
متاع یاد کو دل میں سنبھال رکھا تھا
وہ بھولنے نہ پائے اس کا خیال رکھا تھا
کب تلک ان حوصلوں کو آزمائو گے
وقت رخصت اس کے آگے سوال رکھا تھا
ہزار بار کے سنے جھوٹے وعدوں کی
بدنمائی میں بھی لطف جمال رکھا تھا
زر نگیں لمحے جو وقت کے ہاتھوں سے پھسلتے رہے
بے قر ا ری میں بھی اطمنان کمال رکھا تھا
اور جب لوٹ کے آیا ، تو پہلی بات یہ کی
تم نے تو میرے خیال کو دل سے نکال رکھا تھا

تحریر: مسز جمشید خاکوانی
