
موصل (جیوڈیسک) حضرت یونس علیہ السلام کی مسجد میں ان کی قبر مبارک بھی ہے۔ داعش کا کہنا تھا کہ یہ جگہ عبادت کے لئے نہیں ارتداد کے لئے استعمال ہو رہی تھی۔ تصویر میں مسجدکی اصل حالت اورتباہی کے بعد ملبے کا ڈھیر دکھائی دیتا ہے۔
اس مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں پیغمبر حضرت یونس علیہ السلام کی قبر مبارک بھی ہے۔ داعش کے شدت پسندوں نے جون میں عراق کے دوسرے سب سے بڑے شہر موصل پر قبضہ کیا تھا اور وہاں پر اسلامی قوانین کے نفاذ کا اعلان بھی کر دیا تھا۔
جنگجووں نے پہلے مسجد میں موجود افراد کو وہاں سے نکل جانے کی وارننگ دی اور اس کے بعد مسجد کو اڑا دیا۔ یہ مسجد 8 قبل از مسیح میں تعمیر کی گئی تھی اور یہاں پر ہی حضرت یونس کی قبر ہے جو چالیس روز تک مچھلی کے پیٹ میں بھی رہے تھے۔
صدام حسین کے دور میں 1990 کے عشرے میں اس مسجد کی تعمیر نو کی گئی تھی اور اب اس کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس مسجد کودیکھنے کے لئے دنیا بھر سے زائرین آیا کرتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے حضرت یونس کی مسجد کے علاوہ امام عون بن الحسن نام کی ایک مسجد بھی دھماکے سے اڑا دی ہے۔
