
تحریر : انور الحق
گزشتہ برس عید الضحٰی سے دو دن قبل میرا کمپیوٹر خراب ہو گیا جس پر محض میں فیس بک، جی میل اور ٹوائیٹر کے ذریعے اچھی اچھی باتیں لکھ کر اچھے اچھے پوسٹ لگا کر لوگوں میں اچھا بننے اور تعریف سننے پر دلی اطمینان حاصل کرتا ہوں کو خراب ہونے پر مرمت کرانے مارکیٹ لے گیا جہاں ایک برقع پوش خاتون کو جو کسی بھی طرح سے بھکارن نہ لگتی تھی اور شائد اپنے خاوند کی عدم موجودگی اور اقارب کی بے حسی کا شکار اپنے بچونکی کی کفالت کی غرض سے بنا ہاتھ پھیلائے حصولِ مدد کے لیے بے چین و منتظر دیکھا۔ میں نے دل بڑا کر کے جیب سے کھلے (۵۰) روپے نکال کر دیے جو اس نے جھجکتے ہوئے قبول کئے۔
گھر واپسی تمام راستے میرا ضمیر مجھے جھنجوڑتا رہا کہ اس مہنگائی کے زمانے میں(۵۰)روپے سے کیا خریدا جاسکتا ہے ، اپنے شوق کےلیے تو میں نے (2800) روپے خرچ کر دیے اور اللہ کی راہ پر کسی مجبور کی مدد کے لیے صرف پچاس روپے؟ پھر خود ہی اپنے دل کو تسلی دے کر مطمعن کرلیا کہ میں کونسا مخیر ہوں اور یہ ذمے داری مخیر حضرات پر عائد ہوتی ہے۔
میں ایک ملازم ہوں اور سالہا سال سے جب تنخواہ وصول کرکے فیکٹری سے باہر نکلتا ہوں تو وہاں بھی بہت سے بھکاریوں کے علاوہ ایک باپردہ خاتون جو ہر ماہ خیرات لینے آتی ہے۔
ایک کونے میں مدد کی منتظر بیٹھی ہوئی کو ایک (۲۰) کا نوٹ دے کر پھر اپنے آپ کو ہمیشہ کی طرح بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مطمعن کر لیتا ہوں۔ شائد اور بھی کئی لوگ میری طرح بےحس ہوکر اپنے آپ کو مطمعن کر لیتے ہونگے۔
تحریر : انور الحق
