Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 2, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

دَم مست قلندر دے دھرنا

November 4, 2019 0 1 min read
Maulana Fazlur Rehman
Maulana Fazlur Rehman
Maulana Fazlur Rehman

تحریر : پروفیسر رفعت مظہر

سچ تو یہی کہ ارضِ وطن میں دھرنوں کی ایسی ”رسمِ بَد” چل نکلی ہے جس میں کسی کا بھلا نہیں ہوتا۔ جس کا جی چاہتا ہے دھرنے جیسا نامعقول ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔سیاستدانوں کے دھرنے تو کبھی کبھار نظر آتے ہیںالبتہ ہرشعبۂ زندگی میں دھرنوں کا رواج عام ہو چکا ہے۔ کبھی ڈاکٹر سڑکوں پر آلتی پالتی مارے نظر آتے ہیں تو کبھی پیرامیڈیکل سٹاف۔ کبھی کسان سڑکیں بند کرتے ہیں تو کبھی کلرک آتشِ شکم کی سیری کے لیے اونچے ایوانوں کے باہر بیٹھ رہتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اگر کوئی مریض ڈاکٹروں کی لاپرواہی سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تو لواحقین اُس کی لاش بیچ سڑک رکھ کر احتجاج شروع کر دیتے ہیں۔ مخاصمت حکومت اور دھرنا دینے والوں کے درمیان ہوتی ہے لیکن پِستے ہیں بیچارے بے قصور عوام۔ اور تو اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ اور وکلاء بھی اِس سے مبرا نہیں۔ اُن کا بھی جب جی چاہتا ہے، سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔

اِس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دھرنا خواہ کوئی بھی دے، اُس کی مذمت کرنی چاہیے۔یہ بھی عین حقیقت کہ” لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے”۔ جو بھی عنانِ حکومت سنبھالتا ہے، وہی اپنے آپ کو ہمہ مقتدر سمجھ کر مَن مانی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ الگ بات کہ بالآخر جھکنا بھی اُسی کو پڑتا ہے۔ اگر عوام کو تین روٹیوں کی بجائے ایک روٹی کھانے کی تلقین کی جائے، اگر 100 دنوں میں ملک کی تقدیر بدلنے کا دعویٰ کرنے والے یوٹرن لیتے ہوئے کہہ دیں کہ عوام میں صبر نہیں، ابھی تو صرف 400 دن ہوئے ہیں تو پھر دھرنا تو بنتا ہے کہ عوام اب اتنے با شعور ہو چکے کہ اُنہیں کسی ”لولی پاپ” پہ نہیں ٹرخایا جا سکتا۔ وہ دَور لَد چکا جب عوام کو غلام ابنِ غلام تصور کیا جاتا تھا۔ اب یہ سوچنا حکومت کا کام ہے کہ2018ء کے انتخابات میں صرف اڑھائی فیصد ووٹ لینے والا، انسانوں کا سمندر لے کر اسلام آباد میں براجمان کیسے ہو گیا؟۔

گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا ”سارے سیاسی یتیم جمع ہو گئے ہیں اور سیاست کا بارھواں کھلاڑی اُنہیں اُکسا رہا ہے کہ استعفےٰ لے کر جائے گا۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ لبرل بلاول بھٹو زرداری بھی پہنچ گیا ہے۔ لبرل ازم اُسے چھو کر بھی نہیں گزرا۔ بلوچستان سے جے یو آئی کا مخالف محمودخاں اچکزئی بھی آیا ہوا ہے۔ خواہ کچھ بھی ہو جائے عمران خاں نے تمہیں نہیں چھوڑنا۔ چاہے حکومت چلی جائے، تمہیں جیلوں میں ڈالنا ہے”۔ دست بستہ عرض ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن بارھویں کھلاڑی نہیںبلکہ سیاسی کھیل کے کپتان ہیں۔ وہ تو اُس وقت سے سیاست میں ہیں جب وزیرِاعظم خود کرکٹ کے بارھویں کھلاڑی ہوا کرتے تھے۔ مولانا فضل الرحمٰن پارلیمنٹ میںقائدِحزبِ اختلاف رہ چکے، خیبر پختونخوا حکومت کے بلاشرکتِ غیرے مالک اور بلوچستان حکومت میں اتحادی بھی اُن کی جے یو آئی ہی تھی۔

سیاسی پیچیدگیوں کو جتنا مولانا صاحب سمجھتے ہیں، کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔ اُنہوں نے آزادی مارچ کی صورت میں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندراسلام آباد میں لا کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ جو کہتے ہیں، کرکے بھی دکھاتے ہیں۔ مکرر عرض ہے کہ یہ تو مکافاتِ عمل ہے۔ کل انوکھے لاڈلے کپتان صاحب کھیلن کو چاند مانگتے تھے حالانکہ اُن کے پاس کوئی پلان ہی نہیں تھا۔ اِسی لیے 126 روزہ دھرنا بھی اُن کے کام نہ آیا۔ دوسری دفعہ اُنہوں نے پھر دھرنے کی کوشش کی تو نوازلیگ کی حکومت نے اُنہیں بنی گالہ ہی سے باہر نہیں نکلنے دیااور وہ وہیں ”پُش اَپس” لگاتے رہ گئے۔ خیبر پختونخوا سے اُس وقت کے وزیرِاعلیٰ پرویز خٹک بڑے دھوم دھڑکے سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوئے لیکن برہان انٹرچینج پر ہی اُن کی ریلی کو ایسی ”گیدڑکُٹ” لگی کہ وہ واپس ”دُڑکی” لگا گئے۔ اگر پانامہ کا ہنگامہ نہ ہوتا تو کپتان آج بھی چراغِ رُخِ زیبا لے کر ”شیروانی” ڈھونڈتے پھرتے۔

دوسری طرف مولانا فضل الرحمٰن بڑی شان سے کراچی سے نکلے اور پانچ روزہ سفر کے بعد عوام کا جمِ غفیر لے کر اسلام آباد پہنچ گئے۔ اسلام آباد میں ایسا اجتماع پہلے کبھی کسی نے دیکھا اور شایدنہ آئندہ دیکھ سکے گا۔ ہزاروں گاڑیوں اور لاکھوں انسانوں کے ساتھ اتنے طویل سفر میں کوئی پتہ ہلا، نہ گملا ٹوٹا۔ یہی نہیں بلکہ مولانا کے ہمراہی اتنے منظم تھے کہ سڑکیں بند ہوئیں نہ ایمبولینسز رُکیں۔ کیا مولانا کے آزادی مارچ اور ”سیاسی کزنز” کے دھرنے کا کوئی موازنہ کیا جا سکتا ہے؟۔ سیاسی کزنز تو امپائر کی انگلی کھڑی ہونے کے انتظار میں تھک بلکہ ”ہَپھ” گئے اور بالآخر مولانا اپنا ”پاندان” اُٹھا کراپنے دیس سدھارے البتہ ضدی اور ہَٹ دھرم کپتان 126 روز تک ڈٹا رہا۔ اُس وقت دھرنے کی حالت یہ تھی کہ جتنے لوگ کنٹینر پر کھڑے ہوتے، لگ بھگ اُتنے ہی سامعین ہوتے۔ اُس دھرنے میں صرف ڈی جے بٹ ہی کا بِل کروڑوں روپے بنا(بعد ازاں بِل کی ادائیگی پر پھڈا بھی پڑا)۔ اگر کپتان کو سانحہ اے پی ایس کا بہانہ نہ ملتا تو اُن کے لیے فرار کی کوئی راہ ہی نہیں تھی۔

وزیرِاعظم نے فرمایا ہے ”لبرل بلاول بھٹو زرداری بھی پہنچ گیااور جے یو آئی کا شدید مخالف اچکزئی بھی”۔ ہم مولانا کی اِسی خوبی کے تو معترف ہیں۔ پتہ نہیں اُن کے پاس کون سی ”گیدڑسنگھی” ہے کہ وہ پیپلزپارٹی کی حکومت کا حصّہ رہے اور نوازلیگ کی حکومت کا بھی۔ یہی نہیں بلکہ وہ تو مشرفی دَورِ آمریت میں قومی اسمبلی میں قائدِحزبِ اختلاف بھی تھے۔ اُن کی یہی خوبی ایک دفعہ پھر کام آئی اور لبرل بلاول مولانا کے کندھے سے کندھا جوڑ کر کھڑا ہو گیا۔ بلاول کی موجودگی میں ہی مولانا نے مذہب کارڈ کی بات کرتے ہوئے کہا کہ مذہب تو آئین کا حصّہ ہے، اُنہیں مذہب کارڈ کا طعنہ کیسے دیا جا سکتا ہے۔ ویسے حیرت ہے کہ ”لو وہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ بے ننگ ونام ہے”۔ پہلی بات تو یہ کہ تحریکِ انصاف بھان متی کا ایسا کنبہ ہے جس میں سارے ”پنچھی” ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو گئے (ہمیں یقین کہ بادِمخالف چلنے پر سبھی ”پھُر” ہو جائیں گے)۔ دوسری بات یہ کہ کپتان ماضی میں جن کے خلاف آگ اُگلتے رہے، آج وہی اُن کے اتحادی ہیں۔ کپتان نے تو سینٹ کے انتخاب میں پیپلزپارٹی سے بھی ہاتھ ملاتے ہوئے اُس کے ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے امیدوار کو ووٹ دیا تھا۔

کیا یہ سچ نہیں کہ جسے وہ چوکیدار تک رکھنے کو تیار نہ تھے، آج وہ اُن کی کابینہ کا وزیرِریلوے ہے؟۔ جس ایم کیو ایم کے خلاف وہ ثبوت اکٹھے کرتے رہتے تھے، آج وہی اُن کی کابینہ کا قابلِ ذکر حصّہ ہے۔ جنہیں چور اور ڈاکو قرار دیتے کپتان کی زبان نہیں تھکتی تھی، آج اُنہیں مرکز میں وزارتوں اور پنجاب کی سپیکرشپ سے نوازا گیا ہے۔ پھر اُنہیں بلاول اور محمود اچکزئی کے مولانا کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی وزیرِاعظم کے نزدیک یہ ”سیاسی یتیموں” کا اجتماع ہے اِس لیے اُن سے کیا ڈرنا۔

تحریکِ انصاف کے طویل دھرنے کے ایام میں ہم نے متعدد بار مکافاتِ عمل کا ذکر کیااور لکھا کہ عمران نیازی آج جو بول رہا ہے، کل وہی کاٹنا پڑے گا لیکن تب طاقت کا نشہ سَر چڑھ کے بول رہا تھااور امپائر کی انگلی کھڑی ہونے کا زعم بھی لیکن امپائر نے تو ایک لاکھ کا مجمع اکٹھا کرنے کا حکم دیا تھاجبکہ تحریکِ انصاف کے ہمراہ پانچ ہزار کا مجمع بھی نہیں تھا۔ اگر عمران نیازی کا سیاسی کزن مولانا کینیڈوی پچیس، تیس ہزار اپنے سکولوں کے اساتذہ، اُن کے خاندان اور مریدین کے ساتھ اسلام آباد نہ پہنچتا تو عمران نیازی کا احتجاج اُسی دن ”ٹائیں ٹائیں فِش” ہو جاتا۔ تحریکِ انصاف اور مولانا کینیڈوی، دونوں نے اُس وقت کے وزیرِداخلہ چودھری نثار کو لکھ کر دیا تھا کہ وہ ڈی چوک میں داخل نہیں ہوںگے لیکن محض تین دنوں بعد ہی وہ ڈی چوک میں داخل ہوگئے اور پھر جو کچھ ہوا، وہ تاریخ ہے۔

آج مولانا فضل الرحمٰن تحریکِ انصاف کے دھرنے سے کئی گُنا بڑا مجمع لے کر پشاور موڑ پہنچ چکے۔ اُنہوں نے وزیرِاعظم کو مستعفی ہونے کا صرف 2 دن کا وقت دیا ہے۔ ڈی چوک بھی اُن سے دور نہیں۔ اگر اُنہوں نے لاکھوں انسانوں کے سمندر کو ڈی چوک کی طرف مارچ کرنے کا حکم دے دیا تو پھر وہ ”دمادم مست قلندر” ہوگا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ حکمرانوں کو یاد رکھنا ہو گا کہ اِس سَیلِ بے پناہ کے آگے ہر رکاوٹ ریت کی دیوار ثابت ہوگی۔ رہی پاک آرمی کی بات تو فوج اپنوں پہ کبھی گولی نہیں چلایا کرتی۔ محترم چیف آف آرمی سٹاف گہری نظر سے حالات کامشاہدہ کر رہے ہیں۔ اُنہیں ایک قدم آگے بڑھ کر مفاہمت کی کوئی راہ ڈھونڈنی ہوگی۔ ہمیں یہ یقین کہ وزیرِاعظم کبھی استعفیٰ نہیں دیں گے اور مولانا فضل الرحمٰن کچھ نہ کچھ حاصل کیے بغیر لوٹنے والے نہیں۔ چیف صاحب یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ عمران نیازی کے دھرنے اور مولانافضل الرحمٰن کے آزادی مارچ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ عمران خاں کے ساتھ وہ غیرملکی شہری تھا جس نے 2018ء کے انتخابات میں حصّہ ہی نہیں لیا تھا جب کہ اُس وقت میاں نوازشریف کے ساتھ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں کندھے سے کندھا ملائے کھڑی تھیں۔ آج صورتِ حال یکسر اُلٹ۔ آج ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ اور مہنگائی کا مارا سیلِ تُندخو ہر شے کو خس وخاشاک کی طرح بہا دینے کو تیار۔

Prof Riffat Mazhar
Prof Riffat Mazhar

تحریر : پروفیسر رفعت مظہر

Share this:
Tags:
Inflation Maulana Fazlur Rehman pm Prof Riffat Mazhar resignation استعفیٰ مہنگائی مولانا فضل الرحمن وزیراعظم
Muhammad PBUH
Previous Post محمدﷺ انعام ہیں
Next Post مرید کی واپسی
Baba Farid Uddin Ganj Shakar

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close