
برلن (جیوڈیسک) مقدمہ مغربی شہر کولون کی ایک انتظامی عدالت میں دائر کیا گیا۔
اس مقدمے میں فیصل بن علی جابر نامی مدعی نے دعویٰ کیا ہے کہ اگست 2012 میں یمن میں ایک گاوں پر ایک امریکی ڈرون طیارے سے جو میزائل حملہ کیا گیا تھا، اس میں اس کا برادر نسبتی سلیم بن احمد علی جابر اور ولید نامی بھانجا ہلاک ہو گئے تھے۔
ان ہلاکتوں کے پس منظر میں درخواست گزار نے مقدمے میں جرمن حکومت کو فریق اس لیے بنایا کہ قریب سوا دو سال قبل اس حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون طیارے کو جنوب مغربی جرمنی میں رامشٹائن کے امریکی فوجی اڈے سے کنٹرول کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں مدعی فیصل بن علی جابر کو انسانی حقوق کے لیے سرگرم دو تنظیموں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ تا ہم جرمن حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔
