Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سقوط ڈھاکہ، کتنی حقیقت کتنا افسانہ

December 17, 2016 0 1 min read
Fall of Dhaka
Jamaat-e-Islami Leader Hanging in Bangladesh
Jamaat-e-Islami Leader Hanging in Bangladesh

تحریر : قادر خان افغان
بنگلہ دیش کی جنگی ٹریبونل کی متنازعہ عدالت نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے کئی رہنمائوں کو پھانسی کی سزا دی۔ بنگلہ دیش نے پاکستان سے 1971ء کے واقعات پر مسلسل جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ان رہنمائوں کو سزائیں دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے جس پر پاکستان، بنگلہ دیش میں شدید احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں اور لاکھوں، انسان سراپا احتجاج ہیں۔ 71 ء کی پاک، بھارت جنگ میں پاکستان کا ساتھ دینے والی جماعت اسلامی کیساتھ بنگلہ دیش حکومت کا یہ متنازعہ رویہ اس لئے ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ بنگلہ دیش بننے میں رکائوٹ پیدا کرنے والی اس جماعت کے رہنمائوں و کارکنان نے پاکستان ٹوٹنے سے بچانے کیلئے کوشش کی اور اس بنا پر بنگلہ دیشی حکومت 30لاکھ افراد کی ہلاکتوں کا دعوی کرتے ہیں اور ان ہی تمام معاملات پر یکے بعد دیگرے جماعت اسلامی کے سرکردہ رہنمائوں کو مختلف واقعات و افراد کے الزام میں طویل سزائیں و پھانسی کی سزا دی جا رہی ہے ،جبکہ ان معاملات کے علاوہ بنگالہ عوام میں پاکستان کے خلاف نفرت پیداکرنے کا سلسلہ جاری ہے اور اسی تسلسل میں بنگلہ دیش حکومت کے نزدیک 16دسمبر 1971ء سقوط ڈھاکہ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان باہمی تنازعات کی حل کی صورت میں 1971ء کے واقعات پر معافی کا معاملہ بھی شامل ہے۔ حالاں کہ سابق پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا تھا کہ پاکستان 1974ء کے بعد سے اب تک کئی بار 71ء میں پیش آنے والے واقعات پر افسوس کا اظہار کرچکا ہے جبکہ یہ وقت ماضی بھلا کر دونوں قوموں کی ترقی کے لئے آگے بڑھنے کا ہے۔سقوط ڈھاکہ متحدہ پاکستان کے ماتھے پر ایک داغ کی طرح ہمیشہ رہے گا۔

بنگلہ دیش کے اس مطالبے پر حکومتی موقف اپنی جگہ درست ہوگا لیکن 71ء کے واقعات میں جس طرح فوج کوبھی ملوث بتایا جاتا ہے اس الزام میں مبالغہ آرائی بہت زیادہ ہے ۔بھارتی مصنفہ سرمیلا یوس کے اپنی کتاب “ڈیڈ ریکوننگ ، میموریز آف دی 1971بنگلہ وار”میں اکہتر کی جنگ کے حوالے سے تمام باتوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ” نہ تو اس جنگ میں لاکھوں لوگ مارے گئے تھے ، نہ ہی بے حرمتیوں کا تناسب بیان کے مطابق تھا اور نہ ہی یہ کہ صرف پاکستانی فوجیوں نے کیا تھا “۔سر میلا کے مطابق 1971ء کی جنگ کے حوالے سے جو دستاویزات دیکھنے کو ملیں وہ اتنی کمزور تھیں کہ ان کی بنیاد پر کوئی دعوی کرنا کسی طرح دانشمندی نہیں۔بھارتی مصنفہ کی تحقیق کے مطابق ڈھاکہ میں14 اور15دسمبر کو آزادی کی حامی بنگالی دانشوروں کو ان کے گھروں سے اغوا کئے جانے اور بعد میں قتل کئے جانے میں پاکستانی فوج کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ مصنفہ نے مارے جانے والے دانشوروں کے خاندان کے وہ بیانات بھی پیش کئے ہیں جن میں وہ کہتے ہیں کہ ان تمام افراد کو گھروں سے لے جانے والے وہ مسلح سویلین تھے جو فوج کی حمایت کر رہے تھے ، متاثرہ خاندان فوج کے بجائے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے نوجوان رضا کاروں پر مشتمل تنظیم البدر کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

اسی طرح 26-25مارچ کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے ویمن ہاسٹل پر پاکستانی فوجی حملے کی خبر کی تردید کرتی ہیں کہ یہ درست نہیں ہے۔ بھارتی مصنفہ کا یہ بھی ماننا ہے کہ جیسور میں آزادی کے حامی بنگالیوں نے مغربی پاکستانیوں کو مارا تھا ، وہ ایسے کئی واقعات کی مثالیں دیتی ہیں۔ان کے مطابق علیحدگی کے حامی بنگالی مغربی پاکستانی فوجیوں کو انو یڈر یا در انداز کہتے تھے جبکہ اس جنگ میں در انداز صرف ہندوستان تھا۔سرمیلا برصغیر کے معروف رہنما سبھاش چندر پوس کی پوتی ہیں ، سر میلا خود بنگالی ، بھارتی اور ہندو ہیں ۔ان کی اس کتاب نے ہندوستان اور بنگلہ دیش کے ان لوگوں کو مشتعل کردیا ہے جو قوم پرستی کا کاروبار کرتے ہیں یا وہ جو تاریخ کے مقبول سیاسی بیانیوں پر ایمان رکھتے ہیں۔

Fall of Dhaka
Fall of Dhaka

یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش کی جانب سے معافی کے مطالبے پر کسی پاکستانی معروف یا غیر معروف شخصیت کے بجائے انہی کے ملک کی معروف شخصیت کی کتاب کے حوالے جات اور مجموعی طور پر پوری کتاب ایک تاریخ ہے جس کے لئے انھوں نے کافی عرصہ محنت کی اور اس واقعے سے جڑے ، بنگالی ، پاکستانی ، بھارتی متاثرہ خاندانوں سے ملاقاتیں کیں ، اس کے علاوہ بھارتی لیفٹینٹ جنرل اروڑہ نے تیس لاکھ افراد کے دعوی کو ناممکن قرار دیا تھا ۔ بنگلہ دیش دعوی کرتا ہے کہ نو ماہ کی جنگ کے دوران پاکستانی فوج نے تیس لاکھ بنگالیوں کا قتل عام کیا ۔ لیکن اگر حقیقت پسندانہ نظر اس سے بھی لمبی اور تلخ لڑائیوں پر نظر ڈالی جائے تو اس دعوے کی قلعی کھل جاتی ہے۔ویت نام کی بارہ سالہ جنگ میں دس لاکھ ہلاکتیں ہوئیں یعنی سالانہ 83ہزار بنتی ہے ۔الجیریا کی ساڑھے سات سالہ جنگ میں ایک لاکھ ، کمبوڈیا کی 23سالہ جنگ میں گیارہ لاکھ ، افغانستان کی کی چودہ سالہ جنگ میں بیس لاکھ ، بوسینا میں مسلمانوں کا تین سال قتل عام کیا گیا اس میں ایک لاکھ 42ہزار افراد ہلاک ہوئے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ویت نام میں امریکہ کی جانب سے اٹیم بم کے علاوہ قریب قریب تمام مہلک ہتھیار استعمال کرڈالے ، لیکن بارہ سال میں ہلاکتوں کی تعداد دس لاکھ کے قریب تھی۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب اور وجوہات معلوم کرنے کیلئے تحقیقاتی کمیشن بھی بیٹھے ، لیکن اب سب بے سود ہے کیونکہ بنگلہ دیش ایک حقیقت بن کر دنیا کے نقشے پر موجود ہے ۔ 71کی جنگ کے بعد جگر خراش المیہ پر شادیانے بجاتے ہوئے بنگلہ دیش کے اس وقت کے قائم مقام صدر نذر اسلام نے اعلان کیا تھاکہ ۔۔ “ہماری یہ فتح نہ کسی فوج کی فتح ہے ، نہ کسی ملک کی ، یہ فتح ہے حق کی باطل پر ۔ یہ فتح ہے ، ایک صحیح نظریہ کی غلط نظریہ پر ، تقسیم ہند سے پہلے سر پھرے مسلمانوں نے یہ دعوی کیا کہ قومیت کا مدار مذہب کا شتراک ہے ، وطن کا اشتراک نہیں اور حکومت کی بنیاد مذہب پر ہے ، سیکولر نہیں ، وہاں ان لوگوں کو لاکھ سمجھایا کہ یہ نظریہ غلط ہے اور ناممکن العمل ، اس پر اصرار نہ کرو ، لیکن وہ نہ مانے اور غلط مفروضہ کی بنیاد پر ایک جداگانہ قوم بن کر ایک الگ مملکت کے بانی بن گئے ، لیکن چوبیس سالہ تجربے نے ثابت کردیا کہ جو نظریہ یہ لوگ پیش کر رہے تھے وہ باطل تھا اور حق وہی تھا جو ان کے مخالفین پیش کررہے تھے۔سقوط ڈھاکہ نے اس حقیقت پر مہر تصدیق ثبت کردی ، اب یہ شہادت تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لئے منقوش رہے گی۔

ہم ان راہ گم کردی لوگوں سے اب بھی کہیں گے کہ وہ اس باطل نظریہ کو ترک کرکے وطن کی اشتراک کی بنا ء پر پھر سے ہندوستانی قوم کا جذو بن جائیں اور مذہب کو سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش نہ کریں ورنہ جو حشر مشرقی پاکستان کا ہوا ہے ، وہی کل مغربی پاکستان کا بھی ہوگا ، حقائق کسی کے جھٹلانے سے جھوٹے ثابت نہیں ہوجایا کرتے ۔”ادھر نذر اسلام یہ کہہ رہے تھے اور دوسری طرف بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی اپنی پارلیمان میں”فتح بنگالہ”پر خطاب کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ “یہ کامیابی نہ ہماری فوجوں کی کامیابی ہے اور نہ ہی حکومت کی کامیابی ، یہ کامیابی ہے ، حق پر مبنی نظریہ کی ، اس نظریہ کے خلاف جو باطل پر مبنی تھا ، مسلمانوں نے تحریک پاکستان کی بنیاد پر ایک باطل نظریہ رکھی تھی ۔ ہم انھیں بار بار سمجھاتے رہے کہ ان کا نظریہ غلط ہے ، یہ کامیاب نہیں ہوسکتا ، انھوں نے نہیں مانا اور اپنی ضد پر قائم رہے۔

اب ٢٥ سال کے تجربہ نے بتا دیا کہ جو کچھ ہم کہتے تھے ، وہ حق تھا اور ان کا نظریہ باطل ، یہ ان کے باطل نظریہ کی شکست ہے “۔تقسیم کے اس مرحلے پر بنگلہ دیش بننے کی تمام وجوہات کو زیر بحث لانا ممکن نہیں ہے بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش بنانے والوں کی سوچ کیا تھی ؟ ۔ اور کیوں جماعت اسلامی کے رہنمائوں کو سزائیں دیں جا رہی ہیں۔پاکستان کے قیام دو قومی نظرئیے کے تحت عمل میں لایا گیا لیکن بعد ازاں لسانی معاملے کا جواز بنا کر مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی عوام میں نفرتیں اور دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ۔جماعت اسلامی نے پاک ، بھارت جنگ کے دوران جو بھی ، جیسا بھی کردار ادا کیا وہ پاکستان کو بچانے کیلئے تھا ، اسی ضمن میں بھارت نے جو پاکستان کو دو لخت کرنے کیلئے جو کردار ادا کیا وہ قابل مذمت تھا اور رہے گا ، کیونکہ بھارت اب دوبارہ اُسی ہی صورتحال سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں پیدا کر رہا ہے ، صوبائیت ، لسانیت اور قوم پرستی کی اس سیاسی تناظر میں بھارتی ہاتھ کو قطعی دور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رہنمائوں اور کارکنان کو پاکستان کے نام سزائیں دیں جا رہی ہیں اس سلسلے میں پاکستان کو باقاعدہ اقوام متحدہ سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ جنگی جرائم کا یہ معاملہ بین الاقوامی نہیں متنازعہ جنگی ٹریبونل کے تحت ہو رہا ہے۔

Qadir Khan
Qadir Khan

تحریر : قادر خان افغان

Share this:
Tags:
Bangladesh court fact Fall of Dhaka Jamaat-e-Islami Qadir Khan افسانہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی حقیقت سقوط ڈھاکہ عدالت
Dr. Mohammad Hamidullah
Previous Post معروف محقق، اسلامی دانشور، قانون دان ڈاکٹر محمد حمید اللہ
Next Post نواز شریف صاحب کلبھوشن کے بارے میں بلا آخر بول پڑے
Nawaz Sharif

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close