کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء وزیر اعلیٰ سندھ کے کوارڈینٹر تاج حیدر نے کہا ہے کہ چائلڈ لیبر کا خاتمہ یقینی بنا نے کے لئے ایمپلائنمنٹ چلڈرن ایکٹ میں ترمیم کی جارہی ہے تاکہ چالڈ لیبر کا خاتمہ کرکے بچوں کو مزدوری کے بجائے تعلیم کے حصول پر راغب کیا جاسکے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوسائٹی برائے تحفظ حقوق اطفال(اسپارک ) کے زیر اہتمام چائلڈ لیبر ILOکنونشن کی روشنی میں حکومتی ذمہ داری کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
سیمینار سے جسٹس غوث محمد ،جوائنٹ ڈائریکٹر پائلر ذوالفقار شاہ اور منیجر اسپارک ناظرہ جہاں نے بھی خطاب کیا ۔تاج حیدر نے اپنے خطاب میں مزید کہاکہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 25-Aکے مطابق پانچ سال سے سولہ سال تک کے بچوں کے لئے لازمی اور مفت تعلیم کی فراہمی کی ذمہ داری ریاست پر عائد کی گئی ہے اور اس قانون کو ILOکے کنونشن 138کے مطابق بنایا جاسکے اور بچے کی تعلیم کے حق تک رسائی کو ممکن بنایا جاسکے ۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس غوث محمد نے کہا کہ ایمپلائمنٹ چلڈر ایکٹ 1999کے تحت لیبر ڈیپارٹمنٹ میں کوئی کیس رپورٹ نہیں کیا گیا بچوں سے مشقت لینے سے متعلق ایکٹ کے تحت لیبر انسپکٹر ز بھرتی کئے جائیں اور انہیں قانونی اختیار ات تفویض کئے جائیں جو کہ روائتی اور غیر روائتی شعبوں میں چائلڈ لیبر کی نگرانی کرسکیں ،جوائنٹ ڈائریکٹر پائیلر ذوالفقار شاہ نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حکومتی سطح پر چائلڈ لیبر کا درست اندازہ لگانے کے لئے سروے کرایا جائے جس میں راوئتی اور غیر روائتی طریقے سے شعبوں کو شامل کیا جائے۔
سیمینار سے اپنے خطاب میں سوسائٹی برائے تحفظ حقوق اطفال(اسپارک ) کی منیجر ناظرہ جہاں نے کہاکہ بین الاقوامی اداروں کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 12ملین سے زیادہ بچے چائلڈ لیبر کے طور پر کام کررہے ہیں اور اس تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے بین الاقوامی ادارے یونیسف کے مطابق پاکستان میں سال 2012ء میں کام کرنے والے کم عمر بچوں کی تعداد 10ملین تھی اس طرح تحریک حقوق اطفال کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 10سے 18سال کی درمیانی عمر کے تقریباً9.68ملین بچے افرادی قوت میں سرگرم تھے ان میں 2.98ملین بچوں کی عمر یں 10سے14سال کے درمیان ہیں جبکہ ہزاروں بچوں کی عمریں 10سال سے بھی کم ہیں ۔ناظرہ جہان نے کہاکہ دنیا میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں پاکستان کا شماردوسرے نمبر پر ہے یونیسف کے رپورٹ کے مطابق اپریل 2012ء میں پاکستان میں پرائمری اسکول جانے کی عمر میں 7.3ملین بچے اسکول نہیں جاتے اس مجموعی تعداد میں 4.21لڑکیاں شامل ہیں انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کو یقینی بنا نے کے لئے حکومت لیبر قوانین میں ترامیم کرے تاکہ بچے چائلڈ لیبر کے بجائے اسکول کی کلاس میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کر سکیں۔
