Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

آفاقی و سرمدی شاعر خواجہ غلام فرید کا تنقیدی جائزہ

January 20, 2017January 20, 2017 1 1 min read
Dr Mukhtar
Dr Mukhtar
Dr Mukhtar

تحریر : سلیم سرمد
ڈاکٹر مختار ظفر تحقیق و تنقید کے حوالے سے منفرد، جانا پہچانااورایک معتبر نام ہے۔لٹریچر میں پی ایچ ڈی،گرانقدر تحقیقی و تنقیدی کتابوں کے خالق،ان کے متحقق تجزیے اور تبصرے تحقیق و تنقید کے حوالے سے جاندار مقام رکھتے ہیں۔ادب کے قارئین اور طالب علموں کے لئے ان کی ریسرچ مثلِ شمعِ شبستاں اور چراغِ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔خطہء ملتان کی خوش نصیبی کہ اسے ڈاکٹر مختار ظفر جیسی علمی و ادبی بلند قد کاٹھ کی شخصیت میسر آگئی۔جن کے کام سے ملتان اور سرائیکی بیلٹ کے شعراء و ادباء نا صرف زندہ و امر ہو گئے بلکہ ان کے کلام ِ غیر مطبوعہ کے تاریخ کی گردسے نکلنے کے ساتھ ساتھ کلام ِ مطبوعہ کی تفہیم بھی آسان ہو گئی۔ڈاکٹر مختار ظفر اپنی علمی استعداد کی بدولت پورے پاکستان میں اپنا ایک با وقار نام رکھتے ہیں۔ا یک طویل عرصہ اردو ادب پر کام کرنے کے بعدانہوں نے سرائیکی ادب خاص کر فریدیات کو پروموٹ کرنے کا بیڑا اٹھایا۔اسی سلسلے کی ایک کڑی ان کی تصنیف ” آفاقی و سرمدی شاعر۔۔خواجہ غلام فرید ” کتاب کی شکل میں تفہیم ِ فرید کے حوالے سے فریدیات میں ایک باب کا اضافہ ہے۔بلکہ تفہیمِ فرید کے حوالے سے ایک نیا باب وا ہوا ہے ایک نیا پہلو روشن ہوا ہے۔مجلد،خوبصورت ٹائٹل کے ساتھ108صفحات اور دو ابواب پر مشتمل،حصہء اول نقد و نظر، حصہء دوم تبصرہ و تجزیہ۔فصلِ اول میں کلام ِ فرید کی تفہیم،تشریح اور تحقیق کے حوالے سے مختلف فریدیاتی موضوعات پر مشتمل ڈاکٹر مختار ظفرکے مضا مین ہیں جن میں کلام ِ فریدکی نئے پیرائے میںتشریح و توضیح کی گئی ہے جبکہ فصل دوم میں فریدیات پر کتابی اور مقالے کی صورت میں کام کرنے والے ماہرینِ فریدیات کی تخلیقات پر ڈاکٹر مختار ظفر کے تجزئیے اور تبصرے شام ہیں۔انتساب سر زمینِ پاکستان اور ماہرینِ فریدیات کے نام ہے۔

ڈاکٹر مختار ظفر کی فرید شناسی کے ضمن میں کی گئی اس کاوش کو سراہتے ہوئے ڈاکٹر طاہر تونسوی (جنرل سیکرٹری سرائیکی ادبی بورڈ ملتان ) یوں رقمطراز ہیں:”میں ڈاکٹر مختار ظفرکی اس عقیدت مندانہ مگر عالمانہ کتاب کو فرید شناسی کے ضمن میں بڑی اہمیت و افادیت کا مرقع گردانتا ہوںکہ ایک ایسے دانشور جس کی مادری زبان سرائیکی نہیں ہے،خواجہ فرید کی شاعرانہ عظمت اور ان کے فکر و فن کا جو وضاحت نامہ منظرِعام پرلائے ہیں،وہ موضوعاتی،اسلوبیاتی،تشریحاتی،توضیحاتی اورفلسفیاتی حوالوں سے فریدیات کے مباحث کے نئے دریچے وا کرتا ہے۔مجھے امید ہے کہ فریدیات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یہ کتاب غیر مترقبہ نعمت سے کم ثابت نہیں ہو گی۔میں نے کتاب کے دیباچے میں ہر حوالے سے اس کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے اور ڈاکٹر موصوف کی فرید شناسی کی داد بھی دی ہے”۔ ڈاکٹر مختار ظفر نے اپنے پیش لفظ” شعرِ فرید اور میں۔۔کچھ یادیں ۔۔کچھ باتیں”میں اپنی خوبصورت یادوںکے ساتھ ساتھ خواجہ فرید سے اپنی محبت، نسبت و عقیدت،ان کی شاعری سے رغبت اوروابستگی کا اظہار انتہائی لطیف انداز میں کیا ہے:ان کی تحریر میں خواجہ فرید کی کافیاں سر تال اور لے میں نظر آتی ہیں۔کلام ِ فرید سے لگاؤ کو بڑے ہی مسرور کن انداز میں بیان کرتے ہیں: ”یہ چند مضامین جو پیش کئے جا رہے ہیں خواجہ غلام فرید سے میری عقیدت اور انکے کلام سے میرے شغف کا مظہر ہیں”۔ ”خواجہ غلام فرید سے میرا تعلق اور انکے کلام سے میرا عشق بہت پرانا ہے۔بچپن سے یا پھر لڑکپن سے۔جب امنگیں منہ زور ہوتی ہیںاور ان کی شکستگی کا احساس شدید ہوتا ہے۔تب خواجہ غلام فرید کی کوئی کافی سننے میں آتی تولطف اور بشاشت کا احساس ہوتا۔۔اس وقت کافی یا اس کی تفہیم سے کہیں زیادہ وہ آواز جادو جگاتی،جسکی سحر ‘آفرینی کافی کے اثرات میں رنگ بھرتی تھی”۔

خواجہ غلام فرید کی شاعری میںنغمگیت،موسیقیت اور اور سرائیکی تہذیب و ثقافت کے بارے میں ڈاکٹر مختار ظفر یوںکہتے ہیں: ”موسیقی کا شوق ہمیشہ دم ساز رہااور یہ زندگی کی تلخیوں کو شادکام کرتا رہا۔سرائیکی موسیقی سے دل بستگی ہو گئی۔خواجہ غلام فرید کے نغمے کانوں میں رس گھولتے تو دیر تک اثرات باقی رہتے۔پٹھانے خان کی آواز میں کافی” میڈا عشق وی توں”نے مجھے ہمیشہ سرشار کیا،خواجہ سئیں سرائیکی خطے کا مان ہیں۔اس کے کلچر کی فکری شعری علامت ہیں۔جس کلچر کی شناخت خواجہ فرید کا سا کلام ہو وہ ایک مضبوط و مستحکم اور توانا تہذیب کی گواہی دیتا ہے” کلام ِ فرید بلاشبہ بہترین انسان دوست اور محبت پرور نظریہء حیات ہے جس میں تصوف کے رنگ بھرپور طور پر نما یاں ہیں،کائنات میں موجود تمام فطری مظاہر ،وحدةالجود کے جلوے اور نظارے ہیں۔ان تمام مناظر میں وحدة اولجود کی رنگینیاںاوررعنائیاںنظر آتی ہیںیہ سب روپ اس حسنِ حقیقی کے روپ ہیں۔یہ تمام جمالیاتی حسن اسی وحدة الوجود کا ہی ہے، جس کے حسن سے عشق و سر مستی کے چشمے پھوٹتے ہیں۔خواجہ فرید نے اس سرمدی فلسفے کو کس خوبصورتی کے ساتھ جمالیاتی انداز میںپیش کیا ہے،اس کے لئے ڈاکٹر مختار ظفر صاحب کا انتخاب دیکھتے ہیں جس میں کافی کے اشعار کے ساتھ تشریحی اور تفہیمی پہلو بھی لطیف انداز میں واضح کر دیے گئے ہیں:
ہر صورت وچ دلدار ڈٹھم کل یار اغیار کوں یار ڈٹھم
کتھ جوہر تے کتھ عرض ڈٹھم کتھ سنّت نفل تے فر ض ڈٹھم
کتھ صحت تے کتھ مرض ڈٹھم کتھ چُست اتے بیمار ڈٹھم
کتھ پھل گل باغ بہار ڈٹھم کتھ بلبل زار نزار ڈٹھم
کتھ خس خاشاک تے خار ڈٹھم ہک نور دے سبھ اطوار ڈٹھم
کتھ منطق، نحو تے صرف ڈٹھم کتھ اسم تے فعل تے حرف ڈٹھم
ہک معنی ہر ہر طرف ڈٹھم چو گوٹھ ڈٹھم چو دھارڈٹھم

Khawaja Ghulam Farid Book
Khawaja Ghulam Farid Book

(میں نے جو بھی شکل اورصورت دیکھی اس میں مجھے اپنا دلدار ہی نظر آیا۔اپنے دلدار کے اس جلوے کا کمال یہ ہے کہ کوئی غیر ہے اپنا،دوست یا دشمن ،سب کو اپنا دوست ہی پایا۔اس دنیا میں میرے مشاہدے نے مختلف النوع چیزوں کو پایا،کہیں ایسی چیزیں دیکھتا ہوں جو بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیںاور کہیں وہ چیزیں نظر آتی ہیں جو جوہر کے متعلقات میں ہوتی ہیں۔کہیں میں نے سنّت نفل اور فرض کی ادائیگی کے مختلف رنگ دیکھے۔کہیں دیکھتا ہوں تو صحت کی بادشاہی ہے اور کہیں بیماریوں کا راج ہے۔کہیں تندرست اور توانا لوگ نظر آتے ہیںاور کہیں بیمار اور لا چار۔کہیں میں نے پھول، غنچے اور باغات دیکھے،اور کہیںزار نزار بلبل کا نظارہ کیا ہے۔کہیں خس و خاشاک اور کانٹے نظر آتے ہیں ،کہیںجو بھی دیکھا،جہاں بھی دیکھااور جدھر بھی دیکھا،ایک ہی نور کے جلوے اور انداز واطوار نظر آئے۔کہیں میری آنکھوں نے علم کی مختلف صورتیں دیکھیں،خواہ وہ منطق ،نحو اور حرف کے علوم تھے یا اسم فعل اور حرف کی عملداریاں،مگر ان سب میں ایک ہی مفہوم اور ایک ہی معنی رواں دواں نظر آیااور یہ معنی اور مفہوم مجھے چاروں اطراف اور تمام مقامات میں نظر آیا)ڈاکٹر مختار ظفر نے” خواجہ غلام فرید۔۔ایک آسودہ حال شخصیت مگر شاعرِ رنج وغم”مضمون میں خواجہ فرید کی زندگی کے پس منظر اور شاعری کے محرکات مشاہداتی و تجزیاتی طور پر بیان کرتے ہوئے خواجہ فرید کے تصوف اور فلسفے کادیگر شعراء کے صوفیانہ اور فلسفیاتی مضامین اور افکار پر فوقیت دیتے ہوئے انھیںرنج و الم کا امتیازی شاعر قرار دیا۔

ڈاکٹرصاحب خو اجہ سئیںکے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ کے باطن نے خارج کو وسیع القلبی کے ساتھ اپنی ذات میںبے نظیر طریقے سے ضم کیا۔خواجہ سئیں کے اظہار میں درد و کرب کوجو دوسرامنبع قرار دیتے ہیں وہ ہجر و فراق کا معاملہ ۔ تصوف اور صوفیانہ مضامین کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب خواجہ فرید کے مقابلے میں دیگرمتقدمین شعراء مثلاََ میر اور غالب کے صوفیانہ مضامین کو کائنات کے مسائل کو سمجھنے،اور تخٰیل کوضروری عارضی جست دینے کا عمل قرار دیتے ہوئے تصوف سے ایک حد تک استفادہ قرار دینے کا عمل گردانتے ہیں،البتہ درد کے بارے میں کہتے ہیں کہ باقاعدہ صوفی شاعر تھے۔جبکہ خواجہ فرید کے صوفیانہ مسلک کو مقصودِ بالذات قرار دیتے ہیں۔مثلاََ ڈاکٹر مختار ظفر وضاحت کے ساتھ کہتے ہیں : ” انھیں زندگی سے پیار ہے اور وہ نروان بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اس لئے ان کا تصوف ایک داخلی تجربہ ہے ،ایک باطنی کیفیت ہے۔اسی وجہ سے ان کے کلام میںصوفیانہ کیفیتوں کے رنگا رنگ گلزار کھلے ہوئے ہیں۔دیکھا جائے تو ان کی شاعری کی توانائی ،وقعت اور رفعت انہی موضوعات کی سے ہے جن کا اظہار بھی اعلیٰ پائے کا ہے۔مقامی روایت کے مطابق انھوں نے اپنے آپ تانیثی حیثیت میںسسی کے روپ میں رہ کراپنے محبوبِ حقیقی کی تلاش اور جستجوکی اور اس سے ہجر و مفارقت کے دردِ دل گداز کو جانکاہ انداز میں پیش کیاہے۔صوفیوں کا عقیدہ ہے کہ ہمارا وجود،روحِ ازل سے جدائی کا حاصل ہے،اس لئے انسانی دکھ اور کرب کی وجہ بھی یہی ہجر اور جدائی ہے۔وہ جب تک زندہ ہے روحِ ازل سے وصال کے لئے تڑپتا رہتا ہے۔ عشق کا روحانی تجربہ جتنا شدید ہو گاتڑپ اور کسک میں بھی ویسی ہی شدت ہو گی۔یہی تڑپ اور غم تو ہے جو تخلیقِ کائنات کی بنا ہے”۔
اور اسی حقیقت کو بیان کرنے کے لئے ڈاکٹر مختار ظفر صاحب نے خوجہ غلام فرید کے درج ذیل اشعار مع تشریح، تفہیمی تقاضے کے طور پرپیش کیے ہیں:
ڈکھڑیں کارن جائی ہم سولیں سانگ سمائی ہم
جانون لا دی پنڈ بلا دی چم سر اکھیاں چائی ہم
گالھی،کملی،سنجڑی، دھر دی ہک غم دی سدھرائی ہم

( میں پیدا ہی دکھ اٹھانے کے لئے ہوئی تھی۔سانسوں کا یہ تسلسل بھی مجھے دردر و غم کو جھیلنے کے لئے عطا کیا گیاتھا۔اس لئے کہ اس دنیا میں میرے لئے کوئی گنجائش نہیںتھی،اس لئے عالمِ وجود میں آتے ہی مصائب و آلام کی گٹھڑی کو چوم کر اٹھا لیا۔میں تو آغاز بلکہ ازل سے ہی بھولی بھالی اور عقل سے خالی تھی،اس کے با وجود مجھے غم کا عرفان ضرور حاصل رہا) خواجہ فرید بلا شبہ آفاقی و سرمدی شاعر تھے۔بے آب وگیاہ روہی سے انھیں عشق تھا۔اور روہی واسیوں کے ساتھ ان کی والہانہ محبت تھی،آپ ہمیشہ ان کی محرومیوں اور دکھڑوں کو اپنی شاعری میں اس طرح بیان فرماتے کہ خود کو ان کی کیفیات میں تحلیل کر لیتے۔مگر آپ نے ہمیشہ ان واسیوں کو خوشیوں سے بھر پورزندگی کی نوید دی۔آپ اپنے کلام کے ذریعے سے غم و یاس اورنا امیدی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں امید اور شادمانی کی روشنی سے پیدا کرتے۔آپ نے کریہہ اور تس کی ماری روہی کو روہی رنگ رنگیلڑی بنا کر پیش کیا۔خواجہ فرید کوروہی کے مظاہر اور مناظر سے چاہے خس و خاشاک ہی تھے سے بے پناہ محبت تھی۔غم کدے کو وہ جمالیاتی حسن بخشا کہ روہی اور روہی واس اس رنگ میں رنگ گئے۔
”آفاقی و سرمدی شاعر۔۔۔خواجہ غلام فرید” میں ایک مضمون” شعرِ فرید سے جھلکتی تہذیبی قدریں” میںڈاکٹر مختار ظفر صاحب کے مذکورہ بالا تناظر میں تشریحی اور تفہیمی کمالات ملاحظہ ہوں:

روہی رنگ رنگیلی چِھک کھِپ ہار حمیلاں دے
بوٹے بوٹے گھنڈ سہاگوں گیت پرم دے گاوے
کیسر بھنڑی چولی چنڑی ول ول مینہ پُساوے
پورب ماڑ ڈکھِنڑ دے بادل کوئی آوے کوئی جاوے

Literature
Literature

(پھر یہاں ساون کے جو بادل جھوم رہے ہوتے ہیں اور بارش کی وجہ سے روہی کے ریگزاروں اور میدانوں میں خوشحالی ڈیرے جما لیتی ہے۔گائے بچھڑے اور بیل سب خوش اورخوشحال نظر آتے ہیں۔عورتوں نے پورے بازؤوں کی چوڑیاں اور چوڑیوں کے بند پہن لیے ہیںاور جب وہ یہ چوڑیاں پہن کر دودھ بلوتی ہیں توچوڑیوں کی کھنک اور مٹیوں کی کُھب کُھب سے موسیقی جھوم اٹھتی ہے،پھر سوہنیوں کا زیور پہننا، مانگیں نکالنا ،اور ماتھوں اور رخساروں پر چھوٹے بڑے تل بنانا،کونجوں کا چلانا،موروں کا ناچنا،اور کوئل کا کُو کُو کرنا، سب ایسا رومان پرور ماحول تشکیل دیتے ہیں کہ دکھ بھی مسکرا اٹھتے ہیںاور روح کے زخم بھی تبسم ریز ہو جاتے ہیں۔اس تناظر میں خواجہ فرید کا یہ شعر کس قدرسرور آگیں ہے):
وچ روہی دے رہندیاں نازک نازک جٹیاں
راتیں کرن شکار دلیں دے ڈینہاں ولوڑن مٹیاں

جس طرح خواجہ فرید کو اپنے وسیب کے ذرے ذرے سے عشق تھابالکل اسی طرح آپ نے اپنے وسیب واسیوں کو اپنی دھرتی کے چپے چپے سے محبت کا درس دیا۔آپ نے اس وسیب کو گلِ گلزار بنا کر پیش کیا۔تہذیب اور ثقافت کی قدروں سے روشناس کرایا۔وسیب واسیوں کو امیدِ حیات، امیدِ بہار اور امیدِ سحر کا درس دیااور اسکے ساتھ محنت لگن جدوجہد بلکہ جہدِمسلسل کی تلقین کی جو طمانیتِ قلب اور ذریعہء بقائے حیات ہے۔خواجہ فرید اپنی روہی اوراپنے وسیب کی تہذیب و ثقافت کے امین تھے،آپ کو پھوگ، لانڑے،لائیاں،کریہنہ،جال، پیلو، ٹوبھے ،کچاوے، جانوروں کے وگ اورجھوک سے بے پناہ محبت تھی، کیونکہ یہ تمام چیزیں اس علاقے کی ثقافت کا بنیادی درجہ رکھتی ہیںاور اس تہذیبی اور ثقافتی مظاہر کواپنی شاعری کے ذریعے آنیوالی نسلوں کو منتقل کر کے ان کی بقا کا اہر کیا۔خواجہ غلام فرید کی شاعری میں جڑے تہذیبی منظر نامے نے اور اسکی رنگا رنگی نے انسان کو جینے کاقرینہ اور آس مہیا کی۔دکھوں سے نبرد آزما ہونے اور حوصلے کے ساتھ جینے کی امنگ پیدا کی۔آرزؤوں اور امیدوں کاجہان آباد کر کے خوش وخرم اور شانتی کے ساتھ رہنے کا اہتمام کیا،خواجہ غلام فرید کے کلام میں تہہ در تہہ معنویت اور اسرار و رموز کے کئی پہلو چھپے ہوئے ہیں۔دیگر شعراء کی نسبت ان کے کلام میں غم مترنم پایا جا تا ہے۔خواجہ غلام فرید کے کلام میں زندگی کے نشاطیہ پہلوؤں کے ساتھ ساتھ زندگی کے بنیادی حقائق رنج و غم اور حزن و ملال بھی ہیں۔وحدةالوجود کے تصور کے ساتھ ساتھ فلسفہء حیات ،خواہشیں امنگیں، زندگی کے سوز و ساز، لطفِ وصال، ہجرو فراق جیسے تمام موضوعات مرصع انداز میں بیان کئے گئے ہیں۔خوجہ فرید کی شاعری کو سمجھنے کے لئے ترقی ِ تعقل،روحانی شغف اور صاحب ِ علم اور صاحبِ بصیرت ہونااور روحانی بالیدگی وطہارت لازمی ہے۔

آخر میں ”آفاقی و سرمدی شاعر۔۔۔خواجہ غلام فرید ” کی فصلِ دوم ”نغمہء صحرا۔۔۔کلام ِ فرید کا منظوم ترجمہ۔۔۔ایک جائزہ” سے خواجہ غلام فرید کی ایک کافی کشفی الاسدی کے منظوم ترجمے کے ساتھ ملاحظہ فرمائیے:

(کافی خواجہ فرید ) (ترجمہ کشفی الاسدی)
وچ روہی دے رہندیاں یار! روہی کے ریگزار میں
نازک نازک جٹیاں گل بدن نازنین رہتے ہیں
نازک اندام ناز پروردہ
ماہ رو ! مہ جبین رہتے ہیں
راتیں کرن شکار دلیں دے شب کو مرغانِ دل شکار کریں
ڈینہیں ولوڑن مٹیاں دن کو دنیا کے کاروبار کریں
کر کر دردمنداں کوں زخمی درد مندوں کے کر کے زخمی دل
ہَے ہَے بدھن نہ پٹیاں کوئی مرہم نہ پھر کوئی پٹی
شکل دیکھو تو اک فرشتہ سی
دھوئیں دار فقیر تھیو سے ہم فقیرانہ آ کے بیٹھے ہیں
فخر وڈائیاں سٹیاں در پہ دھونی رما کے بیٹھے ہیں
ناز و تمکیں بھلا کے بیٹھے ہیں
مونجھ فرید مزید ہمیشہ دل ہمیشہ رہا فرید اداس
اج کل خوشیاں گھٹیاں عشق آیا نہیں ہے ہم کو راس
گھٹ چکا ہے خوشی کا ہراحساس
ڈاکٹر مختار ظفرکی مادری زبان چونکہ سرائیکی نہیں ہے اور خواجہ فرید کا کلام سرائیکی زبان میں ہے،لہٰذہ دیگر دواوین اور اس کتاب میں تلفظ کے حوالے سے اختلاف ضرور ہو سکتا ہے مگر محبت اور عقیدت کے حوالے سے کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں چھوڑا گیا۔لہٰذہ ڈاکٹر مختار ظفر صاحب کی یہ اعلیٰ کاوش ،” آفاقی و سرمدی شاعر۔۔۔خواجہ غلام فرید” فریدیات کے خزانے میںایک بیش بہا اضافہ ہے جس میں خواجہ فرید کے کلام کے تمام پہلوؤں میں تمکین و تسکین کے لوازمات ضرور پیدا کئے گئے۔
جڈاں عشق فریداستاد تھیا سب علم عمل برباد تھیا
پر حضرت دل آباد تھیا سو وجد کنوں، سو حال کنوں

Saleem Sarmad
Saleem Sarmad

تحریر : سلیم سرمد
contact number(03326209296)
email address:saleemsarmad418@gmail.com

Share this:
Tags:
Criticism Literature universal ادب تصنیف جائزہ شاعر کتابوں
Follow the Leader
Previous Post قومیں کردار سے بنتی ہیں
Next Post گلفراز خان کی قیادت میں کراچی ہاکی ایسوسی ایشن کے وفد کی مسعود کریم شیخ سے ملاقات
Karachi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close