
جدہ (جیوڈیسک) مملکت میں رہائش کے لئے کفیل کی شرط ختم، مستقل اقامہ جاری کیا جائے گا۔ سعودی شہریوں کی غیرملکی بیگمات کو تعلیم، علاج اور سماجی شعبوں میں مساوی حقوق حاصل ہوں گے، سعودی وزیر اطلاعات سعودی عرب کی حکومت نے اپنے شہریوں کے عقد نکاح میں آنے والی غیر ملکی خواتین کے لئے شہری حقوق کے ایک بے مثال پیکج کی منظوری دی ہے جس کے نفاذ سے ان خواتین کو معاشرے میں مساوی مقام دلانے میں مدد ملے گی۔
نئے قانون کے تحت سعودی بچوں کی غیر ملکی مائوں کو مملکت میں رہائش اختیار کرنے کے لئے کفیل رکھنے کی ضرورت نہیں ہو گی اور حکومت انہیں مملکت میں کسی بھی جگہ رہائش اختیار کرنے کے لیے مستقل “اقامہ” فراہم کرنے کی پابند ہو گی۔ یہ خواتین سعودی عرب کی مستقل شہریت رکھنے والی عورتوں کی طرح پرائیویٹ سیکٹر میں ملازمت بھی کر سکیں گی۔
ان سے ہونے والی اولاد کا حسب و نسب سعودی قرار دیا جائے گا۔ سعودی وزیر اطلاعات و ثقافت ڈاکٹر عبدالعزیز خوجہ نے بتایا کہ سعودی شہریوں کی غیر ملکی بیگمات کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق ضابطہ قانون حال ہی میں نائب وزیراعظم اور ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں پیش کیا گیا تھا، جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ اجلاس کے دوران غیر ملکی خواتین سے متعلق اس مسودہ قانون کے بعض نکات میں ترمیم بھی کی گئی۔
ترمیم سے قبل کفیل رکھنے کی شرط کے ساتھ کفیل کی جانب سے مکفولہ کے اخراجات پورے کرنے کی شرائط بھی شامل تھیں تاہم انہیں حذف کر دیا گیا ہے۔ اب ریاست خود ہی ایسی خواتین کی کفیل ہوگی اور روزگار نہ ہونے کی صورت میں تمام اخراجات حکومت خود برداشت کرے گی۔ سعودی شہریوں کی غیر ملکی بیگمات کو تعلیم، علاج اور سماجی شعبوں میں مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔
خیال رہے کہ سعودی وزارت قانون وانصاف کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں ایسے شہریوں کی کثیر تعداد موجود ہے جنہوں نے غیر ملکی خواتین سے شادیاں کر رکھی ہیں۔ گزشتہ برس مجموعی طور پر 7132 سعودی شوہر غیر ملکی شریک حیات بیاہ لائے تھے۔ مکہ مکرمہ اس اعتبار سے سعودی عرب کے دیگر شہروں میں سب سے آگے ہے جہاں غیر ملکی خواتین سے شادیاں رچانے والے مردوں کی تعداد 5229 رجسٹرڈ کی گئی۔
