Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 3, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سانحۂ مشرقی پاکستان میں بھارتی کردار

December 15, 2013December 15, 2013 0 1 min read
azam azim azam
Indira Gandhi
Indira Gandhi

16 دسمبر 1971ء کا دن تاریخ پاکستان کا سیاہ ترین دن ہے ،اِس دن ڈھاکہ میں لہلاتا سبز ہلالی پاکستانی پرچم ہمیشہ کیلئے سرنگوں کردیا جاتا ہے اور پاکستان دولخت ہو جاتا ہے، آج بیالیس سال گزرنے کے بعد بھی اِس سانحے کی کرچیاں ہر صاحب دل کے سینے میں پیوست ہیں، ذلت ورسوائی، بے بسی و بیچارگی کا یہ منظر چشم فلک نے شاید ہی کبھی دیکھا ہو، اِس سانحہ عظیم پر ہزاروں آنکھیں اشکبار اور دل شدت غم سے معمور تھے، مگر طاقت کے نشے سے سرشار بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی اُس دن انڈین پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے بڑی رعونیت کے ساتھ کہہ رہی تھی ” یہ ہماری افواج کی فتح نہیں بلکہ ہمارے نظریے کی فتح ہے۔ ہم نے اِن (پاکستانی مسلمانوں) سے کہا تھا کہ اُن کا نظریہ باطل ہے اور ہمارا نظریہ برحق ہے لیکن وہ نہ مانے اور ہم نے ثابت کر دیا کہ اُن کا نظریہ باطل تھا۔ ہم نے نظریہ پاکستان کو آج خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ اِس موقع پر اندرا گاندھی نے مسرت سے جھومتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے مسلمانوں سے اپنی ایک ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے لیا ہے۔

قارئین محترم! سقوط مشرقی پاکستان کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا، اِس المیے کے مختلف پہلووں پر قومی اور بین الاقوامی کالم نویسوں، تجزیہ نگاروں، مصنفوں اور عسکری دانشوروں نے قلم آرائی کی، کسی نے سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار اُس وقت کے فوجی حکمرانوں کی بے حسی اور عوام کی بے بسی کو ٹھہرایا تو کسی نے سیاست دانوں کومورد الزام ٹھہراتے ہوئے لکھا کہ ”حزب اختلاف کے رہنماؤں کے اندرونی اختلافات، مجیب الرحمن کے چھ نکات پر اصرار، بھاشانی اور بھٹو کا عدم تعاون اور گول میز کانفرنس کی ناکامی کے نتیجے میں پر امن اقتدار کی آخری کوشش دم توڑ گئی۔ اگر سیاست دان پرامن انتقال اقتدار کی راۂ میں حائل نہ ہوتے اور ایوب خان کے پارلیمانی نظام براۂ راست انتخابات کے مطالبے کو تسلیم کرتے، آئندہ انتخابات میں امیدوار نہ بننے کی پیش کش قبول کرلیتے تو شاید ہمیں 1971ء کے المیہ کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔” یوںمختلف زاویہ نگاۂ سے بہت سے تجزیئے ہوئے، سینکڑوں مقالات و لاتعداد کتابیں لکھی گئیں، مگر اِس المیے کی راۂ ہموار کرنے والے اصل بھارتی کردار پر کم ہی توجہ دی گئی۔

جبکہ تاریخی سچائی یہ ہے کہ بزدل اور شاطر ہندو بنیئے نے قیام پاکستان کے وقت سے ہی پاکستان کو ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا تھا، اکھنڈ بھارت کے زعم میں مبتلا ہندو بنیئے کیلئے تو پاکستان کا قیام کسی بڑے صدمے سے کم نہ تھا، وہ اِس تقسیم کو بھارت ماتا کے ٹکرے ہونے سے تعبیر کرتا ہے، ہندو نیتاؤں کو یقین تھا کہ پاکستان کی نوزائیدہ ریاست حالات کا مقابلہ نہیں کرپائے گی اور بہت جلد دم توڑ جائے گی۔ یہی وہ خوش فہمی تھی جس کی وجہ سے جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ ”پاکستان کی تخلیق ایک عارضی اقدام ہے اور یہ آخرکار متحدہ ہندوستان پر منتج ہو گی۔”نہرو کا ماننا تھا کہ پاکستان ناقابل عمل مذہبی نظریئے کی حامل قرون وسطیٰ کی ایک ریاست ہے۔ایک وقت آئے گا کہ بھارت کے ساتھ اِس کا الحاق ضروری ہو جائے گا۔

14جون 1947ء کو آل انڈیا کانگریس کمیٹی نے ایک قرار داد میں بھی ایسے ہی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”جب جذبات کا طوفان کم ہوگا تو ہندوستان کے مسئلے کا اُس کے صحیح پس منظر میں جائزہ لیا جاسکے گا اور دو قوموں کے باطل نظریئے کا کوئی حامی نہیں مل سکے گا۔”اِس قرار داد پر تقریر کرتے ہوئے کانگریسی” شوبوائے” مولانا ابو الکلام آزاد نے کہا تھا کہ ”تقسیم کے عمل سے صرف ہندوستان کا نقشہ متاثر ہوا ہے ،لوگوں کے دل تقسیم نہیں ہوئے اور مجھے یقین ہے کہ یہ تقسیم عارضی ثابت ہوگی۔”آل انڈیا کانگریس کی یہ قرارداد پاکستان کے ساتھ ہندوستانی نیتاؤں کے رویئے پر ہمیشہ سایہ فگن رہی، چنانچہ قیام پاکستان کے بعد بھی یہ لیڈر ”متحدہ ہندوستان”کا راگ الاپتے رہے اور کہتے رہے کہ ”کانگریس اور قوم دونوں متحدہ ہندوستان کے دعوئے سے دستبردار نہیں ہوئے۔”کیونکہ”بھارتی رہنماؤں کو ہمیشہ یہ یقین رہا کہ پاکستان کی تخلیق ایک غلط اقدام تھا اور پاکستانی قوم کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔”چنانچہ شروع دن سے ہی اُن کا پاکستان کی سا لمیت کیخلاف سازشوں میں مصروف ہونا ایک فطری عمل تھا،چنانچہ ہندورہنماؤں نے پاکستان کی نوزائیدہ ریاست کا گلا گھونٹنے کیلئے ہر وہ قدم اٹھایا جو اُن کے اختیار میں تھا،بھارتی سرکار ہمیشہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہی۔

جنوری 1966ء میں اندرا گاندھی کے برسراقتدار آنے کے بعد پاکستان مخالف سرگرمیوں میں مزید تیزی آگئی، اندرا گاندھی 1965ء کی جنگی ہزیمت کا بدلہ لینا چاہتی تھی، پاکستان کی خوفناک شکست اُس کے خوابوں کی تعبیر تھی، چنانچہ اُس نے شیخ مجیب الرّحمان سے تعلقات استوار کیے، مکتی باہنی بنوانے کیلئے اسلحہ اور رقم فراہم کی اور پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بننا شروع کر دیا۔”1970ء کے انتخابات کے بعد یہ پالیسی اُس وقت اپنی انتہا کو پہنچ گئی، جب بھارت کو روسی امداد کے مواقع میسر آئے اور اُس نے پاکستان پر وار کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ ”بھارت کیلئے یہ وہ سنہری موقع تھا جس کا اُسے عرصہ دراز سے انتظار تھا۔چنانچہ بھارت نے اِس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ”مشرقی پاکستان میں فوجی کاروائی اور شیخ مجیب الرحمن کی گرفتاری پر فوری ردعمل کا اظہار کیا۔

East Pakistan
East Pakistan

” بھارتی وزیر اعظم نے 31 مارچ 1971ء کو انڈین پارلیمنٹ میں ایک قرارداد کے ذریعے ٔ مشرقی پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات پر شدید غم وغصہ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بنگالی باغیوں کی بھر پور مدد کی پیش کش بھی کی۔ اِس اجلاس میں بعض کانگریسی لیڈروں کے جوش وجذبات کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے اور پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کا بھی مطالبہ کیا۔ یوں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک کے اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے علی الاعلان کسی خودمختار ملک کے اندورنی معاملات میں مداخلت کا یہ مطالبہ دنیا کی سیاسی تاریخ کی واحد نظیر ہے۔ مشرقی پاکستان کے حالات کو خراب کرنے اور باغیوں کو بڑھاوا دینے کیلئے انہی ایام میں آل انڈیا ریڈیو سے مسلسل یہ پروپیگنڈہ بھی کیا جاتا رہا کہ مجیب الرحمن نے اعلان آزادی کردیا ہے اور بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آچکا ہے۔

دوسری طرف بھارت نے بنگالی مہاجرین کے مسئلے کو بھی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، بعد میں جو تقریباً دو لاکھ ہندو اور مشرقی پاکستان کے باشندے مغربی بنگال اور آسام پہنچے، بھارتی فوج نے انہیں نہ صرف سرحد عبور کرنے کی اجازت دی بلکہ مہاجرین کیمپ قائم کر کے انہیں ملازمتیں فراہم کرنے کے ساتھ پاکستانی فوج کے خلاف لڑنے کیلئے عسکری تربیت بھی دی اور بھارت نے مہاجروں کے مسئلے کو پاکستان پر حملے کیلئے بہانے کے طور پر بھی استعمال کیا۔ اِس بات کی تصدیق انڈین انسٹیٹیوٹ فار ڈیفنس سٹڈیز کے ڈائریکٹر سبرامنیم کے اُس بیان سے بھی ہوتی ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ ”بھارتی حکومت نے بڑے غور وفکر کے بعد اپنی سرحد بند کرنے کے بجائے مہاجروں کو اپنے ملک میں آنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا، ایک لحاظ سے یہ فیصلہ بنگلہ دیش کی آزادی کے بارے میں بھارتی ہمدردیوں کا عکاس تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو بنگلہ دیش میں مزاحمت کی تحریک کو برقرار رکھنا دشوار ہوجاتا۔ درحقیقت انڈین انسٹیٹیوٹ فار ڈیفنس سٹڈیز کے ڈائریکٹر کے کابیان پاکستان کے خلاف بھارت کے حقیقی عزائم کا نہ صرف آئینہ دار ہے، بلکہ واضح کرتے ہیں کہ بھارت نے بہت پہلے ہی ہر چیز کی مکمل منصوبہ کررکھی تھی۔اُدھر بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ”را” کو دیا جانے والا پہلا ٹاسک ہی مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے الگ کرنا تھا ،جس کو آپریشن ”بنگلہ دیش” کا نام دیا گیا، اِس آپریشن کے دوران ”را” نے مشرقی پاکستان میں صحافیوں، اساتذہ، دانشوروں سمیت ہر طبقہ فکر کو فکری دہشت گردی کے
کام پر لگا دیا، اُس مقصد کیلئے بھاری رقوم مختص کی گئی،جبکہ اندرون اور بیرون بھارت بھی پاکستان کے خلاف زبردست میڈیا وار لڑی گئی، جس کے نتیجے میں بھارتی فوج کیلئے مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور اُس پر عملی قبضے کا کام مزید آسان ہو گیا۔

یہ درست ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان توڑنے کی منصوبہ بندی تیار کی، مگر اِس منصوبے کو عملی جامعہ پہنانے میں شیخ مجیب الرحمن نے مرکزی کردار ادا کیا، بھارتی عسکری تربیت یافتہ مکتی باہنی کے اِن گوریلوں نے مشرقی پاکستان کے ذرائع مواصلات، اہم سرکاری و نجی عمارتوں اور پاک فوج کے خلاف تخریبی کاروائیوں میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسری طرف بھارتی فوج کی مدد و تعاون سے بائیں بازو کی نیشنل عوامی پارٹی اور کیمونسٹ پارٹی کے گوریلوں نے مشرقی پاکستان کے اندورنی حصوں کو اپنی تخریبی کاروائیوں کا مزکر بنایا اور اہم سڑکوں ،آبی راستوں پلوں اور سرکاری عمارتوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ اِن تخریبی کاروائیوں نے معیشت کی بنیادیں ہلانے کے ساتھ، اندورنی اور بیرونی محاذوں پر نو ماہ سے مصروف پاک افواج کے مورال کو بھی نقصان پہنچایا۔بھارت نے جنگ کے جواز تراشنے کیلئے اُس نے مشرقی پاکستان کے سیاسی، سماجی اور جغرافیائی حالات سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اپنی پروپیگنڈہ مشینری کو بڑی مہارت اور کامیابی سے استعمال کیا،وہ ساری دنیا میں پروپیگنڈا کرتا رہا کہ مشرقی پاکستان کے عوام پر بڑے ظلم و ستم ہورہے ہیں۔ بھارت نے پاکستانی فوج اور پاکستان کو منظم طریقے سے بد نام کیا، بھارتی پروپیگنڈہ مشنری پاک فوج کے خلاف بار بار اِن تین بڑے الزامات کا اعادہ کرتی رہی کہ مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کے دوران پاکستانی فوج نے تیس لاکھ بنگالیوں کو بے دردی سے قتل کیا، تین لاکھ عورتوں کی آبروریزی کی گئی اور گاؤں کے گاؤں جلا دئیے۔

بھارتی میڈیا کا یہ جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ بین الاقوامی میڈیا نے بغیر تحقیق و تفتیش خوب اچھالا اور پاکستان کے تشخص کو اِس بری طرح مجروع کیا کہ پاکستان دنیا میں نفرت کا نشانہ بن کر تنہا رہ گیا۔ اِس طرح بھارت نے نہ صرف بنگلہ دیش کاز کیلئے دنیا بھر کی ہمدردیاں حاصل کیں بلکہ عالمی رائے عامہ کو بے بنیاد خبروں اور خود ساختہ داستانوں کا بھی کامیابی سے یقین دلایا۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف نفرت اور تعصب کو ہوا دینے کیلئے یہ بات بھی تواتر سے دہرائی کہ پاکستان، بنگالیوں کے منتخب لیڈر مجیب الرحمن کو گرفتار کر کے بنگالیوں کی قوم پرستانہ تحریک کو فوجی طاقت کے ذریعے ٔبے دردی سے کچل رہا ہے۔ یہ بھارتی پروپیگنڈے کا ہی اثر تھا کہ غیرملکی اخبارات نے ہندو اساتذہ اور دانشوروں کے قتل عام کی جھوٹی خبریں نمایاں سرخیوں میں شائع کیں، جس نے دنیا بھر کے دانشوروں، سماجی تنظیموں اور سیاسی لیڈروں کو پاکستان کی مخالفت کا راستہ دکھایا۔ یہ صورتحال بھارت کے تخریبی عزائم اور اُس کے مطلوبہ ہداف کیلئے کارآمد ثابت ہوئی، اُس نے پاکستان کو دو لخت کرنے کیلئے تارکین وطن کو جنگ” کا بہانہ بنا کر 3 دسمبر 1971ء کو پاکستان پر حملہ کر دیا، جو 16 دسمبر کے سیاہ دن ”بنگلہ دیش”کے قیام کی شکل میں دنیا کے سامنے آیا۔

بھارت کو تمام اخلاقی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین سے ماوراء اِس ننگی جارحیت میں روسی تائیدو حمایت اور سلامتی کونسل میں ویٹو کی چھتری حاصل تھی۔ کہتے ہیں کہ دنیا کی طاقتور اور منظم سے منظم فوج بھی عوامی تائید وحمایت کے بغیر بیرونی جارحیت کا کامیابی سے مقابلہ نہیں کر سکتی، بدقستمی سے پاک افواج کو بیک وقت اندورنی اور بیرونی دونوں محاذوں پر دشمن کا سامنا تھا، لیکن انتہائی نامساعد حالات کے باوجود پاک افواج نے پاکستان دشمنوں کا بھر پور مقابلہ کیا ۔ ایک بھارتی جنرل کے بقول” مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج نے بہادری کے ناقابل یقین کارنامے دکھائے اور پانچ ماہ تک محاصرے کی حالت میں رہ کراُس نے بے پناہ بہادری سے جنگ لڑی۔”جس کی زندہ مثال میجر جنرل تجمل حسین کی قیادت میں لڑا جانے والا ”ہلی” کا وہ معرکہ ہے جو آج دنیا بھر کی عسکری تاریخ کا درخشندہ باب بن گیا ہے۔

azam azim azam
azam azim azam

تحریر :۔ اعظم عظیم اعظم

Share this:
Tags:
East Pakistan India role tragedy بھارتی کردار مشرقی پاکستان
Iran
Previous Post ایران کا دوسری بار خلا میں بندر بھیجنے کا کامیاب تجربہ
Next Post کراچی: سی این جی اسٹیشنز پیرکو 24، بدھ کو 48 گھنٹے بند رہیں گے
CNG Station

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close