Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا

February 28, 2017 0 1 min read
Ishq
Waiting
Waiting

تحریر : سارا احمد، لاہور
زندگی کسی کے انتظار میں آرزوں کے چراغ آہستہ آہستہ بجھانے لگی تھی۔سجنا سنورنا جذبوں نے تیاگ دیا تھا۔یہ تو صرف تن کی ضرورت اور زمانے کے لئے دکھاوا تھا۔ روحانہ بیگم نے گہرے جامنی رنگ سے رنگے اپنے ہونٹوں کو سکوڑا اور ٹشو پیپر کی گولی بنا کر کوڑے دان میں اچھال دی۔آنکھوں کا کاجل بھی گہرا تھا اور گالوں کا غازہ بھی دمک رہا تھا۔اندر کہیں دل میں ایندھن ابھی تک سلگ رہا تھا۔” صغراں جلدی کر، کام چور کہیں کی”۔۔۔”جی بی بی جی”صغراں اپنے ہاتھوں کی طشتری میں زری کی تاروں اور رنگدار پھولوں سے ”کڑھا” کھسہ لے کر اس کے سامنے مودب کھڑی ہو گئی۔

دبیز قالین پر سبک خراماں روحانہ بیگم نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگشتِ شہادت سے اسے کھسہ پہنانے کا اشارہ کیا۔روحانہ بیگم کی پور پور میں بیزاری کی مکڑیاں ہر روز نئے جالے بنتی تھیں۔برسوں سے اس مکان کی ویرانی کسی مسجد کے مصلے کی طرح نمازی کی منتظر تھی۔صغراں کے جانے کے بعد روحانہ بیگم آرام دہ صوفے پر اپنی پشت دروازے کی جانب کر کے یوں بیٹھ گئی جیسے ابھی کسی کے آواز دینے پر اٹھ کھڑی ہو گی۔گھڑی کی سوئیاں آگے پیچھے دوڑتی رہیں اور وہ اپنی سماعتوں کو کسی کے قدموں کی چاپ سنانے کو بہلاتی رہی۔جب مکین ہی منہ موڑ جائیں تو مکانوں میں آسیب پھرتے ہیں یا پھر اکلاپے کی زرد پرچھائیاں عمر کے خزاں رسیدہ موسموں سے چمٹی رہتی ہیں۔وہ کبھی اتنی ناسمجھ نہیں رہی تھی کہ کھرے اور کھوٹے میں فرق نہ کر سکے۔اپنوں کی پہچان بھی تھی اور غیروں کی پرکھ بھی ۔چوک ہوئی تو مرد کے اس روپ کو سمجھنے میں جب محبت اس کے آئینہ ذات سے پھوٹ کر ظاہر ہونے لگی اور وہ اس میں اپنی مکمل شبیہہ بھی نہ دیکھ سکی ۔نادان تھی یہ بھی نہ سوچا کہ آئینہ اگر چٹک جائے تو اپنی ہی ہزاروں تصویریں اس میں نظر آتی ہیں۔

ظفر غلافوں میں لپٹا ہوا کوئی قیمتی پتھر نہیں تھا۔ایک عام سا مرد تھا۔نہ انوکھا اور نہ انمول۔سماج کے بنائے ہوئے راستوں پر چلنے والا ایک عام سا مرد جو اپنے مقدر سے لڑے بغیر معاشرے میں ایک پرآسائش زندگی برت رہا تھا۔روحانہ بیگم کو روحی اس نے تب کہہ کر پکارا جب ٹرانسپورٹ کی مسلسل ہڑتال کے تیسرے روز کے ڈوبتے سورج کی نارنجی شعاعوں میں وہ اس کی نظروں کے حصار میں یکدم ٹھہر گئی۔ دوپٹے کے ہالے میں آتشیں چاند۔ایک بار ہی کی پیشکش میں وہ سمٹی سمٹائی گاڑی کا دروازہ کھول کر اس کے پہلو میں آن بیٹھی۔غریب نہیں لگ رہی تھی وہ ، اس کے جوتوں کو دیکھ کر اس نے اندازہ لگایا۔ایک سونے کی بریسلیٹ بھی اس کی بائیں کلائی میں خاموش جیسے اس کے نامعلوم جذبے کی تپش محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔اس نے اپنی کلائی دوپٹے میں چھپا لی۔ظفر کے ہونٹوں پر اِک مسکراہٹ کھل گئی۔”کہاں گاڑی روکوں”؟؟؟ظفر نے سگریٹ سلگانے کا خیال ترک ہوئے پوچھا۔” اگر آپ نے آگے سڑک کے بائیں مڑنا ہو تو وہیں اتار دیں”اور اگر دائیںجانا ہے تو پھر چلتے رہیں”ظفر کا جی چاہا اپنی منزل کا ہر موڑ ہی وہ چھوڑتا جائے۔اگر وہ کہے دائیں تو دائیں مڑ جائے اگر وہ کہے بائیں تو بائیں…..راستے سیدھ میں نہ رہیں ، منزلیں آسان نہ ہوں ، ہر بات الجھ جائے ، سلجھانے کو بس خاموشیاں ہوں ، بوجھنے کو بس ایک ہی پہیلی ہو….. عورت اور مرد کی پہیلی۔گھر والے پہلے ہی اسے روحی کہتے تھے ۔ظفر کی زندگی میں وہ اس کی روح بن کر شامل ہوئی تو ملاقاتیں اور ڈھیروں باتیں۔

اگر کسی کو چاہنے کا خیال اتنا دلفریب ہے تو چاہے جانے کا نشہ تو کمال ہو گا۔ظفر گنگنانے لگا تھا۔روحی نے پہلی بار اسے گنگناتے سنا تو اپنے ہاتھ اس کے لب پر رکھ دیئے۔”یہ کیا…..؟”ظفر جان کر بھی انجان رہا۔روحی بنا جواب دیئے گنگنانے لگی،میں تیرے سنگ کیسے چلوں سجنا ”تو سمندر ہے میں ساحلوں کی ہوا ”ایک گہرا سکوت اور اس کی آواز کا سوز گردشِ خون میں اتر کر اسے بہکانے لگا۔کیوں نہ قیمتی چیزوں کو کھونے سے پہلے سنبھال لیا جائے_روحی عام سی لڑکی نہیں تھی۔دنیا کی کوئی بھی لڑکی عام اور معمولی کیسے ہو سکتی ہے۔ہر چیز کے دام ہیں مگر دل کے نہیں اور روحی کا دل تو جذبات کی بھٹی میں راکھ ہو چکا تھا۔”مگر کیوں”اس کے لہجے میں اتنے دنوں کی رفاقت کا حق تھا۔”اس لئے کہ میں اس دن آپ کو بس اسٹاپ پر ملی تھی سڑک پر نہیں”لہجے میں اپنے حسن کا غرور عود آیا تھا۔”میں نے بھی تمہیں خریدار بن کر اپنی گاڑی میں نہیں بٹھایا تھا۔ایک محافظ کی طرح تمہاری منزل تک تمہیں پہنچایا تھا”چاہیے تو تھا وہ اس دلیل کے آگے اپنا ماتھا ٹیک دیتی مگر اپنے انکار کو اسرار میں لپیٹ کر روپوش ہو گئی۔

Life
Life

سارا شہر اس کی دسترس میں تھا اور وہ کہیں نہیں تھی۔کھوئی ہوئی چیزوں کو ڈھونڈا جاتا ہے گزرے ہوئے کل کو نہیں۔گلی کے جس موڑ پر وہ اس سے ملتی اور جدا ہوتی تھی نامعلوم اس میں اس کا گھر کون سا تھا۔ دستک تو دینی ہی تھی_وہ اس کا بیتا ہوا کل نہیں اس کی تشنہ تمناں کا حاصل تھی۔ ”روحی….میرا مطلب روحانہ صاحبہ سے ملاقات ہو سکتی ہے۔اس کی ہکلاہٹ میں جملہ ٹوٹ کر بکھر گیا۔سفید شلوار کرتہ میں ملبوس منحنی سی بزرگ شخصیت کی آنکھوں میں اجنبیت اور پھر انکار میں دائیں بائیں سر ہلانے پر رکنا بیکار تھا۔وہ پلٹ آیااور باہر سڑک کے کنارے کچھ دیر اسی راہ کی طرف تکتا رہا۔

کوئی تدبیر کوئی فریب کوئی چھل ہی ہوتا اس تک پہنچنے کا تو وہ رکتا نہیں مگر وہ رک گیا ، ٹھہر گیا اور خاموش ہو گیا۔صغراں نے رات کا کھانا میز پر لگانے کے بعد روحانہ بیگم کے کمرے میں جھانکا۔یہیں کسی کا انتظار کرتے کرتے اسے جو اونگھ آتی وہی اس کی نیند ہوتی۔اس کے بعد ساری رات وہ ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک پھرتی رہتی۔دالانوں اور دونوں باغیچوں میں اپنے ہی سائے سے دکھ سکھ کرتی۔کبھی روتی کبھی ہنستی کبھی گنگناتی۔”تم سے الفت کے تقاضے نہ نبھائے جاتیورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے”وحشت حد سے بڑھتی تو صغراں کے کوارٹر میں چلی آتی ۔وہ بھی چٹخنی گرا چھوڑتی۔مدتوں سے دونوں کا ساتھ تھا۔اپنی بیوگی اور روحی کی ماں کے مرنے کے بعد آسرا لئے کب سے یہاں پڑی تھی۔”تجھے پتہ ہے صغراں میری اسوقت عمر کیا تھی”؟؟”نہیں بی بی جی”صغراں روز ایک کہانی سن کر بھی انجان رہتی۔”جھلی نہ ہو تو ، یہ کہانیاں بھولنے والی تھوڑی ہیں ، یہ تو ہم جیسوں کے ماتھے پر لکھی ہوتی ہیں ، اٹھ ادھر دیکھ ، انہیں پڑھ” اور صغراں کو کہانی پڑھ کر سنانی پڑتی اور ساتھ ساتھ بی بی جی کے ماتھیسے رگڑ کر وہ تحریر مٹانی بھی پڑتی کیونکہ تاریکی سارے راز وہیں رات کے کونے کھدروں میں چھوڑ کر اجالے کی صورت میں ڈھل جاتی۔شہر کی معروف مارکیٹ میں سرِشام گاہکوں کی آمدورفت کے ساتھ بھکاریوں ، خواجہ سراں اور دستکاری کی مختلف اشیا بیچنے والوں سے گہماگمی میں اضافہ ہوتا رہتا۔

انہیں میں جب وہ آٹھ سال کی تھی اپنی ماں کے ساتھ کبھی فٹ پاتھ پر لگی کرسیوں پر بیٹھے لوگوں کے سامنے اور کبھی گاڑی والوں کے شیشے کھٹکھٹا کر تقاضا کرتی۔ماں نجانے کیوں خاموش رہتی مگر وہ کن اکھیوں سے اس کے سرخ رنگ سے رنگے ہونٹوں کو مسکراتے ہوئے ضرور دیکھتی۔ماں اکثر اسے آئسکریم دے کر کسی جگہ بٹھا دیتی اور ضروری کام کا بہانہ کرکے اتنی دیر لگا دیتی کہ اسے جمائیاں آنا شروع ہو جاتیں۔صبح وہ اسکول سے واپس آتی تو ماں ابھی سو رہی ہوتی اور ابا لوہے کی چارپائیاں بن رہا ہوتا۔اس نے یہ کام دادی سے سیکھا تھا اور اب آرڈر لے کر گھر میں چارپائیاں بنتا رہتا تھا۔گھر میں سونے کے لئے کسی کے پاس چارپائی نہیں تھی۔ سب فرش پر سوتے تھے۔دادی کے مرنے کے بعد اسی شام ابا اس کی چارپائی بھی بیچ کر کچھ جوئے میں ہار آیا اور باقی کے پیسوں سے اپنی بوتل خرید لی۔یہ اچھا تھا کہ ماں اسے پڑھا رہی تھی۔پڑھنے سے اسے شعور آرہا تھا لیکن گھر میں سب کی ضرورتیں بڑھ گئیں اور تکرار بھی۔چھوٹے تینوں بھائی کبھی فیل ہوتے اور کبھی فیس نہ دینے پر اسکول سے نکال دیئے جاتے۔ماں ان کی زندگی بنانا چاہتی تھی اور اس کی زندگی کا مقصد کیا تھا وہ نہیں جانتی تھی_چودہ سال کی عمر میں ماں نے اس کے کان میں ایک پھونک ماری تو وہ آدھی مر گئی اور جب اس کے انکار پر ابا نے اپنی بوتل توڑ کر اس کی گردن پر رکھی تو موت کے لزرے نے اسے پورا نہ مرنے دیا۔

ماں کے ساتھ وہ انہی جگہوں پر جاتی مگر نقاب میں اور جہاں ماں کہتی وہ نقاب گرا کر اپنا چہرہ دکھانے کے بعد دوبارہ ڈھانپ لیتی_تینوں بھائی تو آوارہ ہوگئے مگر اس نے پرائیویٹ انٹر کیا_کیسی زندگی تھی ، کیسے موڑ تھے اور کیسی خواہشیں تھیں_زندگی گاڑی ضرور تھی مگر وہ کوئی اس کا کل پرزہ نہیں تھی صرف دھول تھی جو خود کو کبھی یہاں اور کبھی وہاں اڑائے پھرتی تھی_ ماں اور وہ گھر کی کفیل تھیں اور وہ چاروں مرد اڑاتے تھے اور پیتے تھے_اس جگہ کے سارے مرد ہی ایسے تھے اس لئے کسی کے لئے کوئی طعنہ اور کوئی باعث شرم نہیں تھا_اس کا من کرتا اسے بھی کوئی ایسے چاہے جیسے مومن اپنے ایمان کو ، دعا قبولیت کو اور موت زندگی کو چاہتی ہے_ اس بوڑھے کھوسٹ نے اپنے اردوں کے بچھو اس کے چہرے کا نقاب اترتے ہی اپنے کرارے نوٹوں میں لپیٹ کر واپس اپنی جیب میں رکھ لیے_ماں نے کبھی اسے کسی کے ٹھکانے تک کبھی نہیں جانے دیا_ ” ہمارا بس اتنا ہی کام ہے ، پانچ دس منٹ کا ، دیکھتے نہیں یہاں سب اپنا اپنا کام کرتے ہیں”_سبھی اپنے اپنے دھندے پر تھے_کوئی ڈرامہ باز فقیر تھا تو کوئی الاسٹک کے بنڈل اٹھائے جھوٹی کہانی لوگوں کو سنا رہا تھا_کسی کی گمنام ماں کینسر سے قریب المرگ تھی اور کوئی مسافر کے روپ میں اپنے لٹنے کی دہائی دے کر کرایے کے پیسے بٹور رہا تھا_سبھی ضروتوں اور خواہشوں کے ایندھن میں اپنی اپنی مجبوریاں جھونک رہے تھے_اسے بولنے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ماں ہی جھٹ سے بول پڑتی_ماں دور کھڑی ہوتی اور وہ گاڑی کے ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے دروازے سے نکل جاتی_یہاں سارے دروازے ہی جہنم کے تھے۔

Ishq
Ishq

جنت کا دروازہ تو اسے اپنے پیدا ہونے پر بھی نہ ملا۔اب ایک دریچہ ایسا کھلا تھا جہاں وہ چاہت کے بن موسم کے پھولوں کی خوشبو میں چند دن اپنی روح مہکا سکتی تھی۔ابا کو پولیس اٹھا کر لے گئی اور ماں غم سے بستر پر پڑ گئی۔دو بھائی پہلے ہی قرض لے کر مفرور تھے۔تیسرا نشے کی کثرت سے دیوانگی میں اول فول بکتا رہتا تھا۔اسے آزادی کے یہ چند دن میسر کیا آئے وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگی۔کام کی تلاش میں اس دن اسے مجبوری میں ظفر کی گاڑی میں بیٹھنا پڑ گیا۔اس نے سوچا تھا کسی جگہ انٹرویو دے کر نوکری کر لے گی مگر اس عام سے مرد نیاسے اعتبار کے جو پل دیئے وہ بے مول تھے۔ عورت کو مان دینے والا کوئی مرد عام اور معمولی کیسے ہو سکتا ہے۔کچھ پل جو اس نے چرائے تھے وہی اس کا سرمایہ حیات تھے جو دل اس نے گنوایا تھا وہ اس کا اپنا نہ تھا۔اس کے اختیار میں لمحہ بھر کی نیند میں عمر بھر کے خواب دیکھنا تھے۔حالات کے دھارے پر تعبیروں کے بادبان لہرانا اس کے بس میں نہیں تھا۔صغراں اکثر اس سے پوچھتی، ”بی بی جی شہر چھوڑنے کے بعد ظفر صاحب آپ کو دوبارہ نہیں ملے”خاموش حسرتیں وہ عمر بھر کے ایندھن میں پھونک دیتی۔

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا
کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا

تحریر : سارا احمد، لاہور

Share this:
Tags:
life Love pictures waiting آرزو افسانہ انتظار تصویریں زندگی عشق
Koshash Welfare Trust
Previous Post محترم اقبال بھائی کی آنکھوں کے نام
Next Post 2017 کا مارچ، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مارچ
Dr Aafia Siddiqui

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close