تیرے ہی نام پہ رکھیں گے محبت کا عنوان
ہم سے بدلے نہیں جاتے ہر بار نئے عنواں جاناں
کیوں باربار کرتے ہیں تقاضا بے وفائی کا
ہمیں جانتے ہی نہیں کتنے ہیں ناداں جاناں
ڈھونڈتے رہتے ہو ہر روز اک نئی رنجش
اور اب کتنے کرو گے ہم پہ احساں جاناں
اتنا آساں بھی نہیں کڑی دھوپ میں جلتے رہنا
یہ وہ دکھ ہی نہیں سمجھے تھے جسے آساں جاناں
آج ہر بات پہ ہنستے ہوئے دیکھا اس کو
جس سے سنبھلتا ہی نہ تھا غم ہجراں جاناں
تحریر : مسز عالیہ جمشید خاکوانی

