Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

نقل مافیا کے خلاف آگاہی مہم کی ضرورت

December 9, 2017 0 1 min read
Exam Cheating
Exam Cheating
Exam Cheating

تحریر : قادر خان یوسف زئی
عوامی مسائل اس قدر زیادہ ہیں کہ ہماری توجہ اُن کی جانب متوجہ نہیں ہوپاتی جو بیشتر معاشرتی مسائل کی جڑ ہے۔ گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے اورنگی سے فرینڈز آف اورنگی کے ایک اسکول ٹیچر حامد آفریدی نے میٹرک بورڈ کے امتحانات میں نقل کے رجحان کی جانب توجہ مبذول کروائی ۔ میں نے اس سلسلے میں عرض کی کہ ابھی تو میٹرک کے امتحانات میں کچھ وقت ہے ۔ تو انہوں نے کہا کہ ہم ابھی سے طلبا والدین میں شعور کی آگاہی کیلئے ایک باقاعدہ مہم چلا رہے ہیں، اس سلسلے میں تعاون درکار ہے۔

میڑک و انٹر بورڈ کے امتحانات کا آنکھوں دیکھا احوال تو ہرکسی کے سامنے ہی ہے۔ مجھے اس سلسلے گہرائی میں جانے کی ضرورت نہیں تھی لیکن قبل از امتحانات آگاہی مہم کے حوالے سے اسکول ٹیچرز کی جانب سے مثبت اقدام پر دلی خوشی محسوس ہوئی ۔ میٹرک کے امتحانات کے حوالے سے بعض پرائیوٹ اسکولز کا ایک رجحان نہایت خطرناک عمل اختیار کرگیا ہے جس میں اپنے اسکول کے اچھے رزلٹ کی تشہر کیلئے نقل مافیا کے اراکین کے ساتھ ملکر منظم انداز میں مستقبل کے معماروں کو تباہ و برباد کردیا جاتا ہے۔ اس عمل سے ذہین طلبا کی زبردست حوصلہ شکنی ہوتی ہے جوشب و روز امتحانات کی تیاری میں لگا دیتے ہیں، لیکن جب امتحانات آجاتے ہیں تو رشوت کے عوض زیادہ ترطلبا ء با آسانی پرچے حل کرکے یوں جاتے ہیں جیسے امریکہ نے افغانستان فتح کرلیا ہو۔اس ضمن میں سب سے قابل افسوس رجحان یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض والدین اپنے بچوں کو خود بھی نقل کی جانب رجحان دلانے کے لئے سفارشیں تلاش کرتے ہیں ۔ شنید کے ساتھ دید بھی ہے کہ کئی احباب فون آتے ہیں، بالمشافہ ملاقات بھی کرتے ہیں کہ فلاں اسکول میں بورڈ کے امتحانات ہیں۔

کسی جاننے والے کو فون کرادیں ۔ اس سلسلے میں میرا موقف دو ٹوک ہوتا ہے کہ اگر آپ کا بچہ نقل کرکے پاس ہونا چاہتا ہے تو بہتر ہے کہ اسے پڑھانا چھوڑ دیں یا پھر بچہ اگر خود پڑھ کر امتحانات میں پرچے حل نہیں کرسکتا تو اچھے گریڈ لانے سے بہتر ہے کہ وہ “فیل”ہوجائے۔ امتحانات سے کچھ ہفتوں قبل طلبا اور ان کے والدین سمیت تعلیمی مراکز میں نقل رجحان و مافیا کے خلاف آگاہی مہم وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔تمام والدین اپنے بچے کو معاشرے میں اچھا مقام دلانے کے خواہش مند ہوتے ہیں اور اچھے سے اچھے اسکول میں بھاری فیسوں کے ساتھ مالی بوجھ و سختیاں برداشت کرتے ہیں ۔ان کا مقصد صرف یہی ہوتا ہے کہ ان کا بچہ ایک کامیاب انسان بن سکے ۔بد قسمتی سے سرکاری اسکولوں میں نظام تعلیم اس قدر حوصلہ افزا نہیں رہا کہ ہم اسے قابل مثال قرار دیں سکیں ۔ اس سلسلے میں حکومت سندھ کی جانب سے ایک تجویز ضرور سامنے آئی تھی کہ سرکاری ملازمین پر لازماََ قرار دیا جائیگا کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکول میں داخل کرائیںگے۔بظاہر تو ایسا قانون بننا اور پھر اس عمل درآمد ہونا ناقابل یقین سا لگتا ہے ، تاہم ایسا قانون اگر سندھ اسمبلی پاس کرکے لاگو بھی کردیتی ہے تو یقینی طور پر سرکاری اسکولز کی حالت ِ زار میں تبدیلی واقع ہونا بھی شروع ہوسکتی ہے۔

والدین اگر آج سے یہ فیصلہ کرلیں کہ ان کے بچے اپنی ذہانت و محنت کے بدولت ہی امتحانات میں کامیابی حاصل کریں گے تو اس کے لئے انہیں آج ہی سے اپنے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کا شیڈول ترتیب دے لینا چاہیے ۔ بچوں کو ٹیوشن سے زیادہ اپنے والدین کی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔امتحانات کی تیاری کے لئے اسکولز میں ماہانہ، سہ ماہی ٹیسٹ اس کے علاوہ ہوتے ہیں جس سے طالب علم غیر نصابی سرگرمیوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے ۔ والدین اچھے ومہنگے اسکولز میں اپنے تمام بچوں کو یکساں تعلیم دینے سے قاصر بھی ہوتے ہیں کیونکہ کم آمدنی رکھنے والے والدین کے لئے بیک وقت کئی بچوں کو اعلی تعلیمی اداروں میں تعلیم دلانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ بعض علاقوںمیں چند کمروں پر مشتمل تاریک مکان کو اسکول کا نام دیکر بھی بچوں کے مستقبل سے کھیلوار کیا جاتا ہے ۔ بھاری بھرکم انگریزی ناموں کے ساتھ والدین یہ سمجھتے ہیں کہ انکا بچہ دوسرے دن ہی انگریزی بولنا شروع کردے گا ، لیکن اس عمل سے بچہ ذہنی افراتفری کا شکار ہوجاتا ہے کیونکہ گھر میں بولی جانے والی زبان( مادری زبان) اور اسکول میں پڑھائی جانے والی زبان( دوہرا نظام تعلیم) میں واضح فرق ہوتا ہے۔

معاشرے میں مختلف لسانی تفریق و دوہرے تعلیمی نظام کی وجہ سے بعض والدین بچوں کی ذہنی نشوونما سمجھنے میں سنجیدگی سے کام نہیں لیتے۔ اگر ہم اپنے بچوں کے تعلیمی سرگرمی کا جائزہ لیں تو صبح سویرے بچوں کا اسکول بھیجنا والدین کے لئے بڑا صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے ۔ موسمی تغیرات سے بالاتر اسکول منجمنٹ سسٹم اپنے بنائے ہوئے ضابطوں کے مطابق ہی چل رہا ہے ۔ اسکول میں کم ازکم پانچ گھنٹے گذار کر والدین کے اکثریت اپنے بچوں کو مدارس میں دینی تعلیم کے حصول کیلئے بھیج دیتی ہے ۔جہاں کم ازکم تین گھنٹے بچہ گزار کر آتا ہے تو اسکول کے ہوم ورک کے نام پر آدھے گھنٹے کے وقفے کے بعد بھاری بھرکم بستہ پھر اس کے سامنے ہوتا ہے اور مزید دو گھنٹے بچے کی تعلیمی جنگ میں خرچ ہوجاتے ہیں ،سہ پہر گذرتے ہی بچوں کو ٹیوشن سنیٹر بھیج دیا جاتا ہے قطع ِ نظر اس بات سے کہ انہیں ٹیوشن سنیٹر کی ضرورت ہے بھی یا نہیں۔ تین گھنٹے مزید گزار کر جب بچہ گھر آتا ہے تو ٹیوشن سینیٹر کے دیئے گئے ہوم ورک کو لکھنے میں مزید دو گھنٹے گذر جاتے ہیں۔ نصابی سرگرمیوں کا یہ بوجھ بچوں میں کئی نفسیاتی الجھنوں کا شکار کردیتاہے اور جب اس بچے کی عمر عملی میدان میں اترنے کے قابل ہوتی ہے تو وہ نصابی سرگرمیوں سے بچائو کے کئی طریقے اختیار کرچکا ہوتا ہے ۔جس میں سب سے پہلے والدین کو بے خبر رکھ کر ثانوی امتحانات کی تیاری میں عدم دلچسپی کے ساتھ ساتھ پڑھائی سے فرار اور آسان راستہ نقل کے راستے پر گامزن ہوجانا شامل ہے۔ سہل پسندی یا کام کی زیادتی و کاروبارکی وجہ سے اکثر والدین اپنے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر نظر نہیں رکھ پاتے اس لئے کالجز میں میرٹ پالیسی کی وجہ سے اچھے نمبر نہ آنے پر سفارشیں کراتے ہیں اور یہی اصل وجہ ہے کہ بیشتر والدین نقل مافیا کو بھاری رشوت بھی دیتے ہیں تاکہ ان کا بچہ نقل کرکے پاس ہوجائے اور اچھے نمبر حاصل کرسکے ۔

حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی کیا صورتحال ہے یہ تو کسی بھی سرکاری اسکول کو دُور سے دیکھنے پر ہی معلوم ہوجاتا ہے ۔ تعلیمی انقلاب کے پُر فریب نعروںمیں کرپشن کی ندیاں بہتی رہتی ہیں ۔ تعلیمی ادارے اوطاق ، بھینسوں کے باڑے بن کر قبضہ مافیا کے ہاتھوں مستقبل کے معماروں کے ساتھ کھیلوار کی کھلی اجازت دینے کی بھیانک تصویر ہے۔ رہی سہی کسر نقل مافیا کی جانب سے امتحانی مراکز کی جانب سے پوری ہوجاتی ہے جس میں قبل ازوقت امتحانی پرچوں کا آئوٹ ہوجانا، رشوت کے عوض نقل کروانے کے لئے مختلف درجے ترتیب دینا جس میں خصوصی کمرے بھی ہیں جو امتحانی مرکز میں الگ تھلگ بنایا جاتا ہے۔جس میں وی آئی پی طلبا کو بیٹھا کر نقل کرنے کیلئے فون سمیت ہر سہولت با افراط فراہم کی جاتی ہے۔ نیز اثر روسوخ کے حامل ایسے لابیاں بھی ہیں جو گھروں میں امتحانی پرچے و کاپیاں امتحانی مراکز سے خود فراہم کرتے ہیں اور وقت مقررہ پر گھر جا کر حاصل کرلیتے ہیں۔کروڑوں روپے رشوت کی شکل میں نقل مافیا کی جیبوں میں منتقل ہوجاتے ہیں یہ بھیانک عمل برسوں برس سے جاری ہے ۔ حکومت اور بورڈ انتظامیہ کی جانب سے میڈیا کی توجہ دلانے پر بعض مراکز میں چھاپے بھی مارے جاتے ہیں لیکن ہزاروں اسکولوں میں بیک وقت نقل کے رجحان کو روکنا ، اسکول انتظامیہ، اساتذہ اور والدین کی مدد کے بغیر ناممکن ہے۔یہاں اسی ذمے داری کا احساس طلبا، اساتذہ اور والدین کو کروانا ہے کہ اپنے بچوں کے مستقبل کو برباد ہونے سے بچانے کیلئے انہیں ہی میدان عمل میں آگے آنا ہوگا۔

بورڈز کے تحت امتحانات میں اپنے بچوں کے لئے سفارشیں اور رشوت کی بھاری رقوم کی فراہم کی حوصلہ شکنی کرنا ہوگی ۔ اپنے بچوں پر نصابی سرگرمیوں کا بوجھ حسب استطاعت ڈالیں۔ غیر نصابی سرگرمیوں کیلئے اپنے بچوں کو مناسب وقت فراہم کریں،تعلیم کے نام پر ایسے اسکولز میں اپنے بچوں کو داخل نہ کرائیں جہاں داخل ہوتے ہی بچوں کو قید خانے کا احساس ہو۔ اپنے بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ دینے کیلئے والدین مناسب وقت مختص کریں ، ضروری نہیں کہ بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کیلئے والدین تعلیم یافتہ ہی ہوں ۔ اگر والدین تعلیم نہیں حاصل کرسکے ہیں تو بھی اپنے بچوں کے تعلیمی سرگرمیوں پر اُسی طرح نظر رکھ سکتے جس طرح والدین بُری صحبت سے بچانے کے لئے اپنے بچوں پر نظر رکھتے ہیں۔ نا پسندیدہ عناصر کے ساتھ میل جول پر منع کرتے ہیں اور اچھی شہرت کے حامل بچوں کے ساتھ کھیل کود و تفریحی سرگرمیوں کی اجازت دیتے ہیں۔نقل کے رجحان کو روکنے کیلئے امتحانات سے قبل ہی اپنے بچوں کو فیل ہونے کے خوف سے نجات دلائیں اور اسکول انتظامیہ کے ساتھ ملکر مہینے میں کم ازکم ایک بار اپنے بچے کے رجحانات کا تعین کریں۔آپ کی معمولی توجہ بچوں کے مستقبل سدھارنے کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔قوم کا مستقبل اگر کمزور بنیادوں پر استوار ہوگا تو عمارت جتنی بھی خوب صورت ہو اس کے کمزور بنیادیں ہمیشہ نادیدہ و دیدہ خطرات کا سبب بنتے رہیں گے۔ دوہرے نظام تعلیم سے نجات اورتعلیمی اصلاحات کی ضرورت ناگزیر ہے۔

Qadir Khan Yousafzai
Qadir Khan Yousafzai

تحریر : قادر خان یوسف زئی

Share this:
Tags:
campaign copy need problems public Qadir Khan Yousafzai امتحانات ضرورت عوام مسائل مہم نقل
Woman
Previous Post عورت کی عزت نامحفوظ کیوں
Next Post جیت کا محور
Protest

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close