Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

وطن عزیز کی نرالی جمہوریت اور سادہ لوح عوام

February 27, 2018 0 1 min read
Democracy
Democracy
Democracy

تحریر : عقیل احمد خان لودھی
دنیا تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور وطن عزیز میں وہی پٹ سیاپا چلا آرہا ہے کہ سپریم کون ہے آئین یا پارلیمنٹ ؟ یقین مانو عام آدمی بالخصوص سفید پوش طبقہ کو ان چیزوں سے زیادہ عزت کیساتھ اپنے دو وقت کی روٹی کا فکر سب سے زیادہ سپریم لگتا ہے۔مجھے نہیں لگتا کہ اس ملک میں آپ کی یہ جمہوریت کچھ سیکھنے والا مزاج اپنائے گی۔ ایسا کیوں ہے کہ ہمارے سیاسی لیڈروں کو چند ماہ گزرتے ساتھ اپنے ہی اداروں سے دشمنی کی بو آنے لگتی ہے اور پھر وہ سب کچھ بھول کر اس قدر بے زبان اور بے لگام ہوجاتے ہیں کہ وہ کسی طرح کی ملکی دفاعی حکمت عملی ،وقار کو خاطر میں نہیں لاتے اور سرحدوں کی نگہبانی کا فریضہ سرانجام دینے والے عام جانباز سپاہیوں تک کو دشمنی کی لپیٹ میں لے جاتے ہیں ان دنوں عسکری اداروںسے بات آگے نکل چکی ہے جمہوریت پسند سیاسی شخصیات نے ملک کے انصاف فراہم کرنے والے اداروں کیساتھ جنگ بنارکھی ہے۔بیس بائیس کروڑ کی عوام کیلئے فیصلے کرنے والی عدالتیں جب تمہارے کرتوتوں کے بارے کوئی فیصلہ سنادیں تو سڑکوں پر آکر اپنے ہی معزز اداروں کے خلاف زہر اگلنا شروع کردو ،جمہوریت کوآڑ بنا لو کہ اس کے خلاف سازش ہورہی ہے کون سی جمہوریت ہے یہ جس کو روز مسئلہ بنا ہوتا ہے۔؟جمہوریت۔۔۔! اگریہ جمہوریت ہوتی تو بیس بائیس کروڑ عوام کے خلاف کسی ایک ادارے یا فرد کو بلاوجہ کاروائی کرتے ہوئے خوف آتا۔ ابھی تو یہ فیصلے بھی تمہاری جمہوریت کے خلاف نہیں ہوئے ان شخصیات کے خلاف ہیں جنہوں نے کوئی جرم کیا ان کے جرائم /غفلت پر قانون کے مطابق فیصلے ہیں لہذاانہیںاسی طرح مانا جائے جیسے بیس بائیس کروڑ عوام اپنی انہی عدالتوں کے فیصلوں کومان لیتے ہیں۔

رہی جمہوریت تو یہ اندھیرنگری ہے جس کوجمہوریت کا نام دیکر چند خاندانوں کی موج مستیاں لگی ہوئی ہیں یہ کسی بھی طرح جمہوریت نہیں ہے یہ کروڑوں پاکستانیوں کی حق تلفی ، انہیں ان کے حقوق سے محروم رکھ کر ، ان کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھا کر چند سیاسی خاندانوں اور ان کے حواریوں کو پالنے ، قانون سے بالاتر ہوکر من مانیاں کرنے کا لائسنس ہے، جو ہر چند سال بعد سیاستدانوں کی کرتوتوں ، لاقانونیت کی وجہ سے منسوخ کرنا پڑتا ہے۔آپ کے رونے دھونے سن دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کی اس جمہوریت کے مسئلہ کے سوا ملک سے ہر طرح کے مسائل کا خاتمہ ہوچکا ہے غربت کا نام ونشان باقی نہیں، صحت، تعلیم اور روزگار کی سہولیات بلاتفریق ملنے سے ملک کے چپے چپے میں خوشیوں کا راج ہے بس ایک جمہوریت خطرے میں ہے اور پھر جمہوری لیڈروں نے اس وقت اپنی ساری توپوں کے منہ اپنے ہی اداروں پر کھول رکھے ہیں کیوں ؟کیونکہ ہم عادی ہوچکے ہیں اس طرز کی سیاست کے کہ کوئی ہمیں پوچھے مت ! شور شرابے، دھمکیوں اور پھر کہیں بہت زیادہ مصنوعی معصومیت،اس طرح کے طور اطوار سے اپنے من مانے ایجنڈوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ جمہوریت اور ترقی کے راگ الاپنے والوں سے یہ پوچھناہے کہ کیوں سوائے آپ کے خاندانوں اور ذاتی کاروبار کی ترقی کے عام خاندانوں نے کہیں کوئی ترقی نہیں کی ؟ملکی خزانہ مقروض جبکہ آپ کے ذاتی بینک بیلنس نکو، نک”مطلب بھرے ہوئے۔

سمجھ سے باہر ہے کہ اقتدار میں آتے ہی اتنی دولت پا س آجانے کا فارمولہ کیا ہوتا ہے؟۔ حساب مانگنے والوں پر آپ برہم ہوجاتے اور جمہوریت کو خطرہ بتاتے ہیں آپ کے اسی چلن کا ہی نتیجہ ہے کہ ملک میں اس وقت کسی شخص کی سوچ اجتماعی مفاد کی نہیں ہر جانب نفسا نفسی کا عالم ہے ،سرمایہ دارخاندان عام آدمی کا استحصال کررہے ہیں۔ دن بھر محنت مزدوری کرکے پانچ سو ،ہزار روپے تک کما لینے والوں کی جیبوں پر مختلف ٹیکسوں کے ذریعے قینچی چلائی جارہی ہے پروٹوکول کے نام پر قوانین کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔آپ کی پالیسیاں قطعا عوامی مفاد کی نہیں ہوتیں۔میرٹ پر نوکریاں اور انصاف نام کی چیز اس ملک میں ہوتی تو آج آپ کو ناانصافی کے نوحے نہ پڑھنے پڑتے۔ حکومتی رٹ کو قائم رکھتے تو کبھی اس سر زمین پر جرم کرنے والوں کو فرار نہ ہونے دیا جاتا فرار ہوجانے والوں کو ترجیحی بنیادوں پر انٹرپول یا دیگر ضروری کاروائیوں کے ذریعے ملک میں لاکر ان پر مقدمات بنائے جاتے اور تیز ترین ٹرائل کے ذریعے آئین قانون کی عملداری کو یقین بناتے اور انصاف کی مثالیں قائم کرتے۔

ملکی قرضوں میں اضافہ ،ادارے خسارے میں، ترقیاتی فنڈز میں غبن کارواج نہ ہوتا ۔اگر اس ملک کی عوام کو پڑھنے لکھنے دیا گیا ہوتا ،انہیں تعلیم ،شعور کے میدان میں آگے آنے دیا گیا ہوتا۔ مگر آپ ایسا کیوں کرتے کہ اس سے سیاست کا دم گھٹتا ہے گھٹن ہونے لگتی ہے باریاں نہ لگتیں، باری باری حکومت بنانے کی۔تعلیم دشمن پالیسیوں کی وجہ سے ہماری عوام سادہ لوح رہ گئی۔ نتیجہ؟یہی کہ انکی طرف سے چنائو ہی انہی افراد کا کیا جاتا ہے جنہیں عوامی مسائل سے زیادہ اپنی چوہدراہٹ کی فکر ہوتی ہے ویسے بھی ایک عام آدمی کیلئے یہاں سیاست کرنے کا چلن کبھی جگہ نہیں بنا پائے گا وجہ؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ ناپختہ شعور کی وجہ سے ہمارے ہاں پرکھوں کی روایات پر پہرہ دینے کی عادت بھی چلی آرہی ہے جس طرح زمانہ جاہلیت میں اندھی تقلید میں باپ دادا کے دین کو مقدم جانا تھا اسی طرح ہم اپنے بڑوں کی پیروی میں جمہوریت کے نام نہاد چمپیئنز کی محبت میں اندھے ہورہے ہیں ہم نے جمہوریت لفظ تو مہذب معاشروں سے اختیار کرلیا ہے مگر ہمیں اس جمہوریت کی الف ب کا بھی نہیں پتہ ہمیں اتنا معلوم نہیں کہ عام آدمی ہی جمہوریت کی اکائی دہائی سینکڑہ اور لاکھوں کروڑوں ہوتا ہے ہم اپنے لیڈروں کو ووٹ دیکر پانچ سال کیلئے اپنے اوپر مسلط تو کرلیتے ہیں مگر اس عرصہ کیلئے انہیں ہر طرح کی لاقانونیت کیلئے کھلا چھوڑ دیتے ہیں کہ جائو اب جو ہوتا ہے کرو ہمیں جمہوریت کا درس دینے والوں کو یہ معلوم ہے کہ ہم (عوام)میں سے زیادہ تر سکولوں کے بھگوڑے ہیں جو اس سسٹم کے ثمرات کے نتیجہ میں ہی سکولوں سے باغی ہو کر گھروں کا چولہا گرم رکھنے اپنے مزدور باپ کا ہاتھ بٹانے کیلئے کسی بھٹہ یا فیکٹری پر مزدوری سے شام کو سو دوسو گھر لانے کی سوچ تک محدود ہوگئے پھر وہ بڑے ہوئے اور ان کی اولادیں بھی ایسی جمہوریت کی قائل مائل ہوگئیں ۔مہذب معاشروں میں عوام ناکام حکمرانوں کا احتساب کرنا جانتے ہیں ہم نے تو وہاں عوام کو ناکام لیڈروں کو کوڑے کے کنٹینروں میں ڈالتے ہوئے دیکھا ہے؟کیا یہاں کی جمہوریت میں ایسا ممکن ہے؟

کبھی نہیں وجہ یہ کہ خود کو الفاظ میں عوامی ہمدرد کہنے والے اپنا الو سیدھا کرتے ہوئے خود کو اداروں سے بھی مضبوط بنانے کی کوششیں تیز کردیتے ہیں آپ کہہ سکتے ہیں ریاست کے اندر منی ریاست قائم کرنے کی کہ کوششیں کہ جہاں آپ کی ذاتی فورسز ہوتی ہیںاسلحہ کی سرعام نمائش ، آگے پیچھے اسلحہ بردار جو چند ٹکوں کی خاطر فرعونی رویے اپنا کر اپنے آقا کی مصنوعی ہیبت عوام پر طاری رکھتے ہیں اس طرح کوئی ان سے زبانی باز پرس کی بھی جرات نہیں کرسکتا کوڑے کے کنٹینروں کی راہ دکھانا تو بڑی دورکی بات ہے۔کسی کو جرات نہیں ہوتی کہ لیڈروں تک اپنے مسائل کی شنوائی کیلئے رسائی حاصل کرلے مگر وہ چند افراد جو سیاستدانوں کے پالتو ہوتے ہیں انہی کے کام ہوتے ہی انہی کی گلیاں نالیاں پکی ہوتی ہیں سرکاری فنڈز سے سرمایہ داروں کو مزید نوازہ جاتا ہے ۔بااختیار پوسٹوں پر اپنے اور عزیز واقارب کے چشم وچراغ کھپا دیئے جاتے ہیںباقی نچلے لیول کی پوسٹوں پر اپنے پالتو ئوں کے چہیتے۔۔ اسی طرح بندر بانٹ کے سلسلہ کو جمہوریت کا نام دیا گیا ہے۔

باقی رہ گئے وہ عوام کہ جنہیں خوشامد کا چلن نہیں آتا یاوہ اپنے جمہوری لیڈروں کے دورپار کے بھی کچھ نہیں لگتے تو ان کیلئے یہاں بنا دیئے گئے ہیں کمیشن، ٹیسٹنگ سسٹم ، پی ایچ ڈی لیول کے ڈگری ہولڈر کی سبھی ڈگریاں کسی ایک این ٹی ایس ٹائپ ٹیسٹ کے سامنے بے کار ہوجاتی ہیں ! اخبارات میں نوکریاں مشتہر کی جاتی ہیں نوکریوں کے ٹیسٹ دینے کیلئے بے چارے لاکھوں لوگ اس امید پر ٹیسٹنگ نظام میں حصہ لیتے ہیں کہ شایدکہیں ایک آدھی سیٹ ان شکاریوں کی بے رحمی سے بچ جائے اور اسی امید میں آنے والوں کو کچھ دینے کی بجائے ان سے فیسوں کی مد میں لاکھوں کروڑوں بٹور لئے جاتے ہیں۔اس 10سالہ جمہوری دورمیں اپنے اردگرد ایسے سینکڑوں جوانوں کو آج بھی روزگار سے محروم دیکھ رہاہوں کہ جنہوں نے ان ٹیسٹوں میں اپنے ہزاروں برباد کرلئے اور اوورایج ہو کر مایوسی کی راہ لی۔اس ملک کی جمہوریت اگر عوام کیساتھ اتنی ہی مخلص ہوتی تو عام آدمی تک اس کے ثمرات کو دیکھا جاتا پالیسیاں ایسی بنائی جاتیں کہ ان پالیسیوں کی کامیابیاں جمہوریت کی کامیابی کی ضامن بنتیں ۔میرٹ میرٹ کا ورد حکمرانوں کی زبانوں پر غریبوں کو ڈی میرٹ کرنے کیلئے ہے ۔71برسوں میں حکمرانوں نے تعلیمی نظام میں بہتری کیلئے سنجیدگی نہیں دکھائی حکمرانوں کی اپنی اولادیں اعلیٰ ترین ملکی، غیر ملکی اداروں میںزیر تعلیم ، اسی طرح حاضر سروس بیوروکریسی کی اولادیں ہیں جبکہ غریبوں کیلئے وہی سکولز اور کنویں کے مینڈک تیار کرنے والابوسیدہ نظام تعلیم ، حاضر سروس اور بااثر ریٹائرڈ افسران بیوروکریٹ خاندانوں کی اولادیں اور آگے رشتے دار عزیز واقارب ہی ہر جگہ قابل ہوگئے ہیں ،انہیں بظاہر امیدوار سینڑوں میںبٹھایا جاتا ہے مگر نگران عملہ کے ذریعے،اثررسوخ کے نتیجہ میں اندرون خانہ معاملات طے کرکے اپنے چہیتوں کا میرٹ بنا لیا جاتا ہے۔

دیکھا جائے تومیرٹ تو حکومت کی اپنی طرف سے کہیں نظر نہیں آتا جب آپ اپنی عوام کیلئے مساوی تعلیمی سہولتیں فراہم نہیں کرتے تو روزگار کے وقت میرٹ کی بات کرتے ہوئے شرم آنی چاہیئے۔ ناکام حکومتی پالیسیوں کے بعد شفاف ترین طریقہ لوگوں کو روزگار میرٹ اور برابری کی بنیادوں پر دینے کا یہی ہے کہ کسی بھی ادارے میں ہونے والی تقرریوں کیلئے فرسٹ، سیکنڈ ، تھرڈ ڈویژن ڈگری ہولڈروں کا کوٹہ مقرر کیا جائے اور کٹیگری وائز پوسٹوں کیلئے امیدواروں کے ناموں کی پرچیاں ڈالکر اوپن قرعہ اندازی کروالی جائے جس پر قسمت مہربان ہوئی کوئی دوسرا گلہ نہیں کرے گا۔جہاں تک کسی پوسٹ کیلئے تجربہ ،سمجھ بوجھ کا تعلق ہے کسی بھی کام کیساتھ وابستہ ہونے سے سب کچھ خود آجاتا ہے ووٹ کی پرچی سے جمہوریت جمہوریت کے نام پر قوم کے لیڈر بننے والے جب خود مشیر وزیر بنتے اور اداروں کا نظام چلاتے ہیں ان کے پاس کون سا تجربہ اورقابلیت ہوتی ہے؟ کام کرنے سے انسان سب کچھ سیکھ جاتا ہے۔

اگر ووٹ دینے والے کیلئے تعلیم اور شعور کچھ اہمیت نہیں رکھتے اور آ پ انہی کے ووٹوں پربغیر کسی ڈگری، تجربہ کے وزیر، مشیر وزارت اعلی و عظمٰی انجوائے کرسکتے ہیں تو کم ازکم ڈگری ہولڈر پڑھے لکھے عام آدمی کو نوکری دینے کیلئے بھی اتنے سخت میرٹ اور قوانین کا رستہ نہ اپنایا جائے ۔وقت کا تقاضا ہے کہ قوم کی بہتری کیلئے انصاف سے کام لیا جائے اگر ایسا نہیں ہوگا تو آپ خود بھی انصاف کیلئے رل جائیں گے اور پھر یہ جمہوریت کسی کام نہیں آئے گی کیونکہ یہ عوام پڑھی لکھی اور شعور والی تو بننے ہی نہیں دی گئی اور یہ لائی لگ (بہک جانے والی ) ہے کسی کے بہکاوے میں بھی آسکتی ہے چاہے وہ اسلحہ بردار ہو یا کوٹ والا ۔۔!!عوام کیساتھ عدم تعاون کے معاملہ کی موجودگی میںاگر آپ کہیں ناں کہ آپ کے دفاع میں لوگ یہاں ٹینکوں کے آگے لیٹ جائیں گے تو یہ آپ کی بڑی بھول ہوگی اس لئے اپنی عوام کیساتھ ہاتھ کرنا چھوڑ کر نیک نیتی اور دیانتداری سے کام لیںنام نہاد شرافت کا لبادہ اتار کر حقیقی معنوں میں عوامی خدمت ،ملکی ترقی وخوشحالی کیلئے اقدامات اٹھائیں۔اگر وطن عزیز پر آپ اپنی جانیں قربان کرنے کا بہت شوق رکھتے ہیںاور اس کی فلاح وبہبود کیلئے آپ واقعی سنجیدہ ہیں یا آپ پرعوام کی خدمت کرنے کا اتنا ہی جنون سوار ہے تو آئو بسم اللہ کرو ۔آغاز کرو اپنی نامی ،بے نامی جائیدادوں کو ملک وقوم کی ترقی پر وار دو،لائو اپنے ظاہری اور خفیہ اثاثوں کو ملک میں اس ملک کا قرض بھی اترے یہاں کی عوام بھی خوشحال ہو مگر ایسا ہر گز نہیں کروگے ۔کیونکہ ملکی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ یہاں ایک بارسیاستدان بن جانے والا پھر ساری عمر سیاستدان ہی رہتا ہے اسے کچھ اور بنانے کی چاہے جتنی بھی کوشش کرلی جائے وہ کچھ اور نہیں بن سکتا۔

AQEEL AHMAD KHAN LODHI
AQEEL AHMAD KHAN LODHI

تحریر : عقیل احمد خان لودھی

Share this:
Tags:
courts democracy institutions laws parliament people ادارے پارلیمنٹ جمہوریت عدالتیں عوام قانون
Shahbaz Sharif
Previous Post شہباز شریف مسلم لیگ ن کے قائم مقام صدر بن گئے
Next Post ملکہ کی خبریں 27/2/2018
Gulyana

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close