
نئی دہلی (جیوڈیسک) بھارت میں شادی سے پہلے فریقین کی جاسوسی کرنے والی ایجنسیوں کی بہتات ہے اور یہ لوگوں کے ماضی کے تعلقات ، آمدن اور خاندانی پس منظر سے متعلق معلومات حاصل کرتے ہیں۔ اس سلسلے نے دو عشرے پہلے رواج پانا شروع کیا اور اب یہ ایک عام سی بات ہو چکی ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق ہر خاندان چاہتا ہے کہ بیٹے یا بیٹی کے لیے جو بر ملے وہ دھوکے باز نہ بلکہ اصلی ہو۔ جاسوسی کرنے والی کیونکہ زیادہ تر خواتین ہوتی ہیں اس لئے خاتون جاسوسوں کی مانگ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔
شادی سے پہلے تحقیقات کروانے کا کاروبار اس لیے بھی پھیل رہا ہے کیونکہ زیادہ تر شادیاں انٹر نیٹ پر طے ہوتی ہیں۔ زیادہ تر لڑکے خود کو لڑکی اور اس کے گھر والوں کے سامنے دولت مند ظاہر کرتے ہیں۔ اکثر ممکنہ داماد ڈیزائن دار لباس پہنتے ہیں ، پرتعیشں گاڑیاں چلاتے ہیں اور مہنگے کیفیز میں ملاقاتیں کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے بعض خاندان کو ان کے معاشی حالات کے بارے میں شبہ ہوتا ہے اور وہ اس کی تحقیقات کروانا چاہتے ہیں۔ شادی سے پہلے کروائی جانے والے تحقیقات کی فیس امریکی 500 ڈالر یعنی تقریباً 30000 بھارتی روپے ہیں۔ جبکہ شادی کے بعد کروائی جانے والی تحقیقات کی فیس نسبتاً زیادہ ہوتی ہے کیونکہ اس میں زیادہ شواہد اکھٹے کرنا ہوتے ہیں۔
