Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

موذی بیماری ایڈز سے بچائو، احتیاطی تدابیر سے ممکن ہے!

November 30, 2016November 30, 2016 0 1 min read
Aids Day Celebrating
World Aids Day
World Aids Day

تحریر : اختر سردار چودھری
ایڈ ز ہے کیا؟اس کی علامات کیا ہیں؟اسباب اور علاج کے بارے میں اور سب سے اہم اس کی وجوہات بارے لوگوں میں شعور و آگاہی فراہم کرنے کے لئے ہے ۔ ایڈز ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے، جسے ایچ آئی وی کہتے ہیں، جس میں یہ وائرس ہو اس کی قوت مدافعت ختم ہو جاتی ہے، یعنی بیماریوں کے خلاف جو قوت ہوتی ہے، وہ ختم ہو جاتی ہے،AIDS اس وقت کہا جاتا ہے کہ جب HIV کا وائرس یا انفیکشن جسم میں موجود ہو اور ساتھ ہی ساتھ نیچے دی گئی، علامات میں سے ایک سے زیادہ علامتیں بھی پائی جاتی ہوں ۔علامات سے مراد کسی مرض کے اثرات ہوتے ہیں جو مریض محسوس کرتا ہے ۔علامات اور تشخیص میں فرق ہوتا ہے، تشخیص کسی مرض کی موجودگی کی تصدیق ،ثبوت کو کہتے ہیں ۔یکم دسمبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں ایڈز کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ ایڈ ز کا عالمی دن دنیا میں پہلی مرتبہ 1987 ء میں منایا گیا ۔ہر سال یہ دن کسی خاص تھیم اور سلوگن کے تحت منایا جاتا ہے اس سال 2016ء میں( قیادت،وابستگی،اثرات) کے تھیم سے منایا جارہا ہے ۔اس کے مقاصد میں عوام الناس کو اس مہلک مرض کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا شامل ہے۔

ایڈز ACOUIRED AIMMUNO DEFICENCY SYNDROME کامخفف ہے ۔اس دن کی مناسبت سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں فیچر اورآرٹیکل شائع ہوتے ہیں اور ٹی وی پر ٹاک شوز کیے جاتے ہیں ۔زیادہ تر محققین کا خیال ہے کہ ایچ آئی وی وائرس کا آغاز بیسویں صدی میں شمالی افریقہ کے علاقہ سحارہ سے شروع ہوا۔ لیکن اب یہ پوری دنیا میں پھیل چکا ہے ، اور ایک اندازے کے مطابق اس وقت پوری دنیا میں تین کروڑ چھیاسی لاکھ افراد اس موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ایڈز کی علامات عام ہوتی ہیں، مثلاََ بخار، سردی کا لگنا اور پسینہ ( خاص کردوران نیند پسینہ)دست ،وزن میں بہت زیادہ کمی،کھانسی اور سانس میں تنگی ،مستقل تھکاوٹ،جلد پر زخم ،مختلف اقسام کے نمونیائی امراض ،آنکھوں میں دھندلاہٹ ،جوڑوں کا درد ،گلے میں سوجن اور نزلہ زکام کا ہونا اور مسلسل سردردوغیرہ شامل ہیں۔

HIV کس طرح مریض کے جسم میں داخل ہوتا ہے ؟ ایڈز وائرس یعنی HIV دیگر وبائی امراض کی طرح کسی متاثرہ شخص کے قریب ہونے ، بات کرنے ، اسکو چھونے یا اسکی استعمال کردہ چیزوں کو ہاتھ لگانے سے جسم میں داخل نہیں ہوجاتا۔ بلکہ مردوں اور عورتوں کے جنسی اعضاء سے ہونے والے (اخراجات) یا رطوبتیں ، متاثرہ شخص کے خون سے ،لعاب (saliva) یعنی آب دھن یا تھوک ،انجکشن کی سرنج ، ایڈز میں مبتلا ماں کا دودھ،کان ،ناک چھدوانے کے لیے جو اوزار استعمال ہوتے ہیں، ان کی مناسب صفائی نہ ہونا ، متاثرہ فرد کاشیونگ بلیڈ سے شیو کرنا اور دانتوں کی صفائی کے دانتوں کے ڈاکٹر جو اوزار وغیرہ استعمال کرتے ہیں، ان کا مناسب صحت کے اصولوں کے مطابق نہ ہونا وغیرہ اس کا سبب بنتی ہیں۔اب کوئی معمولی بیماری بھی حملہ کرے تو انسان میں قوت مدافعت نہ ہونے کے سبب اس کا علاج ممکن نہیں رہتا ۔اس مرض کا سب سے اہم سبب انفیکشن ہے ۔ایڈز کے بارے میں سنا کرتے تھے کہ اس کا علاج ممکن نہیں ہے، اس بات میں کافی سچائی ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ تازہ ترین تحقیقات میں امید کی کرن بھی نظر آتی ہے جن کا ذکر آگے کریں گے۔

Aids
Aids

ایچ آئی وی اور ایڈزکو عموماً ایک ہی خوفناک بیماری کے دو مختلف نام سمجھا جاتا ہے لیکن میڈیکل سائنس کے مطابق دونوں میں واضح فرق ہے۔ جب کسی شخص کو ایچ آئی وی پازیٹو قرار دیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اس کے خون میں ایچ آئی وی وائرس منتقل ہوچکا ہے۔ وائرس کے جسم میں منتقل ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس شخص کو ایڈز کا مریض قرار دے دیا گیا ہے، کیونکہ یہ وائرس کئی سال تک جسم میں خوابیدہ حالت میں رہ سکتا ہے۔ صرف ایچ آئی وی پازیٹو ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تاحال جسمانی مدافعت اس قدر متاثر نہیں ہوئی کہ انسان بیماری کا مقابلہ نہ کر سکے، لہٰذا اسے ایڈز کا مریض قرار نہیں دیا جاتا۔ البتہ اس شخص کے ساتھ جنسی تعلق، اس کے خون کے انتقال یا اس کی استعمال کی ہوئی سرنج استعمال کرنے کی صورت میں وائرس کسی دوسرے شخص میں منتقل ہونے کا خدشہ ضرور ہوتا ہے۔

اس بیماری سے بچائو کی احتیاطی تدابیر سے پہلے اس بات کو سمجھ لینا چاہیے یہ کہ احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے سے ہی یہ مرض لگتا ہے۔جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے تا حال اس کا علاج دریافت نہیں ہو سکا ،اس کے لیے اس کی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے، اس لیے بھی کہ یہ عین اسلامی تعلیمات ہیں مثلاََ صفائی جسے اسلام میں نصف ایمان کا درجہ حاصل ہے اور جن اوزار وغیرہ سے دانت ،ناخن صاف کیے جائیں ان کا صاف ہونا ۔ایک مرد کے اپنی بیوی سے ہٹ کر زیادہ عورتوں سے تعلقات رکھنا خاص کر پیشہ ور عورت سے تعلقات رکھنا اسی طرح عورتوں کو یہ مرض مردوں سے منتقل ہوتا ہے۔ ایک بہت ہی خاص بات جس سے میں اپنی قوم کو آگاہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ ۔ ایڈز یقینا ایک خطرناک بیماری ہے مگر جنسی ذرائع سے اس کے پھیلنے کا تناسب بارہ فیصد ہے۔

جبکہ دیگر ذرائع سے پھیلنے کا تناسب اندازاََ اٹھاسی فیصد ہے ،پھر صرف جنس پر ہی اتنا زور کیوں دیا جاتا ہے ۔یہ ایک پراپیگنڈہ ہے، جس کا مقصد آگاہی کے پردے میں معاشرہ بے باکی و جنس پر گفتگو کی راہ ہموار کرنا ہے ۔اس کا مقصد ہمارے معاشرے سے فطری شرم و جھجک کا خاتمہ ہے ۔کچھ لوگوں کا مشن ہے کہ ہمارے نصاب میں جنسی تعلیم کو شامل کیا جائے تاکہ معاشرہ میں بے حیائی پھیل سکے ۔ ایڈز سے بچائو کی صرف ایک یہ ہی صورت رہ گئی ہو اس لیے ان دیگر وجوہات پر بھی بات ہونی چاہئے ،جو اس کا سبب بن رہی ہیں ۔خیر اب آتے ہیں، اصل موضوع کی طرف ،یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ایڈز کوئی چھوت کی بیماری نہیں ہے، جو کسی مریض کے ساتھ بیٹھنے ،چھونے سے منتقل نہیں ہوتی اس لیے جو اس کے مریض ہوں، ان سے ہمدری کا اظہار کرنا چاہیے، اس سے نفرت کا نہیںبات احتیاطی تدابیر کی ہو رہی تھی تو کسی کا بھی خون لگواتے وقت اس کے خون کے مکمل ٹیسٹ کروا لینے چاہیے۔

Aids Day Celebrating
Aids Day Celebrating

پاکستان کو عالمی ادارہ صحت نے ایڈز کے خطرناک زون میں شامل کر لیا ہے، دوسری جانب پاکستان میں لوگ شرم کے مارے خود کو رجسٹرڈ نہیں کرواتے بلکہ اپنے گھر والوں سے اس مرض کو چھپاتے ہیں اور اسی حالت میں موت کو گلے لگا لیتے ہیں پھر پاکستان میں جہاں مردم شماری نہ ہوئی ہو وہاں کسی قسم کے اعداد و شمار کا درست حالت میں ملنا ممکن نہیں ہے۔ پاکستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 85 ہزار سے ایک لاکھ 30 ہزارتک افراد ایچ آئی وی ایڈز کے مرض سے متاثر ہیں۔ سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق ان میں سے 45 ہزار مریضوں کا تعلق سندھ سے ہے۔ایڈز کی روک تھام کے لیے قائم کئے جانے والے سرکاری ادارے سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے پروگرام مینیجرڈاکٹر یونس چاچڑ کے مطابق صرف ایک سال کے عرصے کے دوران سندھ میں ایچ آئی وی وائرس کے مریضوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ایڈزکنٹرول پروگرام کے تحت اس برس اب تک 4 ہزار 747 مریضوں کو رجسٹرڈ کیا گیا ہے جن کا علاج جاری ہے۔

جبکہ رواںسال کے اعداد وشمار کے مطابق کراچی سمیت سندھ میں ایڈزوائرس کے مریضوں میں7 فیصد اضافہ ہوا ہے جوایک خطرناک علامت ہے۔انسان کے جسم میں قوت مدافعت کم کرنے اور اسے دیگر امراض کا آسان ہدف بنانے والے ایچ آئی وی ایڈز کے پھیلاؤ کا سب سے بڑا سبب نشے کے لیے استعمال کی جانے والی سرنجیں ہیں۔ ڈاکٹر یونس چاچڑ کہتے ہیں، اس وقت صرف سندھ میں ہی 16ہزار افراد انجکشن کے ذریعے نشہ کرتے ہیں، 6 ہزار742 میل سیکس ورکرز، 9 ہزار69 خواجہ سرا جبکہ فی میل سیکس ورکرز کی بھی بڑی تعداد موجودہے جن کی وجہ سے ایڈز تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جس کے نتیجے میں 2015 میں دنیا بھر میں دس لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

ڈاکٹر چاچڑکے مطابق ایچ آئی وی وائرس میں مبتلا افراد میں اس مرض کی علامات دیر بعد ظاہر ہوتی ہیں، اکثر مریضوں میں پہلے فلو کی طرح کی علامات ظاہر ہوتی ہیں جیسے بخار، پٹھوں میں درد، خارش، سر درد وغیرہ۔ اس کے علاوہ وزن میں کمی، اسہال بھی اس کی علامات میں شامل ہے تاہم اس کی درست تشخیص ایچ آئی وی ٹیسٹ کے بعد ہی کی جا سکتی ہے جس کی سہولت ملک بھر میں نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت قائم کیے جانے والے 15 مراکز میں موجود ہے جہاں سے یہ ٹیسٹ بالکل مفت کروائے جا سکتے ہیں۔ڈاکٹر چاچڑ کے مطابق ایڈز کے مرض پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں میں اس مرض کے حوالے سے جو غلط تصورات ہیں، ان کو ختم کیا جائے کیونکہ عام طور پر لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ ایچ آئی وی غلط طریقے یا بے راہ روی کے باعث لاحق ہوتا ہے۔ جبکہ اس کی صرف یہی ایک وجہ نہیں بلکہ یہ انتقال خون، استعمال شدہ ریزر بلیڈ، متاثرہ ماں کے ہاں پیدا ہونے والے بچے کو بھی ہو سکتا ہے۔

1 December Aids Day
1 December Aids Day

ایڈز کا مرض غربت کا شکار معاشروں کے لیے ایک ناسور بنا ہوا ہے، کیونکہ وہاں اتنا شعور ہی نہیں ہوتا کہ یہ مریض کس مرض سے مرا ہے ۔ایک اخبار میں پڑھا ہے کہ پاکستان میں ایڈز کے ایک لاکھ سے زائد مریض ہو سکتے ہیں اور صرف 15 مراکز ہیں، جہاں اس کا ٹیسٹ مفت ہو رہا ہے ۔جہاں نصف آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہو وہاں میڈیکل چیک اپ کا تصور کہاں ،خانہ بدوش اور بھیک مانگنے والے یا وہ جن کی زندگی قرض اور خیرات پر گزر رہی ہو وہ جب بیمار ہوتے ہیں تو ٹیسٹ کہاں کرواتے ہیں اور کروا بھی کیسے سکتے ہیں۔ چپ چاپ قبر میں جا اترتے ہیں اور اپنے پیچھے اسی مرض کے اور مریض چھوڑ جاتے ہیں۔ دنیا میںایک ایسا ملک روانڈا ہے جہاں پر 90 فیصد آبادی کیتھولک ہے، وہاں کی تین فیصد آبادی ایڈز کا شکار ہے۔اسی طرح بوٹسوانا کی 23 فیصد آبادی اس موذی مرض کا شکار ہے ۔وہاں پر اس مرض کا علاج یا اس کے دفاع کے لیے اسلامی طریقہ کے مطابق مردوں کے ختنے کر کے کیا جا رہا ہے اور ماہرین کہتے ہیں ختنے والے مردوں میں اس بیماری کے انفیکشن کا خطرہ 60 فیصد کم ہوتا ہے۔

اس پر تحقیق ابھی جاری ہے ۔ ۔اسی طرح اسلام میں مردوں کو صرف اپنی بیوی یا بیویوں تک اور بیوی کو اپنے شوہر تک محدود رہنے کی بارے میں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس مرض سے بچنے کا سب سے آسان طریقہ ہے ۔سائنسدان دن رات اس مرض کے علاج کے لیے کوشاں ہیں اور وہ بہت پر امید ہیں۔ طبی ما ہرین نے ایک ایڈز کے کامیاب علاج کے دوا کی دریافت کا بھی عندیہ دیتے ہوئے خوش امیدی ظاہر کی ہے لیکن اس پر ابھی مزید تحقیق ہو رہی ہے ۔کیونکہ فرمان الٰہی ہے کہ دنیا میں کوئی مرض ایسی نہیں پیداکی گئی جس کا علاج نہ ہو۔

موذی مرض ایڈز کے حوالے سے افریقی ممالک ذہن میں آتے ہیں جہاں پریہ بیماری سب سے زیادہ پائی جاتی ہے لیکن ایک جینیاتی تحقیق کے مطابق اس کا آغاز کی ایک ایسی جگہ سے ہوا تھا جس کے متعلق کبھی کسی نے سوچا بھی نہ ہو گا۔ این بی سی نیوزکے مطابق تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایچ آئی وی اور ایڈز 1970ء میں پہلی بار نیویارک سے پھیلنی شروع ہوئی۔ اس سے پہلے یہ تاثر عام پایا جاتا رہا ہے کہ اس مرض کا پہلا مریض ایک ہم جنس پرست مرد تھا جو نیویارک کا رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے فلائٹ اٹینڈنٹ تھا اور یہی شخص افریقہ سے وائرس اپنے ساتھ لانے کا سبب بنا۔جب سے لوگوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے، تب سے مریضوں کے خون کے منجمد نمونے ماہرین کے پاس موجود ہیں جن کے جینیاتی تجزیئے سے مندرجہ بالا انکشافات سامنے آئے ہیں۔

University of Arizona Professors
University of Arizona Professors

یونیورسٹی آف ایریزونا کے ماہرین کے مطابق 1970 ء میں ایچ آئی وی تیزی سے نیویارک میں پھیل رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب ہم جنس پرستی کی لعنت بھی تیزی کے ساتھ نیویارک میں پھیل رہی تھی۔ اس وائرس کے ارتقاء کے ماہر مائیکل ووروبے کا کہنا تھا کہ ہم نے ایچ آئی وی کی جائے پیدائش کا سراغ لگا لیا ہے۔ ہماری تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ نیویارک ہی اس وائرس کا مرکز ہے۔ جب پہلی بار ایڈز کا انکشاف ہوا، اس سے کئی سال قبل ایچ آئی وی بہت زیادہ تعداد میں لوگوں میں پھیل چکا تھا۔ یہ وائرس 1976ء میں نیویارک سے سین فرانسسکو پہنچا اور اس کے بعد پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ گئی۔

سائنسدانوں نے ایک ایسی دوا تیار کرلی ہے جس کے بارے میں انہیں توقع ہے کہ یہ ایچ آئی وی اور ایڈز کے علاج میں مددگار ثابت ہوسکے گی۔ اسرائیل کی یروشلم یونیورسٹی کے محققین نے ایک ایسے پروٹین کو شناخت کیا ہے جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ صرف آٹھ دنوں میں متاثرہ افراد کے اندر اس وائرس کو 97 فیصد تک کم کردیتا ہے۔ اس دریافت سے یہ توقع پیدا ہوئی ہے کہ اس مرض کے شکار افراد کو مدد مل سکے گی۔ایچ آئی وی وائرس خون کے سفید خلیات کی ایک قسم سی ڈی فور کو نشانہ بناتا ہے جسے جسم امراض جیسے فلو کے خلاف لڑنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ وائرس ان خلیات کی اندرونی مشینری کو ایسے استعمال کرتا ہے کہ اپنی زیادہ سے زیادہ نقلیں بنا کر انہیں تباہ کردیتا ہے۔جب سی ڈی فور خلیات کی تباہی کا عمل خون میں 200 فی کیوبک ملی میٹر تک پہنچ جائے تو اسے ایڈز قرار دیا جاتا ہے۔

یہ نئی دوا ٹیسٹ ٹیوبز کے ذریعے ایڈز کے شکار دس مریضوں کے خون میں شامل کی گئی جس میں موجود اجزاء ڈی این اے میں موجود وائرس کی نقلوں کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے متاثرہ سفید خلیات کو تباہ کرنے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ وائرس مزید پھیل نہیں پاتا۔اب تک اس دوا کی آزمائش سے توقع پیدا ہوئی ہے کہ بہت جلد اس کی مدد سے ایچ آئی وی کے شکار سو فیصد خلیات کو ختم کیا جاسکے گا۔ ایچ آئی وی کے شکار افراد کو ابھی روزانہ ادویات کا استعمال کرنا ہوتا ہے تاکہ اس مرض کو دبایا جاسکے مگر اب تک اس کا کوئی علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے۔ محققین کے مطابق ہماری کوشش ہے کہ متاثرہ خلیات کو ختم کردیا جائے تاکہ اس وائرس کو دوبارہ سر اٹھانے کا موقع نہ مل سکے۔

Akhtar Sardar Chaudhry
Akhtar Sardar Chaudhry

تحریر : اختر سردار چودھری

Share this:
Tags:
AIDS disease pakistan possible precautions prevention World ایڈز بچائو بیماری پاکستان تدابیر! خطرناک دنیا ممکن
World AIDS Day
Previous Post غیر محتاط طرز زندگی ایڈز کا باعث
Next Post شکریہ راحیل شریف خوش آمدید قمر باجوہ
Raheel Sharif

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close