Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

امت شاہ نے بچھائی 2019 ء کے عام انتخابات کی بساط اور اپوزیشن کا اتحاد

August 29, 2017 0 1 min read
Elections
Elections
Elections

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری
اس وقت بھارت کا سیاسی منظر نامہ بہت تیزی سے بدل رہا ہے ۔ خاص طور پر ادھر سپریم کورٹ کے دو فیصلوں اور سی بی آئی کی ایک عدالت کے ایک فیصلہ نے پورے ملک کو ایک عجیب دوراہے پر کھڑا کر دیا ہے ۔ اب جبکہ لوک سبھا کے عام انتخابات میں صرف ایک سال ، نو ماہ اور کچھ دن رہ گئے ہیں ۔ ایسے میں بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کی پئے در پئے ناکامیوں کے باعث چھٹپٹاہٹ اور بے چینی بہت بڑھ گئی ہے ۔چونکہ گزشتہ لوک سبھا کے عام ا نتخابات میں بھی بھاجپا کی کارکردگی543 میں 281 سیٹیں لانے کے باوجود ووٹ کے تناسب کے لحاظ سے 31 فی صد ہی پر محدود ہو گئی تھی اور دیگر پارٹیوں کے ووٹ کا تناسب 69 فی صد رہا تھا ، لیکن ان ووٹوں کے مختلف پارٹیوں کے درمیان منقسم ہونے یا یوں کہا جائے کہ ان ووٹوں کے بکھراؤ کی وجہ کر بھاجپا کو بڑا فائدہ ہوا تھا ۔ اس لئے اگلے عام انتخابات 2019 ء میںکامیابی کو لے کر بھاجپا کی تشویش فطری ہے ۔یہی وجہ ہے کہ امت شاہ نے گزشتہ روز دہلی میں” مشن 2019 ء … 350+” کا آغاز کیا اور بڑے پیمانے پر اپنی کامیابی کے لئے لائحہ عمل تیار کیا ہے ۔ اس کے لئے اب وہ خیر سے راجیہ سبھا کے رکن بھی ہو گئے ہیں اور رکنیت کا حلف بھی لے لیا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ بھاجپا کی موجودہ حکومت نے برسر اقتدار آنے کے بعد تین سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود ایسا کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا ، جن پر وہ ناز کرتے ہوئے ملک کے عوام کے سامنے جا ئے۔ غربت، افلاس،بھوک ،بے روزگاری،مہنگائی،صحت، تعلیم، تحفظ، رواداری،بدعنوانی،ذخیرہ اندوزی، صنعتی و تجارتی انجماد، اقتصادی مساوات، سماجی انصاف، جمہوری قدروں کی حرمت اور آئین و دستور کی اہمیت کو، اس حکومت اور پارٹی نے کبھی بھی مسئلہ سمجھا ہی نہیں ۔ یہ سب کے سب حاشیہ پر رہے۔ مسئلہ رہا تو بس یہ کہ کیسے ظلم وستم ، بربریت ، تشدد، خوف و سراسیمگی پھیلا کر ‘ ہندوتوا’ کے اپنے نظریہ اور ایجینڈے کو نافذ کیا جائے ۔ غریبوں ، مفلسوں ، کسانوں، دلتوں اور اقلیتوںپر کبھی کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ انسانی ہمدردی سے بے نیازاس حکومت کا عالم یہ ہے کہ تغزیہ سے مرنے والے بچوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے ، لیکن اس حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے ۔ گورکھپور کے بابا راگھوداس میڈیکل اسپتال سے ساٹھ سے زائد پھول جیسے بچوں کا جنازہ نکل گیا ، انسانیت چیختی اور کراہتی رہی اور ملک کے وزیر اعظم اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ، بلکہ یوگی آدیتیہ ناتھ کی حکومت کے ایک وزیر نے یہ کہہ کر اپنی حیوانیت کا ثبوت دیا کہ اگست میں تو بچے مرتے ہی ہیں۔ بھاجپا کے قومی صدر امت شاہ نے ایک قدم مذید آگے بڑھتے ہوئے اپنے غیر انسانی جذبات کا اس طرح اظہار کیا کہ ‘ملک میں پہلی بار نہیں ہوا ہے ایسا حادثہ ‘۔ اب انھیں کون بتائے کہ جن ماؤں کی گود اجڑ گئی ، ان کے آنسو تھم نہیں رہے ہیں او ران کا غم بانٹنے کی بجائے مذید ان کے زخموں پرپر نمک پاشی تو نہ کرو۔

اس سانحہ پر بہت ساری اہم شخصیات ، سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ واشنگٹن پوسٹ وغیرہ نے ان معصوم بچوں کی اموات کو قتل عام کا نام دیا ہے ۔ملک کے مسلمانوں ،دلتوں اور قبائلیوں پر گائے کے نام پر جس طرح تشدد اور ظلم و بربریت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ۔یہ در حقیقت گائے سے مذہبی عقیدہ کی بنا پر نہیں ہو رہا ہے ، بلکہ ان پُر تشدد ہجومی حرکات سے ملک کے اندر انتشار اور خلفشار پھیلا کر ان طبقات کے اندر خوف وہراس اور دہشت میں مبتلا کر ان کے اندر مایوسی اور گھٹن کی کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں، کہ یہ لوگ اس قدر خوف اور دہشت میں مبتلا ہو جائیں کہ ہر ظلم وستم پر خاموش تماشائی بنے رہیں ۔ اگر ان نام نہاد گؤ رکشکوں کو واقعی گائے سے اتنا ہی مذہبی اور جزباتی عقیدت ہوتی تو آئے دن جس طرح شہروں اور گاؤں کے مختلف علاقاں میں گائے بھوک، پیاس کی شدت سے بے موت مر رہی ہے ، یہ نہ ہوتا ۔ ابھی ابھی ریاست چھتیس گڑھ سے ، جہاں کے وزیر اعلیٰ رمن سنگھ یہ فرما چکے ہیں گائے کو ذبح کئے جانے والے کو پھانسی دی جانی چاہئے ، وہاں رمن سنگھ کے ایک وزیر زراعت کے رشتہ دار اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے نیتا ہریش ورما کے قائم کردہ ‘ شگون گؤ شالہ ‘ میں چند دنوں کے اندر دو سو سے زائد گائے بھوک، پیاس کی شدت او رلاپرواہی کے سبب مر گیئں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس گؤ شالہ میں گایوں کی دیکھ ریکھ، بھاجپا لیڈرہریش ورما اپنے ذاتی خرچ پر نہیں کر رہا تھا ، بلکہ رمن حکومت نے اس گؤ شالہ کے نام پر پچاس لاکھ روپئے کی گرانٹ بھی دے رکھی ہے ، اس کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں اس گؤ شالہ میں بھوک ، پیاس سے گایوں کی موت ہو جاتی ہے ۔ لیکن افسوس کہ بھاجپا کے اس رہنما نے گائے کی بجائے حکومت کے ذریعہ دی گئی موٹی رقم سے ہی اپنی عقیدت کا مظاہرہ کیا ۔ اب کیا رمن سنگھ او ردوسرے گؤ رکشک اس بھاجپا نیتا کو پھانسی دے کر یا ہجومی تشدد میں، جان لینگے؟ مرکز ی حکومت کسانوں کے تئیں بھی بہت ہمدردانہ رویہ کا اظہار کرتی رہتی ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ اب تک ان کے سلسلے میں ایسی کوئی فلاحی اسکیم تیار یا نافذ نہیں کی گئی ہے ، کہ ان کی خودکشی کا سلسلہ رکے۔ ملک میں آئے دن کسان خودکشی کرنے پر مجبور ہیں، اور حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اس ضمن میں ہم صرف مہاراشٹر کے مراٹھواڑہ کی ایک مثال دینا چاہینگے ، جہاں صرف سات ماہ میں 580 کسانوں نے خودکشی کر نہ صرف اپنی جان گنوائی بلکہ اپنے پورے خاندان کو غربت و افلاس کی زندگی جینے کے لئے چھوڑ دیا ۔

یہ چندمثالیں بھاجپا کی برسر اقتدار حکومت کے حوالے سے پیش کی گئی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت تقریباََ ہر محاذ پر بری طرح ناکام ہے ۔’نوٹ بندی’ اور ‘جی ایس ٹی’ کے سلسلے میں حکومت لاکھ دعوے کر لے اور اپنی پیٹھ تھپتھپا لے ، لیکن صورت حال یہ ہے کہ ان دونوں معاملوں میں بھی اس حکومت کو ناکامیوں کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔’نوٹ بندی’ نے جس قدر بے روزگاری میں اضافہ کیا ہے، اس پر بہت ساری رپورٹیں مختلف اداروں اور ماہرین کی آ چکی ہیں۔ اسی طرح ‘جی ایس ٹی’ نے بہت ساری اشیأ کو بازار سے دور کر دیا ہے ، جس کی وجہ کر مہنگائی اس وقت آسمان پر ہے۔ لیکن ان بڑھتی مہنگائی سے امیروں او راڈانی یا امبانی جیسے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا ہے ۔ فرق تو ان لوگوں کو پڑ رہا ہے ، جو پائی پائی جمع کر دو وقت کی روٹی بھی بڑی مشکلوں سے کھا پاتے ہیں۔ اڈانی اور امبانی جیسے لوگ تو اس بڑھتی مہنگائی سے بھی مالی منعفت اٹھا لیتے ہیں ، بلکہ یوں کہا جائے تو شائد غلط نہیں ہوگا کہ ایسی مہنگائی انھیں لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہی لا ئی جاتی ہے۔

ملک کی جنگ آزادی میں جن لوگوں کا کو ئی رول نہیں رہا ، کوئی ایثار و قربانی نہیں رہی ، وہ اب برسراقتدار آ گئے ہیں اور انھیںحُب اوطنی کی بہت زیادہ فکر ستارہی ہے۔ ایسے ہی لوگ حب الوطنی کو ایشو بنا کر زیادہ ہنگامے کر رہے ہیں ۔’جَن گَن مَن’ اور ‘وندے ماترم’ پر جس طرح زور زبردستی کا نظارہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ان نظاروں کو دیکھنے کے بعد ایسا محسوس ہورہا ہے ، جیسے اس ملک میں پہلی بار یوم آزادی کا جشن منایا جا رہا ہے ۔ جس کے لئے حکومت کی جانب سے طرح طرح کے احکامات جاری کئے جا رہے ہیں۔ ایک بہت ہی افسوسناک لیکن دلچسپ تماشہ ایک دن ایک ٹی وی شو پر دیکھنے کو ملا ۔ اس ٹی وی شو میں ساکچھی مہاراج کے ساتھ اتر پردیش کے وزیر مملکت، اقلیتی فلاح، سردار بلدیو اولکھ موجود تھے، جو بہت گھن گھرج کے ساتھ یوگی ادیتیہ ناتھ کے ذریعہ اتر پردیش کے تمام مسلم اسکولوں کے لئے جاری کئے گئے حکم نامے کو ضروری قرار دے رہے تھے کہ ہر مسلم اسکول میں قومی پرچم لہرایا جائے اور قومی ترانہ گایا جائے۔

شو کے اینکر نے وزیر اولکھ سے یہ سوال کر دیا کہ آپ قومی ترانہ پر اس قدر زور دے رہے ہیں ، ذرا آپ صرف چار لائن اسے سنا دیں ؟ اب تو سردار اولکھ بغلیں جھانکنے لگے اور اینکر کی مسلسل گزارش پر بھی وہ قومی ترانہ کی دو لائن بھی نہیں سنا سکے ، یہ حال ہے ، اتر پردیش کے ایک وزیر کا ، جو مسلمانوں کو تو زبردستی قومی ترانہ گانے پر مصر ہوتا ہے ، لیکن خود اس ترانہ سے نا بلد ہے۔ دراصل یہ وہ لوگ ہیں جن کی پارٹی کا جنگ آزادی میں کوئی رول رہا ہی نہیں، کوئی ایثار و قربانی نہیں رہی، بلکہ بھارت کے لوگوں پر ظلم وتشددپر آمادہ انگریزوں کی ہمنوائی کرتے رہے اور اب جبکہ مرکز او رمختلف ریاستوں میں (جوڑ توڑ کر ہی سہی) برسر اقتدار آ گئے ہیں تو یہ لوگ اپنے ماتھے پر سے ملک دشمنی کے لگے داغ کو مٹانے کے لئے اپنی انتہا پسندی کو ثبوت دے رہے ہیں۔ گزشتہ سال پارلیامنٹ کی ایک بحث کے دوران غلام نبی آزاد نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں ہی کہا تھا کہ یہ لوگ نئے نئے مسلمان بنے ہیں ، اور مثل مشہور ہے کہ نیا مسلمان زیادہ پیاز کھاتا ہے۔ اس لئے یہ لوگ خود کو حب الوطن ثابت کرنے کے لئے ہی اس طرح کے ہنگامے زیادہ کر رہے ہیں، تاکہ لوگ انھیں زیادہ حب الوطن سمجھیں۔

ان تمام صورت حال کے بعد اصل موضوع پر ایک نگاہ ڈالی جائے ، جس میںبھاجپا کے قومی صدر امت شاہ اپنا مشن 2019 ء ….. 350+ لے کر میدان مارنے اترے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ امت شاہ جس قدر جوڑ توڑ میں ماہر ہیں اور جس طرح سے انھوں نے اپنی کارستانی سے گزشتہ دنوں گوا اور منی پور سمیت ملک کی کئی ریاستوں میں زبردستی بر سر اقتدار آئے ہیں ۔ اس سے بظاہریہ اندازہ ہوتا ہے کہ امت شاہ کا مشن 2019ء کا جو ہدف 350+ کاہے ، وہ پورا ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر گزشتہ لوک سبھا انتخاب میں جن 150 سیٹوں پر ان کی شکست ہوئی تھی ، ان پر ان کی نگاہ زیادہ ہے۔ بظاہر موجودہ صورت حال میں امت شاہ کی منظم منصوبہ بندی اور تمام تر لائحہ عمل سے انھیں کامیابی ملتی نظر آتی ہے۔ انھیں اس امر کا بھی احساس ہے کہ حزب مخالف اس وقت بکھرا ہوا ہے ، اس لئے ان کی کامیابی، یقینی ہے۔ ادھر اپوزیشن کے اتحاد کو پہلے ملائم سنگھ اور پھر نیتیش کما رنے جس طرح دھکّا پہنچایا ، اس سے یقینی طور ان کے اندر اداسی اور مایوسی چھائی ہوئی تھی۔ لیکن اچانک نیتیش کما رکے، بقول لالو یادو، پلٹی مارنے اور شرد یادو کو اس مہم میں نظر انداز کئے جانے بعد، شرد یادو کے باغیانہ رویہ نے اپوزیشن میں نئی جان پھونک دی ہے ۔ شرد یادو کے ذریعہ دلی کے کانسٹی ٹیو شن کلب میں جس طرح اتحاد کا مظاہرہ ہو ااور راہل گاندھی ،منموہن سنگھ ،فاروق عبداللہ،سیتا رام یچوری،طارق انور وغیرہ جیسے اہم لیڈران سمیت ملک کی تمام تر 18سیکولر پارٹیوں کے رہنماؤںنے اس میں حصہ لیا ۔ اس سے اپوزیشن کے اتحاد کا راستہ ضرور ہموارہو گیا ہے۔

اپنی ‘مشترکہ وراثت بچاؤ’ کانفرنس میں اتنی بڑی تعداد میں تمام اپوزیشن کے لوگوں کی موجودگی دیکھ کر خود شرد یادو کے حوصلے بھی کافی بلند نظر آ رہے ہیں او رانھیں لگ رہا ہے کہ انھوں نے برسراقتدار حکومت کی جانب سے وزارت کا عہدہ دئے جانے والے آفر کو ٹھکرا کر غلط نہیں کیا ،کہ ممکن ہے ان کی رہنمائی میںحزب مخالف کا اتحاد مضبوط ہوتا ہے او راسی بینر تلے انتخاب میں اترتے ہیں تو 31 فی صد کے مقابلے 69 فی صد ووٹوں سے بھاجپا اور اس کے بہت کمزور اتحادیوں کو شکست دی جا سکتی ہے۔سونیا گاندھی کا بھی چند روز قبل ایک بیان آ چکا ہے کہ ‘ نفرت پھیلانے والی طاقتوں کے خلاف متحد ہوں’۔ ادھر راہل گاندھی نے بھی شرد یادو کی کانفرنس میں بہت ہی واضح طور پر یہ کہا تھاکہ ہمیں متحد ہو کر ہر سطح پر فرقہ پرستی سے مقابلہ کرنا ہوگا ، ورنہ ملک تباہ ہو جائگا ۔اس موقع پر شرد یادو کی تقریر بھی بہت ہی معنی خیز تھی کہ ہمیں ہجومی حملے میں الجھایا جا رہا ہے ، حملہ تو در اصل ملک کے آئین پر ہو رہا ہے اور ہمارا آئین ساجھی وراثت کا امین ہے۔غلام نبی آزاد نے بھی اس کانفرنس میں بڑی اچھی اور سچی بات کہی کہ ملک کے سیکولر ہندو سب سے زیادہ خطرے میں ہیں ۔ دابھولکر،پانسرے ، کلبرگی کے قاتل آج بھی کھلے عام گھوم رہے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ مٹھی بھر لوگ پورے ملک کے اتحاد واتفاق او ربرسہا برس سے قائم گنگا جمنی تہذیب کو ختم کرنے کے در پئے ہیں ، لیکن اس ملک کے بڑی تعدادایسے لوگوں کی ہے، جو ملک کے اندر پھیل رہی بد امنی ، انتشار اور خلفشار سے پریشان اور سراسیمہ ہیں او ریہی وہ لوگ ہیں جو آنے والے عام انتخاب میں فرقہ پرسوں کو دھول چٹا دینے کے لئے کافی ہیں ۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ اپوزیشن، فرقہ پرستی کے خلا ف اٹھ کھڑے ہونے والی 18 سیاسی پارٹیوں کے اندرکے اتحاد کو برقرار رکھے او رمتحد اور محتاط ہو کر پوری توانائی کے ساتھ مٹھی بھر دشمنوں کا مقابلہ کرے ، تو کوئی وجہ نہیں کہ اس اتحاد کو کامیابی نہ ملے ۔ ابھی ابھی مغربی بنگال میں ممتا بنرجی نے جس طرح، میونسپل کارپوریشن کے انتخاب میں بی جے پی کو جس طرح دھول چٹایا ہے ، ا س سے بھی حوصلہ لینے کی ضرورت ہے ۔ گجرات میں بھی کانگریس نے میونسپل انتکاب میںبی جے پی کے مقابلے بہت اچھی پوزیشن حاصل کی ہے۔

ادھر لالو یادو بھی پوری طرح ‘بھاجپا بھگاؤ، ملک بچاؤ’ کے نعرہ کے ساتھ دم ٹھونک کر میدان میں اترے ہوئے ہیں ۔کانگریس کو بھی جئے رام رمیش او رمنیش تیواری جیسے اہم اور سینیئر کانگریسی رہنماؤں کی باتوں پر بہت سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کر تے ہوئے ان کی ان باتوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ نریندر مودی اور امت شاہ کی قیادت والی بی جے پی سے عام طریقے سے مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ہے، بلکہ اس کے لئے نئے ڈھنگ سے لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

اگر ان تمام امور پر بہت سنجیدگی سے عمل کیا جاتا ہے ، تو کوئی وجہ نہیں کہ آج کی اپوزیشن پارٹی کل کو برسر اقتدار پارٹی بن کر سامنے آ سکتی ہے۔

Dr syed Ahmad Quadri
Dr syed Ahmad Quadri

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری
رابطہ: 09934839110

Share this:
Tags:
court elections India opposition unity اپوزیشن اتحاد انتخابات بھارت عدالت
India
Previous Post بھارت کی نیو کلیئر ڈاکٹرائن پر بدلتا رویہ
Next Post دینِ اسلام میں حج کی اہمیت و فضیلت
Hajj

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close