زخم رِستے رہے ہیں پائوں کے
ہم نے دیکھے ہیں دِن سزائوں کے
گھر کے آنگن سے خوف آتا ہے
سائے پڑتے ہیں جب بَلائوں کے
ایسا اترا ہے ہِجر کا موسم
جلتے رہتے ہیں پَر ہوائوں کے
ان کی راتیں بھی نور افشاں ہیں
خواب زندہ ہیں جن کی مائوں کے
ہم سے رِندوں کی بزم میں ساحل
بھید کھلتے ہیں پارسائوں کے

تحریر: ساحل منیر
