
سرینگر (جیوڈیسک) بزرگ حریت رہنما علی گیلانی نے 21، 25 اور 27 جنوری کو بالترتیب گاؤکدل، قصبہ ہندواڑہ اور قصبہ کپواڑہ میں مکمل ہڑتال کی کال دے دی ہے۔
علی گیلانی نے نئی دہلی سے جاری ایک بیان میں کشمیریوں سے 21 جنوری 1990ء کے سانحہ گاؤکدل ، 25جنوری 1990ء کو ہندواڑہ میں کشمیریوں کے قتل عام اور27جنوری 1994کے کپواڑہ قتل عام کے 21سال مکمل ہونے کے سلسلے میں متعلقہ قصبوں میںمکمل ہڑتال اور دعائیہ مجالس کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 25برس کے دوران ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کو بھارتی فوج نے شہید کردیا اوربڑی تعدادکو حراست کے دوران لاپتہ کر دیا۔ انہوں نے انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے قتل عام کے تمام واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانے اور جنگی جرائم میں ملوث بھارتی فوجیوں کو انصاف کے کٹہرے تک لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسیوں کی کوشش ہے کہ کشمیری قوم اپنے شہداء کی قربانیاں فراموش کر دیں۔ تحریک آزادی سے بیگانہ ہوکر بھارت کی غلامی قبول کر لے۔ علی گیلانی نے کہا کہ شہدا کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور ہم بھارت کے جبری قبضے سے آزاد ہوجائیں گے۔ کشمیری قوم ان سرفروشوں اور جیالوں کو کسی صورت فراموش نہیں کرے گی۔
ادھر سربراہ ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی شبیر احمد شاہ نے 26جنوری کے موقع پر مقبوضہ وادی میں ہڑتال کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں یوم جمہوریہ منانے کا کوئی آئینی حق حاصل نہیں کیونکہ جموں کشمیر ،بھارت کا کبھی بھی آئینی حصہ رہا نہ ریاست میں اسے یہ دن منانے کا کوئی جواز ہے۔ یہ بات ہمیں زیب نہیں دیتی کہ ہم ان لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہ کر ان تقریبات کا حصہ بنیں جن کے ہاتھ ہمارے معصوموں کے خون سے رنگے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کا بچہ بچہ بھارتی قبضے کے خلاف سینہ تا نے آزادی کے حصول کے لئے اپنے مشن پر عمل پیرا ہے۔ دریں اثنا بھارتی سکیورٹی فورسز نے شبیر شاہ کو سوپور جاتے ہوئے تارزو کے قریب گر فتار کر لیا۔
تر جمان نے شبیر احمد شاہ کی گرفتاری کی مذمت کر تے ہو ئے کہا ایسا غیر جمہوری اور غیر آ ئینی ہے۔ ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ علاوہ ازیں جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر کے ترجمان زاہد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی مختلف جیلوں میں مقید نظر بندوں کی اسیری کو طول دینایہاں کا معمول بن چکا ہے۔
آئے روز نوجوانوں اور مختلف جماعتوں کے سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرکے انہیں مختلف کیسوں کے تحت پابند سلاسل بنانے کے اس طرز عمل سے جمہوریت کے تمام تر دعوے کھوکھلے ثابت ہوجاتے ہیں، اس وقت بھی سینکڑوں کشمیری مختلف جیلوں میں بند پڑے ہوئے ہیں۔عالمی انسانی حقوق کی تنطیمیں صورتحال کا نوٹس لیں۔
