
پشاور(جیو ڈیسک) پشاور گیارہ مئی کو ہونے والے عام انتخابات کی انتخابی مہم اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے۔ تاہم مارچ سے انتخابی سرگرمیوں پر حملے جاری رہے جس کے نتیجے میں ملک بھر میں دہشت گرد حملوں میں اب تک 110 افراد جاں بحق اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
دہشت گردی کے زیادہ واقعات خیبر پختون خوا میں رونما ہوئے۔ عام انتخابات کا اعلان ہوتے ہی ملک بھر میں دہشت گردی کی نئی لہر شروع ہوگئی۔ ابتدا میں یہ حملے عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی ،ایم کیو ایم اور قبائلی رہنماوں پر ہوئے۔اے این پی کے مطابق 30 مارچ سے لیکر9مئی تک پارٹی کی انتخابی مہم ا ور پارٹی امیدواروں پر 26 حملے ہوئے۔
تاہم مئی میں ان حملوں میں کی لپیٹ میں سیکولر اور لبرل جماعتوں کے ساتھ مذہبی جماعتیں بھی آئیں۔ 7 مئی کو ہنگوکے علاقہ دوآبہ میں جے یو ائی ف کے امیدوار سید جنان کی انتخابی ریلی پر خود کش حملہ ہوا۔اسی روز ضلع لوئر دیر میں پیپلز پارٹی کے امیدوار زمین خان کے بھائی اور سابق ضلعی نائب ناظم محمد ظاہر شاہ کی گاڑی کو دھماکے سے اڑادیا گیا۔
جس میں 5 افراد لقمہ اجل بنے۔ 7 مئی ہی کو ضلع اپر دیر میں جماعت اسلامی کے امیدوار کو نشانہ بنایا گیا۔ جس میں دو افراد جاں بحق ہوئے۔ 8 مئی کو پشاور کے نواحی علاقہ متھرا میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے انتخابی دفاتر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق انتخابی سرگرمیوں کے دوران تشدد کے 77 واقعات پیش آئے ہیں جن میں کم از کم 110 افراد ہلاک اور 370 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
