
قلعہ کالروالہ : پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی تصور کیئے جانے والے زمینداروں سے حکومت کا بھونڈہ مذاق، اعلان کے باوجود زمینداروں کو پانچ ہزار روپے فی ایکڑ کے حساب سے ادائیگی نہ ہوسکی اور نہ ہی کھاد، بیج اور ادویات میں کوئی ریلیف دیا گیا ہے ان خیالات کا کسان رہنما چوہدری اطہر نذیر عرف خالد باجوہ ، چوہدری غضنفر ملہی، چوہدری محمد اسلم بسراء، چوہدری محمد ریاض مٹھا اور چوہدری محمد مشتاق ڈھینڈسہ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کیا انہوں نے کہا کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں کھاد ، بیج اور ادویات کی قیمتوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے مگر دھان ، گندم اور دیگر فصلوں کی قیمتیں کم ہونے سے زمیندار منافع کی بجائے مقروض ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے تنگ آکر بعض افراد زمیندارے کو خیر باد کہنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ی
انہوں نے کہا کہ حکومت نے دھان کی قیمت کم ہونے کی بنا پر اعلان کیا تھا کہ باسمتی چاول کی کاشت کرنے والے زمینداروں کو فی ایکڑ پانچ ہزار روپے ملیں گے جس پر زمینداروں نے اپنے کوائف جمع کروائے تھے مگر کئی ماہ گزر جانے کے باوجود ان کو پیسے نہیں مل سکے جو بہت بڑی زیادتی ہے انہوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ اعلان کر دہ رقم کی فوری ادائیگی کی جائے جبکہ کھاد ، بیج اور ادویات کی قیمتوں میں بھی ریلیف دیا جائے۔
