کھلیں لب میرے اس دعا کے ساتھ
کٹے زندگی حُسن و ادا کے ساتھ
نہ ہو فکر کو ئی سوال کی۔۔۔۔
ہو حشر بھی اس مدعا کے سا تھ
تملق سے رہو ں دُور میں
بلندی ہو خُو ئے بقا کے سا تھ
دا ما ند گی نہ ہو و جو د میں
ملے ز ند گی پو ر ی شفا کے سا تھ
سد ا وا رہے در عشق کا
مگر عشق ہو صرف خدا کے سا تھ
تحریر : مسز عالیہ جمشید خاکوانی

