Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

بھارت میں سب ٹھیک ہے…… بس ذرا

July 23, 2020 1 1 min read
India Workers
India Workers
India Workers

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری

اس وقت ہمارا ملک بھارت بہت ہی مشکل حالات سے دو چار ہے اور یہاںکے عوام سخت ترین،بلکہ بدترین وقت سے گزر رہے ہیں ۔ لوگوں کا کہنا ہے ایسے مشکل حالات سے کبھی سامنا نہیں ہوا۔ ویسے اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ ایسے پریشان کن حالات ملک میں اچانک نہیں آئے ۔ ایسے نا گفتہ بہ حالات کی دھمک گزشتہ چند برسوں سے بہت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی ۔ جن کی طرف ملک کے بعض بہت سنجیدہ سیاست دانوں ، دانشوروں اور صحافیوں(گودی میڈیاکے صحافیوں کو چھوڑ کر) نے بار بار نہ صرف اشارہ کیا بلکہ بہت کھل کر متنبہ کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن افسوس کہ ان اشارے اور تنبیہ کرنے والوں کوملک اور عوام دوست سمجھنے کے بجائے انھیں ملک دشمن ، غدار وطن اور اسی طرح کے کئی القاب سے نوازا گیا ، انھیں نا کردہ گناہوں کی سزا دی جانے لگیں، جھوٹے مقدموں میں، NSA اور UAPA جیسے دفعات میں پھنسا کر انھیں جیلوں میں ڈال دیا گیا اور عام عوام کو جھوٹ اور صرف جھوٹ کی تھپکیاں دلا کر سُلا دینے کی کوشش کی گئی اور کہا گیا کہ ملک کی ترقی میں کوئی مسئلہ حائل نہیں ہے ، بڑی برق رفتاری سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ ملک کے اندر اقتصادی حالات بھی بہت اچھے ہیں ۔

ملک کے آئین ، جمہوریت اور رواداری پر کہیں کوئی حرف نہیں۔لیکن در حقیقت بھارت کی زوال پزیر معیشت ، بے روزگاری،آرٹیکل 370 کو بے اثر کئے جانے، ملک کی بڑی آبادی کے حقوق صلب کئے جانے ، آزادیٔ اظہار پر سخت پہرے بٹھائے جانے ،بڑھتی سیاسی بد عنوانی، ملک کے آئینی اداروں کو بے اثر کر ان سے اپنا سیاسی مفاد وابستہ کئے جانے ، فرقہ واریت کو بڑھا کر سیای مقاصد کی تکمیل ،ملک کی صدیوں پرانی گنگا جمنی تہذیب کو پامال کرتے ہوئے ملک کے اقلیتوں ،قبائلیوں اور دلتوں کو حاشیہ پر ڈالنے ، ان پر ہونے والے ظلم، تشدد، حیوانیت و بربریت پر خاموش رہ کر ان کی حوصلہ افزائی کئے جانے کی کوششوں میں لگے رہے ۔ پورے ملک کے اندر اپنے سیاسی (منفی) مفادات کے حصول کے لئے غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کر دیا گیا ، ہر جانب خوف و دہشت کی فضا تیار کی گئی کہ کوئی اس حکومت کے خلاف بولے نہیں ، کوئی کچھ سوال نہیں کرے ۔یہ اس لئے کیا گیا کہ ہر محاذ پر ہونے والی ناکامیوں پر پردہ پڑا رہے ۔ دانستہ طور پر ملک کے بے حد تلخ حقائق سے نہ صرف رو گردانی کی گئی۔ بلکہ انتہا تو یہ کی گئی کہ ملک کے باہر ہزاروں میل دورامریکہ میں بسنے والے ہندوستانیوں سے ، گزشتہ سال کے ستمبر ماہ میںہی بڑے فخر اور (جھوٹے) اعتماد کے ساتھ ملک کی کڑوی سچائیوں کو پوری طرح نظر انداز کرتے ہوئے ”بھارت میں سب ٹھیک ہے ، آل از ویل ان انڈیا” کہا گیا۔ اس ”جملہ” پر امریکہ کے شہر ہیوسٹن میں این آر جی اسٹیڈیئم کے اندر شامل ہونے والے ہزاروں ملک کے حالات سے بے خبر’اندھ بھکتوں’ نے ملک کے وزیر اعظم جیسے ذمّہ دار شخص کی زبان سے اداکی گئی اس بات پر دیر تک تالیاں بجائیں ۔ لیکن ملک کے حقائق سے با خبر اس اسٹیڈیئم کے باہر ہزاروں ہندوستانی جو امریکہ میں رہائش اختیار کر چکے ہیں ، یہ لوگ عالمی میڈیا کے سامنے اپنے ملک کی بہت تیزی سے بڑھتی سیاسی، سماجی، تعلیمی، اقتصادی، صنعتی، طبّی زبوں حالی نیزملک کی صدیوں پرانی آپسی اتحاد و اتفاق کے درمیان بڑھتی خلیج کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے اور ان کے سفید جھوٹ کی پول کھول رہے تھے ۔

امریکہ کے ہیوسٹن شہر میں گزشتہ سال ہونے والے اس ‘ہاؤ ڈی مودی’ کی یاد دلانے کے پیچھے میرا مقصد یہ ہے کہ ہمارے وزیر اعظم بھارت سے باہر جا کر ملک کی بالکل برعکس تصویر پیش کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایسے وقت میںوہ شائد یہ بھول جاتے ہیں کہ اس وقت پوری دنیا ایک گلوبل ویلیج میں تبدیل ہو گئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مودی جی بیرون ممالک میں جو کچھ بولتے ہیں دوسرے ہی دن ان ممالک کے اخبارات اور چینل ملک کے تلخ حقائق پیش کر دیتے ہیں ۔ جس کی وجہ کر ملک حکمراں کو مذاق کا موضوع بنایا جاتا ہے، لیکن انھیں اپنی کی جانے والی سبکی کی فکر ہوتی ہے ۔لیکن ملک اور بیرون ممالک کے ہندوستانیوں کو ان باتوں کا احساس شدت سے ہونا فطری ہے ۔

ملک کی ان دنوں بھی یہی صورت حال ہے۔ بیرون ممالک کے اخبارات ، ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا پر جس طرح ملک کی مسخ شدہ تصویر پیش کی جارہی ہے ، اقوام متحدہ بار بار متنبہ کر رہا ہے ، کئی دوسرے ممالک کے صحافیوں ، ادیبوں ، شاعروں ،دانشوروں اور سیاسی تجزیہ کاروں کے ذریعہ جس طرح سے اپیل پر اپیل جاری کی جارہی ہے ، نیز ملک کے حزب مخالف ، سبکدوش فوجیوں ، کالجوں ،یونیورسٹیوں کے اساتذہ،فن کاروں ، صحافیوںاور دانشوروں کی بار بار ملک کے بڑھتے مسائل پر توجہ دئے جانے ، فرقہ واریت ختم کرنے ، معصوم اور بے گناہوں کے ساتھ انصاف کرنے، آئین کی رو سے جمہوریت،سیکولرازم کو برقرار رکھنے کی گزارش مسلسل کی جاری ہے۔ لیکن افسوس کہ ایسے مشوروں اور گزارشوں کو کسی اہمیت کا حامل نہیں سمجھا جا رہا ہے اور بغیر کسی سے صلاح و مشورہ کے چند کارپوریٹ گھرانوں کو ناجائز فائدہ پہنچانے کی غرض سے ہر اصول ضابطہ، قانون ، آئینی ، انسانی اور جمہوری تقاضوں کوطاق پر رکھ دیا گیا ہے اور مسلسل ایسے فیصلے کئے جارہے ہیں ،جو ملک کے مفاد میں ہیں اور نہ ہی عو ام کے، جو دل میںآ رہا ہے ،وہ کیا جا رہا ہے ۔ اظہار آزادی کا ہر طرح گلا گھونٹ دینے کی کوششوں اور بولنے والوں کو سی بی آئی ، انکم ٹیکس این آئی وغیر ہ کا خوف دکھا کر یا ملوث کر کے پوری طرح خاموش کر دیا گیا ہے۔

عوامی مفادات کو نظر انداز کئے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ اس وقت پورا ملک افراتفری، انتشار ، خوف و دہشت کے ماحول میں ڈوبا ہوا ہے ۔ ملک کی اقتصادی خستہ حالی سے بہت سارے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ریزورو بینک کا ریزرو خزانہ، ریزرو بینک کے کئی گورنروں اور ڈپٹی گورنروں کی مخالفت کے باوجودخالی کر دیا گیا ۔ مزید ورلڈ بینک سے بھی قرض پر قرض لئے جارہے ہیں۔ اس کے بعد اب ملک کے قیمتی اثاثہ کو اپنے خاص کارپوریٹ گھرانوں کے ہاتھوں فروخت کیا جا رہا ہے ، فرخت کی جانے اثاثوں کی فہرست لمبی ہوتی جا رہی ہے۔ اب انڈئین ریلوے او ر ائیر انڈیا کا نمبر آ گیا ہے۔ ان تمام فرخت ہونے والے شعبوںمیں ملازمت کرنے والے لاکھوں کی تعداد میں بے روزگار ہو رہے ہیں ۔ فوج کے انجینئرنگ شعبہ سے تعلق رکھنے والے نو ہزار ملازمین کی ملازمت ختم کر کے انھیں بے روزگار کر دیا گیا ۔ ہر سال دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ ،دینے کی بجائے لینے میں بدل گیا ۔بے روزگار ہونے والے مایوس ہو کر خودکشی پر مجبور ہو رہے ہیں ۔ کورونا کی وبا نے ملک کے معیشت پر الگ ضرب کاری لگائی ہے ۔ ملک میں کورونا کے داخلہ کے وقت بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور بہت دیر سے اٹھائے گئے غلط ا قدام اور طبی سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث اب تک ملک کے اگیارہ لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں اور ہلاکتوں کا سلسلہ بڑھتے بڑھتے ، کے ستائس ہزارسے بھی تجاوز کر چکا ہے۔بنا سوچے سمجھے اور لوگوں سے بغیر مشورہ کئے بغیر اپنی واہ واہی کے لئے اچانک لاک ڈان کئے جانے کی وجہ کرعام لوگوں کو جن پریشانیوں سے گزرنا پڑا ،اس کی روداد مسلسل سامنے آہی رہی ہے۔

لاکھوں مزدوروں کے وجود اور ان کے مسئلہ کو جس طرح نظر انداز کیا گیا اور ان کی جانب سے لا تعلقی دکھائی گئی ، اس غیر انسانی رویہ نے پوری دنیا میں ملک کی قیادت پر سوالیہ نشان لگایا ۔جس طرح یہ مزدور بے پناہی اور بے بسی کے عالم میں سڑکوں پر ریلوے پٹریوں پر تڑپ تڑپ کر مر رہے تھے ، وہ تمام خونین منظر ہر کی آنکھوں میں قید ہو چکے ہیں۔ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ مزدوروں کے بے رحم وقت کے پورے منظر نامے سے ہمارے وزیر داخلہ غائب رہے، اور اب جب پوری دنیا میں رسوائیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو فرما رہے ہیں کہ ہم لوگوں نے ان کے لئے بہت کچھ کیا لیکن میڈیا نے دکھایا نہیں ۔ ان کے اس” جملے ” پر صرف قہقہ ہی لگایا جا سکتا ہے یا ان کے سفید جھوٹ پر کف افسوس ملا جا سکتا ہے کہ اتنے اہم ذمّہ دار عہدہ پر بیٹھا شخص اس طرح سفید جھوٹ بول رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی نگاہ کورونا سے مرنے والوں سے زیادہ بہار،بنگال کے انتخاب پرٹکی ہوئی ہے ۔یہی وجہ رہی کہ بہار میں بڑھتے کورونا کے درمیان میں ہی لاک ڈاون ختم کرا کر ورچوئل انتخابی ریلی کے لئے 73 ہزار ایل ای ڈی بہار گاؤں گاؤں پہنچایا اور جھوٹ پر جھوٹ بول کر لوگوں کو ورغلانے کی کوشش کی ۔ کاش کہ بہار ، یو پی کے ان لاکھوں بے پناہ ہونے والے مزدوروں کے لئے کچھ کرتے یا پھر کورونا وبا سے متاثرین کے لئے پی پی کِٹ ، آکسیجن سلنڈر،وینٹی لیٹر اور دیگر طبّی سہولیات پہنچا نے کی کوشش کرتے تو آج جس طرح بہار میں لوگ اسپتالوں میں جگہ نہیں ملنے ، آکسیجن ،وینٹیلیٹر اور دیگر طبّی سہولیات کی کمی سے تڑپ تڑپ کر مر رہے ہیں ،شائد اس میںکمی واقع ہوتی۔بہار کے لاکھوں مزدوروں کے گھر اجڑ گئے ، بے پناہ ہونے والے ان مزدوروں کو اب تک کہیں پناہ نہیں مل رہی ہے نہ ہی روزگار میسر ہے ۔ جس کے نتیجے میں آئے دن ان کے درمیان سے کسی نہ کسی کے خود کشی کئے جانے کی خبریں آ رہی ہیں ۔

افسوس تو اس بات کا بھی ہے کہ جن دنوں دنیا کے کئی ممالک کورونا وائرس کی وبا سے جنگ کی تیاری میں لگے تھے۔ اس وقت ہمارے ملک کی پوری حکومت اور حکمراں نمستے ٹرمپ میںمشغول تھے اور سونے کے برتن میں شری ٹرمپ اور ان کے خاندان کو کھانا کھلا کر اور سو کروڑ کے پر جوش استقبال کر اس طرح مدہوش ہو گئے کہ کورونا کی ملک کے اندر آمد اور چین سمیت پڑوسی ممالک کی در اندازی کو بھی نظر انداز کئے رہے ۔ راہل گاندھی ، حزب مخالف کے دیگرلیڈران ، سیاسی تجزیہ کار ، سرحدوں پر نظر رکھنے والے جرأت مند صحافی وغیرہ چیخ چیخ کر کہتے رہے کہ چین ہمارے ملک میں مسلسل در اندازی کر رہا ہے لیکن افسوس کہ اس جانب بھی توجہ نہیںدی گئی ۔ چین کے صدر شی جن پنگ کو جھولا جھُلا کر اور ڈاب پلا کر نیز بہت سارے ٹھیکہ دے کر ، چینی بینک کی شاخ ملک کے اندر کھولنے کی اجازت دے کر اس طرح مطمئن تھے ، جیسے چین اپنے ملک کی کوئی ریاست ہے ، وہ ان کے ذریعہ کئے گئے احسانات کو یاد رکھے گا ۔ لیکن چین کی در اندازی کے پیچھے چین کی سیاسی چال کو سمجھنے میں بھی سیاسی شعور کا ثبوت نہیں دیا گیا ۔ وزیر داخلہ امت شاہ کی نا عاقبت اندیشی نے چین کو جگانے کا کام اس وقت کیا ،جب امت شاہ نے لوک سبھا کے اندر اپنے ایک بیان میں اپنے بڑ بولے پن کا ثبوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ 370 کو ردّ کرنے کے بعد اقصائے چین اور پاک مقبوضہ کشمیر کو بھی ہندوستان میں شامل کر لیا جائے گا ۔ اسی ایک بیان نے چین کو چوکنّا کر دیا اور وہ اپنی سرکشی پر آمادہ ہو گیا۔ سونیا گاندھی ، راہل گاندھی، کپل سبّل ، سبرا منیم سوامی جیسے سیاسی لیڈران کے ساتھ ساتھ دوسرے کئی صحافیوں اور سیاسی تجزیہ کاروں اور اجئے شکلا جیسے کئی صحافیوں نے حکومت کومسلسل اس اہم مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرانے کی گزارش کرتے رہے کہ چین کی ملک کے اندر در اندازی بڑھتی جا رہی ہے ۔

اسے روکنے کی کوشش کی جائے ۔ اس انتباہ کے جواب میں چین کی سرحد پر توجہ دینے کی بجائے توجہ دلانے والوں کو ہی مورد الزام قرار دیا گیا کہ یہ لوگ سرحد پر تعینات فوجیوں کے ہمّت و حوصلوں پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں ، چین کی سرحدوں پر توجہ دلانے والوں کو ہی ملک دشمن اور غدار وطن تک کہا گیا ۔ وطن پرستوں کو ملنے والے ایسے القاب پر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار اجئے شکلا نے بڑے ہی سرد لہجے میں کہا تھا کہ ایسے خطاب آج کل ہر اس صحافی کو دیا جا رہا ہے جو قوم اور ملک کے مفاد میں عوام کو سچ سے با خبر کرتا ہے ۔ اس لئے وہ اس خطاب کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں ۔ چین کی سرحد پر توجہ مبذول کئے جانے کی بار بار گزارش کو نظر انداز کئے جانے کا ہی یہ افسوسناک نتیجہ سامنے آیا کہ ہمیںبیس فوجیوں کی شہادت اورلداخ کی گلوان گھاٹی کی در اندازی کو بھی برداشت کرنا پڑا ۔ انتہا تو یہ ہوئی کہ جوانوں کی شہادت اور دراندازی کے باوجود ملک کے وزیراعظم کا یہ افسوسناک بیان سامنے آتا ہے کہ ‘ بھارتیہ سیما میں نہ کوئی گھسا ہے اور نہ ہماری کسی چوکی پر قبضہ ہوا ہے ۔’ اس بیان سے پورے ملک میںجو طوفان مچا ، وہ دیکھنے والوںنے دیکھا ۔ وزیر اعظم ہند کے اس بے تکے بیان سے چین کے عزائم بڑھتے چلے گئے اور اس نے بھارت کے تمام پڑوسی ممالک کو اپنا ہمنوا بنا کر بھارت کی مخالفت کرنے کی ہمت و حوصلہ بڑھا دیا۔پاکستان تو پہلے ہی سے مخالف تھا ،اب نیپال ، بھوٹان، بنگلہ دیش جیسے چھوٹے ممالک بھی بھارت کو آنکھ دکھا رہے ہیں اور ہمارے حکمراں اپنی دکھانے والی ‘لال آنکھ’ پر مصلحت کی پٹّی باندھے ہوئے ہیں ۔

ایسے میں راہل گاندھی کا یہ بیان اہمیت کا حامل ہے کہ چین کے معاملہ میں مودی حکومت کے بزدلانہ رویہ کا خمیازہ ہندوستان کو بھگتنا پڑے گا۔ادھر امریکہ کی ہمنوائی میں ایران سے اپنے تعلق خراب کئے جانے کا فائدہ بھی چین اٹھا رہا ہے۔ ایران نے الگ چابہار۔ زاہدان ریلوے منصوبہ کے بعد فرزاد گیس فیلڈ معاہدے ردّ کر دئے ، جس سے بہت بڑا مالی خمیازہ بھارت کو بھگتنا پڑا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ہمارا ملک بہت ہی نازک حالات سے گزر رہا ہے ۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ ایسے حالات اچانک نہیں پیدا ہوئے ہیں ، گزشتہ پانچ چھ برسوں سے مسلسل ملک کے بنیادی مسائل پر توجہ دینے کی بجائے ملک کے حکمراں صرف ہندو مسلمان ، مسلم مکت بھارت ، کانگریس مکت بھارت ، مندر ،مسجد ، گولی مارو سالوں کو ، رام زادے ، حرامزادے، گؤ رکچھا وغیرہ میں ہی مصروف رہے ۔ جس کا خمیازہ ملک کے عوام آج بھگت رہے ہیں ۔ جھوٹ اور مصلحت کی تھپکیا ں بھی اب کام نہیں آ رہی ہیں ۔ کورونا وائرس کی وبانے عوام کو نہ جانے کتنی دشواریوں اور پریشانیوں میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ ملک کے اندر پھیلتے کورونا وبا کو بھی سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور نہ ہی اس سے نبردآزما ہونے کے لئے کسی طرح کے انتظامات کئے گئے اور جھوٹ کا عالم یہ ہے ہمارے وزیر اعظم فرما رہے ہیں کہ کورونا کی جنگ میں ہم نے دنیا کے ایک سو پچاس ملکوں کی مدد کی ۔ اس جملہ کو سننے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے جب اتنے سارے ممالک کی مدد کی تو پھر اپنے ہی ملک اور پڑوسی ممالک کو کیوں فراموش کر دیا ۔ان کے سامنے کرونا سے ہلاک ہونے والوں کے مقابلے اس وقت رام مندر کا افتتاح ضروری ہے کہ مندر مسجد کے درمیان نفرت کی دیوار ہی انھیں برسر اقتدار رکھنے مدد کرے گا۔ ملک کے ایسے نا قابل یقین حالات کے بعد بھی ہمارے حکمراں زخم خردہ عوام کویہی سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ” بھارت میں سب ٹھیک ہے ، آل از ویل ان انڈیا ” ۔

Dr Syed Ahmad Quadri
Dr Syed Ahmad Quadri

تحریر : ڈاکٹر سید احمد قادری
رابطہ: 8969648799

Share this:
Tags:
democracy Development Economic India politics situation اقتصادی بھارت ترقی جمہوریت حالات سیاست
Foreign Media Delegation
Previous Post غیر ملکی میڈیا کے وفد کا لائن آف کنٹرول کا دورہ
Next Post آن لائن کلاسیں، نظام تعلیم اور اسکولوں کا کھلنا
Online, Classes

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close