Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • ڈکشنری
      • اردو سے انگلش ڈکشنری
      • انگلش سے اردو ڈکشنری
      • اردو رومن سے انگلش
      • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    • ویڈیوز
    • موسم
    • فنانس
  • شاعری
    • Poets (شاعر)
    • جون ایلیا
    • حسن رضوی
    • حمایت علی شاعر
    • خمار بارہ بنکوی
    • راحت اندوری
    • ساغر صدیقی
    • سلیم کوثر
    • سیدارشاد قمر
    • سید ضمیر جعفری
    • شاحر لدھیانوی
    • شاہد رضوی
    • شکیب جلالی
    • عدیل زیدی
    • عطاء الحق قاسمی
    • علامہ محمد اقبال
    • فاخرہ بتول
    • فرخت عباس شاہ
    • فیض احمد فیض
    • قتیل شفائی
    • ماہ رخ زیدی
    • مجید امجد
    • محسن بھوپالی
    • محسن نقوی
    • محمد علی خان
    • مرزا غالب
    • منیر نیازی
    • ناصر کاظمی
    • نوشی گیلانی
    • پروین شاکر
    • مسز جمشید خاکوانی
    • آپکی شاعری
  • ادب
    • ہفتہ وار ناول
    • منتخب افسانے
    • آپکی تحریر
    • گوشئہ فکر
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
  • دیگر
  • شاعری
  • ادب
Geo Urdu
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم27830
    • Educationکاش چند لوگ اورMarch 21, 2022
    • National Assemblyسوال یہ ہے کہ۔۔۔۔March 21, 2022
    • Narendra Modiمودی کا مکروہ چہرہMarch 20, 2022
    صحت و تندرستی825
    • Medicineایک اینٹی سیپٹک دوا یوٹی آئی کے دوبارہ حملے کو روک سکتی ہےMarch 14, 2022
    • Antsچیونٹیاں بھی سرطان کی بو’سونگھ‘ سکتی ہیںMarch 13, 2022
    • Pillowسانس لیتے تکیے کو گلے لگانے سے ڈپریشن میں کمیMarch 12, 2022
    دلچسپ اور عجیب228
    • Callٹیلی مارکیٹنگ فون کالز کا مقدمہ، امریکی شخص 75 ہزار ڈالر جیت گیاMarch 15, 2022
    • Restaurantزمین سے 1800 فٹ بلند دنیا کا بلند ترین ریستورانMarch 9, 2022
    • Diamondاینٹوں کے بھٹے پر مزدور کو ڈیڑھ کروڑ سے زائد مالیت کا ہیرا مل گیاFebruary 28, 2022
    سائنس اور ٹیکنالوجی468
    • Youtubeیوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئےMarch 21, 2022
    • Telegramبرازیلین سپریم کورٹ کا ملک میں ٹیلی گرام کو بند کرنے کا حکمMarch 19, 2022
    • Starsجیمس ویب خلائی دوربین نے ستارے کی پہلی ’صاف ستھری‘ تصویر کھینچ لیMarch 17, 2022
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    ڈکشنری
    • اردو سے انگلش ڈکشنری
    • انگلش سے اردو ڈکشنری
    • اردو رومن سے انگلش
    • محاورے ۔ کہاوتیں ۔ ضرب المثل
    ویڈیوز
    موسم
    فنانس
  • شاعری
    Poets (شاعر)
    جون ایلیا28
    • dua handsوہ اپنے آپ سے بھی جدا چاہیے ہمیںMarch 11, 2012
    • Catherine Breakکفِ سفیدِ سرِ ساحلِ تمنا ہےMarch 11, 2012
    • Lovers HandsسزاMarch 11, 2012
    حسن رضوی22
    • candle lightوہ باخبر ہے کبھی بے خبر نہیں ہوتاMarch 15, 2012
    • quit loveیہ قسمت کے دھارے سدا ایک سے ہیںMarch 15, 2012
    • prayٹھرہے پانی کو وہی ریت پرانی دے دےMarch 14, 2012
    حمایت علی شاعر7
    • Couple Man Womanہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگMay 2, 2012
    • himayat ali shairازل سے ایک عذاب قبول و رد میں ہوںMay 2, 2012
    • fire in eyeجو آگ نہ تھی ازل کے بس میںMay 2, 2012
    خمار بارہ بنکوی20
    • makhmoor nazarainواقف نہیں تم اپنی نگاہوں کے اثر سےMay 15, 2012
    • Sad Love Storyجب وہ پشیماں نظر آئے ہیںMay 15, 2012
    • couple leaving each otherجبیں عشق میں آسرا دینے والےMay 15, 2012
    راحت اندوری12
    • looking at cloudy skyچمکتے لفظ ستاروں سے چھین لائے ہیںAugust 24, 2012
    • alone boat eveningسمندر پار ہوتی جا رہی ہےApril 20, 2012
    • sad cloudsمحلہ سائیں سائیں کر رہا ہےApril 20, 2012
    ساغر صدیقی8
    • dile-beqrar-chup-ho-jaاے دلِ بے قرار چپ ہو جاMay 22, 2012
    • blind feetمانا وادئی عشق میں پائوں اندھا رکھنا پڑتا ہےMay 22, 2012
    • lost moon lightکس کو بھاتی رہی رات بھر چاندنیMay 21, 2012
    سلیم کوثر7
    • my thoughtsمیں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہےMarch 12, 2012
    • long roadتم نے سچ بولنے کی جرات کیMarch 12, 2012
    • On Floorیہ لوگ جس سے اب انکار کرنا چاہتے ہیںMarch 12, 2012
    سیدارشاد قمر17
    • man waitingابھی ٹوٹا ہے اک تارا تُو شاید لوٹ کر آئےMay 1, 2012
    • dream less sad nightsاداس راتیں ہیں خواب سارے اجڑ چکے ہیںMay 1, 2012
    • blue moonظلمتوں میں ازسرِ نو کیوں بلاتے ہو مجھےMay 1, 2012
    سید ضمیر جعفری13
    • friends of countryاو دیس سے آنے والے بتاApril 27, 2012
    • i am neutralہم ‘نیوٹرل’ ہیں خارجہ حکمت کے باب میںApril 27, 2012
    • ZamirJafariآگ جب تک جلے نہ جانوں میںApril 26, 2012
    شاحر لدھیانوی12
    • awara manzilیکسوئیMarch 2, 2012
    • sahir-ludhianviجو بات تجھ میں ہے تری تصویر میں نہیںFebruary 29, 2012
    • i am aloneمیں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھیFebruary 29, 2012
    شاہد رضوی18
    • zakhmi phoolاس سے وفا کی آس نہیں ہم بھی کیا کریںMarch 11, 2012
    • islamic imageعشق کا تجربہ ضروری ہےMarch 11, 2012
    • beautiful eyesجب سے یہ زندگی ملی ہے ہمیںMarch 11, 2012
    شکیب جلالی22
    • beautiful girlعکس اور میںMay 8, 2012
    • shakeb jalaliخدا وندانِ جمہور سےMay 8, 2012
    • planting new lifeہمارا دَورMay 8, 2012
    عدیل زیدی11
    • father daughterخواب اور حقیقتFebruary 27, 2012
    • khawahishگھر عطا کر مکاں سے کیا حاصلFebruary 27, 2012
    • past presentیہ زمینی بھی زمانی بھیFebruary 27, 2012
    عطاء الحق قاسمی6
    • flower in waterوہ سکون جسم وجاں گرداب جاں ہونے کو ہےFebruary 26, 2012
    • duaوہ ایک شخص کہ منزل بھی، راستا بھی ہےFebruary 26, 2012
    • cactus flowersکانٹوں سی اس دنیا میں وہ پھولوں جیسیFebruary 26, 2012
    علامہ محمد اقبال158
    • Complainedگلہ – ضربِ کلیمSeptember 15, 2014
    • allama praying in maisque qurtabaیا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے .. دعاNovember 8, 2012
    • madinah mosqueاے باد صبا! کملی والے سے جا کہیو پیغام مراNovember 3, 2012
    فاخرہ بتول24
    • shehr e dilاسے روکتے بھی تو کس لیے؟May 20, 2012
    • mohabbat rooth jay toمحبت روٹھ جائے توMay 20, 2012
    • alone thinkingمرا پیارا حرف غلط نہیںMay 20, 2012
    فرخت عباس شاہ24
    • sham ka dardشام کے درد سے جھولی بھر لیJune 3, 2012
    • shiddatشدتیںJune 2, 2012
    • morjhaya phoolتم نے دیکھا ہے مجھےJune 2, 2012
    فیض احمد فیض27
    • madam noor jahanمجھ سے پہلی سی محبت مری محبوبApril 14, 2012
    • Faiz ahmad faizاشعارApril 14, 2012
    • love painرقیب سےApril 14, 2012
    قتیل شفائی16
    • Cute Baby Loversمل کر جدا ہوئے تو ؟March 20, 2012
    • Qateel Shifaiپہلے تو اپنے دل کے راز جان جائیےMarch 20, 2012
    • Raat ke pursakoon lamhoon meinپریشان رات ساری ہے ستارو تم تو سو جائوMarch 20, 2012
    ماہ رخ زیدی9
    • true baby friendsمحبت ہو ہی جاتی ہےMarch 4, 2012
    • sajdaہم جب بھی تنہا گھر گئےMarch 4, 2012
    • helping handsمجھکو معصومیت کا صلہ مل گیاMarch 4, 2012
    مجید امجد16
    • Autographآٹو گرافFebruary 24, 2012
    • flowers at sun riseاس اپنی کرن کو آتی ہوئی صُبحوں کے حوالے کرنا ہےFebruary 24, 2012
    • red roseروش روش پہ ہیں نکہت فشاں گُلاب کے پھولFebruary 24, 2012
    محسن بھوپالی9
    • Beautiful Girlچمن چمن اسی رنگین قبا کو دیکھتے ہیںMarch 1, 2012
    • the struggleشعلہ حسن مجسم گریہ شبنم بھی ہےMarch 1, 2012
    • charaaghٹھوکریں کھا کے جو سنبھلتے ہیںMarch 1, 2012
    محسن نقوی26
    • different from peopleوہ بظاہر جو زمانے سے خفا لگتا ہےMarch 30, 2012
    • destroy peopleاُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کرMarch 30, 2012
    • broken mirrorشکستہ آئینوں کی کرچیاں اچھی نہیں لگتیںMarch 29, 2012
    محمد علی خان10
    • coloursبکھرتے رنگوں جیسا ہو گیا ہوں، یہ سوچتا ہوںMarch 3, 2012
    • burning heartجو بھی جھوٹا تھا وہی خواب دکھایا خود کوMarch 3, 2012
    • empty graveاگر کچھ رابطہ باہر سے بنتا جا رہا ہےMarch 3, 2012
    مرزا غالب33
    • Deewan-e-Ghalibشب خمارِ شوقِ ساقی رستخیز اندازہ تھا . دیوانِ غالبDecember 23, 2012
    • Deewan-e-Ghalibیک ایک قطرے کا مجھے دینا پڑا حساب . دیوانِ غالبDecember 20, 2012
    • Deewan-e-Ghalibشب کہ برقِ سوزِ دل سے زہرہ ابر آب تھا . دیوانِ غالبDecember 19, 2012
    منیر نیازی17
    • munir niaziماضیMay 31, 2012
    • Munir Niaziنا رسائیMay 31, 2012
    • munir niaziمیرے دشمن کی موتMay 31, 2012
    ناصر کاظمی16
    • mera elaj chara gar k pass nahinوہ دلنواز ہے لیکن نظر شناس نہیںMay 29, 2012
    • bharpoor rahi bahaar kuch dareٹھھرا تھا وہ گلعذار کچھ دیرMay 29, 2012
    • safar manzil e shab yaad nahiسفر منزلِ شب یاد نہیںMay 29, 2012
    نوشی گیلانی22
    • noshi gilaniوہ کیسا خوف تھا کہ رختِ سفر بھی بھول گئےMay 25, 2012
    • ways changedوہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہےMay 25, 2012
    • with butterfliesوہ بے ارادہ سہی، تتلیوں میں رہتا ہےMay 25, 2012
    پروین شاکر21
    • parveen shakirایکسٹیسیApril 6, 2012
    • past sad memoriesوہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئیApril 5, 2012
    • parveen shakirواہمہApril 5, 2012
    مسز جمشید خاکوانی44
    • Green Leaves Rainسبز پتوں پہ اٹکی ہوئی شبنم کی طرحApril 17, 2015
    • Love Fearاندیشے بھی تھے، رسوائی بھی تھیApril 17, 2015
    • The journeyحساب دوراںFebruary 22, 2015
    آپکی شاعری898
    • Ishqشعور و فکر میں جب روشنی نظر آئیDecember 6, 2021
    • Muhammad PBUHمیرا قبیلہ محمدی ہےOctober 25, 2020
    • Loveایسا روٹھا وہ ہم سے بیگانہ ہواSeptember 23, 2020
  • ادب
    ہفتہ وار ناول
    منتخب افسانے
    آپکی تحریر
    گوشئہ فکر

سانحہ قصور معصوم بچی کا قتل اور انصاف کی دہائی

January 13, 2018 0 1 min read
Kasur Incident
Kasur Incident
Kasur Incident

تحریر : سید عارف سعید بخاری
سانحہ قصور میں قوم کی ایک بیٹی کا قتل ایک بڑا معاشرتی المیہ ہے ،اس قسم کے واقعات ملک بھر میں تواتر کے ساتھ ہو رہے ہیں ۔قصور میں بے قصور اور معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ ہونے والے گھناؤنے واقعات کی ایک لمبی داستان ہے ۔معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی اور پھر اپنے جرم کو چھپانے کیلئے ان کا قتل معمول بن چکا ہے ۔ایسے واقعات میں اضافے کی بنیادی وجہ مجرموں کے خلاف کارروائی کا نہ ہونا ہے ۔سانحہ قصور میں ایک معصوم کلی کو درندوں نے مسل کر پھینک دیا اس سانحہ پر ہر آنکھ اشکبار اور نمناک ہے ۔ بیٹی تو بیٹی ہی ہے چاہے وہ کسی امیر باپ کی ہو یا کسی مزارعے کی ۔اس سانحہ میں معصوم بچی کی جان کا چلا جانا نہایت افسوسناک ہے لیکن اس سے بھی بڑی تکلیف دہ بات یہ ہے کہ متاثرہ بچی کی ”تصویر” بھی قومی اخبارات میں شائع کر دی گئی ہے اس کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی بے شمار لوگوں نے مذکورہ بچی کی تصویر پوسٹ کرکے اس واقعہ کی مذمت اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی مہم چلا رکھی ہے ۔حتیٰ کہ علم و ادب سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات بھی بچی کی تصویر کے ساتھ شعر و شاعری کے ذریعے اپنے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں ۔اس سانحہ کے بعد کسی ناہنجار شخص نے اس معصوم کلی کی تصویر میڈیا پر وائرل کرکے ایک مزید ظلم ڈھایا ہے ،اس معصوم کے ساتھ جو ظلم ڈھایا گیا وہ یقیناً تکلیف دہ امر ہے لیکن اس معصومہ کی تصویر وائرل کرکے اس کی روح کو کو مزید اذیت پہنچائی جا رہی ہے جس کا کسی کو احساس نہیں ہوپا رہا ،میڈیا اور عوام نے اس روش سے بچی کے والدین اور دیگر اہل خانہ کو الگ پریشانی سے دوچار کر رکھا ہے۔میری ناقص رائے میں بچی کی تصویر وائرل کرنے کی قطعاً ضرورت نہ تھی ۔تصویر کے بغیر بھی اس ظلم پر اپنے جذبات کا اظہار کیا جاسکتا تھا ۔مجرموں کو پھانسی دینے یا سرعام گولی مارنے کیلئے معصوم کلی کی تصویر لازم نہیں ہے ۔بس ایک بات ہمیں ذہن نشین کر لینا چایئے کہ ”قوم کی ایک بیٹی” کے ساتھ ظلم ڈھایا گیا ہے ۔ اُس کا کوئی نام نہیں ۔۔کوئی تصویر نہیں ۔ساری قوم کا بس ایک ہی مطالبہ ہے کہ جس نے بھی یہ ظلم کیا ہے وہ ایک ہیں یا زیادہ اُن سب کو الٹا لٹکا دیا جانا چاہئے۔

اسلامی عدل و انصاف کا ایک اصول بالکل واضح ہے کہ ”کان کے بدلے کان اور ناک کے بدلے ناک ۔۔۔لہذا ء اس سانحہ میں ملوث فرد یا افراد کیلئے بھی یہی اصول اپنا نا لازم ہے ۔جس طرح مجرموں نے اس بچی کے ساتھ ظلم کیا ہے اسی طرح ان کے ساتھ بھی کیا جانا چاہئے اور اس کے بعد اُنہیں سرعام بیچ چوہرائے میں لٹکا کر” نشان عبرت ”بنا دینا چایئے تاکہ وہ ظالم درندہ صفت لوگ دوسروں کیلئے ”نشان عبرت ”بن سکیں۔

بچوں اور بچیوں کے قتل جیسے ان واقعات کو” بریکنک نیوز ”کے نام پر اچھالنا اس سے بھی بڑا المیہ ہے ۔ کسی بھی سانحہ کے بارے میں اصل حقائق جانے بناء اظہار خیال کرنا بذات خود المناک ہے ۔ ہمارے اینکر پرسنز اور تجزیہ نگار ایسے سانحات کے بارے میں اپنی مدبرانہ گفتگو کے ذریعے ماحول کو مزید پراگندہ کرنے باالفاظ دیگر جلتی پر تیل ڈالنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔سانحہ قصور میں بھی الیکٹرنک میڈیا نے تسلسل کے ساتھ سارا دن عوام کو باخبر رکھنے اور ان میں اشتعال پیدا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پولیس فائرنگ کی زد میں آکر 2افراد جاںبحق جبکہ کچھ زخمی بھی ہو گئے ۔واقعہ کے بعد سے اب تک شہر میں صورتحال کشیدہ چلی آ رہی ہے ، مشتعل عوام کے احتجاج میں مفاد پرست بھی شریک ہو کر مخالفین خاص طور سے لیگی رہنماؤں کے گھروں پہ حملے کر رہے ہیں ۔سیاسی جماعتیں اس سانحہ کی آڑ میں انتشار کومزید ہوا دے رہی ہیں۔

میڈیا پر انصاف کی دہائی کے نام پر جو کھیل کھیلا جاتا ہے اس کے نتیجے میں آج تک کسی متاثرہ فرد کو انصاف تو نہیں مل سکا مگر ظلم کا شکار ہونے والوں کو انصاف دلانے کے نام پرایسے ایسے انکشافات میڈیا پر آشکار کئے جاتے ہیں کہ رہے نام اللہ کا۔۔گھٹن زدہ معاشرے میں ایسے واقعات کا ہونا کوئی نئی بات نہیں ۔یہی واقعہ اگر سعودی عرب،ایران،دوبئی یا برطانیہ میں ہوا ہوتا تو وہاں پر میڈیا کو اسے اس طرح اچھالنے کی جراء ت ہی نہ ہوتی ۔ اگر پاکستان میں بھی سرعام سزاؤں کا نظام موجود ہوتا اور اگر آج تک کسی ایک بھی مجرم کو کسی چوہرائے میں سرعام سرقلم کئے جانے کی سزا دی گئی ہوتی یا اسے سنگسار کئے جانے کی روایت موجود ہوتی تو جرم کا ارتکاب کرتے وقت مجرم کئی بار سوچتے۔لیکن ایسا نہیں ہے ۔پاکستان میں عدالتی سقم، پولیس کی کارستانیاں اور بااثر لوگوں کے لمبے ہاتھ نظام میں موجود خرابیوں کی وجہ سے مجرموں تک رسائی میں رکاوٹ ہیں ہمارے حاکم اور ایوانوں میں بیٹھے ہوئے عوامی نمائندے ان خرابیوں کو دور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے، ہمارے سیاستدان بھی ایسی کسی قانون سازی پر توجہ دینے اور ظالموں کو سرعام الٹا لٹکانے کی کوئی تدبیر کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر اپنی توانائیاں مرکوز رکھے ہوئے ہیں ۔یہاں تو یہ عالم ہے کہ ایک لیڈر وزیر اعظم بننے کے لئے مخالفین کو” چو ر چور ”کہہ کر اپنے سونامی سے ڈرا رہا ہے تو دوسرا ”مجھے کیوں نکالا ۔۔؟کا واویلا کرتے ہوئے اپنی عوام اور ووٹروں سے انصاف مانگ رہا ہے جبکہ تیسرا شہیدوں کے صدقے اس ملک کا شہزادہ بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔

کتنی ہی معصوم کلیاں گذشتہ ادوار میں ظالموں کے ہاتھوں مسلی جا چکی ہیں ۔طویل عدالتی نظام اور قانونی سقم کی بدولت مجرم ”شک” کی بناء پرپر وٹوکول کے ساتھ برّی کر دئیے جاتے ہیں اس کے برعکس مظلوم اور بے گناہ افراد پابندسلاسل یا تختہ دار پر چڑھادئیے جاتے ہیں ۔ ایسے کئی واقعات تاریخ کا حصہ ہیں لیکن یہاں میں ایک واقعہ بیان کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔ غالباً دو یا تین برس قبل لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ایک معصوم بچے کے ساتھ زیادتی اور پھر قتل کے بعد اس کی لاش کو مسجد میں لٹکا دیا گیا تھا اس واقعہ میں بھی ملوث افراد کو کوئی سزا نہ دی جا سکی تھی بلکہ اس کیس میں پولیس نے ایک گیارہ سالہ بچے کو پکڑکر اسے مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی اور پھر ظلم یہ کیا کہ مذکورہ بچے پر یہ الزام لگا کر کہ وہ پولیس اہلکار سے بندوق چھننے کی کوشش کر رہا تھا کوراستے میں گولی مار کر” پھڑکا” دیا گیا تھا ۔جس کا مقصد اصل مجرموں کو بچانا اور ایک بچے کو مجرم ظاہر کرکے مدعا ہی ختم کردینا تھا ۔عین ممکن ہے کہ سانحہ قصور میں بھی عوام کے قہر ا ور میڈیا کے زہر سے بچنے کیلئے کسی بے گناہ کو ”پھڑکا ” دیا جائے۔اور اس کیس کو بھی بعد ازاں داخل دفتر کر دیا جائے ۔میڈیا کسی کیس کو یوں بیدردی سے اچھال کر اگر کسی کو انصاف دلانے میں کامیاب ہوجائے تو یہ اس کے لئے ایک بڑا اعزاز ہو گا جبکہ گذشتہ کئی سالوں سے ایساکچھ نہیں ہو سکا اور نہ آئندہ ہو سکے گا ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم مرنے والوں کی روح کو اذیت پہنچاکر کیا مقاصد حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔آج معصوم زینب کی روح ہم سے یہ سوال ضرور کر رہی ہو گی کہ اے میرے ہمدردوں ،میرے ہم وطنوں کیوں مجھے تماشہ بنا رکھا ہے ،ظالموں نے تو میری بے حرمتی کی مگر وہ سب پردے میں تھا تم لوگ تو مجھے سرعام رسوا کرنے میں لگے ہو ،خدا کے لئے بند کرو یہ سب کچھ ۔۔مجھے انصاف چاہئے اور انصاف یہی ہے کہ ان درندوں کو نشان عبرت بنا دیا جائے مگر مجھے مزید رسوا نہ کیا جائے ۔کاش! ہم اس کیفیت کا ادراک کر سکتے۔

سانحہ قصور میں بچی کو قتل کئے جانے کے واقعہ کا چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے از خود نوٹس لے کر احسن اقدام اٹھایا ہے ،لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعہ میں ملوث افراد اگر قانون کی گرفت میں آ ہی جائیں تو انہیں لمبے عدالتی ٹرائل سے گذارنے کی بجائے فوری طور پر سرعام پھانسی دلوانے کی کوشش کی جائے ۔اس کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس صاحب اگر قوم کے ساتھ یہ بھلا بھی کریں کہ کسی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعے کے بعد متاثرہ بچے یا بچی کی تصویر کو میڈیا پر وائرل کرنے پر پابندی لگادیں اور اگر کوئی فرد یا ادارہ اس قسم کی حرکت کا مرتکب ہو تو اس کیخلاف بھی سخت کارروائی کی جانا چاہئے ۔تو یہ اُ ن کا قوم پر احسان ہوگا ۔ قوم کی بہو بیٹیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم تو اپنی جگہ تکلیف دہ ہیں مگر اس دنیا سے کوچ کر جانے والوں کو انصاف دلانے کی آڑ میں ان کی مزید رسوائی کا سامان کرنا کسی کو زیب نہیں دیتا ۔ ایک طرف ایسے ظلم پر والدین اور عزیز و اقارب زندہ درگور ہو جاتے ہیں دوسری طرف میڈیا انہیں مزید ذہنی کوفت سے دوچار کرنے میں اخلاقی حدود سے ہی تجاوز کر جاتا ہے ۔اس حوالے سے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ذمہ داران کو بھی اس بات کا ادارک کرنا چاہئے جبکہ سوشل میڈیا پر حق وانصاف کی دہائی دینے والوں کو بھی اخلاقی اقدار کو فراموش نہیں کرنا چاہئے۔

ایک بات توجہ طلب ہے کہ حاکموں نے حق و انصاف کی فراہمی کا جو عزم کر رکھا ہے،جرائم کی روک تھام کیلئے نئی نئی فورسز بنا دی گئی ہیں اس کے باوجود جرائم میں کمی نہیں آ رہی ،کیونکہ حکومتی مقاصد کو ثبوتاژ کرنے میں بھی پولیس اور اداروں کا بہت ہاتھ ہے ۔خادم اعلیٰ جس قدر اداروں کی مانیٹرنگ اور عوامی مسائل کو حل کرانے کی سعی کرتے ہیں اتنا ہی ان کے زیر سایہ کام کرنے والے ادارے اور ان کے افسران ان کیلئے مشکلات پیدا کرنے میںلگے ہیں ۔آج پنجاب میں امن و امان کی خراب صورتحال بھی خادم اعلیٰ کی ان شبانہ روز کاوشوں کا شاخسانہ ہے ۔ممکن ہے کہ میری رائے سے کوئی اتفاق نہ کرے لیکن حقیقت یہی نظر آتی ہے ۔لہذاء ضرورت اس امر کی ہے کہ خادم اعلیٰ کم ازکم پنجاب کی حد تک ان تمام معاملات کا ازسرنو جائزہ لیں اور ایسے عناصر کی سرکوبی کیلئے اپنی حکمت عملی تبدیل کریں جو ان کے لئے امن و امان سمیت دیگر مسائل پیدا کرنے کی سازشوں میں سہولت کاری کا فریضہ ادا کر رہے ہیں ۔امن و امان کی بحالی اور ناپسندیدہ عناصر کی سرکوبی کیلئے بھرپور اقدامات اٹھانا ہونگے ورنہ آنے والے دنوں میں حکومت کا جانا کوئی روک نہ سکے گا۔

Syed Arif Saeed  Bukhari
Syed Arif Saeed Bukhari

تحریر : سید عارف سعید بخاری
Email:arifsaeedbukhari@gmail.com

Share this:
Tags:
Abuse child daughter justice murder tragedy انصاف بچی بیٹی زیادتی سانحہ قتل
Kasur Incident
Previous Post سانحہ قصور پر سیاست
Next Post معصوم زینب اور بہت سے معصوم بچوں کا اصل قاتل کون
Child Abuse

Related Posts

Youtube

یوٹیوب نے لائیو اسٹریم کے مزید فیچر پیش کر دیئے

March 21, 2022
Saeed Ghani

عمران خان اسی ماہ سابق وزیراعظم ہو جائیں گے: سعید غنی کا دعویٰ

March 21, 2022
Khalid Javed Khan

اجلاس کے دن کسی کو ہجوم سے نہیں گزرنا پڑے گا: اٹارنی جنرل کی عدالت کو یقین دہانی

March 21, 2022
Joe Biden

امریکی صدر پولینڈ کا دورہ کریں گے: وائٹ ہاوس

March 21, 2022
Ukraine War

یوکرین نے خودسپردگی کا روسی مطالبہ مسترد کر دیا

March 21, 2022
Justice Umar Ata Bandial

بہتر ہو گا اسمبلی کی جنگ اسمبلی کے اندر لڑی جائے: چیف جسٹس پاکستان

March 21, 2022
© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.
ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close