تیرے ہاتھوں میں اگر جام ہمارا ہوتا
پھِر کہیں شہرِ تماشا میں گزارا ہوتا
ہم شبِ غم کی مسافت سے نہ خائف رہتے
تو اگر صبحِ تمنا کا سِتارا ہوتا
ہم پلٹ آتے زمانے سے چھڑا کر دامن
تونے اِک بار اگر دِل سے پکارا ہوتا
جَس نے ہر ستِم زمانے کا سہا تیرے لئے
کاش وہ شخص تجھے جان سے پیارا ہوتا
یوں نہ ہر سنگِ ملامت کا نشانہ بنتے
بزمِ ساقی میں اگر کوئی سہارا ہوتا
تحریر : ساحل منیر
