہرے پر افسرودگی چھا جاتی اور کبھی جگ مگا اُٹھتا اور کبھی خود ہستے اور شرکاء کو بھی خوب ہنسا دیتے۔”سا،رے،گا،ما،پا،دی،نی ،سا”کا راگ گانے پر جو اُستاد سے نقد انعام ملا، اور اُستاد کی فرمائش پردن بھر کی مشقت برداشت کرتے ہوئے دور دراز سے گھی لانے اور چہرے کے تھکاوٹ کے تاثرات ظاہر ہونے کے باوجود زبان سے بیان نہ کرنے پر ،اُستاد سے دعائیں لینے ، جیسے واقعات کو حاضرین نے بڑی دلجمعی سے سُنا۔ریڈیوپاکستان میں ”نوائے شوق”کے ایڈیشن میں منتخب ہونے پر جو اُستاد غلام علی نے اُن لمحات کی منظر کشی کی شرکاء بہت لطف اندوز ہوئے ۔اُنہوں نے بتایا غزل گائیک تو بہت تھے مگر ناصر کاظمی کو مجھ سے بہت پیارتھا وہ کہتے تھے کہ ”غلام علی میرے من کو راضی کرتا ہے ،اُردو ادب کو راضی کرتا ہے”۔ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میرے چہرے کی شگفتگی اُردو ادب کا کمالِ خاص ہے۔ شگفتہ یاسمین کے اِس سوال پر کہ کام کیا۔کیا عشق بھی کیا؟ جواب ملا جی دو تین کلو۔۔۔ہال میں قہقوں کی لہر دوڑ گئی۔دبئی سے وابستہ چند پُرانی یادوں کو پیش کرتے ہوئے جب یہ کہاکہ کئی برسوں قبل دبئی ایئرپورٹ سے باہر گرمی کا یہ عالم ہوتا تھا جیسے دوزخ چند کلومیٹر پر رہ گئی ہو۔۔۔تو شرکاء ہس ہس کر لوٹ پوٹ ہوگئے۔ اگر آپ غزل گائیک نہ ہوتے تو کیا ہوتے؟ غلام علی صاحب کا کہنا تھا کہ میں غزل گائیک نہ ہوتا تو مجھے ہونا بھی نہیں چاہیے تھا۔ اور یوں شگفتہ کے اِس شعر پر تقریب کا پہلا حصہ اختتام پذیر ہوا کہ

آپ مہمان نہیں رونق محفل ہیں
ہم یاد رکھیں گے کہ کوئی آیا تھا۔

ماضی اور حال کے پھر ایک دلچسپ مکالمے کے بعد تقریب اگلے پڑائو کی جانب بڑھی۔جوشِ اُردو ایوارڈ٢٠١٧کیلئے اُردو زبان کے فروغ کیلئے ناقابل فراموش خدمات پیش کرنے والے جناب مشتاق احمد یوسفی کا انتخاب کیا گیا تھا۔مشتاق احمد یوسفی, ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز ، ڈی لٹ (اعزازی) کا شمار ایک رحجان ساز اور صاحب اسلوب مزاح نگار میں ہوتا ہے۔مشتاق احمد یوسفی کی پیدائش 4 ستمبر، 1921ء ریاست ٹونک، راجھستان، ہندوستان میں ہوئی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم راجپوتانہ، ایمـاے (فلسفہ) آگرہ یونیورسٹی، ایل ایل بی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (AMU) سے حاصل کی۔ تقسیم ہند کے بعد کراچی تشریف لے آئے ۔کامیاب ترین بینکر ہونے کے علاوہ طنزومزاح میں بلند پایہ مقام حاصل کرنا اِنہی کا خاصہ ہے۔

مشتاق احمد یوسفی صاحب شدید علالت کے باعث تقریب میں شرکت سے قاصر رہے۔ مگر ایوارڈ نوازنے کے حوالے سے ٹی وی سکرین پر ویڈیو کلب پلے کیا گیاجس میں بزم اُردو دبئی کی جانب ظہورالاسلام جاوید اور تابش زیدی مشتاق احمد یوسفی کی خدمت میں کراچی میں اُنکی دولت کدہ پر جوشِ ایوارڈ ٢٠١٧ پیش کر رہے تھے ۔ عنبرین حسیب عنبر کے چند پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے یوسفی صاحب کا کہنا تھا کہ میری عزت افزائی کیلئے جو صورت اختیار کی گئی قابل ستائش ہے،اج اِس روایت کو بدلتے ہوئے دیکھ رہا ہوں کہ زندہ کی بھی تعریف ہورہی ہے ورنہ تو یہ مرنے کے بعد بھی یاد کیا جاتا ہے ۔۔اِس مزاحیہ جملے پر شرکائِ محفل خوب ہنسے کہ ”لگتا ہے انتظامیہ نے کچھ عجلت دیکھائی ہے”۔مسکرانے ،کھلکھلانے کا سلسلہ عروج بام کو چھونے لگا جب عنبرین کے اِس سوال پرکہ آج لکھنے والے کا تلفظ،بولنا،لکھنا سب غلط ہے،آپ کیا کہتے ہیں؟جواب ملا کہ دوسروں کی بدچلنی پر تبصرے کا حق کسی بدچلن کو ہی ہوسکتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ تلخی اور مٹھاس ہمارے اندر ہوتی ہے ،یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم کس کو کھیلنے کا موقع دیتے ہیں اور کس کوضبط کرتے ہیں ۔بعدازاں بھارت سے تشریف لائے معروف آرٹسٹ ڈاکٹر سعید عالم اور ویشنو شرما نے مشتاق احمد یوسفی کی تصا نیف سے منتخب طنزومزاح پر مشتمل ا قتباسات پیش کر کے سماعتوں میں خوب رس گھولتے رہے،کچھ یوں بھی گماں ہونے لگا کہ جیسے ہال کے درودیوار بھی مسکرا اُٹھے ہوں۔ ایوارڈ کا سلسلہ پھر شروع ہوا اور بزم اُردو دبئی کا پہلا علم داراُردو ایواڈ بدست مباک عزت ماٰب سہیل زرعونی اور شکیل خان کے اُستاد غلام علی کو پیش کیا گیا،جبکہ ذیشان حیدر بھی ہمراہ تھے۔پاسبان اُردو ایوارڈ کیلئے ڈاکٹراُتم کمار کی قسمت جگمگا اُٹھی۔مجلے کی رونمائی عمل میں لائی گئی جس کے لئے تمام مہمانان خصوصی کے علاوہ شکیل احمد خان، ریحان خان سمیت ندیم احمد، معراج احمد نظامی، سید تابش زیدی، شبی قریشی، محمد عزیر عتیق،عائشہ جنتی، شاداب، عبدالصبور، سید اطہر عباس، سعود مدنی، احیاء بھوج پوری، سرور نیپالی،سید سروش آصف اور محمد شاداب بھی سٹیج کی رونق میں اضافہ کررہے تھے۔

ڈاکٹر اُتم کمار نے ا’ردو زبان کے انسانی ذہن پر اثرانگیز ہونے کے حوالے سے اپنی ریسرچ بارے حاضرین کو آگاہ کیا اُنکا کہنا تھا کہ اُردو انتہائی گہری زبان ہے لہذا اس کو پڑھنے کیلئے دماغ کے زیادہ حصوں کو استعمال میں لانا پڑتا ہے جو دماغ کے زیادہ حصوں کو استعمال میں لانا پڑتا ہے۔اِس کے علاوہ اُردو کا سب سے اہم کردار جو ریسرچ میں سامنے آیا وہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور اچھے اور بُرے میں فرق کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔

اُتم کمار اُردو زبان کے حوالے کئی چھپے پہلوئوں سے پردے اُٹھا رہے تھے جبکہ دوسری جانب سٹیج پر پردے گرائے جا رہے تھے ۔اُتم کمار نے اپنی گفتگو سمیٹتے ہوئے اپنی نشست پر پہنچے تو لمحہ بھر کیلئے بالکل خاموشی طاری تھی۔کہ اچانک ایک گرج دارآواز کی جانب سماعتیں متوجہ ہوئیں۔۔١٨٥٠ کا زمانہ۔۔۔لال قلعہ کا ایک منظر۔۔نہ دیوان خاص۔۔نہ دیوان عام۔۔۔ایک جانب سبزہ۔۔۔صاف چبوترہ۔۔۔مغلیہ شان و شوکت سے عاری۔۔۔بہادر شاہ ظفر کی سادگی کا مظہر۔۔۔یہاں کیا ہونے والا ہے ؟۔۔۔پھر آواز کانوں کے پردوں سے ٹکراتی ہے ۔۔۔مومن صاحب طرحی مصرع کیا ہے ؟۔۔۔ظلَ سبحانی پردے کے پیچھے اپنے عہد کے نامور شعراء کرام کے ہمراہ سٹیج پر جلوہ آفروز ہوتے ہیں۔۔۔دعاکیلئے ہاتھ آسمان کی جانب بلند ہوتے ہیں۔۔۔آخری مشاعرے کی تلخی سے دِل اُٹھ گیا تھا،سوچا تھا کہ اب مشاعرہ نہیں ہوگا،ظلِ سبحانی کہتے ہوئے بیٹھ جاتے ہیں۔۔۔بے تکلف سی گفتگو جاری ہے کہ اچانک ظلِ سبحانی ایک حکم صادر کردیتے ہیں کہ اِس بار مشاعرے کی نظامت ایک شاعر کرے گا ۔۔۔دبے لہجے میں مخالفت اور فیصلے پر نظرثانی کی ہلکی پھلکی تکرار کے بعد سبھی سر خم تسلیم کر لیتے ہیں ۔مشاعرے کی تاریخ میں پہلی بار نظامت کا سہراجس شاعر کے سر سج رہا تھا،وہ خوش نصیب مرزا اسد اللہ غالب تھے۔اور یوں ایک دلچسپ لال قلعہ کا آخری مشاعرہ(تمثیلی مشاعرہ) اپنے اصل رنگ لئے شروع ہوتا ہے۔

Dubai Mehfil-e-Urdu 2017 Ghulam Ali - Mushtaq Yousafi & Tamseeli Mushairah
Dubai Mehfil-e-Urdu 2017 Ghulam Ali – Mushtaq Yousafi & Tamseeli Mushairah

آنکھیں دھنگ تھی کہ ماضی حال میں موجود تھااور جبکہ خوبصورت مکالمہ بازی،اندازِنظامت،شعراء کے ادبی مزاح،مہذب تنقید،مشہور زمانہِ اُردو کلام کی آمیزش کے بدولت ہم ماضی میں موجود تھے۔اِس مشاعرے کے رائیٹر اورہدایتکار ڈاکٹر ایم سعید عالم جو مرزا غالب کا کردار بھی باخوبی ادا کررہے تھے،مومن، آغا جان، بہادر شاہ ظفر، ذوق، غلام رسول شوق، بال موکند حضور، سخنور رُکن، آذُوردا، داغ دہلوی اور سشلا کا کردار ادا کرنے والی فنکاروں کے اصل نام بالترتیب کچھ یوں ہیں،ساحر خان، عیش، ویشنو شرما، ایمن انصاری، منیش سنگھ، حنان سنگھ، آرن، پرتاپ، ساحل جان اور یشراج تھے۔شرکاء نے دلجمعی سے تمثیلی مشاعرہ سُنا اور ہر کلام کے ہر مصرعے پر داد لٹاتے رہے فنکاروں کی پرفارمنس کو بھی خوب سراہا گیا۔ مشاعرہ اختتام کو پہنچا تو ظل سبحانی کی تقلید میں سبھی نے ہاتھ جانب ِآسمان بلند کئے اور دعائیہ کلمات پیش کئے۔

جس نت نئے انداز،پیراہے ،ذاویوںمیں اُردو کی چاشنی سے رستیِ اِس محفل کو سجا گیا تھا، قابل دید بھی تھا ،قابل رشک بھی ،قابل تعریف بھی اور قابل تقلیدبھی۔۔اس محفل کے بعد میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ”بزم اُردو،دبئی” کی کاوششوں سے پاک و ہند کی تہذیب کی سنہری تاریخ سے مزین کتب میں سے اُردو ادب کے اوراق کبھی پھیکے نہیں پڑ سکتے۔

تحریر : حسیب اعجاز عاشر

Share this:
Tags:
dubai دبئی زیراہتمام
Previous Post خانقاہِ چشتیہ شاہ محمد علی مکھڈی میں سید علی عباس شاہ صاحب کا پر تپاک خیر مقدم
Next Post گوجر قوم کے نوجوانوں کی سماجی سرگرمیاں
Gujjar

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close