Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ڈاکٹر عبدالغفور کی تحریر کردہ کتاب کا رسم اجرا

January 23, 2017 0 1 min read
Dr Abdul Ghaful Book on Qazi Abdus Sattar
Dr Abdul Ghaful Book on Qazi Abdus Sattar
Dr Abdul Ghaful Book on Qazi Abdus Sattar

تحریر : کامران غنی صبا
گذشتہ روز مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں ایک تاریخ ساز ادبی پروگرام کاانعقاد کیا گیا۔ موقع تھا بین الاقوامی شہرت یافتہ فکشن نگار پدم شری قاضی عبدالستار کی ناول نگاری پر ڈاکٹر عبدالغفور، وزیر اقلیتی فلاح بہار کی کتاب کے رسم اجرا اور گفتگو کا۔ البرکات ایجوکیشن سوسائٹی اور ویژن لٹریٹری سوسائٹی علی گڑھ کے زیر اہتمام ان کے وسیع ترین ہال میں علی گڑھ کے تمام معتبر و محترم ادباء، دانشور، اور اہل علم وہنر کی موجودگی میں اس عظیم ترین پروگرام کی صدارت بین الاقوامی شہرت یافتہ تخلیق کار ڈاکٹر قاسم خورشید نے کی، پورا کیمپس جیسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صحت مند روایتی تہذیب سے لبریزہوکر اس پروگرا م کوبلند معیار واقدار کے ساتھ کامیابی کی بلندی پر دیکھنا چاہتا تھا۔ البرکات ایجوکیشنل سوسائٹی ہال تمام تر تابندہ چہروں سے بھر چکا تھا۔

اسٹیج پر پدم شری قاضی عبدالستار، ڈاکٹر عبدالغفور ، ڈاکٹرقاسم خورشید ،پروفیسر سید محمد امین، پروفیسر صغیر افراہیم ، ڈاکٹر نمیتا سنگھ ، پروفیسر سید محمد ہاشم، ڈاکٹر عابد رضا بیدار ، ڈاکٹر احمدیحییٰ اور دوسرے دانشور جلوہ افروز ہوچکے تھے ۔ جبکہ پروفیسر طارق شطاری ، پروفیسر مولانا بخش ، ڈاکٹر پریم کمار ،ڈاکٹر راشد احمد راشد، ڈاکٹر قمر سنبھلی ، جناب محمد اسلام ، پروفیسر ظفر احمد صدیقی ، ڈاکٹر محمد فرقان سنبھلی ، ڈاکٹر مشتاق صدف ، ڈاکٹرسیما صغیر ، پروفیسر قمرالہدی فریدی ، سید محمد عثمان ، اور کثیر تعداد میں دوسرے خواتین وحضرات اس ادبی تاریخ کے محرک اور گواہ بنے۔ ڈاکٹرعبدالغفور کی کتاب ” قاضی عبدالستار ـبحیثیت ناول نگار” انتہائی خوبصورت معیاری اور تاریخی رسم اجرا ، ڈاکٹر قاسم خورشید اور ڈاکٹر عبدالغفور کے حوالے سے تفصیلی تعارفی سپاس نامہ گل پیشی شال کے ساتھ اعزاز بخشنے کے بعد باضابطہ طور پر تہذیب الاخلاق کے مدیر نامور نقاد اور دانشور پروفیسر صغیر افراہیم نے قاضی عبدالستار کی فکشن کے حوالے سے اپنا بہترین مقالہ پیش کرتے ہوئے بہت مدلل انداز میں کہا کہ ڈاکٹر عبدالغفور نے قاضی عبدالستار کے ناولوں کا جس انداز میں محاسبہ کیا ہے اس سے قاضی صاحب کے اسلوب کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے، قاضی صاحب حقیقت فسانہ اور فسانہ کوحقیقت بنانے میں ماہر ہیں ۔ جس انداز میں انہوں نے میدان جنگ کے قصے بیان کئے ہیں وہ صرف ان ہی کا حصہ ہے۔

آج کی یہ محفل علی گڑھ کی تاریخ میں اس لئے ہمیشہ یاد رکھی جائے گی کہ پدم شری قاضی عبدالستار کے فن کے مداح ڈاکٹر عبدالغفور نے بہت ہی عرق ریزی اور لگ بھگت دس برسوں کی ریاضت کے بعد ایسی خوبصورت اور دلچسپ کتاب تحریرکی اور اس بہتر ین پروگرام کی صدارت ہمارے بیحد پسندیدہ اور گذشتہ تین دہائیوں سے لگاتار اردو ہند ی فکشن ، میڈیا ، ڈرامہ او رشاعری میں عالمگیرسطح پر شناخت رکھنے والے ڈاکٹرقاسم خورشید نے کی ہے۔

جذبات سے لبریز مگر انتہائی پر اعتماد لہجہ میں قاضی عبدالستار نے تفصیلی تقریر کے دوران اس بات پر زور دیا کہ یوں تو میرے چھ سات دہائیوں پر محیط ادبی سفرکے دوران کئی پی ایچ ڈی ہوئی ۔ کتابیں بھی آئیں ، مگر میں پورے وثوق ، پورے اعتماد اور انہماک کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اپنے ناولوں کو لکھنے کے بعد ہم نے جو توقع کی تھی کہ کاش کوئی میرے ویژن کو بہتر ڈھنگ سے قاری تک پہنچائے ، مگر سات دہائیوں کے دوران جس نے مجھے تقویت پہنچائی ان میں ہندی میں اگرپریم کمار ہیں تو اردو میں بلاشبہ ڈاکٹر عبدالغفور ہیں۔ میں اپنے قاری تک جس طور پر تک پہنچنا چاہتا تھا اس میں ڈاکٹر عبدالغفور کی کتاب نے یقینامیرے موقف کی کامیاب ترین ترسیل کی ہے ، اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹرعبدالغفورنے میرے ناولوں کو میری نگاہ سے دیکھا ہے ، میں جو کہنا چاہتا تھااس کے یہاں بہترین ترجمانی ملتی ہے ، اس طرح ایسا معلوم ہورہا تھا کہ قاضی صاحب کے اندر بھر پور توانائی آگئی ہے کیونکہ لمبے وقفے کے بعد ان کے چہرے کواس طرح روشن اور تابندہ محسوس کیا گیا تھا ۔ وہ بنفس نفیس نہ صرف یہ کہ پورے پرواگرام میں موجود رہے بلکہ بہت باریک بینی سے تمام نکات پر گفتگو بھی کرتے رہے ۔ قاضی صاحب کے مداح بھی ششدر تھے کہ انہیں پہلی بار اتنا شاداب امیدوں سے بھرا ہوا محسوس کیا گیا تھا ۔ پوری شدت کے ساتھ ان کے اعتراف نے صاحب کتاب کو بے حد تقویت عطا کی ۔ علی گڑھ کا ماحول مزید روشن ہوا۔

Dr Abdul Ghaful Book on Qazi Abdus Sattar
Dr Abdul Ghaful Book on Qazi Abdus Sattar

ڈاکٹر عبدالغفور نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تاریخی مقام اور دنیائے ادب وتاریخ کے معیاری افراد کی موجودگی کو سلام کرتے ہوئے کہا کہ یہ میری زندگی کا سب سے بڑا اور اہم ترین اعزاز ہے ۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس تاریخی مقام پر میری کتاب کا رسم اجرا ہوگا ۔ اور اس میں خود قاضی عبدالستار صاحب موجود ہوں گے اور اپنی دعائوں اور محبتوں سے اس طرح نوازیں گے ، میں نے سوچا ہی نہیں تھاکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ایسے اعلیٰ ترین مقام ، ایسے محبان اردو اوربہترین دانشوروں کی موجوگی میں میری کتاب کو مرکزیت حاصل ہوگی ۔ دراصل میں بہت خائف تھا ،برسوں کی کاوش کے بعد میں اپنی استطاعت کے ساتھ اس کام کو کرنے کی کاوش کی ۔پی ۔ ایچ ۔ ڈی مل گئی بعد میں بہتوں کے پاس مسودہ شائع ہونے سے پہلے بھیجا ، لوگ کچھ ماہ اپنے پاس رکھ لیتے پھر یوں ہی واپس کردیتے ۔ میں سوچنے لگا کہ یا تو یہ مسودہ اشاعت کے قابل نہیں ہے یا پھر تصحیح کی ضرورت نہیں ہے۔ میں پھر میں نے اپنے دوست اور بہت ہی بہترین تخلیقار ڈاکٹرقاسم خورشید کو یہ مسودہ دیا انہوں نے نہ صرف اسے پڑھا بلکہ تمام تر مواد کے مطالعہ کے بعد ایک بہترین مضمون بھی تحریر کیا ، ڈاکٹراسلم آزاد صاحب نے بھی لکھا، پھر کوششوں کے بعد کتاب شائع ہوئی تو میری ہمت نہیں ہوئی کہ قاضی عبدالستار صاحب کوبھیجوں کیونکہ ان کے حوالے سے جانتا تھا کہ ان کے معیار پر پورا اترنا گویا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے ۔ قاسم خورشید صاحب نے کہا کہ آپ انہیں کتاب ضرور بھیجیں ، مجھے یقین ہے کہ وہ کتاب پسند کریں گے ۔ ان کے کہنے پر بہت ہمت جٹا کر میں نے کتاب قاضی صاحب کو بھیج دی اور پھر ذہنی طو رپر تیار تھا کہ کب ان کی تنقید کا نشانہ بنو ں ، میری تشویش غلط بھی نہ تھی ، کتاب ارسال کئے ہوئے لگ بھگ ایک ماہ گذر گئے ، مگر قاضی صاحب کوئی تاتر موصول نہ ہوا میں ذہنی طورپر اپنی تشویش پر اعتمادکیلئے تیار ہوگیا تھا ۔ مگر اسی اثنا میں پہلے قاضی صاحب کا فون ڈاکٹر قاسم خورشید کے پاس آیا ، انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے بیٹے کے پاس آگرہ میں تھا جب علی گڑھ آیا تو غفور صاحب کی کتاب ملی ۔ پڑھنے میں کچھ وقت لگا اب جب کتاب ختم ہوئی ہے تو آپ سے رابطہ کررہا ہوں ۔ قاضی صاحب نے نہ صرف یہ کتاب پسندکی بلکہ مختلف ابواب کے حوالے سے تفصیلی گفتگو بھی کی ، مجھے یقین نہیں ہوا مگر پھر براہ راست انہوں نے مجھے کئی بار باتیں کیں او راپنی بیحد پسندیدگی کا اظہار کیا۔ تو مجھے بیحد تقویت ملی اور اعتماد کو زندگی بھی عطا ہوئی۔

ہم لوگ سماجی سروکار کے آدمی ہیں ۔ زمینی حقیقتوں سے ہی رشتہ ہے۔ ایسے میں قاضی صاحب ہی میرے لئے واحد امید تھے کیونکہ جس طرح ان کے ناولوں میں زندگی جیتی ہے جاگتی ہے ، سوچتی ہے ،مسکراتی ہے ، روتی ہے ، ہم بھی زمینی طو رپر ایسا ہی محسوس کرتے ہیں۔ ہماری زبو حالی پر قاضی صاحب سے بہتر کہاں کسی کی نگاہ ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ دوسروں کواپنی زبوحالی کا ذمہ دار تصور کرنے سے پہلے اگر خود احتسابی کا جذبہ ہمارے اندر کارفرما ہوجائے تو قوم کبھی تنزلی کی شکار نہیں ہوسکتی ہے ۔ ہمارے بہترین رہنما سرسید احمد خاں سے زیادہ بہتر آئیڈیل کون ہوسکتا ہے کہ ان کے جذبے نے آج قوم کے وقار کوبلند رکھا ہے۔

اپنے صدارتی خطبہ سے تمام سامعین کو سحر زدہ کرتے ہوئے اردو ہندی کے محترم تخلیق کار ڈاکٹر قاسم خورشید نے علی گڑھ کی تہذیب ، بے اعزاز واحترام کو سلام کرتے ہوئے کہا کہ فرط جذبا ت سے لبریزہوں کہ ایسی محترم ومعتبر شخصیتوں کی موجودگی میں مجھے صدارت کا شرف حاصل ہوا ہے ۔ مگر میرے احترام کی زمین پر شجر سایہ دار کی قاضی عبدالستار کی صورت میں یہاں موجود ہے تو ہم سب کے معنوی صدر تو قاضی صاحب ہی ہیں۔

ڈاکٹر قاسم خورشید نے اپنے خطبہ کے دوران اس بات پر زور دیا کہ ڈاکٹر عبدالغفورکی یہ کتاب اگر قاضی عبدالستار کی تخلیقی موقف کی بہترین وضاحت ہے تو یوں بھی اس کی دستاویزی حیثیت ہوجاتی ہے ۔ قاضی صاحب کبھی کسی لابی سے وابستہ نہیں رہے یہی وجہ رہی ہے کہ ان کی تحریریں زندہ وتابندہ ہیں ۔ میں تو گذشتہ کئی دہائیوں سے دیکھ رہا ہوں کہ بہترین ادب کوحاشیہ پر رکھے جانے کی سازشیں ہورہی ہیں اور لام بندیوں کی نذر ہمار ا بہترین ادبی شہ پارہ ہورہا ہے ، حالانکہ ادبی اقتدار میں رہنے والے لوگوں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا کیوںکہ وہ آئندہ بھی اپنی فطرت سے باز نہیں آئیں گے ،۔قاضی صاحب نے صحیح فرمایا کہ کیسے تخلیقی فنکار ہیں کہ ہر سال ان کا ناول آرہا ہے ، ہمیں تو ایک صفحہ لکھنے میں کئی راتیں گزارنی پڑتی تھیں ، اورکچھ لوگ تو ہر ملاقات میں نیا بوجھ دے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر خورشید نے اس نکتے کو ملحوظ رکھتے ہوئے فرمایا کہ بہترین شہ پارہ خود اپنی جگہ بناتا ہے اور اسے نہ تو بیساکھی کی ضرورت ہے اورنہ ہی کسی لابی کی ۔ آج اس کتاب نے قاضی صاحب سے سند اس لئے حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے کہ قاضی عبدالستار کی فکشن نگاری پر کوئی عام یا اوسط درجے کا ادیب ونقاد قلم نہیں اٹھا سکتا ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قاضی عبدالستار کو پڑھتے ہوئے پرت در پرت کئی ایسی حقیقتیں واضح ہوتی ہیں جو ہمارے فکشن میں عموماً پہلے سے موجود نہیں رہی ہیں یا کبھی کبھی زیر بحث آئی بھی تو محض سطحی طورپر ۔ قاضی عبدالستار ایک لیجنڈ ہیں او ران کی نگاہ صرف ماضی پر نہیں ہے بلکہ وہ صرف ایسی تصویر پیش کرنا چاہتے ہیں جنہیں ہم مختلف زاویہ نگاہ سے دیکھ کر کسی ایسے نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں جو ہمارے افکار کے دریچوں کو وا کرتے ہوئے مزید روشن کرنے کا متقاضی ہے ۔ اس لئے قاضی عبدالستار کی ناول نگاری سے متعلق ڈاکٹر عبدالغفورکی کتاب دستاویزی حیثیت رکھتی ہے ۔ قاضی صاحب کے تمام معتقدین نے میری آرا کو استحکام عطاکیا ہے ۔بہتر عزت افزائی اور پذیرائی نے میرے وجود کوروشن کردیا ہے اس لئے شکریہ کی رسم مزید وسعت چاہتی ہے۔

معروف نقاد شاعر پروفیسر مولا بخش نے اس کتاب کی اشاعت پر دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے زور دیا کہ تاریخی ناول لکھنا کوئی آسان مرحلہ نہیں ہے مگر قاضی صاحب نے تو تخلیقی توانائی کے ساتھ اسے منفر داو رمعتبر بنادیا ہے ۔ ہندی کے نامور ادیب جناب پریم کمارنے قاضی عبدالستار پر تحریر کردہ پنی ہندی کتاب سے ایک مختصر باب پیش کرتے ہوئے کہا کہ قاضی عبدالستار میری نظر میں ہندوستان کے ایسے ادیب ہیں جن کی تاریخ پر دلائل اور حقائق کے ساتھ گہری نگاہ ہے اورہمیں ہر اعتبار سے اسے مستند ماننا چاہئے ۔ سابق صدر شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پروفیسر محمد امین کے مطابق قاضی عبدالستار پر ڈاکٹر عبدالغفور کی کتاب ان کے فکشن کو سمجھنے کیلئے مشتعل راہ ہے ۔ایسی بہترین کاوش سے یقیناادب کا وقار بھی بلند ہوا ہے ۔جن وادی لیکھک سنگھ سے وابستہ ترقی پسند ادیبہ ڈاکٹرنمیتا سنگھ کے قاضی صاحب کے ترقی پسند ی کونئے زاویہ نگاہ سے دیکھتے ہوئے فرمایا کہ ہم جس سماج کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں وہ سماج آج بھی قومی دھارے میں شامل نہیں ہے ۔ کئی سطحوں پر ہم نے ایسی آبادیوں کو حاشیوں پر رکھ چھوڑا ہے ، اس میں وہ آبادی بھی ہے جو اپنی قدروں کانوحہ کرتی ہے اور کوئی اس کی طرف نگاہ نہیں کرتا ۔ قاضی صاحب نے اپنی تحریروں میںیہ کام کیا ہے کہ روایت کی سچی تصویر پیش کی ہے ۔ ڈاکٹر عبدالغفورکی کتاب کیلئے انہیں مبارک باد کے ساتھ ڈاکٹر قاسم خورشید سے نجی تبادلہ خیال کے دوران بھی میں بیحد متاثر ہوئی ہوں۔

Dr Abdul Ghaful Book on Qazi Abdus Sattar
Dr Abdul Ghaful Book on Qazi Abdus Sattar

ڈاکٹر احمد مجبتیٰ صدیقی جوائٹ سکریٹری البرکات ایجوکیشنل سوسائٹی کی بہترین نظامت سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا گیا کہ پروگرام کی تیاری میں ان کی بے پناہ عرق ریزی شامل تھی ، کیونکہ صدر جلسہ مہمان خصوصی اور دوسرے اراکین کے حوالے سے جو گفتگو کی گئی وہ عمیق مطالعہ کا حصہ ہے یعنی تہذیب اور خلوص کا نمونہ ہر جگہ ، ہر لمحہ دیکھنے کوملا ، سینکڑوں لوگوں کی بہترین ضیافت سے بھی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ غیر مشروط محبت کسی قلندری سے کم نہیں ۔ علی گڑھ نے اپنی ادبی وثقافتی وراثت سے اسے مزید استحکام بخشا ۔ اس طرح لگ بھگ پانچ گھنٹے تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے البرکات ایجوکیشنل سوسائٹی کے وسیع ترین ہال میں موجود ادیبوں ، دانشوروں، محققوں او رشائقین نے ہمہ تن گوش کوہراس تقریب کو علی گڑھ کی ادبی تاریخ کا ایک اہم حصہ بنا دیا ۔کیونکہ صوبائی سطح پر یا قومی سطح پر اتنے معیاری اور انتہائی خوبصورت ادبی پروگراموں کا انعقاد شاید ہی کبھی وجود میںآیا ہو ۔ فنکشن سے قبل اور اس کے بعد بھی بحث ومباحثہ کا طویل سلسلہ جاری رہا اور اردو ہندی میڈیا نے بھر پور پذیرائی کے ساتھ اہمیت بھی دی۔

تحریر : کامران غنی صبا

Share this:
Tags:
book writing تحریر علی گڑھ کتاب
A Hameed
Previous Post بارش سماوار خوشبو
Next Post تبدیلی کا سفر قدم بقدم
Islamic Education

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close