
لاہور (جیوڈیسک) معروف اداکار بابر علی نے کہا ہے کہ میں نے پاکستان فلم انڈسٹری کا عروج دیکھا ہے‘ زوال دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ میں نے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز اگرچہ ٹیلیویژن سے کیا لیکن مجھے زیادہ شہرت بڑی سکرین سے ہی ملی۔ میری پہلی فلم ’’جیوا‘‘ تھی۔
ہدایت کار سیدنور نے اسے ڈائریکٹ کیا۔ میری پہلی فلم ہی سپرہٹ ہوئی۔ اس کے بعد ہدایت کارہ شمیم آرا کی فلم منڈا بگڑا جائے میں کام کیا۔ میری یہ فلم بھی سپرہٹ ہوئی۔ میری کامیاب فلموں میں سڑک‘ چور مچائے شور‘ لڑکی پنجابن‘ بھائی لوگ‘ سن آف پاکستان‘ کھوئے ہو تم کہاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے ٹی وی ڈرامے بھی بہت مقبول ہوئے جن میں لبیک‘ چنری شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے سٹیج ڈراموں میں بھی کام کیا ہے۔ حال ہی میں ملتان کے ایک تھیٹر پر کام کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فلم‘ ٹی وی اور تھیٹر میں سے تھیٹر سب سے مشکل جگہ ہے۔ تھیٹر پر لائیو پرفارم کرنا ہوتا ہے وہاں پر ری ٹیک کی گنجائش نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ ٹی وی ہو‘ فلم یا سٹیج ڈرامے جو اصل فنکار ہے وہ ہر جگہ پر پرفارم کر لیتا ہے۔ بابر علی نے کہا کہ اس سال دو تین فلمیں اچھی بنی ہیں جن میں نامعلوم افراد‘ اپریشن 021 اور سلطنت شامل ہیں۔ اس معیار کی فلمیں بنیں تو فلم انڈسٹری کی رونقیں بحال ہو سکتی ہیں۔
