Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سیاست اب موروثیت اور نظریہ ضرورت کی مرہون منت ہے

July 14, 2018 0 1 min read
Politics
Politics
Politics

تحریر : نجم الثاقب

جمہوریت کی اصل روُح اور مقصد ” عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کے لئے ”ہے۔ یہ ایک ایسا حقیقی و شفاف پروسس ہوتا ہے جس میں عوام بالواستہ یا بلا واستہ حق رائے دہی کے ذریعے سے سیاسی معاملات میں شرکت کر تے ہیں اس طرح ملکی نظم و نسق رائے عامہ کی خواہشات کے مطابق چلا یاجا تا ہے۔ اس نظام میں ہر حکومتی نمائندہ عوامی مفادات کے لئے ہمیشہ سر گرم عمل رہتا ہے۔ شہریوں کو بلاتفریق یکسا ں حقوق حاصل ہو تے ہیں تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملکی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرسکے۔ ماضی کے ادُوار سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے یہاں جمہوریت کا مفہوم”طاقتور افراد کی حکومت، طاقت کے ذریعے اور طاقتور افراد کے لیے”۔ظاہر ہے جب نمائندے کرپٹ اصولوں و ضوابط (موروثیت، قوم و برادی، پیسے، دھونس اور طاقت) پر پانچ سال سیاہ و سفید کی چابی لے کر جمہوریت کی باغ دوڑ سنبھالے گئے تو وہ ہر طرح کی کرپشن (مالی بدعنوانی، دھوکہ دہی، فراڈ) کو اپنا حق سمجھیں گئے۔

70 سال گزر جانے کے بعد بھی عوام جمہوریت کے ثمر حاصل نہیں کر سکے آج بلوچستان میں 52.23 فیصد افراد غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، خیبرپختونخوا میں غربت کی شرح 34.66، سندھ میں 33.16 اور پنجاب میں 21.66 فیصد ہے۔

پاکستانی سیاست کی سب سے بڑی خرابی سیاسی جماعتوں میں” حق موروثیت ” ہے ہر پارٹی میںجموری روائیوں اور قدروں کی کوئی وقت نہیں اس لئے اقدار میں آنے کے بعد جمہوریت کو اپنے گھر کی لونڈی بنا کر رکھا جاتا ہے۔ تمام بڑی سیاسی پارٹیوں میں نسل در نسل موروثیت کا سلسلہ جاری و ساری ہے، یہ اس طرح کی تلخ حقیقت ہے کہ راجوں اور مہاراجوں کے ادوار میں سلطنت کا اقتدار و اختیار تاج پوشی کے ذریعے بڑے سے چھوٹے کو پہنایا جاتا۔ عام فہیم میں گویا موروثیت کا حق بھی ایک ریاست کی طرح کا ہے اور اس کا سربراہ اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو نصحیت و اختیار سونپ جاتا ہے ۔سادہ لوح عوام بے چاری ساری زندگی سہانے سپنے و خواب کی تعبیر میں حکمرانوں کے کئے ہوئے وعدوں کے انتظار میں رہتے ہیں۔

موجودہ نظام حکومت میں موروثیت کے بت چہرے بدل بدل کر کبھی حکومت ا ور کبھی اپوزیشن کا حصہ رہے ہیں ۔ سینٹ اور قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنا اپنا حق سمجھنے کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلیوں اور ضلعی سطح پر براہ راست اپنے خاندان کے دیگرافراداور منظور نظرلوگوں کو سیاسی جماعتوں سے ٹکٹ دلواتے ہیں اور بعد ازاں منتخب ہو جانے پر انہیں مہروں کے طور پر استعمال کرتے رہتے ہیں۔ موروثی قیادت صرف بڑے خاندانوں و قبیلوں تک محدود نہیں ہے یہ طرز عمل سیاست اور معاشرے کے نچلے طبقوں میں عام طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں میں موروثیت سیاست کے بڑے مضبوط اور طاقتور بت آج بھی نمایاں ہیں۔
جس ملک میں جمہوریت کے بنیادی اور ابتدائی تقاضے پورے نہیں ہوتے تو پھر وہاں جمہوریت کی گردان صرف جھوٹ، فراڈ اور دھوکہ دہی ہے۔ہمارے یہ منتخب نمائندے مفاد پرستی، پیسہ و طاقت کی حس و لالچ اور ذاتی مفادات کی نیت سے جمہوریت کا جھوٹا راگ الاپتے رہتے ہیں تاکہ عوام کو بے وقوف بنا کر پانچ سال اپنا اُلّو سیدھا کریں۔ تاریخ کے ابواب میں ہر صوبوں کے اندر بڑے سیاسی خاندانو ں کے برجوں کا کنٹرول رہا ہے جنہوں نے اقدار میں آکر اپنے مفادات پر زیادہ اور ملکی ترقی و خوشحالی پر کم توجہ دی ہے۔

صوبہ پنجاب: پنجاب کے اندر پچھلی تین دہائیوں سے 400 کے لگ بھگ سیاسی خاندان اور ان کے رشتہ دار و عزیز اقارب سرکار ملازمت میں رہیں ہیں، انہی سیاسی خاندانوں کے کئی افراد کئی اہم پوسٹ پر براجماں جماع بھی رہیں جنہوں نے قانون سازی کے ذریعے ایسی پالیسیاںو قواعد مرتب کئے جن سے ملکی و قومی وسائل کے ساتھ نجی شعبوں میں اختیار کے ساتھ ساتھ سرکاری اتھارٹی اور طاقت کو حکمرانوں کے ذاتی مفاد کے لئے استعمال میں لایا جا سکے جس سے حکمرانوں کے ساتھ بڑے سرکاری ملازمین اور بیورکریٹ مافیا نے بھی خوب فوائد حاصل کیں ہیں۔
1985 سے 2013 کے انتخابات تک ہر انتخابی حلقے میں پہلے تین امیدواروں کی مجموعی دو تہائی تعداد کا موروثی یا خاندانی سیاست سے تعلق رہا ہے۔

آج بھی سیاست کے میدان میں خاندان و برادری کا بڑا روز دیکھنے میں ملتا ہے، باپ سے بیٹوں اور پھر قریبی رشتہ داروں جن میں بھتیجوں، دامادوں، بھتیجوں اور کئی جگہوں پر بیٹو ں کو بھی اپنا سیاسی جانشین نامزد کیا جاتا رہا ہے۔ 2013 کے ا نتخابات میں پنجاب کے اندرسیاسی جماعتوں میں 40 فیصد اثرورسوخ موروثی یا خاندانی سیاستدان کا رہا ہے۔ماضی کے اندر پنجاب کے بڑے سیاسی خاندان میں لاہور سے شریف فیملی، گجرات سے چوہدری برادران، فیصل آباد سے سیاہی برادری، سیالکو ٹ سے خواجہ فیملی، فیصل آباد سے رانا اورشیرعلی کے خاندان ،جہلم سے لدھڑ خاندان، گھرمالہ خاندان اور نوابزادہ خاندان، گوجر خان سے راجہ برادران، راولپنڈ ی سے چوہدری خاندان اور ملک برادران سیاست کو اپنا حق سمجھتے ہوئے بارہا بار منتخب ہوتے آئے ہیں۔

ماضی کی حکومت کے توڑ اور جوڑنے میں دیگر خاندانوں کے ساتھ چٹھے، وٹو، مخدوم،گیلانی، ٹوانے، قریشی اور کئی عسکری فیملز کے چشمہ چراغ پیش پیش رہیں ہیں۔ آج بھی پنجاب کے اندر دیہی و مضافتی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سیاسی خاندانوں ہی کا راج باسانی دیکھا جا سکتا ہے، جن کے کچھ افراد کسی ایک اور کچھ کسی دوسری یا تیسری سیاسی جماعت میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔ہر علاقے میں برادری، خاندان، قبیلہ، کلچر اور روایات کے اثر و رسوخ کی فضا نے سیاست میں جمہوریت اقدار کو تبدیل کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔

جنوبی پنجاب کے خاندان و برادریوں میں بھی موروثیت کے بڑے بتوں نے ملکی و علاقی فیصلوں پر اپنا اثر و روسوخ قائم رکھا ہے ۔ ڈیرہ غازی خان میں لغاری، کھوسہ، دریشک اور قیصرانی خاندان سیاسی طاقت کا منبہ سمجھا جاتا ہے، اولیا ء کی سرزمین ملتان میں گیلانی، مخدوم اور بوسن کا راج آج بھی قائم و دائم ہے، راجن پور کے ایریا میں گورچانی اور مزاریوں کی سیاسی رائے کو خاص اہمیت ہے، مظفر گڑھ کاعلاقہ کھر، جتوئی، قریشی اور دستی خاندان ک کے زیراثر دیکھائی دیتا ہے، رحیم یار خان میں کوریجہ، مخدوم اور وڑائچ فیملز کا اس علاقہ کی سیاست میں اہم رول ہے ۔ بہاولپور میں عباسی، واران اور چیمہ خاندان و برادریوں کا بہاولپور میں لمبے عرصہ تک سیاسی رنگ رہا ہے ۔ لودھراں کے نامور خاندانوں میں کانجو، ترین اور بلوچ خاندان کے افراد عرصہ دراز سے عوام میں مقبولیت رکھتے ہیں ۔ خانیوال کے سید اور ہراج فیملیز پر عوام نے ماضی کئی بار اعتماد کا اظہار کیا۔ جھنگ میں مخدوم، سید اور بھروانہ کو عوام منتخب کرکے اسمبلی کی زینت بناتے رہیں ہیں ، بھکر کے اندر بڑی فیملی شاہانی، نوانی، ڈھانڈلا جیسے بڑے خاندانوں کو سیاسی فیصلوں کا اختیارحاصل رہا ہے، میانوالی میں نیازی فیملی کا ہولڈ ہے، جب کہ سرگودھا میں پیر سیالوی کے خاندان کے افراد اور پیرحسنات کو عوام منتخب کر کے اسمبلی میں بھیجتے رہے ہیں۔

صوبہ سندھ: صوبہ سندھ کی تاریخ میں سیاست کی ڈور زیادہ تر جاگیرداروں، وڈیروں اور نوابوں کے ہاتھ میں رہی ہے اس لئے موروثی سیاست کا منفی اثرمعاشرتی اقدار بہت زیادہ نظر آتا ہے۔ متحدہ قومی موومینٹ کے وجود سے جہاں سند ھ اور پورے ملک کو کئی خطرہ لاحق ہوئے جانی ، مالی اور معاشی نقصانات اٹھانا پڑا وہاں صرف ایک فائدہ یہ ہواکہ سندھ کے اندر موروثی سیاست کا خاتمہ دیکھنے میں آیا۔ ایم کیو ایم کے زیرعتاب آنے کے بعد موروثی سیاست نے اپنی جڑیں پھر مضبوط کر لیں۔ موروثی سیاست کے ابواب میں دیگر خاندانوں کی طرح بھٹو خاندان کا نام بھی درج ہے۔ ، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اوربے نظیر بھٹو کی موت کے بعد قیادت ان کے بیٹے کے حصہ میں آئی۔ ماضی کی طرح اب سندھ کی سیاست پر جاگیرداروں کا قبضہ ہے، جن کے خاندان صوبے کے طول و عرض پر چھائے ہوئے ہیں۔ صوبے بھر میں موروثی نظام حکومت کا رول مڈل دیکھنے کو ملتا ہے۔ لاڑکانہ میں مکمل کنڑول بھٹو و زردای خاندان کے پاس ہے، داود میں جتوئی اور پیر مظہر کے گھرانے سیاسی داغ بیل کے مالک سمجھے جاتے ہیں ۔ جیکب آباد، کندھ کوٹ اور کشمور میں جاکھرانی، بجارانی اور مہر قبیلہ سیاہ و سفید کے مالک سمجھتے جاتے ہیں، گھوٹکی میں علی محمد مہر کے گھرانوں کو عوام سیاسی فیصلوں کے امین سمجھتے ہیں، ہالا میں مشہور مخدوم فیملی، سانگھڑ میں پیر پگارا روحانی و مذہبی اور سیاسی پیشوا تصور کیے جاتے ہیں۔ ٹھٹھہ اور بدین میں شیرازی اور ذوالفقار مرزا کے گھرانے سیاسی داو پیچ کے ماہر کھلاڑی تصور کئے جاتے ہیں، تھر میں ارباب اور سید گھرانے سیاسی شہرت کے حامل ہیں، خیر پورمیں سید اور وسان خاندان کی عوام میں مقبولیت سمجھی جاتی ہے ، شکارپور میں مہر اور دارنی قبیلے سے تعلق رکھنے والے طاقتور گھرانے جبکہ نواب شاہ میں زرداری قبیلہ کے افراد سیاست کے علم بردار سمجھے جاتے ہیں۔

یہ وہ خاندان و برادریاں، اقوام ہیں جو نسل در نسل کسی نہ کسی طرح حکومت کا حصہ میں چلے آتے رہیں ہیں جنہوں نے اپنی اپنی سیاسی بادشاہتیں قائم کر رکھی ہیں۔ سندھ سے جاگیردار وں، وڈیروں اور نوابوں کی جیت کی بڑی وجہ وہاں کوئی مڈل کلاس کلچر کا سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔

صوبہ بلوچستان: بلوچستان میں سیاست کا محور قبائلی یا خاندانی وفاداریاں ہیں، سیاسی پارٹیاں اور جماعتیں نام کی حد تک وجود رکھتی ہیں۔ مینگل، بگٹی، رئیسانی، مری، زہری، اچکزئی، بزنجو، غرض کسی کا نام بھی لیں تو ان سارے قبائل اور خاندانوں کی سیاسی نظام پر اجارہ داری اپنے اپنے قبائلی یا نسلی خطوں میں برقرار ہے۔

صوبہ خیبر پختون خواہ : کے پی کے میں بھی موروثی سیاست کا ایسا ہی کھیل عرصہ دراز سے جاری و ساری ہے۔ تاریخ میں دیگر برادریوں و خاندانوں میں سیف اللہ خان، ایوب خٹک، گنڈاپور برادری، ہوتی، ایوب خان کے ساتھ ساتھ مولانا مفتی محمود اور ان کے بیٹے مولانا فضل الرحمن کے نام موروثی سیاست کے ابواب میں درج ہے۔سابقہ دور حکومت کے وزیر اعلی پرویز ختک کا خاندان صوبہ کی سیاست میں اہم رول تصور کیا جاتا ہے، جبکہ ماضی کے ”خان عبد الولی خان ” کا خاندان آج بھی سیاسی ہولڈ کا حامل ہے۔

2018 الیکشن :کیا سیاسی پارٹیوں میں موروثیت اب نظریہ ضرورت کی اہمیت اختیار کر چکی ہے:

2018 کے الیکشن میں بھی تمام سیاسی جماعت نے الیکشن میں کامیابی کے لئے پارٹی نظریات و منشور کو پش پشت ڈال دیا۔ تمام سیاسی جماعتوں کی یہی کوشش رہی ہے کہ وہ ایسے ” الیکٹ ایبلز” امیداروں کو انتخابات میں اتاریں جو معاشی، سیاسی اور معاشرتی طور پر مضبوط شخصیات کے حامل ہوں۔ تمام سیاسی پارٹیوں نے اپنے منشور اورنظریات کو بالا طاق رکھتے ہیں موروثی سیاست کے تمام بتوں کو گلوں میں ہار پہنا کر ”ویل کم” کرتے ہوئے اپنی پارٹی میں جگہ دی۔

ماضی میں پیپلز پارٹی موروثیت کے خلاف بڑی سیاسی آواز۔۔۔آج خود اس کی مرض کا شکار ہے:
2018 کے حالیہ ہونے والے الیکشن میں زردای بھٹو خاندان کے پانچ افراد قومی و صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں عوام سے ووٹ مانگے گئے۔ سابق صدر آصف علی زردای کے صاحبزادے چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی کی دو سیٹوں لاڑکانہ اور لیاری سے، آصف زرداری کے بہنوئی میر منور تالپور قومی اسمبلی میرپورخاص سے اور آصف زرداری کی بہن اور میر منور تالپور کی اہلیہ فریال تالپور صوبائی اسمبلی کی سیٹ لاڑکانہ سے، جبکہ آصف زرداری کی چھوٹی ہمشیرہ عذرا پیچوہو صوبائی اسمبلی نواب شاہ سے انتخاب میں شہریوں سے امیدوار ہیں۔

سیاست کے قدیم شہنشاہ سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور ان کی بیٹی نفیسہ شاہ بھی خاندانی سیاست کو پروان چڑھاتے ہوئے امیدوار کے طور پر الیکشن میں اترے گی۔ ٹھٹھہ سے شیرازی برادرن ایک قومی اور دو صوبائی اسمبلی کی نشتوں کیلئے عوام کی عدالت میں پیش ہونگے۔ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی خود قومی اسمبلی جبکہ ان کے تین بیٹے عبدالقادر گیلانی، موسٰی گیلانی اور مجتبی گیلانی کو صوبائی اسمبلی میں جانے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف قومی اسمبلی اور ان کے بھائی راجہ عمران اشرف صوبائی اسمبلی راولپنڈی سے انتخاب لڑے گئے۔ کے پی کے سے ارباب عالمگیر، ان کی اہلیہ عاصمہ عالمگیر اور ان کے بیٹے زک عالمگیر پی پی پی کے ٹکٹ پر پنجہ آزما ہونگے۔

آصف علی زردای کے سابق ناراض دوست ذوالفقارمرزا،ان کی اہلیہ فہمیدہ مرزااوربیٹے حسنین مرزابدین سے انتخابات میں اتریں گئے مسلم لیگ کے ہر مشکل دور میں فصلی بیٹرے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں: حالیہ پانا کیس کے فیصلے کے بعد سابقہ دُور کی طاقتور جماعت مسلم لیگ اندرونی انتشار اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی اوراس کی حالت جنرل مشرف کے دوُر سے مختلف دیکھائی نہیں دیتی ۔ حکومت کے ختم ہونے کے ساتھ ان کے قومی و صوبائی کے ممبران چڑیوں کے غول کی طرح ایک مرتبہ پھر ساتھ چھوڑ گئے اور اُڑ کر دوسرے ڈاروں کے ساتھ جا بیٹھے ہیں ۔ کئی ممبران نے پارٹی ٹکٹ کو واپس کر کے آزاد حیثیت سے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ مسلم لیگ کے کئی پرانے اور درینہ نظریاتی ممبران بھی میاں نواز شریف کو چھوڑ کر پی ٹی آئی کی چھتری کے نیچے کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ چند نظریاتی کارکن کے سوائے باقی سب تھالی کے بینگ کی مانند پلٹ گئے ہیں۔

ہر ا لیکشن کی طرح اس مرتبہ بھی مسلم لیگ (ن) میں شریف فیملی کے ممبران کے ساتھ خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی، رانا تنویر، رانا افضل، خواجہ سلمان رفیق اور ان کی فیملی کے کئی افراد کو ٹکٹ جاری کر دئیے گئے ہیں۔ راولپنڈی سے مسلم لیگ کے پرانے سیاستدان موجودہ سینٹر چوہدری تنویر خان کے بڑے بیٹے چوہدری دانیال قومی اسمبلی ، چھوٹے بیٹے اسامہ تنویر صوبائی اسمبلی اور دو بھتیجے ملک یاسر اور چوہدری سرافضل صوبائی اسمبلی سے الیکشن میں اپنی قسمت آزمائیں گئے۔ راولپنڈی سے ملک ابرار احمد قومی اسمبلی اور ان کے بھائی ملک افتخار صوبائی اسمبلی سے امیداوار ہیں۔ فیصل آباد سے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سابقہ وفاقی وزیر رانا افضل قومی اسمبلی اور ان کی اہلیہ متحرمہ نجمہ افضل صوبائی اسمبلی کی امیدوار ہیں۔

مسلم لیگ کو سب سے بڑا دھچکا چوہدری نثار علی خان کو ناراض کر کے ملا ہے۔ ماضی میں جب کبھی پارٹی پر مشکل دور آیا وہ ہرگٹھن اور تکلیف دے لمحات میں سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے رہے ۔ چوہدری نثار علی خان کی وفاداری، ایمانداری اور دیانتداری کے باعث تمام پارٹیوں کی خواہش رہی کہ وہ ان کی پارٹی پر الیکشن لڑیں اور پی ٹی آئی نے متعدد بار کئی آفر بھی کیں لیکن انھوںنے اپنے آپ کو جدی پشتی مسلم لیگی ہونے کا علم اٹھاتے ہوئے آزاد حیثیت سے الیکشن میں اترنے کا فیصلہ کیا۔

پی ٹی آئی نے اپنے نظریات و اصولوں کو بالا طاق رکھتے ہوئے سیاسی ریس کا روایتی انتخاب کیا:

تبدیلی کی دعویدار پی آئی ٹی نے پورے ملک سے قومی اسمبلی کے لئے178 نمائندوں کو ٹکٹ جاری کیا جن میں بڑی تعداد میں پارٹی رہنمائوں کے قریبی رشتے دار کے ساتھ ساتھ دیگر بڑی جماعتوں سے آئے ہوئے افراد کی ہے۔ تحریکِ انصاف کی داغ بیل کا نعرہ، تبدیلی اور انقلاب کا ہے مگر ہوا وہی ہے، جن پرانے اور نظریاتی ورکرز نے پی ٹی آئی کو اپنا لہو دیا، انہیں سائیڈ لائن کر دیا گیا یا وہ مجبوراً پارٹی سے علیحدہ ہوگئے۔ سیاسی کلین اپ لانڈری میں ڈرائی کلین ہونے کے بعد یہ پرانی بدبودار پوستینیں (مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم سمیت دیگر جماعتوں سے آئے ہوئے افراد)کو پارٹی میں اہمیت دی گئی اور آج ان کی بڑی تعداد پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے بلے کے نشان لئے کر عوام کے سامنے کھڑی ہیں ۔ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے اُسی وقت یہ نظام کیسے ٹھیک کر سکتے ہیں جب تک ان کی خود کی نیت اور طبیعت دونوں ٹھیک نہ ہوں۔

مسلم لیگ (ق) نے پی ٹی آئی سے سیٹ ایڈجسمٹ کر لی ہے جس کے بعد چورہدری فیملز کے تمام چشم وچراغ کو اپنی کامیابی یقینی نظرآرہی ہے ۔چوہدری پرویز الہی، مونس الہی، اور چوہدری فیملز کے افراد گجرات سے الیکشن میں اپنی قسمت آزمانے کے لئے عوام کے سامنے پیش ہو نگے۔ اس ساری صورت پر پی ٹی آئی کی ضلعی قیادت سخت مایوس اور نا خوش ہے۔
جے یو آئی (ف):متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے مولانا فضل الرحمان نے اپنے خاندان کے 6 افراد کو الیکشن میں ٹکٹ دلوایا ہے جن میں مولانا فضل الرحمن تین بھائیوں اور بیٹے سمیت قریبی رشتے دار خواتین انتخابی میدان میں پنجہ آزما ہونگے۔ مولانا فضل الرحمان کے بھائی مولانا عطا الرحمن پہلے ہی سینیٹر ہیں۔مولانا فضل الرحمن قومی اسمبلی کے حلقوں این اے 38 ڈیرہ ون اور این این 39 ڈیرہ ٹو سے جبکہ ان کے بیٹے مولانا اسد محمود این اے 37 ٹا نک سے ایم ایم اے کے امیدوار ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے بھائیوں میں مولانا لطف الرحمن ڈیرہ اسماعیل خان کے صوبائی حلقہ پی کے 98 پرجبکہ دوسرے بھائی مولانا عبید الرحمن پی کے 99کلاچی سے ایم ایم اے کے ٹکٹ پرانتخاب لڑ رہے ہیں۔

اے این پی:اے این پی جو امن کی علمبردار ہے اس کی سیاست کے اندربے پناہ قربانیاں ہیں حالیہ افسوس ناک واقعہ نے کے پی کے کی فضا کو سوگوار کر دیا ہے۔ موجودہ الیکشن میں اسفند یاولی قومی اسمبلی ان کے بیٹے ایمل خان صوبائی اسمبلی جبکہ ان کے حیدد ہوتی قومی اور صوبائی اسمبلی دونوں حلقے سے اے۔ این۔ پی کے نشان سے الیکشن میں حصے لے رہیں ہیں۔
الیکشن مہم میں عام طور یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ صرف وہ نمائندگان ہی الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں جن کے پاس نوٹوں کی بوریوں موجود ہوں ۔ کیوں کہ ہماری سیاسی پارٹیاں اور جماعتیں غریب، فھکرُے اور پھکّڑ افراد کو ٹکٹ نہیں دتیں کیوں کہ ان کو نہ کوئی تجویز کنندہ ملتا ہے اور نہ ہی کوئی تائید کنندہ۔ اگروہ اپنے ذاتی تعلقات کے زور پراس کا بندوبست کر بھی لیا تو ریٹرننگ افسر کے دفتر تک قافلے اور جلوس کی شکل میں جانے کے لیے افراد اور گاڑیوں کا انتظام کہا ں سے کرے۔ الیکشن مہم کے دوران ووٹز کو پرچیاں دینے ، نعرے لگوانے ، ہینڈبل، پوسٹرز، پینا فلیکس، ہورڈنگ، جھنڈے، ٹوپیاں، بیجز، کھانے کا انتظامات،ووٹرز کو پولنگ بوتھ میں لئے جانے کے لئے گاڑیوں کا بندوبست، پولنگ ڈے کے لیے شامیانے اور آخر میں دھاندلی کے ایکسپرٹ ایجنٹ کا بندوبست کیسے کرے۔ آج بھی الیکشن کا سیلوگن ” ایک لگائو اور دس بنائو۔۔۔ خود بھی کھائو اور اوپر بھی پہنچائو ”۔ الیکشن جیتنے کے لیے امیدوار کتنے بڑے بڑے دعو ے وعید کرتے ہیں اور کامیابی کے بعد اگر کہیں مل بھی جائے تو رفو چکر ”توں کون اور میں کون”۔ ماضی کے اسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں بڑی سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت کی ایسی ہی درخشاں اصول کارفرما رہیں۔

اس میں کوئی شک و شبے نہیں ملک کی بقاء صرف جمہوریت کے دم سے ہے اور جمہوریت کا واحد راستہ صرف صاف شفاف انتخابات ہیں اس کے لئے الیکشن کمیشن ایسے قانون و قواعدوضع کرے جن میں تمام امیدواروں کا انتخاب سیاسی بالا طاق سے ہٹ کر میرٹ کی بنیاد پر ہوا۔ الیکشن کی اولین ذمہ داری ہے کہ الیکشن کے تمام امیدواروں کو اچھی جانچے و پرکھنے کے بعد الیکشن کااجازت نامہ جاری کیا جائے کیونکہ ہماری سیاسی پارٹیوں کے اندر کوئی سکونٹی کا کوئی عمل سرے سے رائج ہی نہیں کیا جس کے ذریعے سے سزا یافتہ، قرضہ مافیا، چور اور کرپٹ افراد کو روکا جائے۔ ایسے میں صرف الیکشن کمیشن ایک واحد مجاز ادارے ہے جو اہر امیدوار کے کردار، گفتار اور روزگار کے تمام معلامات کو اچھی طرح چیک کرنے کے بعد اہلیت کا سرٹیفکیٹ جاری کرے تاکہ الیکشن میں منتخب ہونے کے بعد عوام، قوم اور عدالت کا وقت ا ور پیشہ ضائع نہ ہواور کرپٹ مافیا اور اشخاص کا راستہ روکا جا سکے۔

جو قومیں اور سیاسی پارٹیاں جمہوریت کے اصل مقاصد اور معانی جانتے ہیں اور اسے نافذ عمل کرنا چاہتے ہیں ان کی اولین ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کو جمہوریت کی اصل روح کا صحیح اور واضح مطلب بتائیں۔ ماضی ادوار میں پاکستان کے اندر جمہوریت کے نام پر جو کھیلواڑ ہوتا رہا ہے اس کا جمہوری اقدار سے کوئی تعلق نہیں ۔تاریخ ادوا میں ایسی جمہوریت نتائج کے اعتبار سے آمریت اور بادشاہت کی برترین مثالیں تصور کی جاتی ہیں۔

الیکشن 2018 میں ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے ضمیر کی آواز کو جاگتے ہوئے تمام روایتی اور موروثی سیاست کے علمبرداروں کو ووٹ کی طاقت سے سسٹم سے آوٹ کر دیں۔ ۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ارض پاکستان کو نیک صالح و باکردار اور اصول پسند قیادت نصیب فرمائیں۔

Najam Saqib
Najam Saqib

تحریر : نجم الثاقب

Share this:
Tags:
democracy Development government politics public ترقی جمہوریت حکومت سیاست عوام
CAMP for 13 July Shuhada Jammu IN BRUSSELS
Previous Post برسلز میں یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر کشمیریوں پر مظالم کے خلاف پرامن احتجاجی کیمپ لگایا گیا
Next Post نوٹ کو عزت دو
Note

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close