Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

کراچی کا برنس روڈ

July 12, 2014July 12, 2014 0 1 min read
Karachi
Karachi
Karachi

اکثر مشکل یہ آن پڑتی ہے کہ برسوں کی یادوں کو لمحوں میں سمیٹنے کا حکم لگ جاتا ہے۔ بات کراچی کے برنس روڈ کی ہو رہی ہے۔ یہاں صبح کیسی ہوتی ہے؟ دن کیسا گزرتا ہے؟ رات کو کیا سماں ہوتا ہے؟اب مَیں کیا کہوں۔ آج کے برنس روڈ کی کوئی کیا بات کرے؟ ہاں پینتالیس چھیالیس برس پہلے کی صبحِ برنس روڈ کی بات کرو تو کوئی بات بنے! تب کی صبحِ برنس روڈ کو ”صبحِ بنارس” کے ہم پَلّہ تونہیں کہا جا سکتا، بہر حال روز ہی ایک یاد گار صبح نمودار ہوا کرتی تھی۔ تب برنس روڈ اتنا گنجان بھی نہ ہوتا تھا۔ ہاں رات گئے تک جاگتا ضرور تھا۔ اور پھر کچھ دیر کے لیے شاید سو بھی جاتا تھا۔ یہاں تڑکا ہوتا تھا۔ اِدھر اُدھر بکھرے بوڑھے پیٹروں سے پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں بھی سنائی دیتی تھیں۔ دلکش آوازیں۔ آج کل ایسی چہچہاہٹ نہیں جو دھویں اور آلودگی کے سبب چہچہاہٹ کم، کھانسی اور کھنکھار زیادہ لگتی ہے۔

ارے میں کدھر نکل گیا؟ آئیے واپس برنس روڈ پہ چلتے ہیں۔ برنس روڈ… آج سے کوئی ڈیڑھ سو برس پہلے تک کراچی یا کلاچی میں ایسی کوئی سڑک نہ تھی۔ بلکہ ایسا کچھ بھی نہ تھا۔ ہم 1843ء میں آتے ہیں تو میانی کی جنگ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ انگریز نو آبادیاتی حکمرانوں کی فوج اور سندھ کے ٹالپر میر حکمرانوں کے درمیان۔ اندرونی ریشہ دوانیوں اور انگریز چالبازیوں کا نتیجہ… ایک اذ ّیت ناک فقرہ ہمیں پڑھنے کو ملتا ہے۔ جو جریدۂ وقت پر ثبت ہے… ”انگریزوں کی فتح ہوئی ہے اور انہوں نے سندھ حاصل کرلیا ہے۔ میروں نے ہمیشہ کے لیے سندھ گنوادیا۔” اُن دنوں کی تاریخ میں ہمیں ”رام باغ تالاب” کا ذکر ملتا ہے۔ اور یہی رام باغ تالاب ہے جس کے ایک کونے سے برنس روڈ پھوٹتا ہے۔ اور ہم الٹی سمت چلیں تو سابق میکلوڈ روڈ ،حال آئی آئی چندریگر روڈ میں ُگم ہو جاتا ہے۔

شاعرانہ تعلّی سے کام لیا جائے تو جنگِ میانی کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ”لوگ آتے گئے، کارواں بنتا گیا۔” کچھ ہی عرصے بعد ہمیں بلدیہ کراچی کی عمارت زمین سے سر اٹھاتی دکھائی دیتی ہے۔ آس پاس عمارتیں بننے لگتی ہیں۔ برنس روڈ اپنے نشان پکڑنے لگتا ہے۔ برسوں بعد اِس کے اُس نکڑ پر جہاں یہ میکلوڈروڈ یا آئی آئی چندریگر روڈ میں ُگم ہوتا دکھائی دیتا ہے، ایک عمارت اُبھرتی ہے، جس کے ساتھ نچلے درجے کے ملازمین کے کوٹھری نما سرونٹس کوارٹرز کی طویل قطار چلی گئی ہے… یہ پوسٹ ماسٹر جنرل کا بنگلہ ہے یا ہوتا تھا۔ مَیں آج تک طے نہیں کر پایا کہ یہ میکلوڈروڈ کا حصہ ہے یا برنس روڈ کا۔ اِ س کا سامنے کا رخ میکلوڈ روڈ کی جانب کھلتا ہے تو سرونٹس کوارٹرز کی طویل دیوار برنس روڈ کے ساتھ ساتھ چلتی چلی جاتی ہے! ذرا آگے بڑھیں تو ایک چوک سا آتا ہے۔ اس سے لگ بھگ چھ راستے پھوٹتے ہیں۔ مَیں نے پینتالیس چھیالیس برس کے عرصے میں اِس چوک کو کئی روپ بھرتے دیکھا ہے۔ ڈیڑھ سو برس پہلے جب یہ سڑک بننا شروع ہوئی ہو گی تو جانے اِس چوک کا روپ کیا ہو گا۔ سڑک پہ یاد آیا کہ آخر اس سڑک کا نام برنس روڈ کیوں رکھا گیا؟ ایک روایت یہ ہے کہ انیسویں صدی کے ابتدائی دو تین عشروں میں انگریز نو آبادیاتی حکمراں اپنی فوجیں سندھ کے راستے کا بل تک پہنچانے کی سازشوں میں مصروف تھے تو اِن فوجوں کے ساتھ جیمز برنس نامی ایک ڈاکٹر بھی آیا۔ اس نے ٹالپر میر حکمرانوں کا کچھ علاج معالجہ بھی کیا جس پر وہ خوش بھی ہوئے۔ یوں اُس کا نام اچھے لوگوں میں شمار ہونے لگا۔انگریز اپنے کارندوں کے ناموں کو کسی بھی حوالے سے دوام بخشنے میں ُبخل سے کام نہیں لیتے تھے۔ چنانچہ جب کراچی شہر کا نقشہ بنا تو اس میں ایسے کئی انگریزوں کے ناموں پر قدیم اور اندرون شہر کی سڑکوں کے نام رکھے گئے۔ صرف برنس روڈ کے دائیں بائیں پھوٹتی کئی سڑکوں اور گلیوں کے نام آج بھی بلدیۂ کراچی کے ریونیو ریکارڈ میں اُن ہی انگریزوں کے نام پر ہیں جنہوںنے سندھ کو سلطنتِ برطانوی ہند کا حصہ بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔

Karachi Burns Road Food
Karachi Burns Road Food

مَیں بات کر رہا تھا پانچ چھ سڑکوں والے چوک کی۔ اِسی کے ایک سمت بلکہ سرِراہ برنس گارڈنز بھی ہے۔ کسی زمانے میں یہ باغ رہا ہوگا۔اب تو اگر کچھ پرانے بوڑھے درختوں، گھاس کے قطعوں اور چند ایک چھوٹے چھوٹے کوارٹروں یا جھونپڑیوں کو، جن میں سے بچے اُبلتے پھرتے ہیں، باغ یا گارڈنز کہا جا سکتا ہے تو یہ واقعی برنس گارڈنز ہے۔ ویسے اطلاعاً عرض ہے کہ اِس کی لوہے کے جال والی چاردیواری کے گیٹ پر بڑے بڑے حروف میں ”نیشنل میوزیم آف پاکستان” کا محرابی بورڈ لگا ہو اہے۔ اندر ایک نو تعمیر شدہ آڈیٹوریم بھی ہے۔ یہ گارڈنز سے میوزیم کب بنا اس پر ایک الگ تحریر کی ضرورت ہے۔

ویسے اس کئی سڑکوں والے چوک کو معمولی نہ جانیے۔ سچ پوچھئے تو اِس کے اطراف میں کراچی کی علمی اور تعلیمی تاریخ بکھری پڑی ہے۔ تعلیمی ادارے اور ہاسٹل جنہیں کبھی ملک گیر شہرت حاصل تھی۔ ملک بھر سے حصولِ علم کے پیاسے نوجوان یہاں کھنچے آتے تھے۔ تحصیلِ علم کے بعد کچھ یہیں رہ جاتے تھے۔ بہت سے اپنے اپنے علاقوں کو لوٹ کر علم کے نئے نئے دیئے روشن کرتے تھے۔ پھر اِن تعلیمی اداروں، دانش گاہوں کو جانے کس کی نظر کھا گئی۔ یہ سامنے سندھ مسلم لا کالج ہے، اِدھر بائیں ہاتھ دیکھئے۔ یہ ڈی جے سائنس کالج کی پر شکوہ عمارت دور تک چلی گئی ہے۔ اِسی کے عقب میں این ای ڈی یونیورسٹی کا سٹی کیمپس ہے۔ یہ دائیں ہاتھ ڈی جے آرٹس کالج، سندھ مسلم آرٹس اینڈ کامرس کالج کی بے رنگ و روغن دیواریں ہیں۔ پہلے یہاں علم کی شمعیں روشن ہوتی تھیں۔ پھر جانے کون انہیں ہتھیاروں اور گولیوں کا روپ دے گیا۔ یہ مٹھارام ہاسٹل تھا۔ اس کے گیٹ پر بورڈ اسی نام کا لگا ہوا ہے لیکن اندر رینجرز کا گڑھ ہے۔ ڈی جے سائنس کالج کے پیچھے مشہورِ زمانہ سیوا ُکنج ہاسٹل ہے۔ عمارت کھنڈر ہو رہی ہے۔ گرائونڈ فلور پر تو پھر بھی چند ایک دکانیں اور پریس ہیں لیکن بالائی منزلوں پر چمگاڈروں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ یہ اپنے وقت کے وہ تعلیمی ادارے تھے،جو برِصغیر کی تقسیم سے پہلے برسوں کی محنت کے بعد ہندوئوں اور مسلمانوں نے بلا تحصیصِ مذہب و ملت نوجوانوں کو علم کی روشنی سے مالامال کرنے کی خاطر قائم کئے تھے۔ اللہ اکبر!اب اِسی ُنکڑ یا چوک کے کونے سے برنس روڈ کا وہ حصہ شروع ہوتا ہے جو پیٹ پوجا یا کھانے پینے کی لذید اشیا کے لیے بقول شخصے، بدنام ہے۔ یہاں ہر چند قدم پر گلیاں اور گلیارے پھوٹتے ہیں۔ یہ آئوٹ رام روڈ ہے۔ وہ کیمبل اسٹریٹ ہے۔ اس پر جی نہیں بھرا تو اگلی گلی کو انگریزوں نے اپنے زمانے میں کیمبل روڈ کا نام دے دیا۔ ہمارے بھائی بند بھی کسی سے کم نہ رہے۔ ایک گلی میں دودھ سے مکھن نکالنے کا کام شروع کیا تو اسے مکھن گلی نام دے دیا۔ ساتھ ہی سبزی گوشت کی مارکیٹ بنا دی جہاں آپ کو سوئی دھاگا، زنانہ ملبوسات پر ٹکانے والے بیل بوٹے اور مٹی کا تیل تک، سب مل جاتے ہیں۔ یہ ہوئی ناں بات۔ برنس روڈ کی گلیوں اور خود برنس روڈ پر کسی چیز کی کمی نہیں۔ یہ بھی عموماً دیکھنے میں آتا ہے کہ صبح جس تخت پر اخبار بک رہے ہیں ، شام کو اُسی پر ”تازہ مچھلی” کاٹ کے بیچی جا رہی ہے۔

ہر سال رمضان کے دوسرے ہفتے سے ہر رنگ و نسل کے افطاری کے سامان کی ریڑھیاں اور ٹھیلے اِس قدر تعداد و قطار میں یہاں جمع ہو جاتے ہیں کہ فٹ پاتھوں پر چلنے کا بھی رستہ نہیں ملتا۔ اور اُن خوانچے والوں کی نوع بہ نوع آوازیں۔ گاہکوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا انداز … کسی کو کچھ خریدنا ہے یا نہیں، کوئی صرف آگے بڑھنے کا رستہ ڈھونڈرہا ہے۔ یہ اُن کا مسئلہ نہیں۔ وہ تو اُسے روک کر کھڑے ہو جائیں گے۔ اپنے اپنے پکوان ، پکوڑے، سموسے،ُ ُگلگلے ،مصالہ لگے اُبلے ہوئے کالے سفید چھولے، سونٹھ پانی، گول گپے، کھجلا، پھینی، پھیکی جلیبیاں، سستے داموں بیچنے کی پیش کش کرتے ہیں۔ جوں جوں افطاری کا وقت قریب آتا جاتا ہے، اُن کا نعرۂ مستانہ ہر طرف بلند ہونے لگتا ہے۔ ”ہو گئی شام، گر گئے دام”۔ ہر شے پر دِلّی والوں کی چھاپ ہوتی ہے۔ ہوٹلوں والے، ڈھابوں والے، سب دِلّی والے۔ کسی نے حلیم کا خصوصی رمضان کائونٹر لگا رکھا ہے۔ کوئی تافتان، شیرمال اور خمیری روٹیاں تازہ تازہ نکال رہا ہے، ہر سُو اُن کی مہک ہے۔ دَم پہ رکھا قورمہ جس پر آدھ انچ موتی تری کی تہہ چڑھی ہے اور بریانی، گولا کبابوں کی تیاری، بڑے سے پتیلے میں ُبلبلے چھوڑتی ہوئی بٹ… ہاں بٹ پہ یاد آیا۔ مَیں نیانیا کراچی آیا۔ یہی کوئی پینتالیس چھیالیس برس پہلے۔ ایک بار صبح سویرے برنس روڈ سے گزر رہا تھا تو دیکھا کہ ایک صاحب ریڑھی، ریڑھی پہ انگیٹھی اور انگیٹھی پہ بڑا سا دیگچہ رکھے، اُس میں اُتنا ہی بڑا چمچہ یا کفگیر چلا رہے ہیں۔ ریڑھی پر بڑا سا بورڈ لگا تھا۔ ”دہلی بٹ ہائوس”۔ مَیں رہ نہ سکا اور اُن سے پوچھ لیا کہ میاں یہ آپ بٹ پکا کے بیچ رہے ہیں۔ آپ کو پتا ہے بٹ کون ہوتے ہیں؟وہ صاحب شاید پہلے بھی کسی ایسے ہی تجربے سے گزر چکے تھے۔ میرا سوال پورا نہ ہوا تھا کہ بول اُٹھے۔ ” ارے صاحب! یہ وہ بٹ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ یہ اوجھڑی ہے ۔ اسے دِلّی والے بٹ کہتے ہیں ۔ ” تو یہ ہیں دِلّی والے۔ کھانے کے شوقین اور کھانا پکانے کے بھی شوقین ۔ کہا جاتا ہے کہ گولا کباب دِلّی والوں کا خاص کھاجاہے ۔ دِلّی میں کباب پرلپیٹنے کے لیے دھاگے کی ضرورت پڑی تو انہوں نے سُوت کے کارخانے بھی خود ہی لگالیے۔ اللہ اللہ خیر سَلاّ۔ کباب بھی اپنے اور دھاگا بھی اپنا۔ کسی کی محتاجی کیوں کریں۔

Karachi Burns Road
Karachi Burns Road

برنس روڈ فوڈ مارکیٹ یا اشیائے خورونوش کا مرکز کب سے بنا۔ یہ تو کسی کو معلوم نہیں۔ ہاں ایک روایت ضرور چلی آرہی ہے۔ پاکستان بننے کے بعد سرکاری دفاتر اِسی علاقے کے قرب و جوار میں بنے کیوں کہ وہاں انگریزوں کے زمانے کی بیرکیں موجود تھیں۔ تھوڑے بہت ردّو بدل کے بعد انہیں کمروں یا بیٹھنے اور میز کرسیاں رکھنے کی جگہ میں تبدیل کرلیا گیا ۔ کم تنخواہوں کا زمانہ تھا۔ اتنی فراغت نہ تھی کہ سرکاری ملازمین گھروں کو جاتے اور دو پہر کا کھانا کھاکے دفتر لوٹ آتے۔ اُن سرکاری ملازمین میںبہت سے لوگ ہندوستان کے اُن علاقوں سے ہجرت کرکے آئے تھے جو پڑھے لکھوں کے علاقے تھے۔ اِسی طرح دِلّی کے پکوان والوں نے بھی ہجرت کی تو برنس روڈ کو اپنا مرکز بنایا۔ دھیرے دھیرے ڈھابوں اور ہوٹلوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ سرکاری ملازموں کے لیے آسانی پیدا ہوگئی… اُدھر ڈوبے، اِدھر نکلے۔ دوپہر میں دفتروں سے نکلے اور چند قدم چل کے برنس روڈ پر من مرضی کے ڈھابے پر پہنچ گئے۔ کھانا کھایا اور پھر دفتر میں جابیٹھے ۔ ایوب خان دارالحکومت اٹھا کے اسلام آباد لے گئے تو برنس روڈ کے ڈھابوں کی رونقیں کچھ ماند پڑیں۔ لیکن دِلّی والے بھی آخردِلّی والے ٹھہرے۔ انہوں نے اپنے اس مرکزِخورونوش کو بند نہ ہونے دیا۔ اور آج تو ، ماشاااللہ، اس معاملے میں کوئی علاقہ برنس روڈ کے دِلّی والوں کی گرد کو نہیں ُچھو پاتا۔یہاں ایسے ڈھابے یا َتھلّے بھی ہیں کہ صبح سویرے حلوہ پوریاں بنانا شروع کرتے ہیں۔ سہ پہر تک بیچتے، کھاتے اور کھلاتے ہیں اور شام کو اسی َتھلّے پر بیٹھ کر مزے سے تاش کی بازی لگاتے ہیں ۔ایک دلچسپ بات تو یہ بھی ہے کہ اُن ہی لوگوں نے کھانوں کے ساتھ ساتھ تمبوقناتوں کا کام بھی سنبھال لیا۔ شادی بیاہ کہیں بھی ہو، کھانے اور تمبوقناتیں مہیا کرنے کا اجارہ برنس روڈ والوں ہی کے ہاتھوں میں رہتا ہے۔عین اس مقام پہ بائیں ہاتھ وہ رام باغ ہے جس کا ذکر ہم پہلے بھی کرچکے ہیں۔ یہ ہندوئوں کا ایک مقدس مقام اور تفریح کا سامان تھا۔ اس سارے علاقے میں مکانوں ، بڑی بڑی رہائشی عمارتوں ، دکانوں اور پلاٹوں کے نمبر علاقے کی مناسبت سے آربی(RB) سے شروع ہوتے ہیں جو رام باغ کا اختصار یا ّمخفف ہے۔ پاکستان بننے کے بعد دو تین سخن گسترانہ مسائل کھڑے ہو گئے۔ خود برنس روڈ کا نام مذہبی تقاضوں سے لگاّ نہیں کھاتا تھا۔ اس کا نام محمد بن قاسم روڈ رکھ دیا گیا۔ لیکن یہ نام چل نہ سکا۔

Pakistan
Pakistan

کسی دوسرے علاقے میں رکشا ٹیکسی والے سے کہیں کہ محمد بن قاسم روڈ جانا ہے تو وہ ہوّ نقوں کی طرح آپ کا منہ دیکھنے لگتا ہے۔ دل میں یقینا سوچتا ہے کہ بڑے میاں شہر میں نئے آئے ہیں۔ ہاں برنس روڈ کہیں تو فوراً چلنے کو تیار ہو جائے گا۔ رام باغ کے ساتھ ذرا احتیاط برتی گئی۔ صرف رام کو آرام کر دیا گیا اوریہ چل نکلا۔ اب یہ آرام باغ ہے۔ اب تھوڑا سا حصہ رہ گیاہے برنس روڈ کا۔ آگے اپنے وقت کا مشہور مولوی مسافر خانہ ہے۔ پاکستان بننے سے بہت برس پہلے کسی شریف آدمی نے یہاں ایک مسافر خانہ کھولا۔ اُس شریف آدمی کا نام (سندھی میں) مولا ڈینو یا عام فہم الفاظ میں مولا دین تھا… یہ مولا ڈینو مسافر خانہ تھا۔ اندرونِ سندھ سے آنے والوں کے لیے سستی رہائش گاہ۔ نام بگڑتے بگڑتے ”مولوی مسافرخانہ” ہو گیا۔ پاکستان بننے کے بعد بھی کچھ عرصے تک یہ علاقہ اِسی نام سے معروف رہا،مگر دھیرے دھیرے لوگ اس کو بھولتے گئے۔ اور یہ جامع کلاتھ مارکیٹ بن کے رہ گیا۔ ریونیو ڈپارٹمنٹ اور ڈاکخانے کے پتے میں اسے شاید اب بھی مولوی مسافر خانہ ہی لکھا جاتا ہے ۔ چند برس پہلے تک یہاں ایک بینک کی برانچ کے بورڈ کے نچلے حصے میںچھوٹے حروف میں لکھاہواتو مَیں نے بھی دیکھا۔ ” مولوی مسافر خانہ برانچ”۔ 1965ء تک روز نامہ جنگ اِسی علاقے سے شائع ہوتا تھا اور مَیں نے بھی 1964ء میں یہیں سے، جنگ کے اسی دفتر سے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا تھا۔اخبار کے پتے کے حوالے سے بھی غالباً مولوی مسافر خانہ ہی لکھا جاتا تھا۔اب مَیں برنس روڈ کے بالکل آخری ُنکڑ پر پہنچ رہا ہوں۔ یہ ُنکڑ ماضی کے بندر روڈ اور آج کے ایم اے جناح روڈ پر ہے۔ اِس کے دائیں جانب ریڈیو پاکستان کراچی کی پرانی عمارت ہے…ایک گنبد والی۔ ایک زمانے میں اِس کی شناخت ایک گانا ہوا کرتی تھی۔ بہت ہی مقبول گانا:

بندر روڈ سے کیماڑی ، میری چلی ہے گھوڑا گاڑی
بابو ہوجانا فٹ پاتھ پر
اور اِس گانے کے ساتھ ہی ہم برنس روڈ کو خدا حافظ کہتے ہیں۔

تحریر : رشید بٹ

Share this:
Tags:
karachi military Rulers Sindh حکمرانوں سندھ فوج کراچی
Walid Abu Ali
Previous Post فلسطینیوں کی حمایت پر پاکستان کے شکر گزار ہیں اور ہمیں اس دوستی پر فخر ہے، فلسطینی سفیر
Next Post آتشِ انتقام
Syed Mubarak Ali Shamsi

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close