Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

آتشِ انتقام

July 12, 2014 0 1 min read
Syed Mubarak Ali Shamsi
Central Jail Sibi
Central Jail Sibi

سنٹرل جیل سبی کی بارک نمبر 9 سے اس جھلسا دینے والی شیدید ترین گرمی میں تقریباََ رات کے گیارہ بجے ان نعتیہ اشعاروں نے ساما باندھ دیا۔ اس پر تاثیر اور جادوئی آواز نے جیل میں قید سب قیدیوں کو اپنے حصار میں لپیٹ لیا اور ایک مجھ پر کیا سب پر سحر طاری ہو گیا۔ اس آواز نے پہلی بار میری سماعتوں کو متاثر نہیں کیا بلکہ اسے سنتے ہوئے مجھ پر پانچواں دن بیت چکا تھا ۔ جیل کے تمام قیدی روحانیت کی گہرائیوں میں پہنچ کر یک زبان ہو کر ” سبحان اللہ” کی صدائیں بلند کرنے لگے یہ ان دنوں کی بات ہے جب گزشتہ برس ماہ رمضان میں مجھے سچ بولنے اور سچ لکھنے کی پاداش میں جرائم پیشہ عناصروں اور مقامی جاگیرداروں نے مقامی پولیس سے ساز باز کر کے سنگین قسم کی دفعات لگوا کر مجھے ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کروا دیا تھا۔

پولیس نے بھی رشوت کی رقم حلال کرنے کی خاطر مجھے پولیس فائل میں گہنگار ثابت کر کے چلان کر کے جیل بھجوا دیا تھا مجھے جیل کی بارک نمبر7 میں آئے پانچواں یوم تھا ۔ جیل ایک ایسا مقام ہے جہاں زندگی ناپید اور سانس لینا بہت دشوار ۔۔۔۔۔اس کی دیو قامت چار دیواری پر نظرپڑتی ہے۔ تو یوں لگتا ہے جیسے کسی نے مٹھی میں بند کر کے قید کر کے رکھا ہو۔۔۔بارکوں کے آ ہنی جنگلوں کو دیکھ کر دل دہل کر رہ جاتا ہے۔۔۔۔ملک الموت صفت جیلروں کی بلا وجہ ڈانٹ ڈپٹ سے قیدی سہم کر رہ جاتے ہیں۔ جیل انتظامیہ کی لاپرواہی کی وجہ سے اور حکام کی عدم توجہی کی وجہ سے قیدی پانی کی بوند بوند کو ترس جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ روزہ دار قیدیوں اور نمازیوں کے لیئے وضو کا پانی ستیاب نہیں ہوتا۔۔۔۔ قیدیوں کے ساتھ ہونے والا ناروا سلوک دیکھ کر گماں ہوا کہ یہاںایک سے بڑھ کر ایک مظلوم ہے۔ ۔۔۔۔ گویا کہ جانوروں سے بھی برتر سلوک قیدیوں کے ساتھ برتا جاتا ہے۔

جے دم جیسوں یاد کریسوں برکتاں ماہ رمضان دیاں
امت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تے نازل ہوئیاں رحمتاں رب رحمن دیاں

مسجد اندر آئیاں نیں بہاراں پڑھیاں نمازاں روزے داراں
تسبیہاں پڑھیاں مومناں ساراں عزتاں آئے مہمان دیاں

قاری پئے قرآن سنیندے ، سنن والے پئے درجے پیندے
کھوٹ دلاں دے صاف تھی ونیدے صورتاں سن قرآن دیاں

جے آسیں توں ولدے سال اے خیر خوشی سی خبر سناویں
بنڑیاں جڑیاں آن و نجاویں تجویزاں شیطان دیاں

جلدی آویں توں ولدے سال اے روزے رکھسن قسمت والے
کئی ونج سمسن قبر وچاے حسرتاں چھوڑ جہان دیاں

جے دم جیسوں یاد کریسوں برکتاں ماہ رمضان دیاں
امت نبی تے نازل ہوئیاں رحمتاں رب رحمن دیاں

یہاں چاروں طرف اداسی اپنے بال کھولے سوئی ہوئی اور ہر طرف اجنبیت محو رقص نظر آتی ہے۔ جیل میں مقید قیدی چلتی پھرتی زندہ لاشیں محسوس ہوتی ہیں۔ جیل میں داخل ہوتے ہی اوسان خطا ہو جاتے ہیں۔ اور انسان کے پاس رونے کے سوا کوئی چارہ نہیںہوتا۔ ۔۔۔۔ اپنی اپنی بارک میں میں نیا تھا اور اپنی قسمت پر ماتم کناں تھا ۔۔۔۔ اور ہوا کے دوش پر سوار ہو کر ماحول پہ اثر انداز ہو کر سحر پیدا کرنے والی پرتاثیر اور جادوائی آواز کا صرف میں ہی نہیں سارا جیل خانہ پرستار دکھائی دیتا تھا۔ میںاس شخص سے ملنا چاہتا تھا۔ اسے دیکھنا چاہتا تھا۔ لیکن ہمارے درمیان دیواریں حائل تھیں۔ جی تو چاہتا تھا دیوار پھلانگ کر اس جادوائی آواز والے قیدی سے ملکر اس سے دریافت کروں کہ وہ یہاں کیوں آیا ؟ مگر بے سود۔۔۔۔۔۔ بالاآخر ایک دن مجھے قسمت نے اس سے ملا ہی دیا۔ ۔۔۔۔ صبح کو ساڑھے نو بجے کا ٹائم تھا کہ لائوڈ سپیکر میں ملاقاتیوں کے نام پکارے جانے لگے جن میں میرا بھی نام تھا مجھے میرے کھڈے والے قیدیوںنے بتایا کہ آپ کی ملاقات آئی ہے آپ چکر پر چلے جائیں (چکر جیل کے درمیان والی جگہ کو کہتے ہیں۔ ہر بارک کا دروازہ چکر کی جانب کھلتا ہے وہاں پر ایک چیف اور بھاری نفری بھی موجود ہوتی ہے)۔

میں بھی اپنا حوالاتی ٹکٹ ہاتھ میں پکڑ کر ملاقات کرنے والے قیدیوں اور حوالاتیوں کی صف میں شامل ہو گیا۔ جب ملاقات والے شیڈ میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہاں ڈیر سارے قیدی ہاتھوں میں ٹکٹ پکڑے ہوئے تھے اور ان کے درمیان وہ قیدی حسب معمول نعتیہ اشعاروں سے اپنی آواز کا جادو جگا رہا تھا اور قیدی لطف اندوز ہو کر جھوم رہے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے ہم محفل سماع میں داخل ہو گئے ہوں۔ مجھے دیکھ کر کچھ شرارتی قیدی آوازیںکسنے لگ گئے کوئی کہتا “نواں آیا ایں سونیا” تو کوئی کہتا تھا کہ ” آجا میرے بالما تیرا انتظار ہے” خیر میں آگے بڑھ کر نعت گنگنانے والے شخص کو سلام کیا اس نے جھک کر مجھے سالم کا جواب دیا اور مجھے اپنے ساتھ بیٹھنے کو کہامیں بھی اس کے ساتھ گراسی پلاٹ میں بیٹھ گیا ۔ میرے سامنے ایک قلندر نما شخص براجمان تھا۔

اسکا چہرہ نورانی تھا۔ اس اڈھیڑ عمر قیدی کی شخصیت کو باریش چہرہ ، قدرے لمبی سفید زلفیں اور مسکراہٹ چار چاند لگا رہی تھی۔ میں نے اپنا تعارف کروانے کے بعد اس سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ نہایت ہی بھلے مانس اور شریف اور نیک انسان ہیں آپ جرائم پیشہ تو نہیں لگتے پھر آپ یہاں کیوں قید ہیں۔ تو اس نے یہ کہ کر مجھے لاجواب کر دیا کہ آپ بھی ایسے نہیں لگتے آپ بھی تو اس دنیا دار دوزخ خانے میں آہی گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک تو ہمارے ملک کا قانون کسی کام کا نہیں جسکی وجہ سے 100 میں سے 95 فیصد لوگ بے جرم مذہبی ، سیاسی یا ذاتی رنجشوں کی بھینٹ چڑھ کر جیل میں سزا بھگتنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ خیر میں نے اس سے دوسرا سوال یہ کیا کہ آپکی یہ حالت کس نے بنائی اور آپ یہاں کیسے آئے۔ تو اس اڈھیر عمر قیدی کی آنکھیں ساون کے بادلوں کیطرح برسنے لگیںاور اس کی ہچکی بند گئی اور اس نے اپنا سر نیچے جھکا لیا۔ قارئین مجھے جیل کی ان گنت داستانیں یاد ہیں۔ جنہیں میں نے اپنے دل کے کنویں پر سجایا ہوا ہے مگر اب کے بار رمضان کے مہینے میں بے ساختہ اس کی داستاں یاد آئیں جس کو میں قرطاس پہ بکھیرنے کے لیئے مجبور ہو گیا۔

رمضان عرف جانی نے 1970 ء میں محمد حنیف کھوکھر کے گھر جوہر آباد ضلع خوشاب میں آنکھ کھولی۔ اس سے چھوٹے اس کے تین بھائی اور دو بہنیں ہیں۔اسکے والد مرحوم ایک گورنمنٹ کالج میں لیکچرار تھے اور انکی امی ایک بنک میں منیجر تھیں۔ دونوں میاں بیوی نے اپنے بچوںکی تعلیم و تربیت اچھے طریقے سے کی یہی وجہ تھی کہ رمضان عرف جانی ایک سلجھا ہوا اور سمجھدار انسان تھا اس کے ابو کے پاس دو مربعے زرعی اراضی بھی تھی جسے وہ خود کاشت کرتے تھے۔ اور گھر پر نوکر وغیرہ بھی رکھے ہوئے تھے۔ اور خوش و خرم زندگی گزار رہے تھے۔ انکی نسبت انکی برادری کے اکثر لڑکے آوارہ مزاج تھیاور انپڑھ بھی تھے جسکی وجہ سے وہ جاہلیت کا شکار تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ انکی فیملی ترقی کرے اس لیئے وہ اکثر اوقات مختلف حیلوں اور بہانوں سے ان کے ساتھ لڑنے کے لیئے ہمہ وقت تیا ررہتے تھے۔ بالاآخر ایک دن وہ اپنے مذموم مقصد میں کامیاب ہو ہی گئے۔ رمضان کے ابو نے اسکی چھوٹی بہن ساجدہ حنیف کا رشتہ آئوٹ آف فیملی میں طے کر دیا تھا۔ اور بات بھی پکی ہو گئی تھی اسی بات کو وجہ عنا د بنا کر انکے رشتہ دار تعیش میں آگئے۔ اور برادری کی ایک پنچائیت میں رمضان کے والد کو گولیوں سے چھلنی کر کے اسے ہمیشہ کے لیئے ابدی نید سلا دیا۔ انکے پورے گھرانے پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔ ان کے مخالفین نے اسکے جنازے کا انتظار ہی نہ کیا اور انکی جائیدار پر قبضہ کر لیا اور رمضان پر اس کے والد کے قتل کا مقدمہ کروا کے جیل بھجوا دیا اسے بہت دکھ ہوا وہ غم سے نڈھال تھا ایک تو اس کے والد کو مخالفین نے قتل کر دیا اور دوسرا ظلم یہ کہ اسی پہ اسکے والد کے قتل کا الزام لگا کر اسے جیل منتقل کروا دیا۔ اس وقت رمضان عرف جانی 13 برس کا تھا اور اس وقت اسکی عمر 45 سال ہے۔

Sibi
Sibi

ظلم کی انتہا تو یہ کہ دشمنوں نے ان کا مکان بھی چھین لیا اور یوں رمضان کی فیملی کھلے آسمان تلے تنہا رہ گئی اور سب گھر والے پتہ نہیں کہاں ہیں۔ رمضان کو اس بارے کچھ پتہ نہ تھا۔ رمضان عرف انی کو قید و بلا کی صعوبتیں گزارتے تیرا سال تھا اور نکا مقدمہ شہادتوں تک آن پہنچا تھا۔ کہ اچانک دونوں گواہان ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں جاں بحق ہو گئے۔ اور رمضان کا نصیب ایک بار پھر جاگا کہتے ہیں اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ جب پڑتی ہے تو آوازنہیں آتی مگر ظالموں کی نسل تباہ و برباد کر جاتی ہے۔ شہادتوں میں گواہان کی عدم موجودگی پر عدالت نے رمضان عرف جانی کو رہا کر دیا۔ رمضان عرف جانی کے اندر انتقام کے شعلے بھڑک رہے تھیجب وہ گھر آیا تو کچھ نہ پایا۔ اس نے ایک جوگی کا روپ دھار کر دشمنوں کے علاقے کا رخ کیا اسی اثنا میں اس نے اپنی ماں اور بہن بھائیوں کو ڈھونڈنے کی سرتوڑ کوشش کی مگر کارگر ثابت نہ ہوئی۔ وہ کہیں بھی نظر نہ آئے۔ رمضان عرف جانی جوگی بن کے دشمنوں کے گھروں میں جاتا وہ جوگی سمجھ کر عزت کرتے بالاآکر اس کے والد کے قاتلوں نے اسے اپنا بیٹا بنا لیا اور سے کہا کہ بیٹا تم جہاں مرضی رہو۔

رات کو ادھر آجایا کرنا کھانا یہیں سے کھانا۔ اور یہیںسونا یہ آپکا گھر ہے۔ رمضان جانی جب اپنے باپ کے قاتلوں کو دیکھتا تو اس کی آنکھ نم ہو کر چھم چھم برسنے لگتی۔ اور وہ اپنے باپ اور دیگر حقیقی رشتہ داروں کی جدائی میں تڑپنے لگتا۔ اس کا جسم کانپنے لگتا اور وہ بے ہوش ہو کر نیچے گھر جاتا ۔ جب ہوش میں آتا تو باپ کے قاتلوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے پاتا ۔ خیر وقت گزرتا گیا اور وہ لوگ رمضان عرف جانی پر اندھا اعتماد کرنے لگے۔ انہوں نے اپنی جائداد ، مال دولت ہر چیز رمضان کے ہاتھ میں دے دی وہی جائیداد اور رقبہ جو کبھی اس کے والد کے نام ہوا کرتا تھا۔ اور یہ اسے کاشت کیا کرتے تھے۔ چند برسوں بعد جب رمضان عرف جانی نے اپنا سامان اکٹھا کیااور اپنی پٹاریاں کندھے پر رکھ لیں۔ اور ان سے کہا کہ مجھ سے کوئی غلطی ہو گئی ہو تو معاف کرنا۔ میں آج سے یہاں سے پکا پکا اپنے گھر جا رہا ہوں۔ یہ سنتے ہی وہ زاروقطار رونے لگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپکو ایسے نہیں جانے دیں گے۔ رمضان نے کہا جو بھی ہو جائے میں یہاں نہیں رکنے والا۔ ہاں میں شام تک انتظار کر سکتا ہوں۔ آپ سارے لوگ اکھٹے ہو جائواور ہم شام کا کھانا سارے لوگ اکٹھے بیٹھ کر کھائیں گے اور میں آپ سب سے اجازت لے کر اپنے گھر کے لیئے رخصت سفر باند لوں گا۔ انہوں نے شام کی ضیافت کا اہتمام کیااور اپنے مخصوص عزیزو اقارب اور دوستوں کو بھی بلایا اور شام کو اپنے گھر کی میز پر رمضان جانی کا انتظار کرنے لگے۔ جب اندھیرا چھانے لگا تو رمضان عرف جانی نے اپنی رنجیل سے رائفل نکالی اور اندر داخل ہوتے ہی للکارا کہ شوکت، شفقت، نصرت اور عشرت کے سوا باقی سارے سائیڈ پہ ہو جائو۔ وہ سب ایک طرف ہو گئے انہوں نے دیکھا کہ رمضان کی آنکھوں میں انتقام کی لہر نظر آرہی تھی۔ رمضان نے قاتلوں کو قتل کر کے اپنے باپ کا مْاص لے لیا وہ اب جیل میں مطمئن ہے۔ کہ میں بدلہ لے کر مجرم بن کر تو جیل میں قید ہوں قانون نے مجھے بے گناہ مجرم تو نہیں بنایا مجھے جیل سے آئے کافی عرصہ ہو گیا مگر اسکے نعتیہ اشعار اب بھی میرے کانوں میں گونجتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بے گناہ قیدیوں کو جلد رہا کرے۔ (آمین)

Syed Mubarak Ali Shamsi
Syed Mubarak Ali Shamsi

تحریر : سید مبارک علی شمسی
ای میل۔۔۔۔۔۔mubarakshamsi@gmail.com

Share this:
Tags:
fire prison prisoners retaliation انتقام جیل قیدیوں
Karachi
Previous Post کراچی کا برنس روڈ
Next Post معاہدوں کی پاسداری
Ghulam Murtaza Bajwa

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close