Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

معصوم زینب اور بہت سے معصوم بچوں کا اصل قاتل کون

January 13, 2018 0 1 min read
Child Abuse
Child Abuse
Child Abuse

تحریر : حلیم عادل شیخ
دنیا میں بہت سے ظلم وزیادتی کے واقعات ہوتے رہتے ہیں ان واقعات میں سے کچھ کا مداوا ہوجاتاہے لیکن کچھ کا ممکن ہی نہیں ہو پاتا۔ لیکن جو واقعہ قصور میں معصوم بچی زینب کے ساتھ ہوا ہے اس نے ظلم کی تاریخ کو بہت پیچھے کی جانب دھکیل دیا ہے، ویسے دیکھا جائے تو معصوم بچی زینب کے ساتھ ہونے والا سلوک اس ملک میں کوئی نئی بات بھی نہیں ہے ،میں نے اپنی ان آنکھوں سے بہت سے ایسے سانحات کو دیکھا ہے جن کا مداواتو دور کی بات وقت گزرنے پر ان کے والدین کو کوئی پوچھتا تک نہیں ہے۔بات صرف یہ ہے کہ معاشرے میں ایسے گھنائونے واقعات ہوتے کیوں ہیں۔

ایک نفسیاتی پہلو یہ ہے کہ جب آدمی میں یہ احساس پیدا ہو جائے کہ اس کی زندگی بے معنی ہے اور یہ کہ باعزت روگار نہ ہونے سے اس کی زندگی میں کوئی عزت بھی نہیں ہے ایسے میں بندہ کبھی کبھار اپنا شعور کھو بیٹھتا ہے یعنی وہ پھر کمزورپر اپنی طاقت کا رعب جھاڑتاہے کمزور پر ظلم کرتاہے اور خود کو سمجھتا ہے کہ وہ بہت طاقتورہوچکاہے،ایسے افراد معاشرے میں سہی مقام نہ ملنے کی صورت میں کوئی نہ کوئی ایکٹی ویٹی تلاش کرتے ہیں ہے ،مگر ان تمام باتوں کے باوجودحکمرانوں کی زیر نگرانی پلنے والا معاشرہ اس قدر بے راہ روی کا شکار ہوچکاہوچکاہے کہ جس کی کوئی حد نہیں ہے ،جب آپ کو معلوم ہوجائے کہ جو جرم یا گھنائونا کردار آپ کرنے جارہے ہیں اس کے جرم میں آپ بچ جائینگے اور اس ملک کا قانون آپ کو سخت سے سخت جرم کی پاداش میں بھی باعزت بری کردیگا تو پھر کیونکر آپ اس گناہ کوکرنے سے گھبرائینگے ؟۔ ماں باپ گھریلومجبوریوں اور مسلسل تنگدستی کے باعث روٹی کے حصول کے لیے دربدر پھریں یا پھر اپنے بچوں کو نفسانی بھیڑیوں سے بچاتے پھریں ؟۔ مسلسل بے روزگاری اور غربت نے اس ملک کے بڑے بوڑھوں کے اندر مقصدیت کو ختم کردیا ہے آج انسانوں کے اندر جینے اور کچھ کردکھانے کا جزبہ دم توڑ چکاہے جو آدمی سمجھتا ہے کہ اس کی اس زندگی میں کوئی عزت نہیں ہے اور یہ کہ ظالم سماج میں روٹی کے حصول کے لیے جب تک آپ درندے نہیں بن جاتے نہ تو آپ کو معاشرہ عزت دیگا اور نہ ہی روٹی دیگا۔معاشرہ دیکھ رہاہے کہ کچھ مٹھی بھر لوگ بھتہ نہ دینے پر ایک فیکٹری میں اڈھائی سو سے زیادہ لوگوں کو بند کرکے آگ لگا دیتے ہیں۔

معاشرہ دیکھ رہاہے کہ ان دہشت گرد عناصر کی شناخت بھی ہوچکی ہے پھر معاشرہ یہ بھی دیکھ رہاہے کہ اس ملک کا قانون ان عناصر کو گرفتار کرنے کی بجائے ان کو تحفظ فراہم کررہاہے ان کی پریس کانفرنسوں اور ان کے بیرون ملک واپسی پر ائیر پورٹ سے لیکر ان کے عیاش خانوں تک ان کو سیکورٹی کی بھاری نفری فراہم کی جاتی ہے ؟ ایسے میں معاشرے میں یہ ہی میسیج جاتاہے کہ اس ملک میں جتنے بڑے جرائم آپ کرینگے اتنی ہی آپ کی عزت بڑھے گی ۔معاشرہ ان تمام چیزوں سے اپنے ذہنوں کو سخت کربیٹھا ہے لوگ چھوٹے بڑے جرائم کرنے سے نہیں گھبراتے ،یہاں بات تو کچھ معاشرے کے دھتکارے ہوئے لوگوں کی ہے مگر آپ میرے ساتھ اندرون سندھ کے دورے پر چلیں جہاں اربوں پتی وڈیرے اس طرح کے گھنائونے معاملات کرگزرتے ہیں جنھیں کوئی روکنے اور پوچھنے والا اس لیے نہیں ہوتا کہ مقامی پولیس کا ایس ایس پی اور ایس ایچ او اسی وڈیرے کا سفارشی ہوتا ہے،اور اسمبلی میں بیٹھے لوگ سب جانتے ہوئے ایسے عناصر کو اس لیے نہیں پکڑتے کیونکہ یہ ہی وڈیرے ان کی انتخابی جیت کے علمبردار ہوتے ہیں۔ ایک طرف تو ہم اصولوں کا ڈھنڈورا پیٹے رہتے ہیں دوسری جانب اس قسم کے واقعات پر وقتی آنسوئوں کا سہارا لیکر وقت ہی ٹال دیا جاتاہے مگراس کا سدباب پھر بھی نہیں کر پاتے۔ کل تک لوگ کہتے تھے کہ سانحہ اے پی ایس ہی اس ملک کا سب سے بڑا سانحہ تھا جس میں معصوم بچوں کو بے دردی سے قتل کردیا گیا آج آپ کہتے ہیں کہ قصور کی زینب کے ساتھ زیادتی کا واقعہ ہی اس ملک کا سب سے بڑ سانحہ ہے۔

کل تک آپ کہتے تھے سانحہ بلدیہ ٹائون نے ملکی تاریخ کو ہی شرمندہ کردیا، آج آپ کہتے ہیں کہ معصوم زینب کے ساتھ ہونے والے واقعہ آپ نے کبھی نہیں دیکھا،کل تک آپ کہتے تھے کہ گزشتہ برس ملیر میں ایک معصوم بچی سویراجس کو زیادتی کا نشانہ بناکر اس کا گلہ کاٹا گیا یہ واقعہ اس ملک کی تاریخ کا بدنما داغ ہے مگر آج آپ کہتے ہیں کہ قصور کی زینب نے ہر آنکھ اشکبار کردی ہے،میرے پاس ایسے سانحات کی ایک طویل فہرست موجود ہے جن کے مجرمان پکڑے بھی گئے مگر انہیں سزائیں نہ ہوسکیں یا جن کے مجرمان کا معلوم تو ہے مگر وہ اس قدر مظبوط ہیں کہ اس ملک کا قانون ان پر ہاتھ ہی نہیں ڈالتا۔ خدا کی قسم اندرون سندھ اور پنجاب کے دہی علاقوں میں روزانہ درجنوں ایسے واقعات ہوجاتے جن کا ہمیں معلوم ہی نہیں ہوپاتایا جن تک میڈیا پہنچ ہی نہیں پاتی ۔ جن کو کرگزرنے کے بعدظالم سماج ان معصوموں کو یا تو کھیتوں میں پھینک دیتے ہیں یاپھر بھوکے کتوں کے آگے ڈال دیتے ہیں ۔ ابھی اس تحریر کو رقم کرنے سے کچھ دیر قبل ہی میں کراچی کے علاقے ملیر ابراہیم حیدری کے ایک اسکول سے ایک ایسے درندہ صفت شخص کو پولیس کے حوالے کرکے آرہاہوں، اس واقعے میں اسکول کے ایک عملے نے ایک چوکیدار کو چارسالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش پررنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا ایک سماجی رہنما کی حیثیت سے میں خود موقع پر وہاں پہنچااور اس ملزم کو پکڑ کر تھانے تک چھوڑ کر آیا ہوں ،جبکہ یہاں اس ہی علاقے میں تقریباً پندرہ روز میں ایک درجن واقعات سامنے آچکے ہیں۔مگر بات پھر وہی پر آکر رک گئی ہے کہ اس معاشرے میں پلنے والے یہ ناسور یہ سمجھ کر اس طرح کے واقعات کرگزرتے ہیں کہ ان کے دلوں میں سزائوں کا خوف نہیں اور اس کے ساتھ ان کی زندگیوں میں سے مقصدیت کا خاتمہ انہیں وحشی درندے بنا تا جارہاہے جس میں انہیں نہ تو اپنی عزت کا خیال رہاہے اور نہ ہی کسی اور کی عزت کا پاس رہا ہے۔

ان تمام باتوں میں ریاست کس قدر ملوث ہوتی ہے اس کے لیے چند ایک باتیں درج کرتا چلوں قصور کا علاقہ مسلم لیگ نواز کا گڑھ ہے یعنی مقامی حکومت ہی ان لوگوں پر مشتمعل ہے لیکن ان میں سے کوئی شک اس سانحے کے عین موقع پر نہ پہنچ سکا، جب یہاں کے منتخب نمائندوں نے دیکھا کہ میڈیا نے بہت زیادہ اس واقعہ کو کوریج دینا شروع کردگی ہے اور عوامی رد عمل بھی سامنے آرہا ہے تو سبھی منتخب نمائندے مگر مچھ کے آنسو بہانے اور جھوٹی تسلیاں دینے جاپہنچے ۔پھر میڈیا کو ٹھنڈا اور عوام کو وقتی تسلیاں دینے کا عمل شروع کردیا جاتاہے ۔یعنی ۔ کسی افسر کو ٹرانسفر کردو !۔ وزیراعلیٰ نے نوٹس لیے لیا، “نیوز چینلوں کی بریکنگ ” یاپھر وزیراعلیٰ سندھ نے فلاح فلاح ہاتم طائیوں پر مشتعمل لوگوں پر کمیٹی بنادی جس کی نگرانی بھی موصوف وزیراعلیٰ خود کرینگے یہ وہ آخری مصرہ ہے جو زیادتی کے شکار لوگوں پر کسی احسان عظیم سے کم نہیں ہوتا میں یقین سے کہتا ہوں کہ اس طرح کے واقعات ان ظالم حکمرانوں کے اپنے بچوں کے ساتھ رونما ہو تونہ تو نوٹس لیا جائے نہ ہی کمیٹی قائم ہو اور نہ نگرانی کا عمل ہو بلکہ پانچ منٹ کے اندراندر مجرم سامنے کھڑا ملے گا۔

کیونکہ ان نوٹسز لینے والے ڈرامے کا کبھی کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا ہے یہ سب مٹی پائو کی سیاست ہے ،کیونکہ مسئلہ اپنی جگہ قائم ہی رہتا ہے اور پھر کیا ہوتا ہے ایسا ہی کوئی نیا سانحہ یا گھنائونا جرم پھر سے رونما ہوجاتاہے جس پر یہ تمام حکومتی ادارے نئی زمہ داریاں سرانجام دینے کے لیے کمر کس لیتے ہیں کیونکہ پھر سے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت جو پیش آجاتی ہے ۔ ا س سارے واقعات میں سارا قصور حکمرانوں کا بھی نہیں ہوتاکچھ کام ہمارے کرنے کے بھی ہوتے ہیں ایسے سانحات میں سارا ملبہ حکمرانوں اور پولیس پر ڈالنا بھی درست نہیں ہے کیونکہ جسقدر ایسے المناک سانحات میں حکومتیں ذمہ دار ہوتی ہیں اس میں کچھ نہ کچھ قصور معاشرے کی بے حسی کا ضرور کارفرما ہوتاہے ۔یقینا علما ء کرام اور اساتذہ کرام کا ایسے سانحات کی روک تھا م میں بہت اہم کردار ہوتا ہے ، اس ملک کے ایک بہت مقبول مفتی صاحب جن کا نام لکھنا میں ضروری نہیں سمجھتاان کے ایک حالیہ آرٹیکل پر نظر پڑی جن کی چند سطروں کا زکر کرتا چلوں جس میں موصوف مفتی صاحب نے فرمایا کہ لوگوں کے دلوں میں آخرت کا خوف پیدا کیا جائے۔

معذرت کے ساتھ مفتی صاحب اس میں کوئی شک نہیں ہے دلوں میں اللہ اورآخرت کا خوف ہونا چاہیے مگر یہ بھی مکمل مسئلے کا حل نہیں ہے کہ بے روزگار اور افلاس کے مارے انسانوں کو صرف اور صرف اللہ اور جہنم سے ڈرائو کچھ اللہ اور آخرت کا خوف ان حکمرانوں کو بھی ہونا چاہیے جن کو عوام سے زیادہ اقتدار اور اس ملک کے وسائل پر قبضے کی فکر ہے۔مفتی صاحب اس معاشرے کا بندہ یہ کہتا ہے کہ جب اللہ ڈرائے گا تب دیکھا جائے گا پہلے روٹی تو گھر میں آجائے ” یعنی زندگی میں مقصدیت ختم ہونے سے اچھے برے کاموں کی تمیز ہی ختم ہوجاتی ہے ،اللہ کا خوف تو کسے نہیں ہے مگر اس کے ساتھ انسانوں کے معاشرتی رویوں کو درست کرنے اور معاشرے میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا بھی تو کسی کا فرض بنتا ہے یقینا ان انسانوں پر مسلط حکمرانوں کایہ فرض ہوتاہے۔آپ کی فیڈ بیک کا انتظار رہے گا۔

Haleem Adil Sheikh
Haleem Adil Sheikh

تحریر : حلیم عادل شیخ
سابق صوبائی وزیر ریلیف وکھیل
021.34302441,42
E:Mail.haleemadilsheikh@gmail.com

Share this:
Tags:
Crime innocent Killer Society World Zainab احساس جرائم دنیا زینب قاتل معاشرے معصوم
Kasur Incident
Previous Post سانحہ قصور معصوم بچی کا قتل اور انصاف کی دہائی
Next Post آہ ضیا الحق تم بڑے یاد آئے
Zia ul Haq

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close