
نیویارک (جیوڈیسک) اقوام متحدہ نے سابق سیکرٹری جنرل ڈاگ ہمرشلد کی ہلاکت کی تحقیقات دوبارہ شروع کرنے کی تجویز دیدی۔ اقوامِ متحدہ کے ایک کمیشن نے اقوامِ متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل ڈاگ ہمرشلد کی ہلاکت کی تحقیقات دوبارہ شروع کرنے کی تجویز دیدی۔ یہ کمیشن سابق سیکرٹری جنرل ڈاگ ہمرشلد کی موت کی وجوہات معلوم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ڈاگ ہمرشلد کا ہوائی جہاز 1961 میں اس وقت زامبیہ میں حادثہ کا شکار ہوا تھا جب وہ امن مشن کے لیے کانگو جا رہے تھے۔ وہ سویت یونین کی حمایت یافتہ کانگو کی حکومت اور ماوئز چومبے کے درمیان امن معاہدہ کروانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ماوئز چومبے نے معدنیات سے مالا مال صوبے کٹانگا کی آزادی کا اعلان کر دیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کی طرف سے 1962 میں کی گئی۔
تحقیقات میں اس کے جہاز کے حادثے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی تھی۔ کمیشن نے کہا کہ اب اس معاملے میں اہم نئی معلومات سامنے آئیں ہیں اور امریکی جاسوس ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی یا این ایس اے کے پاس شاید بہت ہی اہم ثبوت ہوں۔ ڈاگ ہمرشلد کمیشن کے چار بین الاقوامی وکلا کی طرف سے لکھی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈاگ ہمرشلد کی موت کے حوالے سے اہم نئے ثبوت سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس وقت امریکی جاسوس ادارے این ایس اے کی بڑے پیمانے پر سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ اس بات کے بہت امکانات ہیں کہ 18 اور 19 ستمبر 1961 کو ہونے والی ریڈیو ٹریفک کو این ایس اے اور ممکنہ طور پر سی آئی اے نے ریکارڈ کیا ہو۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر جہاز کے کاک پٹ میں ہونے والی بات چیت یا ریڈیو پیغامات کی مصدقہ ریکارڈنگ کو سنا جائے تو ممکن ہے کہ ایسے ثبوت ملیں جس سے اس بات کا پتہ لگایا جا سکے کہ ڈی سی 6 جہاز کو کیا ہوا تھا۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ڈاگ ہمرشلد کی موت عالمی سطح کا ایک بہت بڑا واقعہ تھا جس کو تاریخ اور انصاف کی توجہ کی ضرورت ہے۔
