Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
April 29, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

آن لائن کلاسیں، نظام تعلیم اور اسکولوں کا کھلنا

July 23, 2020 0 1 min read
Online, Classes
Online, Classes
Online, Classes

تحریر : شیخ خالد زاہد

کورونا دنیا کو بدل رہا ہے اور یہ کہاں تک بدلے گایہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ کچھ ممالک میں کورونا کے مریضوں میں کمی ہونے پر یہ سمجھ لیا کہ کورونا ختم ہورہا ہے لیکن پھر اچانک سے مریضوں میں تیزی آنا شروع ہوگئی جس نے اس بات کو یقینی بنادیا کہ یہ معاملہ مستند ویکسین کی تیاری تک بے قابو ہی رہے گا اور زندگی کو احتیاطی تدابیر کیساتھ آگے بڑھانا ہوگا۔ ملک کی معاشی حالت پر کوئی حتمی بات نہیں کی جاسکتی لیکن عوام کیلئے بدترین بجلی کا بحران، پانی کا بحران، چینی کا بحران، آٹے کا بحران اور پھر طبی سہولیات کا بحران موجود ہیں۔ ان حالات میں سب ہی کسی نا کسی طرح سے مشکلات سے دوچار رہے ہیں وہیں سب سے زیادہ نقصان تعلیم کا ہوا ہے۔ سب سے پہلے تعلیمی ادارے بند ہوئے۔ تعلیم کا کافی نقصان ہونے کے بعد کچھ تعلیمی اداروں نے آن لائن کلاسوں کے انعقاد کاایک مشکل فیصلہ کیا اور بغیر والدین کے مشورے کے یہ فیصلہ صادر کردیا گیا۔ فیصلہ اچھا تھا والدین نے تسلیم کیا۔عام معلومات کے مطابق بہت محدود اسکولوں نے یہ مشکل فیصلہ کیا اور بہت حد تک کامیابی کیساتھ اس پر عمل پیرا ہوئے۔تعلیم کی ترویج کے سلسلے میں یہ ایک انتہائی احسن قدم ہے اور سب سے بڑھ کر آنے والے وقتوں میں ہماری ترقی کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا، جوادارے اس نظام کو مستحکم کرینگے وہ آنے والے وقتوں میں اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکینگے۔ مخصوص تعلیمی اداروں کے علاوہ بہت کم ایسے تعلیمی ادارے ہیں جو ان حالات میں اپنے آپ کو باقی رکھ سکے ہیں یقینا انکی انتظامیہ کی بہترین حکمت عملی، انکا میعار تعلیم کیساتھ ساتھ ان کا دیا گیا والدین کواعتماد بھی ہے۔

انتہائی محدود وسائل کیساتھ کس طرح سے اسکولوں نے آن لائن کلاسزکیلئے عملی اقدامات کئے اور باقاعدہ کلاسوں کا آغاز کیا، وقت آنے پر ان اسکولوں کی انتظامیہ کو حکومت کی جانب سے خصوصی پذیرائی ملنی چاہئے اور باقاعدہ ان اسکولوں کونمایاں بھی کرنا چاہئے۔ یہاں ایک اور بات بھی قارئین کی نظر کرتا چلوں کہ یہ بہترین وقت ہے کہ تعلیمی اداروں اور نظام تعلیم کو مستحکم کرنے کا۔جہاں گلی محلوں میں اسکول کھلے ہوئے جوکہ تعلیم کی ترویج کا صحیح طریقہ نہیں ہے، مستقبل کے معماروں جنہوں نے کل کو ملک کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے کو نمایاں کرنے کیلئے ضروری ہے کہ انہیں باقاعدہ کسی مستحکم نظام تعلیم سے منسلک کیا جائے۔ ان چھوٹے اسکول مالکان سے گزارش ہے کہ اگر یہ واقعی ملک و قوم میں تعلیم عام کرنا چاہتے ہیں تو وہ ان اسکولوں کیساتھ الحاق کریں جو نظام تعلیم کی ترویج میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ سکینڈری اور اس سے بڑی کلاسوں کی آن لائن کلاسیں تو ہوتی ہی رہتی ہیں لیکن پرائمری کی آن لائن کلاس کا انتظام کرنا یقینا کسی درد سر سے کم نہیں ہوگا، لیکن حقیقی معنوں میں علم کے فروغ کی اہمیت کو سمجھنے والوں نے کمر کس لی اور اس مشکل ترین کام کو سرانجام دے کر دیکھارہے ہیں۔یہاں ایک پہلو تو علم کی ترویج ہے تو دوسرا اہم پہلو ان اسکولوں سے وابسطہ اساتذہ اور دیگر عملے کی گھریلو معاشیات ہے، جس کی بدولت انکے معمولات زندگی نمو پاتے ہیں۔

اب آتے ہیں ہم اس طرف جہاں ہمارے ملک کے بچوں کی اکثریت زیر تعلیم ہوتی ہے یعنی سرکاری اسکول، یہاں پہلے اس بات کو واضح کرتے چلیں کہ سرکاری اسکولوں میں اساتذہ سرکاری ملازم ہوتے ہیں اور ہمارے ملک میں کچھ بھی ہو جائے یا خدا ناخواستہ ملک کسی بحران کی زد میں بھی آجائے جیسا کہ کورونا کی وجہ سے آیا ہوا ہے سرکاری ملازمین پر کوئی فرق نہیں پڑتا تو سرکاری اساتذہ پر بھی بظاہر تو کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہوگا۔ایک قابل ذکر بات بھی شامل مضمون کرتا چلوں کہ گزشتہ دنوں قابل احترام علی زیدی صاحب نے سرکاری اسکولوں کے حوالے سے سماجی میڈیا کے توسط سے آگاہ کیا کہ سندھ میں (شائد بشمول کراچی)سرکاری اسکولوں کی کل تعداد اننچاس ہزار ایک سو تین ہیں، نوے فیصد(چوالیس ہزار ایک سو تیرانوے)اسکولوں میں سائنس کے استاد ہی موجود نہیں ہیں، ستر فیصد (چوتیس ہزار تین سو بہاتر)اسکولوں میں تجربہ گاہ (لیبارٹری) موجود نہیں، اٹھارہ ہزار چھ سو ساٹھ اسکول صرف ایک استاد کیے ذمہ ہے یعنی صرف ایک ہی استاد موجود ہے(طالب علموں کا علم نہیں) اور قارئین بارہ ہزار ایک سو چھتیس ایسے اسکول ہیں کہ جہاں کوئی بھی استاد موجود نہیں ہے۔ یہاں پہلے تو سندھ کی دھرتی کے ایک ہونہار سپوت علی زیدی صاحب کا شکریہ کہ انہوں نے مستقبل کے معمارتیار کرنے کی صنعتوں (اسکولوں) کا احوال سے آگاہ کیاگوکہ ہوتا کچھ دیکھائی نہیں دیتا۔ہمیں وہ اسکول بھی یاد ہیں کہ جہاں بھیسوں کے باڑے بنے ہوئے تھے اور درختوں سے گدھے بندھے ہوئے تھے۔ یہ سب کچھ ہم بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں اور آج سے نہیں دھائیوں سے جانتے ہیں بلکہ جب یہ سماجی میڈیا نہیں تھا تب سے جانتے ہیں لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔شائد ہم اپنے موضوع سے کہیں اور نکل گئے لیکن موضوع کا تعلق تو بنتا ہے کیوں کے بات ہورہی ہے آن لائن تعلیم و تدریس کی تو اس میں سب سے آگے سرکاری اسکولوں کو ہونا چاہئے تھا۔

آن لائن کلاسوں کاسلسلہ کسی حد تک خوش اسلوبی سے چل رہاہے اور بچوں کی محدود تعداد مستفید ہورہی ہے۔ آن لائن کلاسوں کیلئے کچھ اہم لوازمات ضروری ہیں جن میں کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا پھر کوئی بہتر قسم کا اسمارٹ فون اور ان سب کیساتھ آن لائن ہونے کیلئے انٹر نیٹ کی موجودگی،مان لیا کہ یہ سب چیزیں موجود ہیں لیکن بجلی کی فراہمی کو آپ کیسے یقینی بناسکتے ہیں۔جہا ں ایک بچہ پڑھ رہا ہے وہاں تو بہت ہی اچھی بات ہے لیکں گھمبیر مسلۂ کے ایک گھر میں ایک سے زیادہ بچوں کو کلاس لینی ہے وہ کیا کرینگے کیاتمام والدین ہر بچے کیلئے مکمل لوازمات کا انتظام کرسکتے ہیں، ایک اہم اور قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ دو کمروں کے گھر میں رہنے والے بھلا بچوں کو کس طرح سے آن لائن کلاس لینے کیلئے پرسکون ماحول مہیہ کر سکتے ہیں جو لازم ہے۔ جہاں اسکولوں کے آن لائن کلاسوں کو شروع کرنے کے اقدام کا سرہا گیا ہے وہیں اس بات پر بھی توجہ دلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اور جہاں آج کل دو وقت کی روٹی کا حصول ایک معمہ بنا ہوا ہے وہاں کس طرح سے آن لائن کلاسوں کو یقینی بنایا جائے اور اس پر یہ بھی کہ اسکولوں کی فیس بھی بروقت ادا کرنی ہے، انٹرنیٹ کا بل اور بجلی کابے قابو بل۔اسکولوں کا کام تھا کہ وہ کسی بھی تھا طرح سے بچوں کو اسکول اور کتابوں سے جڑے رکھنے کی ہرممکن کوشش کریں جو انہوں نے کرلی لیکن کیا ہمارے نظام تعلیم میں ایسی تعلیم کی کوئی گنجائش ہے، کیا ارباب اختیار (حکومت) نے اس جانب توجہ دینے کی کوشش کی،کیا اسکولوں سے انہوں نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ انہیں آن لائن کلاسوں میں کسی قسم کی سرکاری معاونت تو درکار نہیں، کیا والدین کیلئے کم از کم انٹرنیٹ کی سہولت کے حوالے سے کوئی خصوصی رعایت کا اعلان کیا، ان سب باتوں سے ہماری حکومت کا تعلیم سے لگاؤ یا بچاؤ کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

آخر کار حکومت نے بہت سوچ بچار کے بعد یا پھر انہیں اس بات کا اندازہ ہوگیا ہوگا کہ آن لائن کلاسیں کتنے بچوں کو تعلیم یافتہ کر رہی ہیں، پندرہ ستمبر سے اسکولوں کو جزوی طور پر واضح کردہ طریقہ کار کی بنیاد پر کھولے جانے کا اندیہ دے دیا گیا ہے اس کے برعکس کراچی کی نجی اسکولوں کی ایسوسی ایشن نے پندرہ اگست سے اسکول کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔ ابھی طریقہ کار واضح کرنا باقی ہے کیونکہ اسکے لئے بڑے پیمانے پر مشاورت کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔یونیسکو نے بھی اسکول دوبارہ کھولنے کے لیئے طریقہ واضح کردیا ہے لیکن اسے دیکھنے کے بعد لگتا ہے کہ ہمارے یہاں تو ان پر عمل درآمد ممکن نہیں ہوسکتا ہے۔ سب سے پہلے صفائی کا بہترین انتظام جس میں جراثیم کش ادویات کا استعمال باقاعدگی سے ضروری دیا ہے، بیمار بچوں کو اسکول آنے سے روکنا ہے (جس میں والدین کی بھی ذمہ داری بنتی ہے)، اساتذہ کو اس بات سے آگاہ ہونا چاہئے کہ بچے ذہنی طور پر کہاں ہیں یعنی کورونا کے ان پر کیسے اثرات مربت کئے ہیں، اسکول بچوں کو یونیفارم اوردیگر اخراجات پر مبنی لوازمات سے مبراء قرار دیں۔اب ہماری عمومی تجویز ہے کہ جن اسکولوں میں بڑے اور کشادہ کمرے ہیں وہ ایک دن آدھی کلاس کو بلائیں اورآدھی دوسرے دن یعنی پچاس فیصد حاضری، بچوں کی کڑی نگرانی کیلئے کلاس میں کم از کم دو استاد موجود ہوں یا پھر ایک استاد کیساتھ کوئی انتظامیہ کا فرد ہو نہیں تو کلاس میں سے ہی کسی بچے کو معاون بنادیا جائے تاکہ کلاس میں موجود بچوں کی حرکات و سکنات پر کڑی نظر رکھی جائے، ماسک لازمی ترین قرار دیا جائے، کھانے اور پینے کیلئے طالب علم ذاتی اشیاء استعمال کریں اور نقل و حرکت کو محدود کیا جائے۔ جہاں کلاسیں چھوٹی ہیں انہیں چاہئے کہ وہ میدان میں یا دستیاب کھلی جگہ میں کلاسوں کا انعقادیقین بنائیں۔ حکومت کیلئے بہترین وقت ہے کہ چھوٹے اسکولوں کو بڑے اسکولوں میں ضم کرنے کا کوئی قانونی طریقہ کار واضح کرے اور مستقبل کے معماروں کیساتھ اساتذہ کے مستقبل کو بھی تحفظ فراہم کرے۔

کورونا واقعی نئے نظام کی جانب دھکیل رہا ہے، یہ تمام امور کو انکی اہلیت کیمطابق دیکھنا چاہتا ہے۔یہ صرف صحت کے شعبے میں انقلابی تبدلیوں کا تکازہ نہیں کررہا ہے یہ ریاستوں کوحقیقی فلاحی ریاست بننے کی جانب دھکیل رہا ہے جہاں افراد کی مکمل دیکھ بھال کا باضابطہ نظام موجود ہو، یہ تعلیم کے میعار کو جعلی ڈگریوں سے نکالنے کو یقینی بنانے کی طرف دھکیل رہا ہے یعنی سب سے اولین تکازہ یہ ہے کہ بدعنوانی کی بنیاد پر کھڑا معاشرہ کسی بھی ایسی وباء کا سامنا نہیں کرسکے گااس لئے بے ایمانی اور بدعنوانی کو مکمل طور پر بے دخل کرنا پڑے گااسی کی تعلیم اپنے کھلنے والے اسکولوں میں بھی لازمی قرار دینی چاہئے۔

Sh. Khalid Zahid
Sh. Khalid Zahid

تحریر : شیخ خالد زاہد

Share this:
Tags:
classes Corona difficulties Education System Online schools آن لائن اسکولوں کلاسیں کورونا مشکلات نظام تعلیم
India Workers
Previous Post بھارت میں سب ٹھیک ہے…… بس ذرا
Next Post اقلیتوں کی عبادت گاہیں اور بھاشا ڈیم کی تعمیر
Construction of Bhasha Dam

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close