Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

ڈاکٹر فرائیڈرک سیموئیل ہانیمن

April 9, 2017 0 1 min read
Samuel Hahnemann
Samuel Hahnemann
Samuel Hahnemann

تحریر : ڈاکٹر تصور حسین مرزا
ہومیوپیتھک طریقہ علاج جو بے ضرر موثر اور قدرتی ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے آج ہومیوپیتھک طریقہ علاج کے بانی ہانیمن کا تذکرہ ضروری ہے کیونکہ 10 اپریل بانی ہومیوپیتھی کی سالگرہ ہے۔ ہانیمن سالہا سال کی تحقیق و جستجو کے بعد بنی نوع اانسان کی فلاح وبہبود کیلئے جو کارہائے نمایاں انجام دیئے زندہ ثبوت ہیں۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ہانیمن کے طریقہ علاج کو دوسرا عظیم ترین تھیراپیوٹیک (امراض کی روک تھام) سسٹم قرار دیا ہے۔اسی عظیم ہانیمن کا یوم ولادت ہر سال 10 اپریل کو جوش و خروش سے منایا جاتا ہے ہانیمن نے انیسویں صدی کے ابتداء میں بہت شہرت پائی ، امریکہ بلکہ پورے یورپ میں ہومیو ادویات بڑی مقدار میں بلاروک ٹوک استعمال کی جارہی ہیں۔ ہومیوپیتھی جس سے ہزاروں مریض اللہ کے حکم سے شفاپا رہے ہیں۔

1707ئمیں کیمیا دان جان فرائیڈرک باٹگر اور طبیعات کے ماہر والٹر وان یورپ کے شہر شماس میں پہلی دفعہ چینی کے برتن بنانے کا آمیزہ تیار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس طرح 1710ئکو جرمن ریاست سکیسونی میں چینی کے برتن بنانے کا کارخانہ قائم ہوا۔ ان میں ہومیوپیتھی کے بانی فرائیڈرک سیموئیل ہانیمن کے والد کرسچن گوٹ فرائیڈ ہانمن بھی تھے۔ جو لاش ٹیڈ سے ہجرت کر کے میسن سکیسنی آئے۔ فریڈرک سموائیل ہانمن کی ماں جوانا کرشٹینا ایک سکیسونی کپتان کی بیٹی تھی۔ سات سالہ جنگ (63ـ1756) کے دوران چینی کے برتن بنانے والی فیکٹری تباہ ہو گئی۔ ۔ اس طرح یہ خاندان انتہائی غربت کے عالم میں زندگی گزارنے لگا ہومیوپیتھی کے بانی غیر معمولی عالم فرائیڈرک سیموئیل ہانیمن میسن سکیسونی میں 10 اپریل 1755ئکو پیدا ہوئے۔ آپ کا قد”3ـ6′ تھا خاندان کے لوگ اس کو پیار سے ہینی کہہ کر پکارتے تھے اپنے بہن بھائیوں میں آپ کا کا تیسرا نمبر تھا۔ خاندان کی غربت نے ہانیمن کی تعلیم پر خاصہ برا اثر ڈالا۔ اس کے باوجود ہانیمن کے والد نے اس کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی ۔کل سکول کی تعلیم یونورسٹی آف لیپزنگ اور یونیورسٹی آف ویانا’ایم ڈی 1779ایرلانگنیونیورسٹی’ پروفیسر12ـ1811 لیپزگ یونیورسٹی۔ ابتدائی تعلیم اس نے اپنے والد اورمیسن سکیسونی کے سٹی سکول سے حاصل کی۔ اس کے بعد اس نے ایس ٹی افرا کے پرنس لی سکول میں داخلہ لیا۔ وہ اکثر اپنے باب کو کام کرتا دیکھتا اور ہر چیز کے بارے میں سوال کرتا تھا۔

ہانیمن نے لڑکپن سے ہی اپنی تعلیم کی طرف مکمل توجہ دینی شروع کی اور ابتدائی تعلیمی زندگی میں ہی کافی غیر ملکی زبانوں میں مہارت حاصل کرنا شروع کر دی۔ پرنس لی سکول سے امتحان پاس کیا۔ 1775ئمیں ایک خیرخواہ جس کا نام گارنر تھا ہانیمن کو طب کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے لیپزگ بلا لیا۔ اس وقت ہانیمن کے معاشی حالات بہت زیادہ خراب تھے معاشی بچا? کیلئے ہانیمن نے غیر ملکی ساتھی طلبائکو مختلف زبانوں سے متعلق اسباق پڑھانے شروع کر دیئے اور طب’ کیمسٹری پر غیر ملکی تحقیقات کے تراجم کئے۔ 1777ئمیں لیپزگ میں چار جماعتیں پڑھنے کے بعد اسے چھوڑ دیا۔ کیونکہ یہاں عملی تربیت کیلئے کوئی مطب یا کلینک نہ تھا۔ جس سے طلبہ کو طب کے عملی پہلو کو سیکھنے کا موقع ملے تو ہانیمن وہاں سے ویانا آگئے۔ ویانا میں ہانیمن کو برون جوزف وان کورین (1814ـ1733) جو ملکہ ماربر تھریسا (1717ـ 1780) کا تاحیات طبیب اور ہسپتال کے سربراہ کی زیر نگرانی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ برون جوزف وان کورین نے ہانیمن کی پوشیدہ صلاحیتوں کو جلد پہچان لیا اور اس کو اس بات کی اجازت دے دی کہ وہ اس کے ساتھ پرائیویٹ مریضوں کے معائنے کیلئے جایا کرے۔ ہانیمن اس کے شاگردوں میں واحد شخص تھا جسے یہ اعزاز حاصل ہوا۔ تاہم ایک مرتبہ پھر ہانیمن کو معاشی قوتوں نے روک دیا’وہ اپنی تعلیم حاصل نہیں کر سکتا تھا۔

کئی ماہ تک نوکری ڈھونڈتا رہا۔ 1780ئمیں ازلبن Eislebenکے نزدیک ہٹ شیٹیڈHettstedt چلا گیا اور اسی سال اس نے ایک طبی معالج کے طور پر اپنی پریکٹس Magdeburg کے نزدیک گومرن میں شروع کر دی۔ 1781ئکے موسم بہار سے اس نے ڈیسا? میں کام شروع کر دیا’ نوجوان ڈاکٹر نے چلتی پھرتی پیشہ وارانہ زندگی شروع کر دی اور ایک دوا ساز کچلرKuchler کی سوتیلی بیٹی جوھاننا ہینریٹ Johanna Henriette سے شادی کر لی اس اس وقت ہانیمن کی عمر 27 سال تھی۔ اس شادی کے نتیجے میں ان کے ہاں 9 بچے پیدا ہوئے(بعض روایات میں11بچے ہیں) جن میں 7 بیٹیاں اور2بیٹے تھے۔پہلی بیٹی ہینرٹاجو1783میں پیدا ہوئی’بیٹافریڈک 1786میں پیداہوا’1788میںبیٹی ویلیلمیناپیدا ہوئی’1791میںایک اوربیٹی کیرولین’1795میںبیٹی فریڈریکا’پھر ایک بیٹا1798میںارنسٹ’1805میں بیٹی کارلوٹ اور1806میں آخری بیٹی لوئسہ پیدا ہوئی۔ 1781ئمیں ہانیمن ڈاکٹر آف میڈیسن بن گیا اور اس نے روایتی ایلوپیتھک ادویات پر کام شروع کر دیا۔ شادی کے ابتدائی سالوں میں اپنے گھریلو اخراجات کو پورا کرنے کیلئے اس نے پریکٹس شروع کر دی تھی ساتھ ہی سائنسی اور طبی کتب کا ترجمہ بھی کرتا رہا۔ یہ وقت ڈاکٹر ہانیمن نے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ شدید غربت میں گزارا وہ اپنے خاندان کے ساتھ ایک کمرے میں رہتا۔ جس کو ایک پردے کے ذریعے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا دن میں اپنی تحقیق پر کام کرتے اور دوسری رات جاگ کر مختلف تصانیف کا ترجمہ کرتا۔ ہانیمن اس طرح اپنے گھریلو اخراجات پورے کرتا رہا۔

جلد ہی ہانیمن کا اس زمانے کے طبی طریقے کار سے اعتقاد ختم ہو گیا اور آپ 1783ئمیں ڈریسڈن چلے گئے جہاں آپ نے فرانزک میڈیسن forensic medicine کے شعبے کیلئے خود کو وقف کرنے کا فیصلہ کر لیا لیکن اس کوعوامی مقبولیت پھر بھی حاصل نہ ہو سکی۔ 1784ء ”جلدی امراض”پر ایک کتاب لکھی جس میں بتایا گیا کہ زخموں کے علاج اور ہڈیوں کو گلنے سڑنے سے کیسے بچایا جائے۔ 1786ئمیں ہانیمن نے سنکھیا کے زہر کے متعلق ایک کتاب لکھی جیسے اس دور میں کافی پذیرائی ملی اور 1787ئمیں شراب کی جعلسازی کو جانچنے کا طریقہ ایجاد کیا اس کا یہ تجربہ مقبولیت حاصل کر گیا۔ 1789ئہانیمن نے ایک مرتبہ پھر لیپزگ کا رخ کیا اور جہاں اس نے حل پذیر پارہ تیار کیا جو جنسی بیماریوں کے علاج کیلئے استعمال ہوا۔ اس وقت تک وہ جانا پہچانا کیمیا دان بن گیا۔ ہانیمن کی ایلوپیتھک پریکٹس کا دورانیہ تقریباً 10 سالوں پر محیط تھا۔ اس دوران اس نے ہر ممکن حد تک ایلوپیتھک ادویات کا کم استعمال کرتے ہوئے ورزش اور مناسب خوراک کا استعمال کرایا اور مریض کو اضافی تکالیف سے بچایا۔ 1790ئمیں اس نے اپنی ایلوپیتھک پریکٹس کو مکمل طور ختم کر دیا اور خود کو کیمیا اور تصانیف کیلئے وقف کر دیا۔ (Haehl ` Reprint1992 ` Vol1ـ p64) اسی دوران اس نے ریڈن برگ کے طبیب ولیم کولن کے ایک میٹریا میڈیکل کے ترجمہ کے دوران پڑھا کہ دوا سنکونا (چائنہ یا کونین) ملیریا بخار کے علاج میں مفید ہے۔ کیونکہ یہ دوا ذائقے میں کڑوی اور جسم کی بافتوں کو کھولنے والی ہے اور اس کا معدہ پر خاصا اثر ہے۔

ہانیمن اس بیان کی سچائی سے مطمئن نہ ہوا اس طرح تو تمام کڑوے اور سکڑنے والے مادے ملیریا کے علاج میں موثر ہونے چاہئیں لیکن وہ نہ تھے۔ لہٰذا ہانیمن نے سنکونا کے اثرات کا خود پر تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ دریافت کیا کو سنکونا کھانے سے جو اثرات یا علامات اس کے اندر پیدا ہوئیں وہ ملیریا جیسی تھیں۔ دوائی چھوڑنے کے چار روز بعد یہ علامات خود بخود ختم ہو گئیں یہ پہلا ہومیوپیتھی ثبوت تھا اور یہ ہومیوپیتھی کے پہلے قانون کی دریافت Similia Similibus Curentur یا Like Cure like علاج بالمثل ہانیمن نے اپنی اس نئی دریافت کو ہومیوپیتھی کا نام دیا ہومیو (ایک جیسا) پیتھی (بیماری) مزیدنتائج کیلئے اس نے اس وقت کی دوسری ادویات تجربات شروع کردئے اور بیلاڈونا’ ایکونائیٹ’ اور کیمفر اور ان سے پیدا ہونے والی علامات کا مطالبہ کیا ان تجربات کے نتائج کی روشنی میں نئے طبی اصولوں کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا۔ہانیمن کی اکیلی اور کم سے کم دوا سے علاج کا طریقہ دوا سازوں کی طاقتور تنظیموں کیلئے خطرہ بن گیا اور سب اس کے مخالف ہوگئے۔ ہانیمن کی زندگی کا یہ دور دوبارہ تبدیل ہونے والا تھا 1792ئسے 1805 تک اس نے اپنے بڑھتے ہوئے خاندان کے ساتھ دس مرتبہ ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کی۔ 1794ئمیں مولسلیبن Molshlebenسے پائیرمونٹ Pyrmontگیا اور اسی سال گوٹنجن پہنچا۔ 1799ئیا 1800ئہمبرگ الٹونا گیا یہاں ہانیمن نے مزاحیہ ڈرامہ نگار ویسل کا علاج کیا جو تقریباً 1786ئسے پاگل پن کا شکار تھا۔ 1796ئمیں ہانمن اپنا طبی نظریہ پیش کیا جو 1796ئکو ہیوف لینڈ کے جریدے میں شائع ہوا جس میں اس نے اپنے کونین سے متعلق تجربات کے بارے میں اظہارخیال کیا کہ ادویات زیادہ طاقتور ہیں جو کہ صحت مند جسم میں شدید بیماری پیدا کر دیتی ہیں۔ تاہم وہ اس نظریہ تک پہنچنے میں کہ ایک جیسی چیز کا علاج اس جیسی چیز ہی سے ہے ابھی بہت دور تھا۔

معالجین اور فلسفیوں نے اس نظریہ کو وقت کے ساتھ ساتھ ہزاروں سال میں جدت دی تھی۔ ۔1808ئمیں ہانیمن نے ایک مشہور معالج کرسٹوف ولیلم ہوف لینڈ Christoph Wilhelm Hufeland کو ایک خط لکھا کہ میں طب کے عام طریقہ علاج پر 18 سال سے عمل پیرا رہا ہوں اور یہ بہت سی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے کیونکہ یہ طریقہ علاج نئی بیماری کو پیچیدہ کر سکتا ہے اس کے علاوہ یہ انتہائی بے ترتیب ہے۔ہانیمن کی ہومیوپیتھی تعلیمات کا مکمل خلاصہ ہانیمن کی کتاب آرگنین میں 1810ئمیں Dresdenڈریسڈن میں منظرعام پر آیا۔ ہانیمن نے اس میں ایک جامع نظریاتی نظام پیش کیا ہے جو کہ 291 پیراگراف پر مشتمل ہے۔ ہانیمن کے انسان کو مکمل طور پر فوقیت دی اور اس کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی پر زور دیا۔ اسی سال جب نپولین نے لیپزگ پر حملہ کیا توتقریباً 80,000 ٫ لوگ مارے گئے ہانیمن نے جنگ میں بچ جانے والے اور ٹائیفائیڈ کی وبائسے متاثر ہونے والوں کا علاج کیا جو ہومیوپیتھی کو پھیلانے میں معاون ثابت ہوا۔ ہانیمن نے لیپزگ یونیورسٹی میں پڑھایا جہاں اکثر اس کے لیکچر تندو تیز حملوں میں روایتیادویات Conventional Medicine کے خطرناک طریقہ علاج کے خلاف تبدیل ہوجائے تو اس کے طالبعلموں نے ہانیمن کا نام ”بڑھتا ہوا طوفان” رکھ دیا۔مریض کے بارے میں ہانیمن کی تحقیق انفرادی طور پر ہوا کرتی تھی ہر بیماری کو وہ انفرادی طور پر دیکھا کرتا تھا۔ 1799ئمیںاس نے مریضوں کے باقاعدہ ریکارڈ لکھنے شروع کئے۔ ہومیوپیتھی پر اس کا دوسرا بڑا تحقیقی کام چھ جلدوں پر مشتمل ”میٹریا میڈیکا پیورا” 1811ئاور 1821ئکے درمیان شائع ہوا۔1821ـ1811ئکے دوران ہانیمن لیپزگ میں اپنی پریکٹس میں مصروف ہوگیاتھا 1812ء اسے یونیورسٹی میں استاد کا عہدہ دیا گیا۔ اس طرح وہ اپنے نظریہ ہومیوپیتھی کو طلبائتک پہنچانے میں کامیاب ہوگیا۔ایک بار یہ عظیم انسان اپنے آبائی جائے پیدائش نے دلبرداشتہ ہوکر لیپزگ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا 1821ئمیں جب ہانیمن کی عمر 66 برس تھی تو ڈیوک آف کوتھن نے ہانیمن کو کوتھن آنے کی دعوت دی۔ جیسے اس نے قبول کر لیا ڈیوک نے اس کوتاحیات ادویات تیار کرنے کی اجازت دے دی1828ئمیں ہانیمن نے اپنے چار جلدوں پر مشتمل کام کی پہلی تین جلدوں کو شائع کیا۔ اس میں اس نے پرانے امراض سے متعلق نظریہ کو پیش کیا۔ا1829ئمیں ہانیمن نے اپنی ڈاکٹری کی ڈگری کی پچاسویں سالگرہ منائی۔ 400 معالجین نے اس کے منانے کے لاطینی پروگرام پر دستخط کئے اور اسی سال جرمنی ہومیوپیتھک ڈاکٹروں کی تنظیم بنائی گئی۔ 1831ئمیں ہانیمن نے ایک کتاب ”ایلوپیتھی ہر قسم کے بیمار لوگوں کیلئے انتباہ” شائع کی۔

Dr Tasawar Hussain mirza
Dr Tasawar Hussain mirza

تحریر : ڈاکٹر تصور حسین مرزا

Share this:
Tags:
birthday Research successful تحقیق علاج کامیاب منایا ہومیوپیتھک یوم ولادت
Sargodha killing
Previous Post تاریخِ تصوف اور موجودہ ڈھانچہ
Next Post جے یو آئی صدسالہ عالمی اجتماع کے انعقاد سے دوررس نتائج نکلیں گے۔ مولانا محمد صدیق مدنی
Mohammad Siddiq Madani

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close