
تیرے غم کی بشارت چاہتے ہیں
کوئی لمبی مسافت چاہتے ہیں
ستاروں سے کہو آرام کر لیں
کہ ہم صبحِ ملامت چاہتے ہیں
پرانے زخم بھر جانے سے پہلے
کوئی تازہ عنایت چاہتے ہیں
جو زخمِ ہِجر کو گہرائیاں دے
وہی عملِ جراحت چاہتے ہیں
یہ کیسا دیس ہے جِس میں پرندے
درختوں سے بغاوت چاہتے ہیں
تمہارا شہر ہو تم کو مبارک!
مسافر اب اجازت چاہتے ہیں
کِسی کے ذِکر سے معمور ساحل
وہی حرف و حکایت چاہتے ہیں
ساحل منیر
