Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بچوں کی تعلیم و تربیت میں داستان گوئی کا کردار

September 2, 2015 0 1 min read
Children
Children
Children

تحریر : محمد اسلم مانی
“اردو کی نثری داستانیں” اور” داستانوں کی تکنیک “کے مصنف گیان چند جین (اترپردیش اردو ادکامی لکھنو)کے مطابق داستان کے لغوی ” معنی قصہ ، کہانی اور افسانہ “کے ہیں،خواہ وہ منظوم ہو یا منثور جس کا تعلق زمانہ گذشتہ سے ضرور ہو اورجس میں فطری اور حقیقی زندگی بھی ہوسکتی ہے ، اس کے علاوہ غیر فطری اکتسابی اورفوق العادت شاذ و نادر فو ق العجائب بھی ہو سکتی ہے۔قصہ، کہانیوں کا شوق انسانی فطرت میں شامل ہے۔ جیسے جیسے انسانی تہذیب و تمدن ارتقائی کے مدارج طے کرتی گئی ویسے ویسے یہ شوق بھی پروان چڑھتا گیا۔داستان گوئی کی روایت قدیم ہندوستان میں بے حد مقبول تھی۔اس کے علاوہ الجیریا ، بوسینا اور انڈونیشا جیسے ممالک میں داستان گوئی تہذیب کا اہم حصہ تھی۔ جہاں تک داستا نوں ، قصص اور کہانیوں کا تعلق ہے ان کو ادب کی مایہ ناز اور قدیمی قسم میں شما رکیا جاتا ہے بلکہ اگر کہا جا ئے تو بے جانہ ہو گاکہ آغاز انسانیت سے ہی اس پر توجہ دی گئیاس کے ذریعے انسانی ذہن کو بڑی حسن وخوبی اور احسن انداز کے ساتھ تبد ل کیا جا سکتا ہے ۔”آ ج کے بچے کل کے بڑے ہوتے ہیں ،اس لئے زندہ اور باشعور قومیں اپنے نونہالوں کی تربیت کا آغاز ان کے بچپن سے کر دیتی ہیں”یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ بچوں کو فطر ی طور پرکہانیاں سننے اور کہانیاںپڑھنے کا بہت شو ق ہوتاہے

اس لئے کہانیاں بچوں کی سیرت و کردار کی تعمیر میں اہم کردارادا کرتی ہیں۔دنیامیں آنکھ کھولنے والے بچے کیلئے ہر چیزبالکل نئی ہوتی ہے،اردگرد موجود ہر چیز اس کے کورے ذہن کو آگاہی فراہم کر رہی ہوتی ہے۔مثلاً کیا چیز ٹھنڈی ہے اور کیا گرم،کیا چیز بے ضرر اور کیا خطرناک۔اس طرح کی بہت سی چیزیں تو وہ اپنے تجربے سے پرکھ اور برت کر حاصل کرلیتا ہے ، لیکن اچھے برے اور صیحح غلط کی تربیت میں سکھانے کے لئے نصیحتوں سے زیادہ اہم کردارمختلف داستانوں، قصوں اور کہانیوں کا ہے۔داستان گوئی زبانی ابلاغ کی سب سے قدیم ترین اقسام میں سے ایک ہے اور خا ص طور پر چھوٹے بچوں کی تعلیم و تربیت میں ایک بہت ہی اہم کردار ادا کر تا ہے۔جونانی ، دادی یا دیگر گھر کی خواتین بچوں کو کہانیاں سناتی ہیں ،بچپن میں سنائی جانے والی کہانیوں سے ان زبان و بیان کی تربیت اور تخیلاتی قوت بہت تیز اور فعال ہو جا تی ہے۔ان کہانیوں میں انہیں کچھ معلومات اور سبق ملنے کے ساتھ ساتھ غوروفکراورتوجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچتا ہے۔بچوں کو کہانیاں سنانے کا سلسلہ تربیت کا وہ باقاعدہ او غیر نصانی طریقہ ہے جو انسانی فطر ت اور جذباتی میلانا ت سے قریب تر ہے۔یہ سلسلہ اسوقت شروع ہوجاتا ہے جب ایک بچہ ہماری بات سن کر سمجھنے لگتا ہے پھر اپنے عمل ، اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان اور اشاروں سے اس کا جواب دیتا ہے۔

ایسے میں اسے سکھانے اور سمجھانے کا یہ نہایت دلچسپ اورمفید سلسلہ اس کے چشم تصور سے اسے ایسی دنیا کی سیرکرارہا ہوتا ہے ،جہاں وہ اپنی بہترین توجہ کے ساتھ بہت سی نئی چیزوں اور نئی باتوں کوسمجھ رہا ہوتا ہے۔شاہنواز فاروقی نے بچوں کی تعلیم وتربیت میں قصہ کہانی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے ” بچوں کو مطالعہ کرنے والا کیسے بنایا جائے” سوال کے جواب میں لکھتے ہیں کہ” جب بچے 5,4 سال کی عمر کے ہوجاتے ہیں تو یہ کثیر تعدا د میں الفاظ کو صحیح تلفظ میں ادا کر نے کے ساتھ سمجھ بھی رہے ہوتے ہیں تو لہٰذا اس عمر میں، گھر والوں کو چاہیے کہ بچوں کیلئے کہانیوں کی دنیا کا در کھو ل دینا چاہیے ۔بظاہر کہانی پڑھنے اور سننے میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ، لیکن ایسا نہیں ہے ۔کہانی پڑھنے اور سننے کے اثرات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔کہانی سننے کے عمل میں کہانی سنانے والے کی شخصیت سے منسلک ہو جاتی ہے اور اس میں ایک” انسانی عنصر ” در آتا ہے جو کہانی کو حقیقی بنانے میں اہم کردار ادا کر تا ہے۔کہانی کو سماعت کرنے کاایک فائدہ یہ ہے کہ کہانی سنتے ہوئے سامع کا تخیل پور ی طر ح آزاد ہوتاہے اور وہ کہانی کے ساتھ سفر کر تا ہے۔

Children
Children

کہانی سنانے والے کی آواز کا اتار چڑھائو کہانی میں ڈرامائیت پیدا کردیتا ہے، جس سے کہانی کی تاثیربڑھ جاتی ہے۔عام طور پر کہانی سنانے والا کہانی سناتے ہوئے ہاتھوں کی مخصوص حرکت اور چہرے کے تاثرات کو بھی کہانی کا حصہ بنا دیتا ہے۔ جس سے ایک جانب کہانی کی فضا اور ماحول پیدا ہو تا ہے اور دوسری جانب کہانی کو برجستگی کا لمس فراہم ہوتا ہے۔کہانی پڑھنے کے اپنے فوائد ہیں مگر کہانی کی سماعت کا اپنا لطف اور اثر ہے اور بچپن میں کہانی کی سماعت ، کہانی کے پڑھنے سے زیادہ اہم ہے۔شاہنواز فاروقی یہ بھی لکھتے ہیں کہ بچپن میں یہ بات کبھی ہماری سمجھ نہیں آتی تھی کہ ” کہانی سنانے والے رات ہی کو کہانی کیوں سناتے ہیں اور دن کو کہانی کیوں نہیں سناتے ؟بلکہ ہم ان سے دن میں کہانی سننے کی ضد کرتے تھے تووہ مسکراتے تھے اور کہتے تھے دن کو کہانی نہیں سنتے ورنہ ماموں راستہ بھول جاتے ہیں اور ہم ماموں کو راستے پر گم ہونے سے بچانے کیلئے کہانی سننے کی ضد ترک کردیتے تھے۔لیکن اب اس عمرمیں تھوڑا بہت پڑھنے اور غورکرنے سے معلوم ہوا ہے کہ کہانی اور رات کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور دن میں کہانی کا اثر گھٹ کر آدھے سے بھی کم رہ جاتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ رات اسرار کا سمندر ہے اور رات کا لمس عام کہانی کو بھی پُر اسرار بنادیتا ہے۔

تجزیہ کیاجائے تو رات کی کہانی میں جہاں پیدا کرتی ہے وہیں دوسری جانب وہ کہانی میں وہی کردار ادا کر تی ہے جو فلم یا ٹیلی ڈرامے میں سیٹ اور vertical Dimension عمودی جہت یا روشنیاں پیداکر تی ہیں۔یہاں کہنے کو اصل بات یہ ہے کہ ” کہانی کی سماعت بچوں کو مطالعے پر مائل نہیں ” مجبور” کردیتی ہیں”بچوں کے کہانیاں سنانے سے محرومی کے حوالے سے شعبہ نفسیات ،جامعہ کراچی کے پروفیسر حیدر عباس رضوی کا کہنا ہے کہ اب کچھ تعلیمی اداروں پر چھوڑ دیا جاتا ہے،جس سے بچوں کی تربیت میں بہت زیادہ کمی دیکھی جارہی ہے۔پہلے دادا ، دادی اور نانا ، نانی یا ماں کی طرف سے بچوں کو کہانی سنانے کا سلسلہ رہتا تھا۔ان کہانیوں کے ذریعے سیکھنے سکھانے کے ساتھ ساتھ ہماری ہماری ثقافت اور روایات بھی اجاگر ہوتی تھیں۔ اب ہمارے پاس اپنے بچوں کو بہلانے کے لئے وقت نہیں ،بچہ اگر ضد کر رہا ہے تو اسے کھلونے دلوا کر گویا جان چھڑالیں گے ، جب کہ پہلے بچوں کو وقت دیتے تھے۔ اس کے چھوٹے چھوٹے کھیل کھیلتے جیسے لوڈو ہوگئی ، جس سے بچے کے اندر ہار تسلیم کرنے اور آگے بڑھنے کی لگن پیدا ہوتی تھی ، یہ اس کی تربیت کا موثر طریقہ تھا ۔اب نام نہاد مصروفیات اور والدین کی ملازمتوںنے بچوں کو اس چیز سے محروم کر دیا ہے ۔نتیجتاً بچے خود ہی اپنے تفریح کے ذرائع ڈھونڈتے ہیں ، جس سے ان کی شخصیت میں ٹھہرائو اور سکون ختم ہوگیا ہے ، ان میں تشدد اور عدم برداشت کا عنصر بڑ ھ رہا ہے۔

نفسیاتی امور پر گہر ی نظر رکھنے والے ” ابن مستقیم “کے مطابق ٹی وی دیکھتے لمحے بچے کی قوت متخیلہ کام نہیں کرتی ، جب کہ کہانی کے ذریعے بچے کی تخیلاتی قوت بہت تیز ہو تی ہے،کتاب پڑھتے ہوئے وہ کتاب کے ذریعے اپنے شعور میں کسی چیز کو محسو س کر رہا ہوتا ہے۔بچپن میں کہانی سننے کے دوران ذہن بالکل نازک اور صاف ہوتا ہے اور ابھی پڑھ کر سمجھنے کی قوت پروان نہیں چڑھی ہوتی ۔ ایسے میں سن کر کسی چیز کو محسو س کرنے کا تجربہ نہایت پُر اثر ثابت ہو تا ہے۔ ” کوئی بھی بچہ کسی بات کو سن کر فوراً اپنے تصور کی مدد سے اسے محسو س کر تا اور اپنے ذہن میں اس الفاظ یا چیز کی کوئی نہ کوئی شبیہ بنا لیتا ہے ، کیونکہ اس کسی بھی فرد، چیز یا جگہ کی کوئی تصویر یا خاکہ نہیں دکھایا جارہا ہوتا سب کچھ الفاظ کے ذریعے بتایا جاتاہے ” لہٰذا مطالعے کے قابل ہونے سے پہلے کہانی سننے کا سلسلہ اس ضمن میںخاصا کار آمدثابت ہوتا ہے۔

Poetry
Poetry

ممتاز صحافی مبشر علی زیدی اپنی ” کتاب نمک پارے” کے انتساب میں اپنی امی سے بچپن میں سنی جانے والی کہانیوں کا ذکر کرتے ہوئے ، ان کے کرادر کے حوالے سے بتاتے ہیں ،جس عہد کم سنی میں جانے والی کہانیوں کے بچوں پر اثرات کا بڑا واضح پہلو سامناآتاہے۔ ” میر ی امی مجھے سلانے کے لئے کہانیاں سناتی تھیں۔وہ کہانی شروع کر تیں اور اسے ختم کرنے سے پہلے سو جاتیں ۔مَیں رات بھر جاگتارہتا ، کہانی سوچتا رہتا،کردار مجھ سے باتیں کرتے رہتے، مَیں آج جو کچھ بھی ہوں سچ مچ اپنی ماں کی وجہ سے ہوں “اب تو اسکولوں میں بھی کہانیاں کا رجحان بھی ختم ہوگیا ہے پہلے تو یہ تھا کہ پرائمری کلاسوں کے نصاب میںشامل داستانوں اور کہانیوں کے علاوہ ایک اہم روایت اسکولوں اساتذہ کی جانب سے کہانی سنانے کی رہی ہے ،” جس کا مقصد تدریس کے ماحول کو طلبہ کے لئے دلچسپ بنانا اور انہیں ایک مبثت چیز کی طر ف مائل کرنا ہوتا”بالخصوص جب کسی استادکی غیر حاضر ی یا کسی اور وجہ سے پریڈ فارغ ہوتا یا طلباکے پاس کچھ فرصت ہوتی تو وہ خود بھی کہانی سننے کی فرمائش کر دیتے تھے اس طر ح گھر وں کے ساتھ اسکولوں میں کہانی سنانے کی روایت پروان چڑھتی رہتی تھی۔ آج کے بچوں کو نہایت کم سنِی میں اسکول بھیج دیا جا تا ہے ، جہاں اگرچہ اسے کھیل ہی کھیل میں پڑھایا جاتا ہے

لیکن داستان گوئی کی روایت موجود نہیں ہے۔جس کی وجہ سے سیکھنے کے عمل کو تیز کرنے والی روایت دم توڑ رہی ہے۔موجودہ دور میںبچوں کو کہانی سنانے کی روایت کو زندہ کرنے کے لئے “ٹافی ٹی وی” کی جانب سے وقتاً فوقتاً شہر کے مختلف مقامات پر پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں ، جہاںچھوٹے چھوٹے بچوں کو کہانیاں سنانے کا اہتما م کیا جا تا ہے۔ ایک ایسے ماحول میںجہاں اسکولوں میں قومی زبان بولنے پر جرمانہ ہو اور گھروں میں بھی انگریز ی زبان رائج ہو وہاں ان کہانیوں کے پروگراموں میں اردو کو خصوصیت کے ساتھ اختیار کرنا اسے اور بھی اہم بنادیتا ہے۔اس سلسلے کو آج کے دور میں بچوں کی تربیت سے جڑے اس سلسلے کے احیا کی ایک اہم کوشش قرار دیاجاسکتا ہے، “جس کا مقصدآج کل کے بچوںمیں کہانی سننے کا شوق پیدا کرنا اور والدین کو اس طرف مائل کرنا ہے کہ وہ اپنی مصروفیات میں سے وقت نکالیں اور گھروں میں اس خوبصورت روایت کو زندہ کرکے اپنے بچوں کو پھر سے کہانیاں سنانا شروع کریں”

آج کل ہمارے یہاں بچے کہانی سن کر سونے کی بجائے ٹی وی دیکھتے ہوئے سوتے ہیں یا پھر ایک ڈیڑھ سال کی بچہ بھی موبائل سے کھیلتے ہوئے سونا چاہتا ہے۔چھوٹے بچے نرم شاخو ں کی مانند ہوتے ہیں ، انہیں جس جانب موڑا جائے گا ، یہ مر جائیں گے۔بچوں کی ابتدائی عمر میں اگر والدیں انہیں ٹی وی، کمپیوٹر اور ویڈیو گیم سے تھوڑا پرے کرتے ہوئے کہانیوں کی جانب راغب کریں اور کوشش کرکے تھوڑا وقت نکال کرانہیں کہانی سننے کی عادت ڈالیں تو کوئی وجہ نہیں بچے اس جانب راغب نہ ہوں ۔ اس کے بعد جو ں جوں وہ بڑے ہوتے جائیں گے ،وہ خود بھی مطالعے کی طرف راغب ہوں گے اور” آپ کی آج دی گئی تھوڑی سی توجہ یقیناآپ کے بچے کے کل کو بہتر بنا دے گی”

Aslam Mani
Aslam Mani

تحریر : محمد اسلم مانی
maslamly79@yahoo.com
0331-7169343

Share this:
Tags:
Author character life relationship story Training Urdu اردو بچوں تربیت تعلق تعلیم داستان زندگی کردار مصنف
Narendra Modi
Previous Post لیبر یونینوں نے آج بھارت بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی کال دیدی
Next Post امریکی صدر اوباما نے ماحولیاتی تبدیلی کو موجودہ صدی کا بڑا خطرہ قرار دیدیا
Obama

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close