Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 30, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

یومِ تکبیر تک کا سفر

May 26, 2016 0 1 min read
TAKBEER DAY
TAKBEER DAY
TAKBEER DAY

تحریر: حسیب اعجاز عاشر
قوم کی بے چینی، اضطرابی ،ہاراورجیت،زندگی اور موت کی کشمکش نے دم توڑا جب ٢٨ مئی کو پُرسکون جگمگاتے دن کا آغاز نئی جیت اور نئی زندگی کیساتھ ہوا، سورج ڈھلنے سے پہلے دنیا پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی کے سیاہ و سنگلاخ پہاڑوں کو پیلے زرد رنگوں میں نکھرتے ،بکھرتے اور اُڑتے دیکھ رہی تھی اور فضاتکبیر کے فلک شگاف نعروں سے گونج رہا تھا،ایک کمسن کی رگوں میں بھی خون جوش مار رہا تھااورتن بدن کی گرمائش سے اُسکا چہرہ بھی سرخ گلابی ہو رہا تھا،آنکھیں نم تھیں اور لبوں پے بے ساختہ اللہ اکبر اللہ اکبر کا وردبھی جاری تھا، عجب سی کیفیت تھی،یہ فطری جذبہ حب الوطنی ہی تھی ورنہ آٹھ سال کے بچے کو وطن اور اِس سے محبت اور پھر محبت میں ایسی شدت کی کیا خبر؟۔۔۔۔۔۔نعرہ تکبیر”اللہ اکبر” کی روح پرور صدائیںمیری سماعتوں سے مدھم ہونے کو نہ تھی شاید یہی وجہ تھی کہ”٢٨ مئی کو ایٹمی دھماکوں”پر نام تجویز کرنے کے حوالے سے وزیرِاعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی اپیل پر دل و دماغ میں ایک ہی نام ”یومِ تکبیر” نقش بن کر اُبھرا۔ملک بھر سے کروڑوں نام تجویز کئے گئے ۔مگر ٹی وی پرمیرا تجویز کردہ نام ”یومِ تکبیر” منتخب ہونے کا اعلان ہوا تو میری خوشی قابل دید تھی۔

والد ہ نے ماتھا چوتے ہوئے کہا کہ ”مجتبی ،ہمیں تم پر فخر ہے”۔ تحریری دعوت نامے پر پی ٹی وی کے زیرِاہتمام ایک تقریب میں شرکت کی اور مجھے بدستِ ممنون حسین اور معین الدین حیدر کے وزیرِاعظم کی جانب سے سنداعزاز سے نوازا گیا۔یہ میری زندگی کا بہت بڑا دن تھا۔اُن تاریخی لمحات کا تذکرہ کرتے ہوئے مجتبی رفیق آج بھی آبدیدہ ہوگیااور جذباتی انداز میں فی الفور اپنے کندھے پے لٹکے بیگ سے وہ سندِاعزاز اوروزیرِ اعظم کا خط ہمارے سامنے ٹیبل پر رکھ دیئے۔سند پر رقم ہے ”جناب مجتبے رفیق(کراچی)۔۔الحمداللہ۔۔٢٨ مئی ١٩٩٨ کو پاکستان ایٹمی قوت بنا۔ اِس تاریخ ساز دن کو ہر سال منانے کے لئے آپ نے ”یومِ تکبیر” نام تجویز کر کے قومی خدمت انجام دی ہے۔ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے اِس قومی خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کو سند اعزاز عطا کرتا ہوں۔۔محمد نواز شریف(وزیرِاعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان)”۔۔جبکہ وزیرِاعظم کے دستخط کیساتھ تین پیراگراف پر مشتمل تحریری خط کے آخری الفاظ ہیں ”امید ہے کہ روشنی کے اس سفر میں مجھے آپ کا بھرپور تعاون حاصل رہے گا”۔

Pakistan
Pakistan

”یومِ تکبیر” نام تجویز کرنے والے ہیرو مجتبی رفیق کے معصومانہ تاثرات تک ہی”یومِ تکبیر تک کا سفر” محدود نہیں۔بلکہ ماضی کے اوراق پلٹے جائیں تو مسلم ممالک کو پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت بنانے والے پاکستانی ہیروز اور یومِ تکبیر تک کی داستانِ سفر قابلِ رشک بھی ہے اور بہت کٹھن بھی ،پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دینے والے عظیم کرداروں کو جتنا بھی خراجِ تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔۔سفر کا آغاز ہوتا ہے قائداعظم کی ١٩٤٨ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں ”ہائی ٹینشن ہیبارٹری” کی رکھی گئی بنیاد سے۔سلسلہ بڑھا توڈاکٹر نذیر احمد کی سربراہی میں ١٩٥٥میں ”ایٹم برائے امن” کے پروگرام کے تحت کمیٹی تشکیل دی گئی ۔ یوںڈاکٹر نذیر احمد کی ہی سربراہی میں”اٹامک انرجی کونسل” کا قیام ١٩٥٦ میں عمل میں لایا گیا۔پھر ڈاکٹر عشرت عثمانی کو کمیشن کا ١٩٦٠ میں چیئرمین بنایا گیا تو ٦٠٠ بہترین نوجوان پاکستانی طلباء کو ١٩٦٠ سے ١٩٦٧ کے دوران تربیت کے لئے بیرون ملک بھیجا گیااور ایک سو چھ پی ایچ ڈی کے وطن عزیز لوٹے اور ایٹمی تحقیق کی ٹیم میں شامل ہوئے۔پھرجذبہ حب الوطنی سے سرشار ذوالفقار علی بھٹو شہید کاولولہ و جنون اِس یومِ تکبیر تک کے سفر میں شامل ہوتا ہے ،١٩٦٥ میں شہید بھٹو نے کہا تھاکہ ” ہم گھاس لیں گے لیکن ایٹم بم ضرور بنائیں گے”۔

امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے بھٹو کو دھمکی بھی دی کہ ایٹمی پالیسی ختم نہ کرنے کی صورت پر انہیں عبرتناک مثال بنا دیا جائیگا۔بھٹو کی اسلامی ممالک کی جانب دوستانہ رویے کی بدولت١٩٧٠ میں بلین ڈالر ایران اور سعودیہ عرب کی طرف سے آئے۔بھٹو نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ”جب میں نے پاکستان اٹامک انرجی کمشن کا چارج سنبھالا تو یہ ایک سائن بورڈ اور دفتر کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔میں نے اپنے ملک کیلئے ایٹمی توانائی حاصل کرنے کی خاطر اپنی فطری توانائیاں صرف کرنے کا قصد کر لیا”۔بھٹو نے ٢٤ جنوری ١٩٧٢ کو پاکستان کے مایہ ناز پچاس سائنسدانوں کو ایک پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کو تیزتر کرنے کیلئے اکٹھا کیا تا کہ ساوتھ ایشیا میں طاقت میں توازن قائم کیا جا سکے۔پھر یوم تکبیر تک کے سفر میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شرکت ایک نئا جوش پیدا کرتا ہے جو ذوالفقار علی بھٹو کی دعوت پر وطنِ عزیز میں واپس لوٹے تھے اور ٣١ مئی١٩٧٢ میںپاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے قائم کردہ ”انجیئنرنگ ریسرچ لیبارٹریز” میں اپنی خدمات پیش کرنے کا آغاز کیا ۔

AQ Khan
AQ Khan

٨ سالوں کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ کی تنصیب کو عملی شکل دے کر عبدالقدیر خان نے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے جنرل ضیاء الحق کو دسمبر ١٩٨٤ کو ایٹمی صلاحیت کے سبھی کولڈ ٹیسٹ کامیاب ہونے کے بارے اِس سگنل کیساتھ آگاہ کر دیا تھا کہ دس دن میں پاکستان باقاعدہ ایٹمی طاقت ہونے کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔منیراحمد خان نے فروری ١٩٧٥ میں پلوٹونیم اور یورینیم اور دیگر متعلقہ منصوبوں کے لئے ذوالفقار علی بھٹو کے لئے ٤٥٠ ڈالر منظور کروا لئے تھے۔بھٹو کی دورحکومت میں ڈیرہ غازی خان، کراچی، اسلام آباد، کہوٹہ اور چکلالا سمیت کئی اہم مقامات پر یورینیم کی افزودگی کیلئے پلانٹ لگائے گئے۔

ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد یومِ تکبیر تک کے سفر میں جنرل ضیاء الحق نے بھی ایٹمی پروگرام میں کوئی رکاوٹ حائل نہ کی اور اِسے پورے آب و تاب کے ساتھ جاری رکھا۔١٨ جنوری ١٩٨٧ کو یہ خبر پھیلی کہ انڈیا نے پنجاب میں اپنی بھارتیا وایوسینا کی مدد سے اپنے کمانڈوز اتارنے کا منصوبہ بنا لیا ہے تب جنرل ضیاء الحق نے ”کرکٹ ڈپلومیسی” کا سہار لیتے ہوئے بھارت کا وزٹ کیااور اندراگاندھی کے کان میں کہا کہ ”پٹاخہ ہمارے پاس بھی ہے”تو بھارت کا جنگی جنون اپنی موت آپ مر گیا اور بھارتی فوجوں نے واپسی کا رخ کیا۔١مئی ١٩٨١ میں صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے اِ س لیبارٹری کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام سے منسوب کردیا ۔”ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز” یورینیم کی افزودگی کے حوالے سے بہت مقبول ہے ۔اسی خدمات کے اعتراف میں کراچی یونیورسٹی ١٩٩٣ کی جانب سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ڈاکٹر آف سائنسدان کی اعزازی سند سے نواز ا گیا۔١٩٩٦ میں نشانِ امتیاز اور ١٩٨٩ اور ١٩٩٩ میں بھی ہلالِ امتیاز انکا مقدر ہوئے ۔سابق سفیر پاکستان میاں عبدالوحید نے اپنی خودنوشت میں سفارت خانوں کے ایٹم بم کے حصول کے حوالے سے سبھی کرداروں کو بڑی تفصیل کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔انہوں نے ان تمام خبروں کو جھوٹا قرار دیا ہے کہ ایٹمی پلانٹ میں نصب مشینری کو غیر قانونی طریقہ سے حاصل کیا گیا تھا۔میاں عبدالوحید نے ڈاکٹرعبدالقدیر خان کی آمد سے قبل اٹامک انرجی کمیشن کی ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے کئی اہم انکشافات بھی کئے ہیں ۔

آخرکار فیصلہ کن گھڑیاں آن پہنچیں۔۔١١ مئی ١٩٩٨ کو بھارتی ایٹمی تجربات کے بعد یومِ تکبیر تک کا سفر اپنی درِ منزل پر وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے ہاتھوں اپنی تقدیر کے فیصلے کا منتظر تھا۔۔صدر پاکستان مسلم لیگ(ن)چ گلف چوہدری نورالحسن تنویر اپنے تنصیف ”میرا قائد ” میں بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں حالات کچھ اِس طرح قلم بند کرتے ہیں کہ ٢٧ مئی کی شام وزیرِاعظم ہائوس میں عجیب سماں تھا فوج کے تمام بڑے بڑے افسران وزیرِاعظم ہائوس میں جمع تھے ۔ میرے قائد کے بہت قریبی ساتھیوں کا بیان ہے کہ کئی افسران نے پوری طرح قائد محترم کو مجبور کیا تھا کہ ابھی بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب نہ دیں مگر میرے قائد کسی جواز کو سننے کیلئے تیار نہ تھے۔اوہ صدر بل کلنٹن کی ٥ بلین ڈالر کے اقتصادی پیکج اور ١٠٠ ملین ڈالر کی ذاتی آفر کو پہلے ہی ٹھکرا چکے تھے۔یہی تھی عوامی جذبات کی حقیقی ترجمانی ،بہرحال وزیرِاعظم ہائوس میں عجیب سی کیفیت تھی یونہی تڑپائو اور تنائو کی صورت میں ساری رات بیت گئی۔جونہی صبح کی اذان ہوئی قائد محترم نے اپنی امامت میں ہمیں نماز پڑھائی اور پھر ہمیں کچھ آرام کرنے کا کہہ کر خود اپنے کمرے میں چلے گئے۔پھر کچھ ہی دیر بعد ہمیں ان کے کمرے سے تلاوت قرآن کی آواز سنائی دی وہ ہمیں تو کچھ آرام کا مشورہ دے کر گئے تھے اور خود آرام کرنے کی بجائے خوش الحانی کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے، پھر جونہی ٢٨ مئی کا سورج طلوع ہوا۔ قائد تمتماتے چہرے کے ساتھ اپنے کمرے سے نمودار ہوئے اور پورے جاہ و جلال کے ساتھ ہمیں یہ نوید سنائی کہ ”ایٹمی دھماکہ آج ہو گا اور ہر صورت ہوگا”۔

Pakistan Nuclear Explosion
Pakistan Nuclear Explosion

جبکہ چاغی کے منظر نامے کو کامران امین (پرسٹن انسٹیٹوٹ آف نینو سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، اسلام آباد) نے اپنے ایک مفصل تحقیقی مضمون میں کچھ یوں لکھتے ہیں کہ” چاغی میں اس روز موسم صاف اور خوشگوار تھا۔گرائونڈ زیرو(ایٹمی دھماکے والے علاقے) سے متعلقہ لوگوں کے سوا تمام افراد کو ہٹا لیا گیا تھا۔٢ بج کر ٣٠ منٹ پر پی اے ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر اشفاق احمد، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جاوید ارشد مرزا اور فرخ نسیم بھی وہاں موجود تھے، تین بجے تک ساری کلیئرنس دی جا چکی تھی۔ پوسٹ پر موجود بیس افراد میں سے محمد ارشد کو جنہوں نے ”ٹرگرنگ مشین”ڈیزائن کی تھی بٹن دبانے کی ذمہ داری دی گئی۔تین بج کر سولہ منٹ پر محمد ارشد نے جب ”اللہ اکبر” کی صدا بلند کرتے ہوئے بٹن دبایا تو وہ گمنامی سے نکل کر ہمیشہ کیلئے تاریخ میں امر ہو گئے۔بٹن دباتے ہی سارا کام کمپیوٹر نے سنبھال لیا۔۔۔یہ بیس سال پر مشتمل سفر کی آخری منزل تھی یہ بے یقینی اور شک کے لمحات سے گزر کر، مشکلات اور مصائب پر فتح پانے کا لمحہ تھا۔جونہی پہاڑ سے دھوئیں اور گرد کے بادل اٹھے آبزرویشن پوسٹ نے بھی جنبش کی۔ پہاڑ کا رنگ تبدیل ہوا اور ٹیم کے ارکان نے اپنی جبینیں، سجدہ شکر بجالاتے ہوئے خاک بوس کر دیں۔۔۔۔پاکستان بالآخر مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن چکا تھا”۔یاد رہے کہ میاں نواز شریف ١٧ مئی کو ڈاکٹر ثمر مبارک اور اشفاق احمد کو ایک ملاقات میں ایٹمی دھماکوں کے لئے تیار رہنے کا سگنل دے چکے تھے۔

یو ایس سنٹرل کمال کے سابق سربراہ جنرل زینی نے اپنی تنصیف ”بیٹل ریڈی” میں مفصل قلم بند کیا ہے کہ بل کلٹن کی ہدایت پر ڈیفنس منسٹر ولیم کوہن کی قیادت میں وفد ٹمپا کے ہوائی اڈے پر تیار، اسلام آباد سے گرین سگنل کے منتظر رہے۔جہانگیر کرامت کی کاوششوں سے وزیرِ اعظم نے نواز شریف نے اسلام آباد میں لینڈنگ پر رضامندی کا اظہار تو کر دیا مگر انکی کوششیں میاں نواز شریف کو ایٹمی دھماکوں سے روکنے میں بالکل ناکام رہ گئیں۔بل کلٹن نے ٢٥ منٹ جاری رہنے والی ٹیلیفونک گفتگو میں میاں نواز شریف کو ایٹمی دھماکے نہ کرنے پر زور دیا مگر وزیرِاعظم پاکستان نے انکی آٹھ کالز پر انکار کیا جسے کلٹن نے اپنی سوانح حیات میں کچھ اِس طرح لکھا ہے کہ ”نواز شریف نے کہا کہ میں نے اگر دھماکہ نہ کیا تو عوام میرا دھماکہ کر دے گی”۔ٹونی بلیئر سمیت کئی دیگر ممالک کے سربراہان کی ٹیلی فون کالز بھی وزیرِاعظم کو اپنے دو ٹوک موقف سے نہیں ہٹا سکیں۔سعودی مفتی اعظم نے عبدالقدیر خان کو اسلامی دنیا کا ہیرو قراردیا۔مغربی دنیا نے پاکستان کے ایٹم بم کو ”اسلامی بم” کے نام دے کر ایک نئا پروپیگنڈاا شروع کر دیا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھی اپنے خط بنام وزیراعظم ِمیں ایٹمی دھماکوں کے بروقت فیصلے پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم سب نے ایک دن اس دنیا کو خیرباد کہنا ہے لیکن تاریخ آئندہ نسلوں کو یہ یاد دہانی کراتی رہے گی کہ نواز شریف نے پاکستان کے وجود، آزادی اور وقار کو اپنی حکمرانی پر ترجیح دی۔پانچ چاغی کے پہاڑوں میں اور چھٹا خاران کی پہاڑوں میں کئے جانے والے ایٹمی دھماکے کے فیصلے کے حوالے سے جاوید ہاشمی نے اپنی کتاب ”ہاں! میں باغی ہوں” میں لکھا ہے کہ ”نواز شریف ۔۔پاکستان از پراوڈ آف یو”۔

یوم تکبیر تک کا سفر جتنا کٹھن تھا اُتنا دلخراش بھی،جن پاکستان کے عظیم فرزندوں نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا یاانہیں تو خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے تھا ، ماتھے کا جھومر سر کا تاج بنانا چاہیے تھا ،اُن محسنوں کے ساتھ ہماری آنکھوں نے کیا کیا ہوتے نہ دیکھا۔بھٹو کو ١٩٧٩ کو تختہ دار پر لٹکتے دیکھا تو اُف تک نہ کیا ۔ضیاء الحق کے طیارے کو ہماری آنکھیں ایک سازش کے تحت تباہ ہوتے دیکھتی رہیں ۔جسکے حوالے سے مورخ اب بھی بے شمار سوالات کے جواب کی تلاش میں ہے ۔ ١٢ اکتوبر ١٩٩٩ کو تاریخ ساز دو تہائی مینڈیٹ لینے والے وزیراعظم نواز شریف کو معزول کر کے ملیرجیل کے ١٢۔١٠ کے ایک کمرے میں منتقل ہوتے بھی ہم نے دیکھا ہے۔ایک بار پھر اقتدارا نکا مقدر بنا ہے مگر سازشیں آب بھی تعاقب میں ہیں۔پرویز مشرف کی دورِ حکومت میں پاکستان کو ایٹمی صلاحیت کے حصول کے حوالے سے اہم معلومات دوسرے ممالک کو مہیا کرنے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا تو قوم و ملت کے عظیم تر مفاد میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اِن الزمات کے تیروں کے لئے اپنا فولادی سینا پیش کرتے ہوئے وہ گناہ تسلیم کرتے ہوئے بھی دیکھا جو ان سے سرزد ہی نہ ہوا تھا ۔اختتام اُسی نواجوان پرجس سے آغاز ہوا۔ مجتبی رفیق پوسٹ گریجویٹ کر کے لندن سے پاکستان تو لوٹ چکے اور اب ہم انہیں باعزت روزگار کے حصول کی جستجو میں گلیوں کی دھول اُڑاتے دیکھ رہے ہیں مگر کہیں سنوائی نہیں۔اس امید کے ساتھ پچھلے دو ماہ سے لاہور میں قیام پذیراِس جدوجہد میں ہیں کہ شایدکوئی حکمرانوں تک اِن کی سوالیہ آنکھوں کی بے بس پکار پہنچا دے کہ”یقینا روشنی کے ہرسفر میں آپ کو میرا بھرپور تعاون حاصل رہے گا”مگر مجھے۔۔۔۔۔۔؟؟

Haseeb Ijaz Ashir
Haseeb Ijaz Ashir

تحریر: حسیب اعجاز عاشر

Share this:
Tags:
Grant life made Research travel تحقیق زندگی ساختہ یوم تکبیر
Nawaz Sharif
Previous Post ہمیں بھی وہاں لے چلو
Next Post فیسکو میں گریڈ 4 کی تقرری کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور
FESCO

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close