Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

یوم جمہوریہ اور جمہوریت کا بدلتا منظر نامہ

January 25, 2018 0 1 min read
Democracy
Democracy
Democracy

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری
یوم جمہوریہ کے موقع پر اس بات کا اعتراف کرنے میں یقینی طور پر ہمیں یہ فخر محسوس ہوتا ہے کہ ہم ایک جمہوری ملک کے شہری ہیں۔ دنیا کے بہت سارے ممالک میں، ہمارے ملک کے جمہوری طرز حکومت کو مثال کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے کہ بھارت ایک ایسا ملک ہے ،جہاں مختلف زبان، مذاہب،ذات، رسم و رواج کے چاہنے اور ماننے والے لوگ شیر و شکر کی طرح رہتے ہیں۔ صدیوں سے یہاں گنگا ، جمنی تہذیب و تمدن کی فضا رچی بسی ہے ۔دوستی، محبت، بھائی چارگی،یکجہتی ، مساوات ، اخوت یہاں کی شناخت ہے اور بھارت وہ ملک ہے ، جہاں جمہوریت قائم ہے ۔ جمہوریت کے لغوی معنیٰ لوگوں کی حکمرانی یعنی Rule of People کے ہیں اور آزادیٔ ہند کی حصولیابی کے بعد 26جنوری 1950 ء سے بابا صاحب امبیدکر، کے ذریعہ تیار کئے جانے والے آئین کے تحت اس ملک میں جمہوریت اپنی پوری مضبوطی اور استحکام کے ساتھ قائم ہے۔

لیکن افسوس کہ ہمارے ملک کی شاندار اور مثالی جمہوریت ، گزشتہ چند برسوں سے بری طرح پامال ہو رہی ہے ۔ ملک کی جمہوریت کو یہاں کی فرقہ پرست طاقتیں برباد کرنے کے در پئے ہیں۔ جس کے باعث یہاں کے سیکولر اور امن پسند لوگوں کی تشویش دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ جب سے مرکز میں آر ایس ایس کی سیاسی تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی بر سراقتدار آئی ہے، اسی وقت سے بہت ساری تشویشوں کے ساتھ ساتھ اس تشویش کا بھی اظہار کیا جا رہا تھا کہ یہ حکومت جس منصوبہ بند اور منظم طور پر اقتدار پر قابض ہوئی ہے ۔ وہ ضرور اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے ملک کے آئین میں تبدیلی لائے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ پہلے لوگ دبی دبی زبان سے اس خدشے کا اظہار کیا کررہے تھے ، لیکن آر ایس ایس نے اپنے کیڈرکے رگ وپئے میں اس طرح آئین کے خلاف زہر بھر ا ہے کہ کچھ لوگ ایسا سمجھنے پر مجبور ہیں کہ اس ملک کو ہندو راشٹر بننے یا بنانے میں با با صاحب بھیم راؤ امبیدکرکی رہنمائی میں تیار کیا جانے والا اور نافذ کیا جانے والا آئین ہی رکاوٹ بن رہاہے ، اس لئے جتنا جلد ہوسکے ، اسے تبدیل کر کے اپنے موافق بنایا جائے۔

آئین بدنے کی بات، سنگھ کے چھُٹ بھین نیتاؤں کی زبان سے اکثر سنی جا رہی تھیں ، لیکن ایک دن بی جے پی کے ایک وزیر مملکت اننت کمار ہیگڑے ،کی زبان پر دل کی بات زبان پر آ ہی گئی ۔یہ وزیر آئین کا حلف لے کرپارلیمنٹ میںداخل ہوئے اور وزارت کی کرسی پر براجمان ہوئے ، انھوںنے کرنا ٹک میںہونے والے اسمبلی انتخاب کے پیش نظر منافرت کا زہر گھولنے کے لئے بنگلور کے ایک عوامی جلسہ میں یہ بات کہی کہ دراصل بی جے پی کی حکومت ملک کا آئین بدلنے کے لئے ہی اقتدار میں آئی ہے ، اور مستقبل قریب میں اس پر عمل کیا جائے گا ۔جب ایک مرکزی حکومت کے ایک ذمّہ دار وزیر کی زبان سے ایسی خطرناک اور ملک مخالف بیان عوامی طور پر سامنے آیا ، تو لوگ چونک پڑے۔ اس بیان کی مخالفت میں خوب خوب احتجاج اور مظاہرے ہو ئے ۔ پارلیمنٹ سے سڑکوں تک پر لوگ اتر ے ۔ کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے بھی اپنے خدشے اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بابا صاحب امبیدکر ،نے ملک کو جو آئین دیا تھا ، اس پر آج خطرہ منڈلانے لگا ہے ۔ وزیر مملکت اننت کمار ہیگڑے کے اس متنازعہ اور غیر آئینی بیان پر شدید رد عمل سامنے آنے لگا اور اس تنازعہ پر کانگریس نے بہت اچھا سوال اٹھایا کہ وزیر ہیگڑے ،جس آئین کا حلف لے کر پارلیمنٹ میں داخل ہوئے ہیںاور وزیر بنے ہوئے ہیں ، جب انھیںاس پر اعتماد نہیں رہا اور وہ کھلم کھلا اسے بدلنے کی بات کر رہے ہیں ، تو ایسے وزیر کو وزارت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ، انھیں فوری طور پرمستعفی ہو جانا چاہئے اور اگر یہ وزیر استعفیٰ نہیں دیتے ہیں تو انھیں وزارت سے فوری طور پر بر خواست کیا جانا چاہئے ۔ اپنے ان مطالبات کے ساتھ کانگریس پارٹی سمیت حزب مخالف پارٹیوں نے زبردست احتجاج کیا۔کانگریس نے دونوں ایوانوں کی کاروائی ہونے نہیں دی اور پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے قریب ، آئین بچاو، ملک بچاو،آئین کی توہین برداشت نہیںکرے گا ملک،وزیر کو برخواست کرو،آئین پر حملہ بند کرو، ملک کو ٹوڑنا بند کرو وغیرہ جیسے نعروں کی تختیاں لئے ہوئے زبردست احتجاج اور مظاہرہ کیا۔ ان احتجاج اور مظاہروں کا اثر یہ دیکھنے کو ملا کہ لوک سبھا کی اسپیکر سمترا مہاجن نے اپنی پارٹی کے وزیر کے بے جا اور بہت ہی واضح طور پر آئین مخالف بیان پر ذومعنی انداز میں اننت کمار ہیگڑے سے لوک سبھا کے اندر معافی مانگنے کی گزارش ان الفاظ میں کی کہ ہمیں زندگی میں کبھی محسوس ہوتا ہے کہ وہ صحیح ہے، لیکن پھر بھی لوگوں کو اس سے ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔ سمترا مہاجن کی اس معنی خیز گزارش پر وزیر ہیگڑے نے بظاہرسپر ڈالتے ہوئے وہی کہا ، جو عام طور کہا جاتا ہے کہ میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے ، اس سے کسی کو تکلیف پہنچی ہے ، تو میں معزرت خواہ ہیں۔

مرکزی وزیر مملکت اننت کمار ہیگڑے کے اس متنازعہ بیان کے بعد بظاہر آئین کی تبدیلی کے لئے دئے گئے بیان کا معاملہ سرد پڑ گیا ، ایسا نہیں ہوا، بلکہ اپنے اس ایجنڈے پر آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیمیں بہت ہی منظم اور منصوبہ بند طور پر مسلسل کام کر رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کے اندر ہندوتو اور ملک کو ہندو راشٹر بنانے کے لئے موجودہ آئین میں کوئی گنجائش نہیں ، اس کے لئے ہر حال میں موجودہ آئین میں تبدیلی ناگزیر ہے ، جس کے لئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ان کی بھارتیہ جنتا پارٹی اور حلیف پارٹیوں کی اکثریت ضروری ہے ۔ لیکن ابھی پارلیمنٹ کے ایک ایوان لوک سبھا میں تو انھیں اکثریت حاصل ہے ، راجیہ سبھا میں یہ اکثریت سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہیں،جس کی وجہ سے یقینی کامیابی میں دشواری آ سکتی ہے ، جیسا کہ ابھی تلاق ثلاثہ کے بل پاس کرانے کے سلسلے میں دیکھنے کو ملا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں انھیں اکثریت ہو جاتی ہے تو یہ فرقہ پرست سیاسی جماعتیں ملک کے 80 فی صد سے زائد سیکولر لوگوں کی مخالفت کے باوجود موجودہ آئین میں تبدیلی کا بل لے آئیں اور ملک کو ہندو راشٹر بنانے کے اپنے عزم ،خواب اور ایجنڈہ کو پورا کر ینگے ۔ لیکن فی ا لحال ایسا ہوتا نہیں نظر آ رہا ہے ۔ اس لئے اب ان کی پوری توجہ2019 کے عام انتخابات پر ہے ، ہر سوچ، ہر فکر، ہر بیان اور ہر قدم ان لوگوں کا اسی طرف اٹھ رہا ہے ۔ اس سلسلے میں جسٹس راجندر سچر نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ابھی حال ہی میں کہا ہے کہ ہندو راشٹڑ کے خلاف ، سیکولر طبقات کا متحد ہونا بے حد ضروری ہے ۔ ہندو راشٹر بنانے کی کوشش ملک کی سالمیت کے لئے بڑا خطرہ ہے ۔ اس تشویش اور خوف سے عاری ملک کی فرقہ پرست جماعتیں اب بات بات پر ملک کے ہندو اکثریت کو یہ احساس کرانے کی کوشش کر رہے ہیںکہ اس وقت ہندو ستان میں ہندو مذہب خطرے میں ہے ، اٹھو آگے بڑھو، دھرم کی رکچھا کرو ۔ ایسے پوسٹر ابھی نانجدھام (مہاراشٹر) میں بہت نمایاں طور نظر آ رہے ہیں۔ ایسے بڑے بڑے بینر، پوسٹر ، ہینڈبلز، کتابیں اور کتابچے وغیرہ کی بہتات دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اب ان سے کوئی پوچھے کہ ا س ملک میں اسّی فی صدآبادی ہندوؤں کی ہے صدر ، نائب صدر، وزیر اعظم ، بیشتر وزرأ ہندو ، پارلیمنٹ میں ہندوؤں کی اکثریت، کشمیر کو چھوڑ کر ملک کی تمام ریاستوں میں وزیر اعلیٰ ہندو، گورنر ہندو ، سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن، سی بی آئی، را، این آئی اور اس طرح جتنی بھی ایجینسیاں ہیں ، ہر جگہ ہندو ہی ہندو ہیں ، پھر یہ مذہب خطرہ میں کیسے آگیا ۔ یوں بھی اس وقت جمہوریت کے جو چار اہم ستون ہیں، ان چاروں ستون پر موجودہ حکومت کی گرفت مضبوط ہو چکی ہے ، یہ الگ بات ہے ان کی گرفت مضبوط ہونے سے جمہوریت کمزور پڑ گئی ہے۔

حکومت نے بہت چالاکی سے پہلے جمہوریت کے بہت اہم ستوں رابطہ عامّہ کو اپنا ہمنوا بنانے کے لئے ملک کے میڈیا کو دولت کے انبار پر بٹھا کر اس صحافتی گویائی اور سچائی کے اظہار کو سلب کر لیا ۔ ان کی دولت کے آگے میڈیا ، اپنے فرائض بھول ہی چکا اور یہ بھی بھول گیا کہ صحافت ، تجارت نہیں ہوتی بلکہ عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ عدلیہ کو جس طرح یرغمال بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ، اس کے متعلق دبی دبی زبان میں لوگ اظہار کر رہے تھے ، لیکن سپریم کورٹ کے چار معزز ججوں نے عوام کے سامنے آ کر جس طرح کی باتیں، بہت ہی دکھی من کے ساتھ رکھی ہیں ، ان باتوں نے تو ایک طوفان ہی لا دیا ہے ۔ یعنی اب یہی کہا جا سکتا ہے کہ اپنے عزم ، ارادے ، ایجنڈہ اور خواب کو پورا کرنے کے لئے سنگھ کے لوگ کسی حد تک جا سکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ملک کے اندر جو کچھ بھی ہو رہا ہے ، وہ بہر حال ملک کی سا لمیت کے لئے کسی بھی لحاظ سے مناسب نہیں ہے ۔ جس طرح معصوم لوگوں کے ذہن کو پراگندہ کیا جا رہا ہے ، وہ ملک کے مستقبل کے راستے میں کانٹے بو رہے ہیں ۔اب دیکھئے کہ اکھل بھارتیہ ہندو پرچار سنگھ ، وارانسی کی جانب سے ایک بہت ہی ” گوپنئے” (خفیہ) کتابچہ اتفاق سے کسی طرح سامنے آیا ہے ۔اس کتابچہ میں اس قدر زہر بھرا ہو ہے کہ اسے پڑھنے کے بعد ایک عام انسان جوش و جنوں سے بھر جائے گا ۔ ایسی بہت ساری باتوں کے ساتھ اس کتابچہ کے صفحہ 14 پر موجود شمار نمبر 23 پر کی ایک مختصر تحریر ملاحظہ کریں ، اور دیکھیں کہ منافرت کی کیسی فضا تیار کی جا رہی ہے ۔ اس صفحہ پر لکھا ہے کہ ” ہم نے مسلمانوں کو کھدیڑنے کے لئے جس پرکار بابری مسجد گرائی ، سکھوں کو نینترت کرنے کے لئے آتنک وادی گھوشت کر کے ہم نے گھر گھر میں قتل عام کروایا ۔ انوسوچت جاتی/ جن جاتیوں، انئے پچھڑے ورگ ، او بی سی کے آرکچھن کو سپریم کورٹ کے ججوں کی مدد سے آرکچھن کو سماپت کروایا ۔ اب ہمارا ایک ہی اودیشئے ہے کی امبیدکر کے سنویدھان کو پورنتہ نشٹ کر کے دیش میں لوک تنتر کے استھان پر رام راجیہ کی استھاپنا ۔ بھارت کو ہندو راشٹر گھو شِت کرنے ، سنسکرت کو راشٹر بھاشا بنانے تتھا منو اسمرتی کے آدھار پر سنویدھان کی نئی رچنا کرنے ، سنسد میں امبیدکر کی مورتی کو نشٹ کر کے اس کے استھان پر منو کی وشال پرتیما استھاپِت کرنا …..” اسی کتابچہ کے صفحہ نمبر 2 پر ” ہندو دھرم سنسد دوارا انومودِت ، گوپنئے دستاویز” کے بعد لکھا گیا ہے کہ ”جئے شری رام ، ہندوتو کی پوتر نگری پریاگ میں ہم راشٹریہ سویم سنگھ، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، ایوم اکھل بھارتیہ برھمن مہا سبھا، ایک ساموھک ہندو دھرم سنسد کے روپ میں ایک جُٹ ہو کر یہ سنکلپ کرتے ہیں کہ بھویشیہ میں ہمارا ایک مت سنگٹھت پریاس ایوم لکچھ آرکچھن کی سماپتی، بھارتیہ سنویدھان کو نشٹ کرنے ، بودھ دھرم ، عیسائی دھرم ایوم مسلم دھرم کے بڑھتے پربھاؤ کو سماپت کرنے اور دلت آندولن میں پھوٹ ڈالنے اور انھیں وبھاجِت رکھنے کا ہوگا ۔ اس لکچھ کی پراپتی کے لئے نمن لِکھت استر۔شستر، دھرم ۔کرم، ادھرم تتھا کوٹ نیتی اپنائی جائے ۔ اس میں ہی اپنی بھکتی ، نسٹھا ایوم کرتبئے ہی ہمارا دھئے ہوگا ۔” اس تحریر کے بعد نمبر ایک سے سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ جس کے سلسلہ نمبر 23 کا ایک اقتباس درج بالا سطور میں، میں نے پیش کیا ہے ۔ اس کتابچہ کے آخر میں ایک نوٹ بھی دیا گیا ہے ، جس میں لکھا گیا ہے کہ ‘ ‘ یہ پورنتہ گوپنئے دستاویز ہے۔ کسی بھی حالت میں انوسوجِت جاتی / جن جاتی/ انئے پچھڑا ورگ او بی سی یا ہندو دھرم کے ورودھ کام کرنے والے ویکتی کے ہاتھوں میں نہیں لگنا چاہئے۔ ”

ایسے ملک مخالف ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لئے اور ہندو مذہب کو بدنام کرنے کے لئے کیسے کیسے ہتھکنڈے اپنا ئے جا رہے ہیں ، ایسے حالات پیدا کرنے والوں میں ایک زمانے میں ہمارے پروین توگڑیا جی بھی تھے ، لیکن آج وہ روتے پھر رہے ہیں ۔ دراصل ایسی ذہنیت کے لوگوں کو اپنے ملک سے محبت ہے اور نہ ہی برسہا برس سے چلی آ رہی یہاں کی گنگا جمنی تہذیب و تمدن سے ، جو ملک کی شان اور پہچان ہے ۔ ملک کے حالات کو بگاڑنے والوں کے سامنے جو ایجنڈہ ، ہندوتو کا ہے ، جس کے لئے وہ ملک کے آئین کی تبدیلی اور جمہوریت کو ختم کرنے کے خواہاں ہیں ، وہ دراصل شدید طور پر اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ملک کی آزادی میں ان کا کوئی رول نہیں رہا ۔ اسی شرمندگی کو چھپانے کے لئے یہ لوگ اس طرح کے غیر جمہوری اور غیر آئینی حرکات کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ بی جے پی کی ”ہندوتو” پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے مغربی بنگال کے وزیر تعلیم پارتھو چٹرجی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ جو لوگ رام جی کے نام پر ہتھیاروں کی ریلی کریں اور منافرت پھیلائیں ، ان سے ہندوازم سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ پارتھو چٹرجی نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی دراصل ہندوازم کی منفی تصویر یش کر رہی ہے ۔ ان کے پاس بنیادی اور تعمیری پروگرام ہے ہی نہیں ، بلکہ ان کی حرکتوں سے ہندوازم کی توہین ہو رہی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کی تحریک آزادی میں ہندوتو حامیوں کی جد وجہد کی کوئی تاریخ نہیں ہے ۔ ملک کے مٹھی بھر فرقہ پرستوں کے ذریعہ مسلم ، دلت مخالف فضا جس منظم طور پر تیار کی جارہی ہے او ر ملک کے آئین کے تقدس کو جس طرح پامال کیا جارہا ہے ، وہ دن بدن خطرناک صورت حال اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایسی صورت حال کی شکایت کس سے کیا جائے ۔ تم ہی قاتل ، تم ہی منصف ٹھرے؟ ہر طرف خوف و دہشت کا ماحول ہے ۔ اب دیکھئے کہ ابھی ابھی آر ایس ایس کا ایک بیان سامنے آیا ہے کہ 2019 ء میں سنگھ کی طاقت نظر آئے گی ، 15 فروری سے موہن بھاگوت اتر پردیش میں ڈیرہ ڈالیں گے اور میرٹھ میں دو لاکھ سویم سیوک اکٹھا ہونگے۔

ایسے ناگفتہ بہ حالات میں بس اب یہی کہا جا سکتا ہے کہ ملک کے سیکولر لوگ پوری طاقت سے سامنے آئیں اور ملک کو، ملک کے آئین اور اس کی جمہوریت کو فرقہ پرستوں سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں ۔ ملک اس وقت ایک ایسے دو راہے پر کھڑا ہے ، جہاں سے اسے صحیح راہ کی طرف موڑنے کی بہت سخت ضرورت ہے ۔ اگر فرقہ واریت اور منافرت کی راہ پر مُڑ گیا تو ہم کف افسوس ملتے رہ جائینگے اور اس ملک کو انگریزوں کی غلامی سے جتنی قربانیاں دے کر ہمارے بزرگوں نے حاصل کیا ہے اور جمہوریت قائم کی ہے، یہ سب ختم ہو جائیگا ۔ اس لئے آج کے یوم جمہوریہ پر ہم یہی ارادہ کریں کہ ملک کی بقا اور اس کی سا لمیت کے لئے ہر قیمت پر ہم یہاں کی جمہوریت کی حفاظت کرینگے۔

Syed Ahmad Quadri
Syed Ahmad Quadri

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری
رابطہ: 993439110

Share this:
Tags:
change Constitution country democracy government language powers آئین بدلتا جمہوریت حکومت زبان طاقتیں ملک
Saudi Arabia Aid for Yemen
Previous Post سعودی عرب کا یمن کیلئے امداد کا اعلان
Next Post پلاسٹک خاموش زہر نقصانات اور بچائو
Plastic

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close