کس معصوم ادا سے سویا ہے یہ ننھا سا وجود
آسماں بھی اس پہ رویا ہوگا اے میرے معبود
بار بار آنکھیں چھلک جاتی ہیں دیکھ کر اس کو
دل پر ہاتھ پڑتا ہے کانپ جاتا ہے وجود
یہ بھی کسی ماں کی آنکھ کا تارہ ہو گا
کس محبت سے اس نے اسے سنوارہ ہوگا
جانے کس بے درد لمحے اسے گود سے اتارہ ہو گا
کس طرح لہروں نے اسے پٹخ پٹخ کے مارا ہو گا
اب کتنے سکون سے سویا ہے یہ گڈا
ساری دنیا کے منہ پر طمانچہ ہے یہ گڈا
تحریر : عالیہ جمشید خاکوانی

