Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

آقا میریاں اکھیاں مدینے وچ رہ گئیاں

December 2, 2017 0 1 min read
Madina
Madina
Madina

تحریر : انجینئر افتخار چودھری
صبح عید میلاد النبی ہے۔سرکار کی آمد مرحبا۔خوشقسمت ہیں وہ لوگ جو آج بھی اس شہر خنک میں زندگیا بتا رہے ہیں۔

نصیب طائران خلد میں قرباں اس کبوتر پے کہ جس کا آشیاں ہے گنبد خضراء کے سائے میں(نور جرال)

گنبد خضراء کو دیکھا ہزار بار دیکھا اور بار بار دیکھا۔ان دنوں میں بھی جب یہ آبادی میں گھرا ہوا تھا ایک بہشتی پتلی سی گلی جنت البقیع لے جاتی تھی گلی میں حجار تسبیحوں کی دکان۔ان دنوں جنب ہم شیشے کے بکسوں میں بند فیروزے خردتے تسبیحان لے جاتے۔مدینہ میں جائیں اور یہ چیزیں نہ لائیں تو سفر مکمل نہیں ہوتا ایک اور سوغات مدینہ منورہ کا پودینہ ہے۔اور گلاب کی پتیاں۔کھجوریں بھی مدینہ ہی سے خریدی جاتی ہیں۔عجوہ کھجور کا نام حالیہ سالوں میں سنا اس سے پہلے صرف کھجوریں ہوتی تھیں اب تو پاکستان سے خصوصی فرمائیش کی جاتی ہے کہ عجوہ لائیں ایک زمانے میں روغن بللسان اور اب عجوہ کھجور کی گھٹھلیوں کا پیسٹ لوگوں کو تو نام بھی یاد ہو گئے ہیں قصیم کی سکری۔پردیسیوں کی زندگی اوکھی ہو گئی ہے۔میں جب ١٩٧٧ میں مدینہ گیا تو تو پہلی عید وہاں کی پانی کی سخت تنگی تھی اب تو اللہ کا کرم ہے آل سعود نے مدینہ منورہ میں بلینز ڈالرز کے منصوبے مکمل کئے ہیں۔اس وقت کا مدینہ منورہ اور اب کا زمین و آسمان کا فرق ہے۔

یہ مدینہ منورہ میں گزارے میری زندگی کے خوبصورت ترین دنوں کی یادیں ہیں۔یاد داشتیں عموما وہ لوگ لکھتے ہیں جنہوں نے زندگی کے اعلی پائیدان پر پائوں رکھ دیا ہو۔میں وہ تو نہ کر سکا مگر ان باسٹھ سالوں میں دیکھا بہت کچھ۔میرے اللہ کی یہ زمین بہت خوبصورت ہے مگر میں تو اس خوبصورت ترین جگہ میں رہ آیا ہوں جس کی خاک کو آنکھوں کا سرمہ بنانے کی تمنا مجھے بھی تھی ہے اور آپ کو بھی ہے۔

میں اس رات کا بھی ذکروں گا جس رات ہم ہینو ڈمپر ٹرک کی باڈی میں بیٹھ کر حج کرنے کے بعد مدینہ پہنچے۔گوہر رحمن میرا ننھیالی رشتے دار تھا ۔لورہ چوک میں رہتا تھا بنیادی طور پر چوک میں رہنے والوں کی بڑی تعداد پہاڑوں سے اتر کر وہاں کی بسنیک ہوئی ہے۔والدہ صاحبہ کے ایک کزن چودھری بہادر تھے جن کے نام پر بستی بہادر آباد بھی موجود ہے۔یہ موضع لسن کے چیچچی گجر ہیں۔ان کا بیٹا گوہر رحمان ستر کی دہائی میں ریاض سعودی عرب چلا گیا۔گوہر رحمان نے ہمارے ساتھ حج کیا۔ہم لوگ جیسے تیسے مدینے مین داخل ہو گئے اکچر کے پاس رہائشی پرمٹ نہ تھے ڈرے سہمے ہم آدھی رات کے وقت مدینہ شریف پہنچے۔فجر کی نماز کے وقت شہر مصطفیۖ میں داخلے کا اذن ملا۔دن وہیں گزارا تو شام کو واپسی ہوئی ۔جب مدینہ منورہ کی پرانی چوکی سے باہر آئے تو گوہر رحمن نے ٹرک رکوایا اور سڑک سے دور چلا گیا واپسی پر اس نے بتایا کہ میں نے مدینے میں مناسب نہیں سمجھا کہ اس شہر میں حوائج ضروریہ سے عہدہ براء ہوں۔یہ جذبہ اور سوچ تھی اس بھولے گوہر کی۔آج وہ اس دنیا میں نہیں ہے۔

میرا خالہ زاد بھائی درایمان جس کمپنی میں کام کرتا تھا فالکن فریٹ اس کا نام تھا یہ اقبال سہگل کی کمپنی تھی میرے دوست مسعود پوری اس کمپنی میں سپروائزر تھے۔بعد میں یہ کمپنی ان کے ہاتھ لگی ١٩٧٧ کا زمانہ تھا ایک شخص کرولا گاڑی میں ہمارے ساتھ ہی گھومتا تھا،میرا بھائی اسی کے ذریعے سعودی عرب گیا تھا۔گجرانوالہ کا ایک ایجینٹ خلیرے بھائی کے پیسے ہڑپ کر گیا۔وہ شریف آدمی تھا اس نے ایک بار جب میں نے اسے گریباں سے پکڑا تو اس نے قسمیں کھائیں کی منشاء کھا گیا ہے۔یہ چھ سات ہزار کی بات تھی۔آخر کار ویزہ مل گیا۔بعد میں منشاء ہمیں جدہ میں مل گیا ۔اسرار شاہ پرویز قادر مسعود پوری کے ساتھ منشاء سے ہماری کافی گپ شپ رہی۔قارئین وہ منشاء اب میاں منشاء ہیں اس وقت وہ سات ہزار کھا گئے تھے اب دنیا جانتی ہے پورا پاکستان انکے شکم میں ہے۔میرے پاس یہی کچھ ہے۔لوگ چین جائے بغیر سفر نامہ ء پیکنگ لکھ دیتے ہیں میں حرف حرف ہڈ بیتی لکھا ہے۔میں نے ان پاکستانیوں کو دیکھا ہے جن کا حال آپ کو بتائوں گا تو حیران رہ جائیں گے۔

مدینہ منورہ میں میری پہلی نوکری ١٩٨٤ میں جنرل موٹرز کی ڈیلر شپ میں ہوئی۔موجودہ وزیر اعظم کے والد خاقان عباسی اس ایجینسی میں شراکت دار تھے۔الحسینی موٹرز بی ایم ڈبلیو اور جنرل موٹرز کے وکیل تھے ان کے سروس ڈیپارٹمنٹ کا مینر بن کے جدہ سے گیا تھا۔وہیں سلطانہ روڈ پر ہماری رہائیش تھی محطہ الزغیبی کے پیچھے کسی نے بتایا نبی پاک محمد ۖ کے دور میں ایک یہودی اشرف نامی ہوا کرتا تھا وہ بھی اسی محلے میں رہا کرتا تھا غصہ تو بہت آیا کہ ہمارا کس بندے کے حوالے سے مسکن بنا۔الحسینی آج کل مفروشات العامر کے ساتھ ہے وہاں ایک بڑی سپر مارکیٹ بن چکی ہے۔حضرت عثمان کا کنواں اس کے پیچھے محلے میں ہے اس وقت تو اندر جا کے زیارت کر لیتے تھے۔مدینہ منورہ میں گزارے دن بہت یاد آتے ہیں۔ہمارے پاس بڑے معروف لوگ آیا کرتے۔شروع ہی سی رونق لگانے کا شوقین ہوں وہاں آنے والے مہمانوں کی پذیرائی کر کے دلی خوشی ہوتی تھی مدینہ منورہ کی ایک خاص بات ہے کہ مکہ المکرمہ میں حاجی یا زائر افراتفری میں رہتا ہے یہاں ایک طرح کا سکون پاتا ہے بہت سے لوگ چالیس نمازیں پڑھنے رکتے ہیںان آٹھ دس دنوں کے قیام کے دوران آپ پاکستان کیا دنیا بھر سے آئے مہمانوں سے جی بھر کے ملاقاتیں کرتے ہیں۔

١٩٩٢ میں ایئر پورٹ روڈ پر جنرل موٹرز کی ایجینسی میں میری نوکری ہوئی۔بچوں کو وہیں جدہ میں چھوڑا اس لیئے کہ مدینے میں کوئی پاکستانی اسکول نہیں تھا نہ اس وقت اور نہ ہی اس وقت۔دیرینہ دوست جہانگیر خالد مغل کے ہاں ٹھکانہ کیا۔اس گھر میں کون نہیں میرا اور ان کا مہمان نہ بنا۔ہم دوست اس جگہ کو آستانہ ء جہانگیریہ کہا کرتے تھے۔مسجد ابی ذر غفاری کے پاس اندر گلی میں ایک پرانی سی بلڈنگ میں دو کمروں کا گھر تھا۔ایک کو ہم بیٹھک کے طور پر استعمال کرتے اور دوسرے کمرے میں سو جاتے۔حج اور رمضان کے دنوں یہاں بڑی رونق لگی رہتی۔جہانگیر بھائی کمال کے انسان ہیں بردبار ٹرک اوپر سے گزر جائے اف نہ کرتے تھے۔بڑے واقعات بڑی یادیں وابستہ ہیں اس گھر سے۔اب تو حرم کی توسیع میں مسمار ہو گیا ہے۔اس ے پر بادام جوسز شامل ہو گئے۔گھر میں پاکستان کی نامور شخصیات آیا کرتی تھیں۔جب کبھ زیادہ مہمان ہوتے تو ہم لحم مندی دجاج مندی کے تھال لے آیا کرتے۔یہیں احمد فراز بھی آئے قمر زمان کائرہ کے تایا حاجی اصغر کائرہ میاں طفیل محمد خلیل حامدی چودھری اختر وریو عطاء الحق قاسمی احمد ندیم قاسمی غرض ایک رونق سی لگی رہتی۔آ ج پتہ نہیں مدینے کی یہ گلی کیوں یاد آ گئی۔رمضان میں ہم پاکستانی حرم میں اپنا دستر خوان لگایا کرتے۔دہی کے ڈبے کعک گول سی روٹی۔عصر کے بعد میں اور نعیم مغل جہانگیر صاحب کا چھوٹا بھائی جو چند سال پہلے اس دنیا سے چلا گیا۔اسد کیانی بھی ہمارے ساتھ ہوتا میں دہی کے چالیس پچاس ڈبے کمر پر رکھ کر گلی میں نعرے لگاتا رنگ بڑنگے دہی کہتا اپنے آقاۖ کی طرف بڑھ جاتا۔ہم پاس سے گزرنے والے کو دعوت دیتے کہ ہمارے سفرے پر آ جائو۔مدینے کی گلیاں اور مدینے کی رونق اللہ اکبر اللہ اکبر۔افطاری شروع میں تو سادہ ہی ہوا کرتی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سفرے میں شامل ہو گئیں۔عربی دکا ایک مصالحہ بڑے غضب کا ذائقہ رکھتا ہے اسے دہی میں ملا کر کعک(گول سی روٹی) کے ساتھ کھانے کا جو مزہ آتا ہے وہ میں نے آج تک کسی اور کھانے میں نہیں دیکھا۔جی چاہتا ہے مدینے میں گزری ان گھڑیوں ان مہ و سال کے تذکرے کروں ان دوستوں ساتھیوں کی یادیں لکھوں جو دراصل تھے تو مہمان اللہ کے نبیۖ کے مگر ان کی خدمت کرنے کا موقع ہمیں بھی ملا۔

ایک بار ایک کشمیری مجاہد ہمارے مہمان بنے۔جہانگیر خالد جماعت اسلامی کے قریب تھے دروس قرآن کی مجالس میں میں بھی شریک ہوتا تھا میرا اپنا بنیادی تعلق جمعیت سے تھا تو اس حوالے سے میرے اور جہانگیر بھائی کے مہمان بعض اوقات مشترکہ ہوا کرتے تھے۔ مدینے میں تین بار نوکری کرنے کی سعادت حاصل ہوئی ایک بار ١٩٨٥ میں شارع سلطانہ پر واقع موئسسہ الحسینی میں سروس مینجر کی نوکری کی۔یہ ایجینسی شاہد خاقان عباسی کے والد مرحوم خاقان عباسی اور شیخ عبدالعزیز حسینی کی تھی جو ایک طرف سے پاکستانی تھے۔ان کے پاس پی آئی اے اور بی ایم ڈبلیو کی ایجینسی بھی تھے۔موصوف بڑے اکڑ خان قسم کے شخص تھے دونوں بڑی ایجینسیاں اپنی اکڑفوں میں کھو دیں۔ایک وقت تھا کہ شیخ فضل بی ایم ڈبلیو ٧٤٥ میں آیا کرتے تھے اور پھر وہ زمانہ آیا کہ ان کے پاس اپنے ملازمین کو دینے کے لئے پیسے تک نہ تھے۔٨٥ سے ٨٧ تک کا عرصہ وہاں گزارا اور پھر دوسری مرتبہ ١٩٩٢ میں بالبید میں سروس مینیجر کی نوکری کے لئے موقع ملا۔یہ ان دنوں کی ہی بات ہے۔پہلے دور مین سیاسی طور پر متحرک تھا مگر اتنا نہیں البتہ پھر بھی جہاں کہیں مہمان ہاتھ لگتے انہیں گھر لے آتا یا ان کی دعوت مختلف ہوٹلوں میں کرتا۔میاں طفیل خلیل حامدی اسد گیلانی سردار قیوم مجید نظامی احمد ندیم قاسمی دور اول میں میرے مہمان بنے۔

میں نے ایک باربی سی سی آئی کے آغا صاحب کا بھی تذکرہ بھی کیا تھا۔١٩٨٥ کے دور میںمیری دوستی ملک جلیل سے بھی ہوئی یہ میرے ساتھ مزدا میں کام کر چکے تھے انہوں نے سیدنا حمزہ روڈ پر ایک خوبصورت ہوٹل طباق کے نام سے بنایا جس میں حنیف عباسی لاثانیہ والے ان کے پارٹنر تھے۔ان کے ہوٹل مین اپنے مہمانوں کی خاطر داری کیا کرتا تھا۔جلیل بعد میں پنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر بھی بنے۔ادھر باب مجیدی کے سامنے تنگ و تاریک گلیوں میں ایک چھوٹا سا ریسٹورینٹ بھی تھا جہاں میں جمعرات کو جایا کرتا تھے اس ہوٹل کے مالکان کہوٹہ کے قیوم قریشی اور ندیم قریشی دو بھائی تھے۔بڑے جی دار مخلص اور پیارے دوست۔یہ ایک ڈھابہ سا تھا لیکن حرم کے قریب ہونے کی وجہ سے بڑا چلا کرتا تھا یہ آج سے تیس سال پہلے کی بات ہے۔انہی دنوں ضیاء دور میں پاکستان کی فوج بڑی تعداد مین تبوک خمیس مشیط میں موجود تھی مدینے میں جمعرات اور جمعے کو رونق لگ جاتی۔ اس ریسٹورینٹ کو نظر لگ گئی کشمیری النسل ایک قاری صاحب سے قیوم کی ان بن ہو گئی اور وہ اسلام آباد ہوٹل بھائیوں کے ہاتھوں نکل گیا۔سعودی عرب میں پاکستان اور انڈیا سے تعلق رکھنت والے لوگوں نے انہی پائی ہوئی ہے ان لوگوں کو نیشنیلٹیاں ملی ہوئی ہیں ان میں سے اکثر وہ لوگ ہیں جو حضرت موسی کے انہے کی مانند ہیں جس کے بارے میں انہوں نے اللہ سے دعا کی تھی کہ میرے رب سب بچے کھیل رہے ہیں اس بیچارے کو کیوں اندھا بنا دیا ہے اللہ نے اسے آنکھیں دیں اور اس نے بچوں کو ڈھبکیاں دینا شروع کر دیں۔بس سمجھ لیجئے یہی وہ انہے ہیں جنہوں پاکستانیوں کی مجبوریوں کا علم ہے اور ان کا جب جی چاہتا ہے ان کے کھیسے سے رقوم نکال لیتے ہیں۔ان مین ایک نئی کھیپ انویسٹرز کی بھی شامل ہو گئی ہے جو وہیں مزدوری کرتے رہے اور وہیں انویسٹمنٹ کمپنیاں کھول کر بیٹھ گئے گویا پاکستانی رہتے ہوئے بھی کفیل بن گئے۔اس پر تفصیل پھر لکھوں گا۔

لیکن یہاں اس ہوٹل کا نوحہ لکھ رہا ہوں جہاں بھٹو دور میں دھتکارے گئے یو بی ایل کے چیف آغا حسن عابدی دو رنگی چپل پہنے مجھے ملے۔اس واقعے کو پہلے بھی بیان کر چکا ہوں۔ایک جمعرات کی شام کو میں اسلام آباد ہوٹل میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جانی پہچانی سی شخصیت وہاں آئی اور کہنے لگے بھائی مکس چائے مل سکتی ہے۔میں سمجھ گیا حضرت کو شوق ہے اور وہ تھیلی والی چائے کے ستائے ہوئے ہیں۔(باقی آئیندہ)

Engr Iftikhar Chaudhry
Engr Iftikhar Chaudhry

تحریر : انجینئر افتخار چودھری

Share this:
Tags:
Arrival Engr Iftikhar Chaudhry Madina pakistan saudi arabia آمد پاکستان سعودی عرب عید میلاد النبی مدینہ
National Assembly
Previous Post ٧ بی ۔ ٧سی شکوں کی منظوری کا گزٹ شائع کیا جائے
Next Post ایم کیو ایم کے سابق رہنما سلیم شہزاد کا اپنی پارٹی بنانے کا اعلان
Saleem Shahzad

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close